غیرمسلم حکمرانوں کی تاریخ

جہاں جہاں اسلام نہ پہنچا،  ان خطوں یا ممالک کی تاریخ پہ غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ وہاں پہ نہ تہذیب تھی نہ ہی امن تھا اور نہ ہی وہاں پہ کوئی نظام حکومت تھا۔ بادشاہ کا حکم حرف آخر ہوتا تھا۔ بادشاہ ہی قانون ساز ہوتا تھا۔ بادشاہ کسی سے مشورہ کرے یا نہ کرے یہ بادشاہ کی مرضی پہ منتہج ہوتا تھا۔ بادشاہ عوام پہ ظلم کرتے تھے اور بد تہذیبی، نا انصافی، بد امنی اور معاشی بدحالی بھی  انتہا پہ تھی۔ اسےہی "آمریت یا ملوکیت ” کہتے ہیں۔

تاریخ کو مسخ کرکے آج مسلمان بادشاہوں کو ملوکی حکمران یا آمر حکمران قرار دیا جاتا ہے۔ کوئی دلیل یا  تاریخی حوالہ نہیں۔ صرف تاریخ کو متوازن طریقے سے نہ پڑھنے کی وجہ اور اسلام مخالف طاقتوں کی مرتب شدہ تاریخ پہ اعتبار کرنے کی وجہ سے ہےیا اسلامی نظام حکومت کے خلاف پروپیگنڈہ سے متاثر ہوکرکم علمی کی وجہ سے ہے۔

اگر غیرمسلم حکمرانوں کی عادات کی تاریخ پہ نظر دوڑائی جائے تو  فرنچ پرفیوم اس لئے مشہور نہیں  کہ خوشبو یا عطر یا پرفیوم پہلی دفعہ فرانس میں ایجاد ہوئے اورفرانس نے ہی متعارف کروائے یا  بہت اعلی معیار کے ہوتے تھے بلکہ فرانسیسیوں میں نہانے کا کوئی رواج نہ تھا اور ان کی بدبو کی وجہ سے یورپ میں پرفیوم کو فروغ ملا۔ کیونکہ پیرس کی گلیوں میں بغیر خوشبو لگائے  گھومناپھرنا ناممکن ہوتا تھا۔ یہاں تک کہ ریڈ انڈین ، یورپیوں سے لڑتے ہوئے  مزید عطر لگے پھول اپنی ناک میں ٹھونس لیتے تھے، کیونکہ یورپیوں کی تلوار سے زیادہ ان کے جسموں سے نکلنے والی  بدبو تیز ہوتی تھی۔ فرانسیسی مورخ "دربیار” لکھتا ہے ۔

” ہم یورپین، مسلمانوں کے مقروض ہیں، انہوں نے ہی ہمیں صفائی اور جینے کا ڈھنگ سکھایا۔
 انہوں نے ہی ہمیں نہانا اور لباس تبدیل کرنا سکھایا۔  جب ہم ننگے دھڑنگے ہوتے تھے،
 اس وقت وہ اپنے کپڑوں کو زمرد، یاقوت اور مرجان سے سجاتے تھے”

یورپ میں بد تہذیبی کا یہ عالم تھا کہ نہانے اور صفائی ستھرائی  کا کوئی رواج نہ تھا، یہی وجہ تھی کہ یورپی لوگوں سے سخت بدبو آتی تھی۔  جب مسلمان  پیرس میں داخل ہوئے تو وہاں کے باشندے، تابوت چوری کرکے، ان میں اپنا سامان ڈال کر گلیوں میں کیچڑ میں سےجاتے تھے۔ مغربی تاریخ میں آج بھی وہ اپنے آباؤ اجداد کو "وحشی مغرب wild west” مخاطب کرتے ہیں۔ آج جو بھی ترقی اور بہتری ہمیں نظر آ رہی ہے اس میں اسلام اور اسلامی تعلیمات سے استفادہ ہی کیا گیا ہے۔

یورپی لوگوں کی طرح روسی بھی صفائی پسند نہیں تھے۔ مشہور سیاح ابن فضلان نے لکھا ہے کہ  روس کا بادشاہ قیصر پیشاب آنے پر مہمانوں کے سامنے ہی کھڑے کھڑے شاہی محل کی دیوار پہ پیشاب کردیا کرتا تھا۔ چھوٹے اور بڑے پیشاب کے بعد کوئی استنجا نہیں کرتا۔ ایسی گندی مخلوق میں نے نہیں دیکھی۔ روس کے بادشاہ قیصرکی جانب سے فرانس کے بادشاہ لوئیس چہاردہم کے پاس بھیجے گئے سفیر نے کہا کہ فرانس کے بادشاہ کی بدبو کسی بھی درندے کی بدبو سے زیادہ متعفن ہے۔ اندلس میں لاکھوں مسلمانوں کو قتل کرنے والی "ملکہ ایزابیلا” ساری زندگی میں صرف دو بار نہائی۔ اس نے یورپ کی حکومت، مسلمانوں سے لینے کے بعد جب نہانے پہ پابندی لگائی، اس وقت شہرمیں تین سو گرم پانی کے حمام تھے۔  اس نے تمام حماموں کو تڑوا دیا تھا۔

اسپین کے بادشاہ "فلیپ دوئم” نے اپنے ملک میں نہانے پر مکمل پابندی لگا رکھی تھی۔ اس کی بیٹی ایزابیل دوئم نے قسم کھائی تھی کہ شہروں کا محاصرہ ختم ہونے تک داخلی لباس بھی تبدیل نہیں کرے گی۔ محاصرہ ختم ہونے میں تین سال لگے اور اسی سبب سے وہ مر گئی۔  فرانس کے بادشاہ کی ایک لونڈی تھی۔جو بادشاہ کی بدبو سے بچنے کیلئے اپنے اوپر خوشبو ڈالتی تھی۔ یہ ان کی عوام نہیں بلکہ بادشاہوں کے حالات تھے، عوام کا کیا برا حال ہوگا۔ یہ واقعات تاریخ کے سینے میں محفوظ ہیں۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب ہمارے سائنسدان نظام شمسی پر تحقیق کررہے تھے اور مترجم، سیاح، معمار اپنے اپنے شعبوں میں شاہکار کررہے تھے، ان کے بادشاہ اور کلیسا نہانے کو گناہ قرار دے کر لوگوں کو قتل کرتے تھے۔

اندلس پہ سات سو سال مسلمانوں نے حکومت کی اور غرناطہ کے آخری تاجدار ابوعبداللہ اور عیسائی بادشاہ فرڈیننڈ کے درمیان ایک معاہدہ ہوا۔ اس معاہدے میں یہ بات طے تھی کہ مسلمان اپنی عبادت کیلئے آزاد ہوں گے اور مسلمانوں کی عبادت گاہیں برقرار رکھی جائیں گی۔ مسلمانوں کے ساتھ عبادات اور تعلیم میں کوئی تعرض نہیں کیا جائے گا۔ لیکن جوں ہی فرڈیننڈ کی افواج غرناطہ میں داخل ہوئیں ساری مساجد کلیساؤں میں تبدیل کردی گئیں۔ سارے کتب خانے غرناطہ اور قرطبہ کے چوراہوں پر کتابوں کے ڈھیر کی شکل میں جلا دئیے گئے۔ مسلمانوں کے خلاف ناانصافی اور تشدد کی کاروائیوں کا آغاز کیا گیا۔ کسی بھی مسلمان پہ الزام لگا کر کہ اس نے عیسائی مذہب کے خلاف بات کی ہے، قتل کردیا گیا یا مذہب تبدیل کرنے پہ مجبور کیا گیا۔ مسلمانوں کو بے پناہ اذیتیں دی گئیں۔ جس کے نتیجے میں مسلمانوں کو وہاں سے ہجرت کرنا پڑی اور الجزائر اور مراکش میں جا کر مسلمانوں نے پناہ لی۔ سقوط غرناطہ کے دوران مسلمانوں کے ساتھ جوہوا وہ ایک دل دہلا دینے والی تاریخ ہے۔ انسانیت اور جمہوریت کے انھی علمبرداروں نے اس کے بعد ریڈ انڈین جو امریکہ کے اصل باسی  ہیں، کے ساتھ جو ظلم کیا وہ بھی تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!