عشر اور رکاز

عشر فرض ہے۔ عشر اسی وقت ادا کیا جائے گا جب آپ زمین سے کچھ بھی حاصل کریں گے۔ فصل کو گھر یا منڈی لے جانے سے پہلے، عشر نکالنا فرض ہے۔ عشر فصل کادسواں حصہ مقرر ہے۔ اگر فصل کو بارش کی بجائے، ٹیوب ویل یا نہری پانی سے سیراب کیا گیا ہے تو عشر نصف ہوگا۔ دسویں حصے کو عشر اور بیسویں حصے کو نصف عشر کہتے ہیں۔ اگر کسی زمین کو بارش کا پانی اور ٹیوب ویل کا پانی بھی سیراب کرتا ہو تو اکثر کا اعتبار ہوگا۔ اگر دونوں برابر ہوں تو نصف پیداوار میں عشر اور نصف پیداوار میں نصف عشر ہوگا۔

صحیح بخاری کی حدیث میں عشر کی مقدار کو حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔

"جن کو آسمان نے سیراب کیا ہو یا چشموں کے پانی نے ان کو سیراب کیا ہو یا   خود زمین سر سبز و شاداب ہو  اس میں دسواں حصہ ہے اور جس زمین کو کنویں کے پانی  سے سیراب کیا گیا ہو اس میں پیداوار کا بیسواں حصہ واجب ہے”

زمین کی پیداوار پر ہی عشر ہوتا ہے اگر زمین کاشت ہی نہیں کی یا کاشت کی تھی لیکن ساری تباہ ہوگئی اور کچھ بھی حاصل نہ ہوا تو اب عشر بھی نہیں ہوگا۔ زمین سے نکلنے والی ہر چیز پر عشر ہے چاہے تھوڑی ہو یا زیادہ ہو حتی کہ خود رو گھاس پر بھی عشر ہے۔ عشر پوری پیداوار پر ہوگا فصل کی کٹائی کی مزدوری یا مشینوں کاکرایہ وغیرہ منہا نہیں کیا جائے گا۔ کسی شخص نے کسی کی زمین عاریتا لی ہوئی ہے ۔ تو عشر اسی پر ہوگا، مالک پر نہیں ہوگا ۔کسی نے زمین ٹھیکے پر دے رکھی ہے تو عشر ٹھیکہ پر لینے والے کے ذمہ ہے۔ اگر زمین بٹائی پر ہے۔ یعنی زمین ایک شخص کی ہے اور کاشت کاری دوسرا شخص کرتا ہے اور پیداوار آدھی آدھی کرتے ہیں تو جتنی جتنی پیداوار جس کو ملے اس کا عشر بھی اسی کے ذمہ ہوگا یا عشر ادا کرکے باقی فصل آدھی آدھی کرلیں گے۔ پیداوار تو حاصل ہوئی ہے لیکن یہ شخص مقروض بھی ہے تو اس پر بھی عشر واجب ہوگا۔ قرضے کی وجہ سے عشر معاف نہیں ہوگا۔ عشر کے علاوہ جو بچے گا اس سے اپنا قرض اتارے۔

کچھ اسلامی حکومتوں کے ادوار میں عشر کے علاوہ بھی فصل کا کچھ حصہ حکومت خرید لیتی تھی جس سے فصل کی قیمت کا تعین ہو جاتا تھا اور اشیاء بازار میں مہنگی نہیں ہوتی تھیں یا حکومت اپنا حصہ زمیندار کو ہی فروخت کردیتی تھی جس سے بھی قیمتوں کا تعین ہو جاتا تھا اور اشیاء مہنگی نہیں ہوپاتی تھیں۔ اسلامی ریاست فصل یا معدنیات وصول کرے یا عشر/رکاز کی مد میں رقم بھی لے سکتی ہے۔ اسلامی ریاستوں میں درہم وصول کئے جاتے تھے۔ درہم چونکہ چاندی کے ہوتے تھے، کاغذی نہیں۔

رکاز

جو معدنیات، ہم زمین سے حاصل کرتے ہیں، یہ عشر کی ہی قسم "رکاز یا خمس”کہلاتی ہے۔اگر زمین کسی فرد کی ملکیت ہے تو زمین سے حاصل ہونے والی معدنیات کا پانچواں حصہ/بیس فیصد اسلامی حکومت کو "رکاز” کی مد میں جائے گا۔ جو کہ کسی بھی حکومت کیلئے بہت بڑا آمدنی کا ذریعہ ہے۔ اگر زمین ریاست کی ملکیت ہے اور حکومت ٹھیکے پہ دیتی ہے، تو اس صورت میں حکومتی حصے کی معدنیات تو حکومت کی ملکیت ہوں گی اور باقی اپنے حصے میں سے ٹھیکیدار حکومت کو پانچواں حصہ رکاز ادا کرے گا۔

عشر کی طرح محنت یا مزدوری یا اخراجات منہا نہیں ہوں گے بلکہ جو کچھ زمین سے نکلے گا اس کا پانچواں حصہ "رکاز” دینا ہوگا۔

عشر و رکاز حکومت کی آمدن کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ لیکن اس جانب اسلامی ریاستوں کی توجہ ہی نہیں ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!