صوبائی حکومتیں اور ضلعی حکومتیں

کسی وسیع سلطنت کے انتظام میں خوش اسلوبی کا مقصد ہی صوبائی حکومتوں کے قیام کی بنیاد مہیا کرتا ہے۔ صوبائی حکومت بھی وزراء کی طرح سربراہ مملکت کی ممد و معاون  ہوتی ہیں۔ صحیح بخاری میں حضرت ابوبردہ کی روایت ہے۔

"رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوموسی اور معاذ بن جبل کو یمن بھیجا اور ان میں سے ہر ایک کو ایک مخلاف میں بھیجا جبکہ یمن دو مخلافوں پر مشتمل تھا”

حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یمن میں "مخلاف” کا لفظ اس معنی میں استعمال ہوتا تھا جس معنی میں دوسرے علاقوں میں اقلیم / صوبہ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ ایسے ہی خلفاء راشدین کے دور میں جب اسلامی ریاست کی حدود وسیع ہوئیں تو اسی قسم کی انتظامی وحدتیں قائم کی گئیں تھیں۔

صوبائی حکومتوں کے اختیارات کا سرچشمہ بھی سربراہ مملکت ہی ہوتا ہے۔ ان کے اختیارات میں کمی بیشی مجلس شوری کے مشورے سے  اور سربراہ مملکت کا اختیار ہے۔  انتظامی حدود کی کچھ حدود و قیود دستوری طور پہ طے ہوجانے میں حرج نہیں۔

عہد رسالت مآب و خلفاء راشدین سے یہ دلیل ملتی ہے کہ کسی صوبہ کے گورنر کا تقرر بھی خود صوبہ کے اہل الرائے کی رائے سے ہوسکتا ہے۔ لیکن وفاق کی تائید ضروری ہے۔ یعنی عوامی رائے سے صوبے کی قیادت کا تقرر ہوگا یا امیر کی مرضی سے تعیناتی ہوگی، کا اختیار امیر کو اختیار حاصل ہے۔

گورنر صوبائی مجلس منتظمہ کے کسی رکن کو اپنی مدد کیلئے صوبائی وزیر مقرر کرسکتا ہے یا پھر گورنر ماہرین میں سے وزراء کا انتخاب کرکے اپنی کابینہ / مجلس تشریعی تشکیل دے سکتے ہیں۔ اس معاملے میں سربراہ مملکت کی طرح گورنر کوئی بھی راستہ اختیار کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔

مغلیہ دور میں صوبائی تقسیم کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں 562 نوابی ریاستیں بھی تھیں۔ "سرکار”یعنی ضلع ہوتےتھے۔ ان کے انتظام صوبائی حکومتیں دیکھتی تھیں۔ "پرگنہ” جو کہ کم از کم ایک  سو یا اس سے کچھ زیادہ دیہاتوں پہ مشتمل علاقہ کو کہتے تھے، جیسے آج کل تحصیل ہوتی ہیں۔ جب اتنی بڑی ریاست اس تقسیم کے تحت کام کرکے عدل و انصاف اور خوشحالی کو یقینی بناسکتی ہے تو جدید ٹیکنالوجی کے دور میں بھی اسی تقسیم کے مطابق صوبوں اور ضلعوں کے ذریعے امور ریاست چلائے جاسکتے ہیں۔ رائے ہے کہ "ڈویژن کی تقسیم ختم کردی جائے اور ضلع کی حدود میں اضافہ کیا جائے”۔

ہر شعبہ اور ہر سطح پہ ضروری اور باصلاحیت  افراد تعینات کرکے اختیارات کی تقسیم واضح ہوسکتی ہے اور جلد از جلد مسائل کا حل ممکن ہوسکتا ہے۔ کیونکہ حکومت کا مقصد رعایا کی فلاح و بہبود ہے۔ موجودہ نظام حکومت کی طرح   ہرگز نہ ہوکہ بیسیوں افراد میں اختیارات تقسیم کردیئے جاتے ہیں  اور بہانہ بد انتظامی اور کرپشن روکنے کا ہوتا ہے۔ اس کے باوجود نہ بد انتظامی ختم ہوتی ہے اور نہ ہی کرپشن۔ زیادہ افراد پہ احتساب کا عمل مشکل ہوجاتا ہے اور بدعنوانی، رشوت ستانی نہیں روکی جاسکتی۔ صرف ضرورت کے مطابق ملازمتوں پہ بھرتیاں ہوں اور اختیارات واضح ہوں۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!