عہد نبوی اور خلفاء راشدین کا دور

خلفاء راشدین کے دور حکومت میں کئی فتنے اٹھے جو براہ راست نبی کریم ﷺ کی وراثت یعنی دین اسلام پہ حملے تھے۔ یہ وہ وقت تھا، جب ملک شام میں اگر کوئی افواہ پھیلتی تو اس کی خبر دارالخلافہ "مدینۃ المنورہ” یعنی وفاق تک  پہنچنے میں کئی ماہ لگ جاتے اور اس وقت تک افواہ اپنا کام کرچکی ہوتی۔ انتہائی مشکل حالات، قبائل کے باہمی اختلافات، عرب تہذیب کا روایتی اکھڑ پن اور قبیلے سے باہر کسی کو امیر تسلیم نہ کرنے کی ضد جو کہ ایسے مسائل کو جنم دے رہے تھے کہ جن کو سنبھالنا خلفاء راشدین اور صحابہ اکرام کا ہی خاصہ تھا۔  اس دور میں وفاق یعنی مدینہ منورہ سے مسلسل ہدایات کا نظام سرعت انگیز نہ تھا۔ لیکن صحابہ اکرام و تابعین بڑھتے چلے گئے۔ کیونکہ انھیں نبی کریم ﷺ سے پیار تھا اور وہی پیار انھیں وفاق یعنی مدینہ منورہ سے جوڑے ہوئے تھا۔ لیکن صحابہ اکرام کو دو امتیاز حاصل تھے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے بلاواسطہ تربیت یافتہ تھے اور دوسرا یہ کہ عہد رسالت ﷺ میں ریاستی ڈھانچہ جو اپنے پیروں پہ کھڑا ہوچکا تھا، اس کا صحابہ اکرام بھی حصہ تھے۔ وہی نظام اور وہی اصول و قوانین لے کر وہ تعلیمات نبوت ﷺ کو نافذ کرنے کیلئے آگے بڑھنتے رہے اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک دو دھائیوں  کے قلیل عرصے میں ہی معلوم دنیا کا دو تہائی حصہ صحابہ اکرام نے ریاست مدینہ کے تحت کردیا تھا۔

عرب وہ علاقہ تھا، جسے کوئی ریاست اپنے علاقے میں شامل کرنے کو تیار نہیں تھی۔ کیونکہ عربوں سے انھیں کسی قسم کی آمدنی نہ تھی اور نہ ہی کوئی آمدن  ہونے کی امید تھی۔نہ کوئی خاص فصل ہوتی تھی۔ کوئی ریاستی عملداری نہ ہونے کی وجہ سے، کوئی قانون، قاعدہ نہ تھا۔ کوئی ریاستی سربراہ نہ تھا بلکہ سرے سے کوئی ریاست ہی نہ تھی۔ قبائلی نظام تھا، جس میں قریش خاندان، متولی کعبہ ہونے کی وجہ سے  معتبر ترین تھا۔

نبی کریمﷺ نے ایک ایسا نظام عطا کیا کہ نہ صرف عرب کو ریاست کی شکل دی بلکہ خوشحالی،شعور، علم و حکمت  اور تمام نعمتیں عربوں کو ملیں۔ پہلے تو عرب میں کوئی حکومت نہیں تھی ،قبائل آپس میں لڑتے رہتے تھے، قریب کی بڑی ریاستیں ،عرب کو اپنے علاقے میں شامل  تک نہ کرنا چاہتی تھیں۔ عرب بھی انتہائی خود سر تھے۔  یکایک یہ کیا ہوگیا ہے؟۔۔۔ عرب ایک مرکزیت پہ اکٹھا ہوگئے۔ کس نے ان کے مزاج بدل دئیے؟۔۔۔ یہ انقلاب آفریں ذات، نبی آخر الزماں، الصدق الصادقین،  محمد رسول اللہ ﷺ ہیں، جو محسن انسانیت ہیں۔

مدینہ منورہ کی ریاست کو چاروں اطراف سے خطرات لاحق تھے۔ بہت سے قبائل، ریاستیں اس نوزائیدہ ریاست کو کچلنا چاہتے تھے۔ دفاع کے پیش نظر متعدد قبائل کی سازشوں کو کچلنے کیلئے لشکر کشی کرنا پڑتی تھی اورجیسے جیسے خطہ عرب ایک ریاست کی شکل اختیار کرتا چلا جارہا تھا، قرب و جوار کے علاقوں میں تشویش بھی بڑھ رہی تھی اور وہ  ریاستیں مسلمانوں کے دفاعی لشکر کشی روکنا چاہتے تھے۔ اس وجہ سے مختلف قبائل اور ریاستوں کا اتحاد بنتا چلا جارہا تھا، جس کی وجہ سے مسلمانوں کو سرعت سے کام لینا پڑتا تھا۔ جہاں خبر ملتی کہ افواج اکٹھا ہورہی ہیں اور جارحیت کا ارادہ رکھتی ہیں، اسلامی لشکر کو کوئی نہ کوئی حکمت عملی اختیار کرنا پڑتی تھی۔جس کی وجہ سے ریاست مدینہ بہت عرصہ تک حالت جنگ میں ہی رہی۔ عہدصحابہ اکرام رضوان اللہ اجمعین  میں قیصر  نےمسلم افواج کی غیرمعمولی نقل و حرکت کی وجہ سے مسلم سفیر کو بلوایا کہ معاملہ کیا ہے؟۔۔۔ سفیرریاست مدینہ، قیصر کے دربار میں پہنچے۔ انھوں نے کہا کہ ہم ایک دوسرے کے دشمن تھے، ہم ایک دوسرے پہ ظلم کرتے تھے۔ اللہ کے رسولﷺنے ہمیں آپس میں بھائی بھائی بنا دیا۔ اللہ کے آخری رسول ﷺمبعوث ہو چکے ہیں۔ اگر مسلمان ہو جاؤ تو آپ ہمارے بھائی ہوں گے۔ جیسے نبی کریم ﷺنے فرمایا ویسے اپنی ذات سے لیکر امور ریاست تک تمام معاملات چلاؤ۔کسی پہ ظلم نہ کرو۔دوسری صورت یہ ہے کہ  اسلام میں کسی کو مسلمان کرنے کیلئے کوئی جبر نہیں۔ اگر مسلمان نہیں ہوتے ، امور سلطنت ویسے ہی چلیں گے جیسے اللہ نے حکم دیا ہے۔ تاکہ کسی پہ ظلم نہ ہوسکے اور نظام اللہ کا ہی چلے گا۔قیصر نے کہا کہ اگر میں یہ سب نہ مانوں تو؟۔۔۔ سفیر نے کہا کہ پھر تیسری صورت یہ ہے کہ روئے زمین پہ ظلم برداشت نہیں کیا جائے گا، جنگ کیلئے تیار ہوجاؤ۔

نبی کریم ﷺکے دورمیں جن صحابہ اکرام رضوان اللہ اجمعین کو مختلف علاقوں کی جانب مقرر کیا جاتا تھا، وہی قاضی کے فرائض سرانجام دیتے اور وہی گورنر کے فرائض بھی سرانجام دیتے اور وہی زکوۃ و عشر کو اکٹھا کرتے تھے۔خلفاء راشدین کے دور میں جیسے جیسے حکومتی معاملات میں اضافہ ہوتا گیا، مختلف شعبوں میں  الگ الگ افراد کو مقرر کرنا شروع کیا گیا۔ گورنر مقرر کیے گئے ، قاضی مقرر کیے گئے، بیت المال کا نظام چلانے کےلئے عامل مقرر کئے گئے۔ ڈاک کا نظام قائم کیا گیا۔ خط و کتابت کا محکمہ قائم  کیا گیا، جہاں تمام خط و کتابت کو محفوظ رکھا جاتا تھا۔  اسلامی ریاستوں میں مفتوحہ علاقوں کی دفتری زبان بحال رکھنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ شام کادفتر رومی حکومت کی وجہ سے رومی زبان میں اور عراق کا دفتر فارسی حکومت کی وجہ سے فارسی زبان میں تھا۔ جو بعد ازاں عربی پہ منتقل کئے گئے۔ جس کی وجہ وہاں کے مقامی افسروں کا یہ خیال کہ دفتری کام ان کے سوا کوئی نہیں کرسکتا یا مقامی لوگوں کی عربی زبان اپنانے میں دلچسپی کی وجہ سے ہوتا تھا۔

خلفاء راشدین  کے دور میں ہی باقاعدہ بحری فوج کی بنیاد رکھی گئی اور اس کے  پہلے امیر البحر ،حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ تھے۔ سن ہجری کا آغاز کیا گیا۔ جیل کا تصور دیا۔ مسجدوں میں روشنی کا بندوبست کیا گیا۔ پولیس کا محکمہ بنایا گیا۔ مکمل عدالتی نظام کی بنیاد رکھی گئی۔ فوجی چھاؤنیاں بنوائی گئیں، تنخواہ دار فوج بھی بھرتی کی گئی۔ دنیا میں پہلی بار دودھ پیتے بچوں، معذوروں، بیواؤں، بے آسراؤں اور بیروزگاروں کےوظائف مقرر کئے۔ دنیا میں پہلی بار حکمرانوں، سرکاری عہدیداروں کے اثاثوں کا ریکارڈ مرتب کروایا اور ان کا احتساب بھی کیا گیا۔ بے انصافی کرنے والے قاضی حضرات کو سزا دینے کا سلسلہ شروع ہوا۔

حضرت عمرفاروق کا جملہ آج انسانی حقوق کے مندرجات میں درج ہے کہ "مائیں بچوں کو آزاد پیدا کرتی ہیں، تم نے انھیں کب سے غلام بنا لیا”۔ حضرت عمرفاروق کا قول ہے کہ "اگر فرات کے کنارے کوئی کتا بھی پیاسا مرگیا تو اس کی سزا عمر کو بھگتنا ہوگی”۔ حضرت عمرفاروق کے بارے میں کفار بھی یہ اعتراف کرتے ہیں کہ

"اسلام میں اگر ایک عمر اور ہوتا تو آج دنیا میں صرف اسلام ہی کی حکومت ہوتی”

صحابہ اکرام کے دور میں نئی بستیاں جغرافیا ئی ،تجارتی اور عسکری اہمیت کو مدنظر رکھ کرآباد کی گئیں۔ امن و امان کے قیام کےلیے پولیس کا محکمہ بھی بنایا گیا۔ رستوں میں سرائے بنائے گئے۔ فوجی چوکیاں بنائی گئیں۔ نئے شہر آباد کئے گئے اور وہاں تعلیمی و تحقیقی مراکز قائم کئے گئے۔

ایک بار امیر المومنین حضرت عمرؓ فاروق معمول کے گشت پر تھے کہ انہوں نے ایک بوڑھے فقیر کو دیکھا جو بھیک مانگ رہا تھا۔ اس بوڑھے کو بھیک مانگتا دیکھ کر آپ کی آنکھیں نم ہو گئیں اور آپ نے فرمایا ۔

"واللہ !  یہ انصاف نہیں کہ ہم جوانی میں ان سے فائدہ اٹھائیں  اور بڑھاپے میں انہیں بھیک مانگنے کیلئے چھوڑ دیں”

اس کے بعد ریاست مفلوک الحال ضعیف کو ماہانہ بیت المال سے وظیفہ دے گی، جسے آج کل مغربی ممالک میں “Old Age Benefit” کے نام سے سنتے ہیں۔ اسی طرح نومولود بچے کی ماں کا وظیفہ حضرت عمرؓ فاروق نے مقرر کیا۔ بچے کی  خوراک، تعلیم وغیرہ کا خرچ پہلی دفعہ ریاست نے برداشت کیا۔

خلفاء راشدین کے دور کے بنائے گئے محکمے آج بھی کسی نہ کسی انداز میں دنیا بھر کے ممالک میں موجود ہیں۔ خواہ وہ ڈاک، پولیس، فوج، عدلیہ، احتساب وغیرہ کے محکمے ہوں۔ آج بھی جس خطے میں صحابہ اکرام کے دور میں اسلام کا جھنڈا لہرایا گیا، وہاں آج بھی اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہوتی ہیں۔

اسی لئے تعلیمات و برکات نبوت ﷺ کا انکار کرنا ممکن نہیں ہے کیونکہ تعلیمات و برکات نبوت ﷺ  کائنات میں سب سے زیادہ صحابہ اکرام کے حصہ میں ہی آئیں اور انھوں نے اس پہ عمل کرکے دکھایا۔ قیامت تک صحابہ اکرام کے توسط سے ہی علوم و برکات نبوت سے حصہ ملتا  رہے گا۔  ہم بھی انھی تعلیمات و برکات کے ایک باب  سیاست کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ خلفائے راشدین نے جو کچھ کیا، وہ کتاب اللہ اور تعلیمات محمد رسول اللہ ﷺ  کے مطابق ہی کیا۔ ان کے تمام اقدامات کی سچائی کی گواہی ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!