طاغوتی سازشوں کا نتیجہ

سونے سے تعلق توڑنے کے بعد غیرحقیقی مالیاتی نظام کے ذریعے کاغذی کرنسی چھاپ چھاپ کر  اب جعلی مالیاتی نظام اپنی موت آپ ہی مرنے والا ہے۔ ایسے ہی بااختیار حکومتوں کو ختم کرکے اداروں کےذریعے جمہوری حکومتیں قائم کی گئیں، جن میں سربراہ مملکت کو بےاختیار رکھا گیا اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے اسلامی سیاسی نظام، سود سے پاک اقتصادی نظام اور اصل مالیاتی نظام کے خلاف پروپیگنڈا کیا گیا۔ جمہوریت اور سرمایہ دارانہ نظام کی حقیقت اس سے واضح ہوجاتی ہےکہ لگزمبرگ  جو کہ سالانہ پیداوار/جی ڈی پی کے لحاظ سے دنیا کاسب سے زیادہ  مقروض ملک ہے، کے وزیر اعلیٰ اور یورپی یونین کے پرانے رہنما  Jean-Claude Juncker نے واضح بیان دیا تھا کہ

"جب معاملہ سنگین ہو تو جھوٹ بولنا پڑتا ہے”۔ "When it becomes serious, you have to lie”

آج کی سیاست و معیشت کے علمبردار اس وقت اقرار کررہے ہیں کہ دنیا کی سیاست و معیشت جھوٹ پہ مبنی ہے۔ انھی جھوٹی، مکار اور فراڈی طاغوتی طاقتوں نے مسلسل سازشوں کے ذریعے خلافت کے تسلسل کو روکنے کے بعد دنیا کو بہت سے فتنے دئیے، جو کہ اسلام کی تعلیمات کے برعکس ہیں اور نظام عالم کو تباہی کے دہانے پہ لے آئے ہیں۔  ان فتنوں نے دنیا کے نظام زندگی کو غیرمتوازن کرکے رکھ دیا ہے۔ان فتنوں میں

  1. بیت المال کی جگہ مرکزی بینک
  2. کاغذی کرنسی اور سود
  3. جمہوریت اورآئین
  4. اندرونی و بیرونی قرضہ جات
  5. دنیاوی اور دینی تعلیم کی الگ الگ درسگاہیں
  6. ذرائع ابلاغ کے ذریعے جدیدیت کے نام پہ فحاشی و عریانی۔۔۔

علماء اکرام و مفتیان نے ان سب کی مخالفت کی اور ان کے خلاف فتاوی بھی دئیےلیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی سطح پہ ان فتنوں کا خاتمہ کرنے کیلئے تمام اسلامی ممالک، اپنی سیاست و معیشت کو اسلامی قوانین کے مطابق کریں۔ اگر امت مسلمہ خلافت کے نظام کے ذریعے ایک قیادت کے زیرسایہ اقدامات نہیں کرے گی تو ان فتنوں کی سرکوبی شاید ممکن نہ ہوسکے اور انسانوں کو اس ظلم سے نجات نہ مل سکے۔

ریاستی و معاشی نظام پہ حاوی ہونے کی وجہ سے غیرمسلم تعلیمی نظام پہ بھی حاوی ہوگئے اور اس وجہ سے دنیا بھر میں ہی نہیں بلکہ اسلامی ریاستوں کے تعلیمی درسگاہوں میں اسلامی نظاموں کی تعلیم نہ ہونے کی برابر دی جاتی ہے۔ بدقسمتی سے، اسلامی ممالک میں ہی کچھ ایسے علماء ہیں  جو اس مغربی نظام کی مخالفت کی بجائے اس کو اسلامی جامہ پہنانےیا اسلامی تعلیمات کے مطابق ثابت کرنے کا کام کر رہے ہیں۔ جیسا کہ سرمایہ دارانہ نظام اور معاشی قوانین  کا گڑھ مرکزی بینک ہے اور اس کی جگہ بیت المال نہیں قائم کیا گیا۔ لیکن نجی سطح پہ بیت المال کی سرپرستی کے بغیر اسلامی بینکنگ کا آغاز کردیا گیا ہے۔ اسی طرح اسلامی بیمہ، اسلامی کریڈٹ کارڈ، اسلامی جمہوریت وغیرہ  متعارف کروانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ لیکن یہ غور نہیں کیا کہ آخر وہ کون سا نظام تھا جس کے اصول و ضوابط کی بنیاد پر مسلمانوں نے تیرہ سو سال عمل کیا اور عالمی طاقت کے طور پر حکومت کی۔ پوری دنیا میں حقوق و فرائض اورمعیشت  کاتوازن بھی برقراررکھا۔ ان تمام نظامات حکومت کے تسلسل کو روکے ہوئے ابھی بمشکل ایک صدی گزر ی ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!