عشور، کسٹم

کوئی بھی چیز، جب کسی ریاست میں داخل ہوگی، درآمد ہوگی تو اس پہ عشور یعنی کسٹم ریاست کو ادا کیا جائے گا۔ اس کا نفاذ حضرت عمرؓ فاروق کے دور میں ہوا۔ آج پوری دنیا میں، ہر ملک میں عشور/کسٹم کا باقاعدہ محکمہ ہے، جو کہ درآمدات اور برآمدات پہ نہ صرف نظر رکھتا ہے بلکہ ان پہ عشور وصول کرتا ہے۔ اسلام حکومت کو عشور کے اصول و ضوابط وضع کرنے کا اختیار دیتا ہے اور اس کی مقدار بھی حکومت طے کر سکتی ہے۔ کچھ برآمدات کو حکومت کسٹم فری قرار دیتی ہے۔ جیسے عسکری سامان، ادویات اور کھانے پینے کی اشیاء وغیرہ۔ لیکن عشور، کسٹم وصول کرنے کا یا نہ کرنے کا اختیار حکومت کے پاس ہوتا ہے۔ پاکستان میں کسٹم یعنی عشور کا نظام موجود ہے۔ جو کہ حکومت کیلئے بڑی آمدنی کا ذریعہ بھی ہے۔

کسی بھی چیز کے ریاست میں داخل ہونے کے وقت عشور وصول کر لینے کے بعد ایک مقام سے دوسرے مقام پہ منتقل ہونیوالے مال پر محصول لینا احکام السلطانیہ۳۲۸ میں حرام قرار دیا گیا ہے۔ کیونکہ عشور بھی ایک طرح کا محصول ہی ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!