صیہونی جماعتیں

سرمایہ دارانہ نظام اور جمہوریت کی حکمرانی بظاہر برطانیہ، یورپ، امریکہ جیسے ممالک کے ہاتھوں میں ہے لیکن ان کے پس پردہ کاغذی کرنسی کے زور پہ انیسویں صدی کے آخر تک صیہونی طاغوتی طاقتیں ان بڑے ممالک پہ قبضہ جما چکی تھیں۔ انھی طاقتوں نے خلافت کے خلاف محاذ کھولا اور انھی طاقتوں نے درپردہ رہ کر سرمایہ دارانہ نظام کو پوری دنیا میں مضبوط کرنے کیلئے قانون سازی کیلئے ریاستوں کو مجبور کیا۔ ان طاقتوں نے ہمیشہ طاقت کے محوروں میں نقب زنی کی اور وہیں سے تخریبانہ کاروائیاں کرنے کے آلہ کار پیسوں کے لالچ دے کر تلاش کئے۔

یہودیوں کی یہ تنظیمیں ویسے ہی کام کرتی ہیں جیسے ماضی میں ہشیشی، صبائی تحریک کام کرتی تھیں۔ ان جیسی تنظیموں میں  ایک صہیونی تنظیم ” فری میسن” بھی ہے۔ جس کے بارے میں  "ایلومینٹائی” کے الفاظ بھی سننے کو ملتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ یہ الگ الگ تنظیمیں ہوں لیکن ان کے مقاصد اور طریقہ کار ایک جیسے ہی ہیں۔ یہودی صرف اس کو ہی یہودی مانتے ہیں جس کے ماں باپ دونوں یہودی ہوں۔ اس لئے یہودیوں نے ایسی تنظیمیں بنا رکھی ہیں جن کے ذریعے غیر یہودیوں میں تسلط بنایا جاسکے۔ یہ یہودیوں کی وہ تنظیم ہے جس میں ممبرشپ کیلئے مذہب کی کوئی قید نہیں۔ آپ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں، آپ میں صلاحیتیں ہیں یا آپ صاحب اختیار ہیں تو وہ آپ کو اپنے نیٹ ورک کا حصہ بنا لیں گے۔ پاکستان کے جنرل ریٹائرڈ شاہد عزیز نے ایک انٹرویو میں ان تنظیموں کے طریقہ واردات سے بڑی تفصیل سے پردہ اٹھایا ہے کہ کیسے یہ اعلی حکومتی شخصیات کو اپنے چنگل میں پھنساتی ہیں اور ان سے کام لیتی ہیں۔ امریکہ/برطانیہ اور ان جیسے دوسرے ممالک کے حکمرانوں سمیت اہم شخصیات اسی یا اس جیسی تنظیموں کی ممبر ہیں۔ تنظیم” فری میسن” ان تنظیموں میں سے ایک ہے، جو دجال کا انتظار کررہی ہے اور اس کا نیٹ ورک دنیا میں بنا رہی ہے۔ پاکستان میں فری میسن اور ایسی صہیونی تنظیموں کو جنرل ضیاء الحق کے دور حکومت میں  کالعدم قرار دیا جاچکا ہے اور اب خفیہ طریقے سے کام کرتی ہیں۔ فری میسن کا ممبر کوئی بھی ہوسکتا ہے، کوئی سائنسدان بھی ہوسکتاہے، کوئی سیاستدان بھی ہوسکتاہے، کوئی جسٹس بھی ہوسکتاہے،کوئی فوجی افسر ، کوئی صحافی، بیوروکریٹ بھی ہوسکتاہے۔ یہاں تک کہ ملک کا صدر یا وزیر اعظم یا وزیر بھی ہوسکتا ہے۔ اپنی تنظیم کا ممبر بنا کر پہلے ادنی درجے کے کام لئے جاتے ہیں۔ ان پہ انھیں مراعات کی صورت میں فاِئدہ ملتا ہے۔ انھیں دوسرے ممبران کے ذریعے مدد بھی باہم پہنچائی جاتی ہے۔ آہستہ آہستہ لالچ بڑھتا جاتا ہے اور پھر ان کے چنگل سے نکلنا مشکل ہوجاتا ہے۔ فری میسن کے ممبر جو کہ اعلی عہدوں پہ براجمان شخصیات  ہوتی ہیں، کو بیرون ملک جائیدادیں دی جاتی ہیں، ان کے بچوں کی تعلیم و تربیت تک کے اخراجات یہ تنظیم برداشت کرتی ہے۔ ان کے بدعنوانی اور رشوت ستانی کی رقم کو بیرون ملک بینکوں میں محفوظ کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ پیسہ ایسے اشخاص کے کام نہیں آتا۔ کیونکہ ایسی تنظیمیں جانتی ہیں کہ جب یہ شخص اپنے مذہب اور ملک سے مخلص نہیں تو  وہ کسی اور سے کیسے مخلص ہوگا؟۔۔۔ یہ تنظیمیں یہ بات کبھی بھی فراموش نہیں کرتیں۔ پاکستان میں پہلے بھی ایک اعلی سیاسی شخصیت  اور ملک کے سابق وزیراعظم کے مرنے کے بعد ان کا پیسہ ان کی اولاد کو نہیں دیا گیا تھا۔ بھارت کو پاکستانی جاسوسوں کی فہرستیں دینے والےوزیرداخلہ، وزیراعظم کے بارے میں بھی اس تنظیم کے آلہ کار ہونے کے خدشے کا اظہار کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں ایک کھلاڑی کے بارے میں حکیم سعید شہید اور ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم نے بھی اس تنظیم کے آلہ کار بننے اور وزیراعظم بنائے جانے کی سازش کو بہت پہلے بےنقاب کیا تھا۔ ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ ایسے ہی ان کے بچوں کی ذہنی سازی کرکے اس نہج پہ لے آتے ہیں کہ وہ  اپنے ملک واپس نہیں آنا چاہتے اور غیرمسلم معاشروں میں ہی گم ہوجاتے ہیں۔یا پھر ان کو اس وقت واپس بھیجا جاتا ہے جب ان سے اس ملک میں کام لینے ہوں۔جیسا کہ سوات کی ایک لڑکی کو ملک میں واپس بھیجنے کیلئے تیار کیا جارہا ہے۔

جو لوگ حکومتوں اور عالمی اداروں کو کنٹرول کرتے ہیں، وہ ان تنظیموں کے آلہ کار ہوتے ہیں۔ تنظیم سے بغاوت یا مشن نامکمل رہنے کی صورت میں  خفیہ طریقے سے قتل کردیا جاتا ہے یا وہ بندہ خودکشی کرلیتا ہے اور آخر میں یہی ہوتا ہے۔

روزنامہ نوائے وقت لاہور نے 5 مارچ 2003ء کو ایک اسرائیلی اخبار کے حوالہ سے خبر دی کہ اسرائیل کے وزیر دفاع جنرل موفاذ نے کہا ہے کہ چند روز تک عراق پر ہمارا قبضہ ہوگا اور ہمارے راستے میں جو بھی رکاوٹ بنے گا اس کا حشر عراق جیسا ہی ہوگا۔ جیسے عثمانی خلیفہ سلطان عبد الحمید نے ہمیں فلسطین میں جگہ دینے سے انکار کیا تھا، جس کی وجہ سے ہم نے نہ صرف ان کی حکومت ختم کر دی بلکہ عثمانی خلافت کا بستر ہی گول کر دیا۔ اب جو اسرائیل کی راہ میں مزاحم ہوگا اسے اسی انجام سے دو چار ہونا پڑے گا۔ اسرائیلی وزیر دفاع کے اس بیان سے یہ حقیقت ایک بار پھر واضح ہوگئی ہے کہ عراق پر امریکی حملے کا منصوبہ در اصل صیہونی عزائم کی تکمیل کیلئے ہے اور اس عالمی پروگرام کا حصہ ہے جو عالم اسلام کے وسائل پر قبضہ اور اسرائیلی سرحدوں کو وسیع اور مستحکم کرنے کیلئے گزشتہ ایک صدی سے تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔اس کے پیچھے بھی صیہونی تنظیموں کی وسیع، طویل المدتی منصوبہ بندی شامل ہے۔ جس میں تیس چالیس سال پہلے منصوبہ بنایا جاتا ہے کہ کسے برسراقتدار لانے کیلئے تیار کرنا ہے اور کیسے برسراقتدار لانا ہے۔ ایسے لوگوں کو این جی اوز بنوا کر معاشرے میں مضبوط کیا جاتا ہےاور لوگوں کے دلوں میں ان کیلئے ہمدردی عنصر پیدا کیا جاتا ہے۔ پھر انھیں ذرائع ابلاغ کے ذریعے نمایاں کیا جاتا ہے۔ ہڑتالیں ، احتجاج کروائے جاتے ہیں  اور انھی کے  ملک پہ صیہونی عزائم کی تکمیل کیلئے برسراقتدار لایا جاتا ہے۔

ان تنظیموں نے بہت بڑے بڑے مالیاتی کارپوریشنیں بنا رکھی ہیں۔ جو کہ مافیاز کی طرز پہ کام کرتی ہیں۔ آج کی دنیا بشمول  امریکہ، یورپ، برطانیہ کو انھی مافیاز کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔ جن میں مرکزی بینکوں اور کاغذی کرنسی کو چلانے والا آئی ایم ایف اور فیڈرل ریزرو بینک کے علاوہ تیل، ہتھیاروں، منشیات کے جیسے بہت بڑے بڑے مافیاز ہیں۔ آج کے دور میں ڈالر  جن کے ہاتھ میں ہے یعنی فیڈرل ریزرو بینک، انھی کے ہاتھ میں تیل اور ہتھیاروں اور منشیات کے معاملات بھی ہیں۔

تیل کے بڑے ذخائر خلیجی ممالک  میں ہیں مگر ان ذخائر کے بڑے حصہ دار امریکی اور یورپی کمپنیاں ہیں ۔ یہ کمپنیاں ایسا شیطانی گٹھ جوڑ کر چکی ہیں کہ یہ  فی الحال تیل کو اسی علاقے میں رکھ کر دنیا کو مہنگا بیچنا چاہتی ہیں  اس لئے اگر دنیا کے دوسرے ممالک میں تیل نکل آیا تو خلیج کا مہنگا تیل کون خریدے گا؟۔۔۔ اور ڈالر کی پیڑو کرنسی کی اجارہ داری ختم ہوجائے گی۔ شروع سے ہی خلیج ممالک کا سارا پیسہ امریکہ اور یورپ کی معیشت میں ہی دوڑ رہا ہے اور مکمل طور پر ان صیہونی طاقتوں کے ہاتھ میں ہے۔ یہ مافیاز اتنے طاقتور ہیں کہ خود امریکہ اپنے اندر کا تیل نہیں نکال پا رہا اور وہ بھی خلیج سے انھی طاقتوں کی مرضی کی قیمت پہ تیل خریدنے پر مجبور ہے ۔ امریکہ نے شیل تیل کے ذخائر کھولے تو اس مافیا نے تیل کی قیمت  کو 145  ڈالر فی بیرل سے صرف 30ڈالر بیرل تک گرا دیا۔ جس کے نتیجہ یہ نکلا کہ جن کمپنیوں کی شیل گیس میں سرمایہ کاری تھی وہ دیوالیہ ہو گئیں۔ کیونکہ شیل گیس نکالنے پر لاگت ہی 50 ڈالر  فی بیرل  آتی تھی ۔ ایسے ہی روس اپنا تیل گرم پانیوں تک نہیں پہنچا پارہا کیونکہ یہ مافیا تیل کی قیمت اس سطح پہ رکھتی ہیں، جن میں کوئی ملک روس سے تیل ہی نہ خرید سکے۔ ایران پہ یہی مافیا اقتصادی پابندیاں لگا کر تیل نہیں بیچنے دیتا۔ کنیڈا نے مٹی کو صاف کر کے تیل نکالنا شروع کیا تو وہ سعودی عرب کے بعد تیل پیدا کرنے والا دوسرا بڑا ملک بن گیا مگر یہاں بھی تیل کی عالمی منڈی میں قیمت کی نسبت لاگت زیادہ تھی چنانچہ اس مافیا نے کینیڈا کو بھی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ۔

صدر اوبامہ نے جب عہدہ سنبھالا تو بتایا کہ امریکہ متبادل انرجی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ جس دن ہم نے نئی انرجی دنیا میں متعارف کرا دی اس دن ہمارے وارے نیارے ہو جائیں گے اور امریکہ پر جو 14 ہزار ارب ڈالر کا قرضہ ہے وہ بھی ادا ہو جائے گا۔ مگر اوبامہ آٹھ سال گزارنے کے باوجود متبادل توانائی کو متعارف نہ کرواسکا۔ کیونکہ جن کمپنیوں کی تیل پر اجارہ داری تھی وہ اس تحقیق کو دنیا میں عام نہیں ہونے دیں گی۔ یہ مافیاز اپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے سائنسدان خرید لیتی  ہیں یا قتل دیتی ہیں یا اغوا کرکے ہمیشہ کیلئے غائب کردیتی ہیں۔

آج سولر پینل 16 یا 18 فیصد پر کام کرتا ہے اگر یہ پینل 40 فیصد پر کام شروع کر دے تو دنیا سے بجلی کی تاریں گرڈ سٹیشن اور پاور ہاؤس غائب ہو جائیں تمام گاڑیاں سولر پاور پر شفٹ ہو جائیں ۔جرمنی کی ایک کمپنی نے دو سال پہلے 47 فیصد پر کامیاب تجربہ کیا مگر پھر اچانک اس کمپنی نے خود کو دیوالیہ قرار دے دیا اور غائب ہو گئی۔ ٹیسلا کمپنی جس نے بجلی سے چلنے والی گاڑیاں متعارف کرائیں اور کہا کہ وہ پوری دنیا کو سولر پر منتقل کر سکتی ہے۔ اس پر آئے دن دیوالیہ ہونے کی تلوار لٹک رہی ہے ۔ ایسے ہی جاپان، جرمنی اور دوسرے ممالک میں پانی پہ گاڑیوں، انجنوں کو چلانے اور بجلی پیدا کرنے کے کامیاب تجربات ہوچکے ہیں اور بلاشک و شبہ  پانی دنیا کا سب سے سستا توانائی کا ذریعہ ہے اور اس سے ماحولیات کو بھی کسی قسم کا خطرہ نہیں۔ اس کے باوجود ان تجربات کو منظرعام پہ آنے نہیں دیا جاتا۔ ایسی ہی ایک مثال قدرتی مقناطیسی طاقتوں سے موٹر بنانے کی ہے۔ ترکی کے ایک پروفیسر نے موٹر تیار کررکھی ہے۔  اس میں کسی قسم کے توانائی کے ذریعے کی بھی ضرورت نہیں رہے گی۔ لیکن اس کو بھی عام نہیں ہونے دیا جارہا۔ پیٹروکرنسی ڈالر، جس کے ذریعے صیہونی طاقتیں پوری دنیا پہ حکومت کررہی ہیں، ختم ہوتے ہی پوری دنیا ڈالر سے آزاد ہوجائے گی اور اس وقت صیہونی طاقتوں کی جان "ڈالر” میں قید ہے۔

دنیا کے ہر ملک کو ان جیسی تنظیموں سے خطرہ لاحق ہے کیونکہ یہ نیٹ ورک چلانے والے لوگ صرف صیہونی مفادات کو مدنظر رکھ کر اپنے احداف مقرر کررہے ہیں۔ خفیہ ادارے بھی ایسے عناصر کو گرفت نہیں کرپاتے، جس میں رکاوٹ جمہوریت جیسا ناکارہ، غیرمستحکم اور بے ربط حکومتی نظام، پیسہ اور ایسے افراد کا اعلی عہدوں پہ ہونا ہے۔ فری میسن جیسی تنظیموں یا ایجنسیوں  نے دنیا  کے بہت سے برسر اقتدار اور خواص کو اپنے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے۔ ہمارے خطے میں فری میسن کا مقصد پاکستان کی جوہری صلاحیت پہ قبضہ کرنا، معاشرے کو اسلام بیزاربنانا،د وسرے ہمسایہ ممالک سے رابطے منقطع کرنا یا محدود کرنا۔ پاکستان کی افواج کو حالت جنگ میں رکھنا۔ اندرونی خلفشار برپا رکھنا۔ جنوبی ایشیا میں بھارت، امریکہ، برطانیہ، یورپی ممالک  کی برتری تسلیم کرنے پر مجبور کرنا، ہمارے خام مال پہ قبضہ کرکے ہماری تیارشدہ مصنوعات کو روک کر ، غیر ضروری درآمدات ، ذرائع ابلاغ کی تشہیر کے ذریعےہم پہ تھوپ کر معیشت کو برباد کرنا ہے۔  مستحکم اور مضبوط حکومت کی عدم دستیابی اور مقننہ میں قانون سازی کی صلاحیت نہ ہونے کی وجہ سے ایسے اقدامات کو روکناممکن نہیں ہوپارہا۔ 2006ء میں پاکستان میں ڈالرکی قدر میں  یک دم اضافہ ہوگیا۔ شور یہ تھا کہ پیسہ پاکستان سے باہر منتقل کیا گیا ہے۔ اس دوران ذرائع ابلاغ پہ ایک معیشت دان بتا رہے تھے  کہ  125ارب ڈالر، پاکستانی پاسپورٹس پہ بیرون ملک پڑا ہوا ہے۔ اگر آپ کسی دوسرے ملک کی شہریت لے لیتے ہیں تو آپ اس ملک کے شہری دستاویز پہ بینک میں اکاؤنٹ کھلوائیں گے۔ ورنہ آپ اپنے ملک کے پاسپورٹ پہ اکاؤنٹ کھلوائیں گے۔ جو پیسہ پاکستانی نژاد لوگوں کا وہاں پہ ہے، اس کا ریاست کو اس وقت تک کوئی فائدہ نہ پہنچے گا جب تک وہ پیسہ پاکستان میں نہیں آئے گا۔ ایسے پاکستانی  مجبوری میں ہی دوسرے  ملک میں بیٹھے ہیں اور انھوں نے بھی بالآخر پاکستان ہی آناہے۔ اگر وطن عزیز کے حالات بہتر ہوں، امن  و امان ہو اور قانون و انصاف کا بول بالا ہو  تو پاکستانیوں کا ملک سے باہرموجود  اتنا پیسہ پاکستان میں آجائے کہ  ایک ڈالر اگر سو روپے سے زائد کا ہے تو ایک ڈالر کا ایک پاکستانی روپیہ ہو جانا بھی بعید نہیں۔ بہتر معاشی پالیسی، امن و امان اور قانون و انصاف کے نفاذ سے غیرملکی سرمایہ کار بھی سرمایہ کاری کی جانب راغب ہوتے ہیں۔ طاغوتی طاقتوں کا مقصدپاکستان کو مستحکم نہ ہونے دینا ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!