سیاسی و معاشی حاکمیت

طاغوتی طاقتیں دنیا پہ اپنا تسلط بنانے کی کوششوں میں لگی رہیں اور کاغذی کرنسی اور سودی بینکنگ کا نظام خلافت کا تسلسل رکنے کے ساتھ ہی عروج کی جانب گامزن ہوگیا۔

لوگوں کی قابلیتوں کا استحصال، ان کی دولتوں کو لوٹنا اور کاغذ ی کرنسی کی شکل میں بے وزن و بے قیمت کاغذی دولت میں ان کی دولت کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔بینک مالکان نے ہی کارخانے لگائے، پلازے بنائے، بڑے بڑے میگا سٹور بنائے۔ ذرائع ابلاغ کے بڑے بڑے ادارے قائم کئے اور اشتہارات کی مدد سے عوام میں ضرورتوں کو فروغ دیا گیا۔ زیادہ سے زیادہ خریدار پیدا کئے۔ جتنے زیادہ اشتہارات، اتنے زیادہ خریدار اور جتنے زیادہ خریدار، اتنا ہی منافع اور دولت۔ مارکیٹ جتنی بڑی ہوگی، اتنا خریدار اس میں کھینچا چلا آئے گا۔ اپنی مارکیٹ کو بڑھانے کے لئے سرمایہ دارانہ نظام نے سب سے اول یہ کام کیا کہ انسان کی تعیشات کو ضروریات بنا ڈالا۔ اس کے مقاصدِ زندگی کو بدلنا شروع کردیا۔ عوام الناس کا پیسہ انھی بینکوں میں واپس چلا جاتا ہے اور بینکار بغیر محنت کئے دنیا بھر کی محنت سے کمائی گئی دولت اکٹھا کرلیتے ہیں۔ پوری دنیا کی محنت اور دولت کو بینکوں کے خزانے میں اکٹھا کرنے کا یہ طریقہ ہی "سرمایہ دارانہ نظام” ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کا ہی کمال ہے کہ کہا جاتا ہے کہ چار ممالک امریکہ، جرمنی، فرانس، اٹلی اور آئی ایم ایف کے پاس دنیا بھر کے بینکوں کی نسبت دوتہائی سونا ہے۔ دنیا کے بڑے بڑے بینک حکومتوں کی مدد سے عوام کو نچوڑ رہے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام دنیا کو اپنے پنجوں میں جکڑتا گیا اور اس کے آقا لوٹ اور دھوکے کے ذریعے دوسروں کا مال ہڑپ کرنے لگے۔یہ ظلم کی بنیاد پر قائم انسان کا بنا یا ہوا دھونس کا قانون ہےاور مالی بحران کا تباہ کن نتیجہ اور معاشی بربادیوں کا سبب ہے۔

کیپیٹل مارکیٹ نوآبادیاتی نظام کا نیا روپ ہے۔ کاغذی سرمائے کی برآمدات نئے نوآبادیاتی نظام کا بنیادی ہتھیار ہے۔کرنسی کو مسترد کرنے اور موجودہ نظام کو ختم کرنے کا عمل اقتصادی قانون کی تمام پوشیدہ طاقتوں کو تباہی کی طرف لے جاتا ہے۔ لیکن اصل منصوبہ واضح ہے کہ ظالمانہ طریقے سے سات ارب لوگوں کی زندگی کو نچوڑ کر اعلیٰ طبقے کے مٹھی بھر بینکاروں کا غلام بنا کر رکھا جائے۔ کچھ ماہرین معیشت کا خیال ہے کہ "چونکہ نوآبادیاتی نظام کی ضرورت باقی نہیں رہی تھی اس لیے دنیا کی ساری کالونیوں کو آزاد کر دیا گیا اورمزاحمتی لیڈروں کو اقتدار سونپ دیا گیا۔ برصغیر کی آزادی قائداعظم یا گاندھی کا کارنامہ نہیں تھی۔ بلکہ بریٹن ووڈز معاہدے کا خاموش نتیجہ تھی۔ روایتی نوآبادیاتی نظام کو 1940ء سے 1960ء کی دہائیوں میں توڑ دیا گیا۔ اس کے بعد دنیا کی مالیاتی طاقتوں،بینکاروں نے سیاسی کنٹرول کی بجائے مالیاتی کنٹرول اختیار کیا۔ اگر انگریزوں کی آمد سے قبل ہندوستان ایک منظم بینکنگ کا نظام اور کاغذی کرنسی بنا چکا ہوتا تو برطانوی کالونی نہ بنتا”۔ ماضی کے واقعات کا موازنہ کرنے سے کسی حد تک یہ درست لگتا ہےکہ ہارڈ کرنسی کے زمانے میں جنگیں ملک اور حکومت پر قبضہ کرنے کیلئے لڑی جاتی تھیں لیکن اب کاغذی کرنسی کے دور میں جنگیں مرکزی بینک پر قبضہ کرنے کیلئے لڑی جاتی ہیں۔ بریٹن ووڈز کے معاہدے کے بعد دنیا بھر سے نوآبادیاتی نظام کا یک لخت خاتمہ اسی وجہ سے ہوا۔ کیونکہ کاغذی کرنسی کے نظام سے ہزاروں میل دور سے غلاموں کا خون چوسنا ممکن ہو گیا ہے۔

بہت بڑے پیمانے پر آزادی سلب کرنے کی جتنی صلاحیت بینکنگ اور سرمایہ دارانہ نظام میں ہے اتنی کسی اور میں نہیں۔ اگر کرنسی سونے چاندی پر مشتمل ہوتی یعنی قابل تخلیق نہ ہوتی تو بینکوں میں یہ طاقت بھی نہ ہوتی۔ ادائیگی کا وعدہ جس کو کاغذی کرنسی، چیک، بینک ڈرافٹ، پے آرڈر، بل آف ایکسچینج، بٹ کوائن اور قرضوں کے جال کے ذریعے پیدا کیا گیا، موجودہ سرمایہ دارانہ نظام کی جدید شکل ہے جو کہ "معاشی غلامی” کا سبب ہے۔

"معاشی آزادی                    سونے چاندی کے سکے”
"آدھی غلامی                      دھاتی اور کاغذی کرنسی”
"مکمل غلامی                     فی ایٹ / غیردھاتی، کاغذی مالیاتی نظام”

دور جدید میں غلام خریدنے کی ضرورت نہیں بلکہ کاغذی کرنسی کے ذریعے دنیا بھر کے تمام انسان قرضوں کے ذریعے غلام بنا لئے گئے ہیں اور اب غلام زنجیروں میں نہیں بلکہ سودی قرضوں میں جکڑے جاتے ہیں۔ مشہور جرمن فلسفی گوئٹے نے کہا تھا کہ "بد ترین غلامی وہ ہے جس میں غلاموں کو خوش فہمی ہو کہ وہ آزاد ہیں”۔ اس نئی قسم کی غلامی میں انسان غلام نہیں ہوتے بلکہ ان کی کرنسی غلام ہوتی ہے اور جب کرنسی غلام ہوتی ہے تو پوری معیشت غلام ہوتی ہے۔ سونے چاندی کی کرنسی کبھی غلام نہیں بن سکتی کیونکہ تخلیق نہیں کی جاسکتی۔

زرکثیف، ہارڈ کرنسی کا مطلب "آزادی” ہے۔ کاغذی کرنسی/فی ایٹ کرنسی کا مطلب "غلامی” ہے۔

اگر آپ اپنے دشمن کو کنگال کر دیتے ہیں تو وہ آپ کا دشمن نہیں رہتا بلکہ وہ آپ کا نوکر بن جاتا ہے۔ آج کا نوجوان اپنے آباؤاجداد سے دوگنا سے بھی زیادہ کام کر کے بدحال ہے۔ ہر کسی کو معیشت کا غلام بنا دیا گیا ہے۔ جو لوگ سب سے زیادہ پیسہ کماتے ہیں وہ معاشرے میں قدر شامل نہیں کررہے۔ بینکنگ کے نظام میں مہذب وکالت کی قیمت، آج کے محنت کش آسانی سے سمجھ نہیں سکتے۔ کاغذی دولت کی طاقت نہ صرف حکمرانی اور غلام بنانے کی سب سے بڑی طاقت ہے بلکہ یہ دنیا کی بد ترین نا انصافی اور دھوکا دہی کی طاقت بھی ہے۔ یہ کروڑوں لوگوں کو سخت مشقت کرنے پر مجبور کر دیتی ہے، غربت پھیلاتی ہے اور محرومیاں بڑھاتی ہے جبکہ انہیں اپنی مصیبتوں کی اصل وجہ کبھی سمجھ نہیں آتی۔ ان لوگوں کی خاموش رضامندی کی وجہ سے ان کی کمائی نہایت رازداری کے ساتھ سرمایہ داروں کے ذریعے ان مرکزی بینکاروں کو منتقل ہو جاتا ہے۔ جنہوں نے کوئی محنت نہیں کی ہوتی۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!