صنعت و حرفت، پیداواری مراکز ۔۔۔ حرفۃ المفتوحہ

حرفۃ المفتوحہ، صنعت و پیداورا کے آزاد مراکز کو کہا جاتا ہے۔ اس کیلئے بھی جگہ اور دوسرے ضروریات کے وسائل حکومت مختص کرے گی۔ جہاں چھوٹی یا بڑی صنعت بنے گی۔ جس پر حکومت اس سے کوئی کرایہ وغیرہ وصول نہ کرے گی۔ البتہ ضروری اخراجات، سڑکوں کی مرمت اور سہولیات کی دستیابی کو یقینی بنانے کیلئے محصول لیا جاسکتا ہے۔ آج کے دور میں لاہور، اسلام آباد، کراچی، فیصل آباد جیسے بڑے شہروں میں "انڈسٹریل زون” ان کی مثالیں ہیں۔

حرفت میں اکثر کاروبار شراکت کی بنیادپر ہوتا ہے۔ ہر چھوٹے سے چھوٹے تاجر و صنعت کار کیلئے پیداواری مراکز، تھوک فروشی اور بازار تک براہِ راست رسائی ہونی چاہئے۔ جبکہ مغربی نظام معیشت میں صنعت، تھوک فروشی کے علاوہ بازار پر بھی چند سرمایہ داروں کا قبضہ ہوتا ہے۔

پاکستان صنعتی پیداوار اور صنعتوں کے لحاظ سے  چھیاسٹھ 66واں بڑا ملک ہے اور سالانہ ملکی پیداوار میں صرف دس فیصد حصہ صنعتی پیداوار کا ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان کو صنعتی اعتبار سے مزید ترقی کرنا ضروری ہے.

معدنیات سے مالا مال ہونے کی وجہ سے وطن عزیز کو دنیا کے صف اول کے صنعتی ممالک میں شمار ہونا چاہئے۔ اس سب کی بڑی وجہ حکومت کی جانب سے منصوبہ بندی کا فقدان، معاشی پالیسی متزلزل و غیرمستحکم اور تحقیق پہ بہت کم سرمایہ کاری، نظام سیاست و معیشت کی بربادی ہے۔

پاکستان میں صنعت کے فروغ کے بہت مواقع موجود ہیں، کیونکہ پاکستان زرعی ملک ہی نہیں بلکہ معدنی ملک اور صنعتی ملک بھی ہے۔ حکومتی تخمینے کے مطابق پاکستان میں کئی ٹن سونے سے زائد مالیت کی معدنیات پائی جاتی ہیں۔ جبکہ ان کی یہ مالیت خام حالت میں ہے۔ صنعتوں کے ذریعے، معدنیات جو کہ خام مال کی صورت میں ہوتی ہیں، ان کو پراسیس کرکے اور مطلوبہ شکل میں تیار کرکے، برآمد کرکے، دوسرےممالک سے خام مال کی فروخت کی نسبت، تیار مال کی فروخت سے دس گنا زیادہ زرمبادلہ حاصل کیا جاسکتاہے۔تکنیکی تعلیمی اداروں کے ذریعے مختلف صنعتوں کو فروغ دیا جاسکتاہے۔ بجلی اور سڑکوں / ریلوے کا نظام بہتر کرکے صنعتوں کو ترقی دی جاسکتی ہے۔حکومت کو صنعتوں سے بھی شرعی محاصل کی مد میں بہت سی آمدن  ہوسکتی ہے۔ ملک میں خام مال کواستعمال میں لانے والی صنعتوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے۔ گھریلو صنعت کاری کو بھی فروغ دیا جائے۔ پاکستان میں فیصل آباد، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، لاہور، ملتان، پشاور جیسے بڑے شہر تجارتی ہی نہیں بلکہ صنعتی لحاظ سے بھی اہم گردانے جاتے ہیں۔

بیرونی سرمایہ کاری کے حصول کیلئے بہت احتیاط ملحوظ رکھی جائے۔ برآمدات میں اضافہ کیلئے صنعتیں لگانا ضروری ہے اور نئی جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس صنعت سازی بعض اوقات بیرونی سرمایہ کاری کی محتاج ہوتی ہے۔ سوویت یونین اور چین60 سال تک سرمایہ کاری کے خلاف ڈٹے رہے۔ لیکن اب  روس اپنے دروازے سرمایہ کاری کیلئے کھولنے پر مجبور ہو گیا۔ جس میں بہت سے پہلو کارفرما ہیں۔ جبکہ چین پوری دنیا کیلئے سرمایہ کاری کی فیکٹری بن گیا۔ ضروری ہے کہ بیرونی سرمایہ کاری کے ساتھ ٹیکنالوجی کے حصول کو بھی مشروط کیا جائے۔

آجر و اجیر کے درمیان اسلامی تعلقات کی بنیاد پہ پالیسی مرتب کی جائے۔ آجر و اجیر کے درمیان منصفانہ اور بہتر تعلقات کیلئے اسلامی اصولوں پہ مبنی قومی پالیسی بنائی جائے۔ملکی صنعت کو تحفظ دینے کیلئے ملک میں تیار ہونے والی اشیاء کی درآمد پہ پابندی لگائی جائے یا کسٹم کی شرح زیادہ وصول کی جائے۔ خام مال کی برآمد کی  بھی حوصلہ شکنی کی جائے اور ہر طرح کا مال یہاں تیار کرنے کی کوشش کی جائے۔  صنعتیں لگائی جائیں۔ تیار مال کی برآمدات کیلئے پہلے طلب اور منڈیوں تک رسائی کو یقینی بنایا جائے۔

پاکستان سٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کو مزید متحرک اور موثر بنایا جائے۔صرف ان  اشیاء کی فروخت اور برآمدات کی اجازت دی جائے جو کہ بین الاقوامی معیار پہ پورا اترتی ہوں۔

قومی ترقیاتی نظام کے ذریعے صنعتی منصوبہ بندی کی جائے اور”پیداواری سائیکل” بنایا جائے کہ فلاں علاقے سے یہ خام مال حاصل ہوتاہے، وہاں یہ یہ انڈسٹری لگائی جائے ، جو کہ اس خام مال کو ریفائن کرے۔ ان فیکٹریوں سے جو فضلہ نکلے گا، اس کو اگلے مرحلے میں کون سی فیکٹریوں میں  استعمال میں لایا جاسکتاہے۔ ان فیکٹریوں کا خام مال ان کے قریب ترین ہی دستیاب ہوسکے اور ان کا فضلہ اگلے مرحلے میں کیسے استعمال ہوگا۔ اس طرح سے ترسیلاتی اخراجات میں کمی بھی واقع ہوسکے گی۔ ملازمتوں کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ برآمدات سےحکومت کی آمدن میں بھی اضافہ ہوگا۔ اس سب کیلئے ، صنعت کاروں، سرمایہ کاروں اور ماہر ارضیات اور ماہر کیمیات و طبیعات کی ایک کمیٹی بنائی جائے، جو کہ پیداواری سائیکل کی پلاننگ کرے۔ اس کام کیلئے ایک ادارہ پاکستان پلاننگ کمیشن کے نام سے بنایا گیا۔ جس نے بہترین منصوبے بنائے۔ افسوس کہ آج یہ ادارہ ایک عضو معطل بنا دیا گیا ہے۔ پاکستان میں ملکی سرمایہ کاروں کو پہلے موقع دیا جائے  کہ وہ سرمایہ کاری کریں، ورنہ غیرملکی فرموں کے ساتھ ملک کر ملکی سرمایہ کاروں کو صنعتیں لگانے کا موقع دیا جائے۔ اس میں مزید یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہر صنعت کے مالکان میں پاکستانی سرمایہ کاروں کا سرمایہ کم از کم نصف ہو۔اس سے مقامی سرمایہ کاروں اور غیرملکی سرمایہ کاروں دونوں کا اعتمادبڑھے گا۔ پاکستانی شہریوں کی تکنیکی تربیت کا انتظام ان کارخانوں کے ساتھ کیا جائے۔ ایسا نہ ہو کہ کارخانوں کو چلانے کیلئے ماہرین بیرون ملک سے ہی بلانے پڑیں۔ جلد از جلد مقامی شہریوں کی تربیت کرنے کی کوشش کی جائے۔ بے روزگاری کے خاتمے کیلئے غیرسرکاری کارخانے اور ادارے بہت اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ قومی معیشت کی بہتری کیلئے، صنعتوں کے فروغ کے ذریعے درآمدات  کو کم ازکم سطح پہ لانے کی پالیسی بنائی جائے۔ دفاع اور تمام اشیائے صرف کو ملک میں تیار کرنے کی پالیسی بنائی جائے۔

 صنعتی اور پیشہ وارانہ تعلیم کا دائرہ کار ان صنعتوں میں تعلیمی ادارے قائم کرکے باآسانی دیہاتوں تک بڑھایا جاسکتاہے۔ یہ ادارے مختصر تکنیکی تعلیم دے سکیں اور سند جاری کریں اور ان کو ملازمتیں بھی دیں۔ کچھ ممالک میں یہ کام بڑی کمپنیاں کرتی ہیں۔ وہ اپنے ملازمین کو باقاعدہ تربیت بھی دیتی ہیں اور سند بھی دیتی ہیں اور ملازمت بھی۔  تکنیکی تعلیم اور تجربہ  کی بنیاد پہ بینک کی شراکت داری کو یقینی بنایا جائے۔ اس کی بہترین موثر پالیسی بنائی جائے۔ مسلمانوں نے دنیا کو تحقیق کا درس دیا اور تحقیق کو ہر شعبے اور ہر سطح پہ فروغ دیا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ الیکٹریکل، الیکٹرونکس، ہوابازی، خلابازی، سافٹ وئیر، الغرض تمام جدید شعبوں میں تحقیقات کے شعبوں کو جامعات کی سطح پہ بھی فروغ دیا جائے۔

چین میں صنعت سازی کو فروغ دینے کیلئے 1898ء میں اصلاحات کی گئیں تھیں، لیکن وہ بری طرح سے ناکام ہو گئیں۔ اس کے بعد چین نے اپنے سیاسی نظام کی 1978 میں تنظیم نو کی۔ ان سیاسی نظام کی تبدیلیوں نے چین کو صنعتی اعتبارسےایک عالمی قوت بنا دیا۔ سیاسی نظام کی اصلاح کی اہمیت کا اندازہ چین کی سیاسی اصلاحات سے لگایا جاسکتاہے۔ چین کے مقامی نمائندے  با اختیار اور فنڈ کو پیدا  کرتے ہیں اور فلاحی کاموں میں بھی استعمال کرتے ہیں اور وہاں کی قومی قیادت میں انجینئرز اور ماہرین کی تعداد زیادہ ہے اور عوامی فلاح کے جذبے سے سرشار ہے۔ جاپان اور چین کی کامیاب صنعتی ترقی کو مدنظر رکھ کر ہم صنعتی انقلاب لاسکتے ہیں۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!