صنعت و تجارت

ریاست مدینہ میں سب سے پہلے معیشت کی بہتری کیلئے "اخوت” بھائی چارے کی فضا قائم کی گئی۔ نبی کریمﷺہر صحابی کو کسی نہ کسی روزگار میں مصروف دیکھنا چاہتے ہیں اور کسی کو کلہاڑی لیکر دی کہ جنگل سے لکڑیاں لا کر بازار میں فروخت کرو اور روزگار کماؤ،  کسی کا کھجوروں کا باغ ہے، کوئی کاشت کاری کرتا ہے، کوئی تجارت کر رہا ہے، کوئی مزدوری کررہا ہے، کوئی ملازمت کررہا ہے، کسی کا بکریوں کا ریورڑ ہے، کسی کے پاس اونٹ ہیں۔ الغرض سب صحابہ اکرام کچھ نہ کچھ کرتے نظر آئے۔

اللہ کے رسولﷺ نے بکریاں پال کر فروخت کیں، حضرت ابوبکر نے کپڑا، حضرت عمر  نے اونٹ، حضرت عثمان غنی نے چمڑا اور حضرت علی نے خَود اور زرہیں فروخت کیں۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف نے کھجوروں سے، حضرت ابو عبیدہ نے پتھروں سے، حضرت سعد نے لکڑی کے برادے سے، حضرت امیر معاویہ نے اون سے، حضرت سلمان فارسی نے کھجور کی چھال سے، حضرت مقداد نے مشکیزوں سے اور حضرت بلال نے جنگل کی لکڑیوں سے اپنے گھر کی کفالت کا آغاز کیا ۔

امام غزالی کتابت کرتے ، اسحاق بن رہوے برتن بناتے، امام بخاری ٹوپیاں بناتے، امام مسلم خوشبو بیچتے، امام نسائی بکریوں کے بچے فروخت کرتے، ابن ماجہ رکاب اور لگامیں بیچتے رہے۔ امام قدوری نے مٹی کے برتنوں کا، امام بخاری کے استاد حسن بن ربیع نے کوفی بوریوں کا کاروبار سنبھالا۔ حضرت امام احمد ابن خالد قرطبی نے جبہ فروش کی۔ حضرت امام ابن جوزی نے تانبا بیچا، حافظ الحدیث ابن رومیہ نے دوائیاں، حضرت ابو یعقوب لغوی نے چوبی لٹھا، حضرت محمد ابن سلیمان نے گھوڑے اور ٹین ڈبے بیچ کر سلسلہ روزگار چلایا۔

اسلامی نظامِ معیشت میں بازار، صنعتوں  کی جگہ وقف ہوتی ہے اور وہ حکومت مخصوص کرکے انتہائی سستے داموں دیتی ہے یا بہت کم پیسے ماہانہ اخراجات اوور کرائے کی شکل میں وصول کئے جاتے ہیں تاکہ ہر کسی کو کاروبار کرنے کے یکساں مواقع میسر ہوں۔  آج کل دکان خریدنا انتہائی مشکل بلکہ ناممکن ہے اور ایڈوانس و  کرائے بھی بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ جس سے کاروبار کرنا درکنار،  جگہ کا بندوبست ہی بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ اس لیے بازار و صنعتوں کیلئے جگہ کی فراہمی حکومت یقینی بناتی ہے اور اس جگہ پر ہر شخص کا یکساں حق ہوگا۔

 جیسا کہ مال وغیرہ کارخانے میں بنتا ہے، پھر گوداموں اور تھوک فروشی کے مراکز میں آتا ہے۔ پھر وہاں سے بازار میں آتا ہے۔ مدینہ منورہ میں بازار کیلئے خاص جگہ مخصوص تھی لیکن گوداموں اور کارخانوں کیلئے خاص جگہ مخصوص نہیں تھی بلکہ اکثر چھوٹے کارخانے اور تھوک فروشی ایک ہی جگہ ہوا کرتے تھے، جس کو "سوق”کہتے تھے لیکن بعد کے اَدوار میں تینوں کیلئے الگ الگ جگہیں بنائی گئیں اور خلافتِ عثمانیہ میں یہ اپنے عروج پر پہنچ گئی۔

خلافت کے زیر سایہ، مسلم ممالک کے اندر ايک جگہ سے دوسری جگہ سامان تجارت لے جانے پر کوئی محصول نہيں ہونا چاہئے۔ کیونکہ اسلامی ممالک ایک جسم کی مانند ہیں اور مسلم ممالک کے درميان سرحدات آڑے نہيں ہونی چاہئیں، جیسا کہ یورپین ممالک کے مابین ہے۔ ليکن موجودہ دور ميں ايسا نہيں۔ اسلام کے ملکی اور بين الاقوامی تجارت کے قوانين کے نفاذ سے ملکی اور بين الاقوامی تجارت نہايت آسان ہو جائے گی اور چھوٹے تاجر کو بھی اپنا مال دوسرے ممالک کی منڈيوں ميں بيچنے کا موقع ملے گا اور بين الاقوامی تجارت ميں بيسوں گنا اضافہ ہو گا۔ ہر چيز کی قيمت نہايت کم ہو جائے گی۔

"اسلام میں معروف ذرائع آمدن چار اقسام کے ہیں۔۔۔
کاشتکاری، تجارت، ملازمت اور مزدوری”

اسلامی نظامِ معیشت کا قلب "تجارت”ہے جبکہ  مغربی نظام معیشت کا قلب "سود” ہے۔ ايک حديث ميں آتا ہے کہ

"رزق کے دس ميں سے نو حصّے تجارت ميں ہے۔” (کنزالعمال)

ایک اور حدیث مبارک میں سچے اور ایماندار تاجر کی فضیلت کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ "

 سچے اور امانت دار تاجر کا حشر نبيوں اور صديقوں اور شہيدوں کے ساتھ ہوگا۔” (ترمذی)

اسٹاک مارکیٹ، بونڈ مارکیٹ، ڈیری ویٹو مارکیٹ، ڈیجیٹل کرنسی، فاریکس ٹریڈ اور فورین ایکسچینج مارکیٹ یہ سب دھوکے ہیں اور کاغذی کرنسی و برقی ٹیکنالوجی کی پیداوار ہیں۔ یہ کوئی تجارت نہیں اور نہ ہی  یہ معیشت میں کسی قابل استعمال چیز کا اضافہ بھی کرتی ہے۔ بلکہ  یہ محنت کرنے والوں کی کمائی محنت نہ کرنے والوں کو منتقل کرتی ہیں۔جب کاغذی کرنسی نہیں تھی تو اسٹاک مارکیٹ بھی نہیں تھیں۔ ناقابل تخلیق کرنسی، دھاتی کرنسی، ہارڈ کرنسی میں اسٹاک مارکیٹ اور بونڈ مارکیٹ پنپ نہیں سکتیں۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!