غیراسلامی مذاہب کے معاملے میں اسلامی ریاستوں کی رواداری اور غیرمسلموں کا رویہ

قرون اولی کے دور میں ہی تجارت کی غرض سے آنے والے مسلم تاجرحضرات اور مشائخ کی ہدایت پہ آنے والے علماء و صوفیاء اکرام کے اثرات ہند کی عوام پہ مرتب ہوئے۔اس طرح عوام مشرف بہ اسلام ہونا شروع ہوگئی تھی۔ لیکن جو مسلمان نہ ہوئے وہ متاثر ہوئے بغیر بھی نہ رہ سکے۔ اسلام کے احکامات کے مطابق کسی غیرمذہب شخص کو اسلام میں زبردستی داخل نہیں کیا جا سکتا بلکہ غیرمسلموں کے ساتھ احسن رویہ اختیار کرنے کا حکم ہے۔

مسلمانوں کے دور حکومت میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے میل ملاپ کی بدولت بھگتی تحریک نے جنم لیا۔ اس تحریک کے بانی ہندو تھے اور وہ” خدا پرست” تھے۔ اس تحریک میں علماء و صوفیاء /مشائخ کی تعلیمات کے اثرات بہت واضح ملتے ہیں۔ ذات پات اور چھوت چھات سے تنگ ہندو بھگتی تحریک میں شامل ہوئے۔ یہ تمام اسلامی تعلیمات، رواداری، بھائی چارہ، تحمل، حلم ، انسانی مساوات کو مانتے تھے۔ لیکن عبادت یا پوجا پاٹ نہیں کرتے تھے۔

پندرھویں صدی عیسوی  میں گزرے گورونانک بھگتی تحریک کے پہلے پیشوا ہیں۔ ان کی تعلیمات میں اسلامی رنگ واضح نظر آتا ہے۔ ان کے جانشین "گرو” کہلائے۔

پانچویں گرو نے امرتسر کو سکھوں کیلئے دارالحکومت قرار دیا اور سکھوں کی پہلی مذہبی کتاب "ادی گرنتھ” مرتب کی۔ اسلامی  ریاست کی جانب سے سکھ ازم کو ایک خطرہ سمجھا گیا اور1606ءمیں گرو ارجن کو پھانسی دے دی گئی۔ چھٹے گرو "ہرگوبند” نے سکھوں کو عسکری تربیت دینا شروع کی۔ سکھوں نے کئی لڑائیاں لڑیں۔ مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر کے دور تک حکومت اور سکھوں کے درمیان معاملات نے شدت اختیار کرلی۔ جس نے تصادم کی صورت اختیار کی اور 1675ءمیں اورنگزیب نے نویں گُروتیغ بہادر کو گرفتار کرکے تختۂ دار پر لٹکا دیا۔

1699ءمیں دسویں گُرو گوبند سنگھ نے مردوخواتین پر مشتمل عسکری گروپ "خالصہ” تشکیل دیا۔گوبند سنگھ نے سکھوں کی ابتدائی رسم "کندھے دی پھول” قائم کی اور سکھوں کو انوکھی وضع قطع دینے کیلئے پانچ "ک” دئیے۔ گوبندسنگھ سکھوں کے آخری گرو تھے۔ اب سکھ اُن کی تعلیمات پر عمل پیرا ہیں۔

بندا سنگھ نے 1716ءمیں اپنی گرفتاری اور پھانسی تک مغلوں کے خلاف مہم چلائی۔  1799ءمیں رنجیت سنگھ نے لاہور پر قبضہ کیا اور 1801ء میں پنجاب کو ایک خود مختار ریاست قرار دیکر خود کو "مہاراجہ” کا لقب دیا اور تقریبا نصف صدی ایسی ریاست پہ حکومت کی جہاں سکھ اقلیت میں تھے۔

سکھوں نے سکھ تعلیمات کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ مسلم حکومتوں کے خلاف جنگی تیاریوں کیں اور جنگیں بھی  کیں، جس کی وجہ سے مسلم حکومتوں کو ان کے خلاف اقدامات کرنا پڑے ۔ لیکن  بھگتی تحریک، مسلمانوں کی رواداری اور وسیع القلبی کی اعلی مثال ہے۔ ورنہ کوئی بھی انتہاپسند کسی دوسرے مذہب یا نظرئیے کو برداشت نہیں کرتا بلکہ نئے نظرئیے کو پروان نہیں چڑھنے دیا جاتا اور اپنا نظریہ تھونپا جاتا ہے۔اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ اسلام کا انتہا پسندی سے کوئی واسطہ نہیں اور نہ ہی اسلام انتہا پسندی کی تعلیم دیتا ہے۔ لیکن اسلامی ریاست پہ لازمی ہے کہ وہ توہین آمیز اور اسلام مخالف برداشت نہ کرے۔

1839ء میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کی موت کے بعد اقتدار کیلئے ہونے والی جنگ نے سکھ ریاست کو دو لخت کیا تو 1845ءمیں سلطنتِ برطانیہ نے اندرون خانہ ہونے والی لڑائیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سکھوں کو شکست دی۔  بعد ازاں سکھ قوم نے ہندو قوم کے ساتھ مل تقسیم ہند کے وقت مسلمانوں کے قتل عام میں حصہ لیا اور مسلمانوں کی املاک کو لوٹا۔ جو کہ یہ ثابت کرتا ہے کہ سکھوں کے مسلمانوں کے خلاف اقدامات جاری رہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!