غیرسیاسی انتظامیہ اور سیاست

پاکستان میں دو طرح کی انتظامیہ کارفرما ہے۔ سیاسی انتظامیہ اور غیر سیاسی انتظامیہ۔ غیرسیاسی انتظامیہ کی بھرتیاں، سی ایس ایس اور پبلک سروس کمیشن کے ذریعے کی جاتی ہیں اور کسی محکمے کے انتظامی امور کی سربراہی کیلئے سیکرٹری سب سے بڑا عہدہ ہوتا ہے۔ کوئی بھی  اعلی تعلیم حاصل کرنے کے بعد مقابلے کا امتحان اچھے نمبر سے پاس کرکے کسی محکمے میں تعینات ہوتا ہے اور ترقی پا کر سیکرٹری کے عہدے تک پہنچ کر محکمے کے سربراہ کی حیثیت سے فرائض سرانجام دیتا ہے۔یہ افسران "صاحب اختیار” بھی کہلاتے ہیں۔

پاکستان میں نظام کی اصلاح نہ ہونے کا ایک سبب غیرسیاسی انتظامیہ بھی ہے۔ دوقومی نظریہ اور نظریہ پاکستان کے نفاذ میں سب سے بڑی رکاوٹ بھی یہی انتظامیہ ہے۔موجودہ نظام تعلیم جس میں دینی تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے اور اس پہ یہ کہ ہمارے موجودہ تعلیمی نظام میں اسلامی تاریخ کو بھی مسخ کرکے پڑھایا جاتا ہے کیونکہ ہمارے یہ مقابلے کے امتحانات انگریزی زبان میں لئے جاتے ہیں جبکہ عوام کو اردو بھی ٹھیک سے لکھنی نہیں آتی۔ مقابلہ کا امتحان پاس کرکے یہ ملک کے سرکاری محکموں کی باگ دوڑ سنبھالتے ہیں۔ غیرسیاسی انتظامیہ میں موجود بے دین اور مغرب سے مرعوب لوگوں کی اکثریت ہوتی ہے۔ انگریزی زبان دفتری زبان ہے۔ ان کا زیادہ مطالعہ بھی انگریزی ناول، لٹریچر، انگریزی مورخین کی کتب،  انگریزی زبان میں مہارت حاصل کرنے کیلئے مسلسل مطالعہ کی وجہ سے مغربی تہذیب ہی ان کے دل و دماغ پہ چھائی رہتی ہے۔

وزراء اور اراکین اسمبلی کو رشوت اور بدعنوانی کے راستے بھی یہی انتظامیہ دکھاتی ہے۔ اگر غیرسیاسی انتظامیہ نہ چاہے تو پورے ملک میں ایک روپے کی کرپشن کسی جگہ نہیں ہوسکتی۔ بیوروکریسی اور دوسرے اہم اداروں کے اعلی عہدوں پہ قادیانی اور دیگر غیرمسلم بھی موجود ہیں جو کہ اقلیت ہونے کے ساتھ بہت منظم اور اپنے مقاصد حاصل کرنے کیلئے کام کررہے ہیں۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!