سیاسی انتظامیہ اور سیاست

پاکستان میں دو طرح کی انتظامیہ، سیاسی اور غیر سیاسی انتظامیہ کارفرما ہے۔ سیاسی انتظامیہ منتخب عوامی نمائندگان پہ مشتمل ہے۔ سیاسی انتظامیہ میں وہ وزیر حضرات ہوتے ہیں جو کہ ممبر صوبائی اسمبلی یا قومی اسمبلی منتخب ہو کر کسی محکمے کے وزیر تعینات ہوتے ہیں۔ جن کی تعیناتی اس فلسفہ کے تحت کی جاتی ہے کہ یہ محکموں کی کارکردگی کو بڑھائیں گے اور ملک کی ضروریات کا خیال رکھتے ہوئے منصوبہ جات بنائیں گے اور بدعنوانی کا خاتمہ کریں گے۔ اب ایک  افسر جو کہ عرصہ دراز سے محکمانہ کاروائیوں کا حصہ ہے، اسےمحکمے کے ساتھ ساتھ وزیر صاحب کو بھی سنبھالنا پڑتا ہے اور ان کو بھی محکمانہ ضوابط سمجھانا پڑتے ہیں اور مشورہ بھی کرنا پڑتا ہے۔ مغربی جمہوری نظرئیے کے تحت یہ کہا جاتا ہے کہ اس محکمے کی کاروائی کو بہتر کرنے کیلئے اور اس کی کارکردگی پہ نظر رکھنے کیلئے سیاسی انتظامیہ کی تعیناتی کی جاتی ہے، جو کہ عوام کو جوابدہ ہوتی ہے اور عوام کو سہولت دینے کیلئے اپنا کردار ادا کرتی ہے۔لیکن اکثر سمجھ ہی نہیں آتی کہ بااختیار عہدہ دار کون ہے، جسے کاروائی کرنے کا اختیار ہے۔

اس کی مثال ایسی ہی ہے کہ ایک شخص "زید” اپنی ذمہ داری ادا کررہا ہے اور علاقہ کے عوام اس کے خلاف کوئی شکایت بھی نہیں کررہے۔ لیکن حکومت اس کی کارکردگی کا خیال رکھنے کیلئے ایک اور شخص "بکر” اس پہ تعینات کردیتی ہے اور اسے ایک عدد اضافی دفتر بھی دے دیا جاتا ہے اور اس کیلئے فرنیچر اور دیگر سہولتیں بھی دے دی جاتی ہیں۔ اب بکر اسے حکم دیتا ہے کہ ہر کاروائی کی ایک کاپی مجھے بھی ارسال کرو اور مجھ سے منظوری بھی لو۔ یہاں پہ ہی کام کرنے کے وقت اور دفتری اخراجات میں دگنا اضافہ ہوچکا ہے۔ یعنی جو کام ایک بندہ کررہا تھا اب اس کام پہ دو افراد ہیں اور دفتری اخراجات بھی دوگنا ہوچکے ہیں اور وقت بھی زیادہ لگ رہا ہے۔  اور  زید کی مشقت میں بھی اضافہ ہوگیا۔ اب بکر کے دفتر کی مراعات میں اضافہ بھی ضروری ہے۔ چپڑاسی بھی رکھ لیا گیا ہے۔ کلرک بھی رکھ لیا گیا ہے کیونکہ بکر ایک افسر ہے۔ جس سے مزید اخراجات میں اضافہ ہوچکا ہے اور کسی سائل کے کام سرانجام دینے میں وقت بھی بہت زیادہ لگ رہا ہے۔ اس پہ حکومت نے یہ فیصلہ کیا کہ محکمے کی کارکردگی کم ہوگئی ہے، اس لئے ایک عوامی نمائندے کو بھی ذمہ داری دے دی جائے کہ وہ افسر کے ہم پلہ بیٹھ کر دیکھے کہ امور ریاست ٹھیک سے سرانجام پا رہے ہیں یا نہیں؟۔۔۔  جس سے اخراجات میں اور زیادہ اضافہ ہوجاتا ہے اور محکمانہ اخراجات تین گنا سے بھی تجاوز کر جاتے ہیں۔ آج کل اس سے بھی زیادہ بد تر اور ایک بڑی انتظامیہ کا بوجھ معاشی خزانے پہ لاد دیا گیا ہے۔ یہ طریقہ کار بری طرح  ناکام ہو چکا ہے۔

سیاسی انتظامیہ/ عوامی نمائندگان، وزراء، بیوروکریسی سے مرعوب رہتے ہیں۔ جس کی وجہ انگریزی زبان کا دفتری زبان ہونا ہے۔ پھر عوامی نمائندگان کو محکمانہ حدود و قیود، قوانین، دفتری طریقہ کار اور کاروائیوں کا کچھ خاص علم نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی نمائندگان اگر کچھ کرنا چاہتے ہوں تو وہ کرنہیں سکتے۔ تمام حدودو قیود اور قوانین اسی غیرسیاسی انتظامیہ نے تیار کرنا ہوتے ہیں۔ تمام کاغذی کاروائی انھوں نے ہی کرنا ہوتی ہے۔ غیرسیاسی انتظامیہ، عوامی نمائندگان میں چونکہ اتنے صاحب علم اور قابل افراد موجود نہیں ہوتے جو یہ قوانین تیار کرسکیں۔ اس پہ انگریزی دفتری زبان ہونا بھی عوامی نمائندگان کی کارکردگی کو متاثر کرتا ہے۔ اگر کوئی عوامی نمائندہ نظریاتی اساس کی بنیاد پہ کچھ بہتر کرنا چاہے تو انگریزی زبان، دفتری معاملات، قوانین اور محکمانہ حدود و قیود کے چکروں میں الجھا کر غیرسیاسی انتظامیہ/ بیوروکریسی وقت ضائع کرکے رکاوٹ ڈال لیتی ہے۔

1994ء کی ایک رپورٹ کے مطابق سیاسی انتظامیہ پہ مشتمل قومی اسمبلی اور سینٹ کی 50 کمیٹیاں ہیں اور ہر کمیٹی کا ایک چیئرمین ہے۔ ہر چیئرمین کے ذاتی دفتر کی تیاری پر  دو،  دو کروڑ روپے خرچ ہوئے تھے۔ ہر چیئرمین ستر ہزار روپے ماہانہ تنخواہ لیتا اور اسے گریڈ 17 کا ایک سیکرٹری ، گریڈ 15 کا ایک سٹینو ، ایک نائب قاصد ، 1300cc کی گاڑی ، 600 لیٹر پٹرول ماہانہ ، ایک رہائش، رہائش کے سارے اخراجات بل وغیرہ اس کے علاوہ ادا کئے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اجلاس پر لگنے والے پیسے ، دوسرے شہروں میں آنے جانے کے لئیے جہاز کے ٹکٹ  بھی ملتے ہیں۔ اب تک صرف یہ کمیٹیاں کھربوں روپے خرچ کر چکی ہیں۔ اب تقریبا 1200 ممبران صوبائی و قومی اسمبلی اور ایوان بالا ہیں اور ان کا خرچ تقریبا دس ارب روپے سالانہ ہے۔  صوبائی اسمبلیوں اور ایوانان زیریں و بالا اور کمیٹیوں کے اجلاس ایک بڑا اضافی خرچ قوم پہ قانون سازی، انتظامی امور اور حکومت سازی کے نام پہ بوجھ ہے۔

دراصل یہ سب کچھ اختیارات کو تقسیم کرکے مسائل میں اضافے کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ اس پہ لاکھوں نہیں کروڑوں روپیہ حکومت کے خزانے سے صرف ہوتا ہے اور پھر بھی عوام کو بروقت سہولیات میسر نہیں ہوتی ہیں اور  نہ ہی عوام کیلئے آسانی پیدا ہوتی ہے۔

اس محکمانہ بوجھ کو کم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اسلامی حکومتی نظام میں عوام کی فلاح اور فوری انصاف مہیا کرنا یقینی بنایا جانا مقصود ہوتا ہے۔ اگر ایک شخص کام صحیح طریقے سے نہیں کررہا تو اس کی جگہ قابل آدمی کو لگا یا جاتا ہے۔ لیکن اتنا لمبا محکمانہ طریقہ کار نہیں بنایا جاتا کہ جو ایک عام آدمی کی سمجھ سے ہی بالاتر ہوجائے اور کام کی رفتار بھی انتہائی سست ہوجائے۔

ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اسمبلی میں اکثریت نہ ہونے پہ دوسری جماعتوں کے ووٹ حاصل کرنے کیلئے وزارتوں سے نواز دیا جاتا ہے، یہ لحاظ بھی نہیں رکھا جاتا کہ کیا یہ لوگ اس اہل بھی ہیں یا نہیں۔ اس سیاسی جوڑ توڑ کا ملک کو شدید نقصان ہوتا ہے۔ جیسے عدلیہ کا عرصہ دراز کے بعد آنے والا فیصلہ پہ شکر کیا جاتا ہے  کہ فیصلہ تو ہوا ایسے ہی انتخابات کے بعد عوام شکر کرتی ہے کہ حکومت تشکیل تو پائی۔ وزراء چونکہ اپنی متعلقہ وزارت کے ماہر نہیں ہوتے تو وہ غیرسیاسی انتظامیہ کے رحم و کرم پہ ہوتے ہیں۔ اب اگر کام پھر بھی بیوروکریسی نے ہی کرنا ہے تو پھر وزراء کی کیا ضرورت ہے؟۔۔۔ اب ایک ایسے بندے کوپانی و بجلی کا وزیر بنا دیا جاتا ہے جس کو بجلی اور پانی کے متعلق بالکل بھی پتہ ہی نہیں ہوتا۔ ایک بندے کو وزیر دفاع لگا دیا جاتا ہے جسے عسکری حساسیت اور تکنیک کا علم ہی نہیں ہوتا۔ بلکہ بندوق پکڑنی تک نہیں آتی۔ ایک بندے کو خارجہ امور میں وزیر بنادیا جاتا ہے جبکہ اسے خارجہ امور اور بین الاقوامی تاریخ اور حالات کا علم ہی نہیں ہوتا۔ یہاں تک کہ جمہوری  وزراء و مشیران کو سرکاری خط و کتابت کا کوئی تجربہ نہیں ہوتا اور نہ ہی خط و کتابت کی حساسیت کا علم ہوتا ہے۔ جس کا نتیجہ کہ ادارے اپنے مقاصد میں بالکل ہی ناکام ہوجاتے ہیں اور عوام تک مثبت اثرات نہیں پہنچتے۔ اگر آپ مذہبی امور کی وزارت کا قلمدان  ایک غیر عالم کے سپرد کردیں گے تو وہ کیسے علماء اورمذہبی معاملات پہ  امور سلطنت کی دیکھ بھال کرسکتا ہے؟۔۔۔ ایسے ہی ملک کی باگ دوڈ ایسے شخص کے حوالے کی جاسکتی ہے جو امور ریاست و حکومت کو نہ صرف جانتا ہو بلکہ ان کو منظم اور توازن کے ساتھ چلا سکتا ہو۔ جیسے صرف خشوع و خضوع ہی ضروری نہیں یا عسکری مہارت یا قضا کا ماہر ہونا ہی ضروری نہیں بلکہ محکمانہ حدودو قیود اور اختیارات  کا علم بھی ضروری ہے۔ لیکن ہمارے ملک پہ ایسے ایسے سربراہان مملکت اور وزراء اعظم برسر اقتدار رہے کہ اللہ کی پناہ۔

پاکستان میں پرویز  مشرف دور میں سردارمحمد  یعقوب ، ایبٹ آباد سے ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ مسلم لیگ )ق( کے ممبران قومی اسمبلی  کی پہلی جماعتی میٹنگ ہوئی۔ سردار صاحب اور دو پرانے سیاستدانوں نے کچھ باتیں کی۔ پھرجماعتی سربراہان نے بات کی۔ باقی سب خاموش تابعدار بن کے بیٹھے رہے۔ کیونکہ اکثریت کم عمر اور ناتجربہ کار نو منتخب ممبران اسمبلی کی تھی۔ سردار یعقوب  صاحب کی تمام عمر سول انجینرنگ، جغرافیہ، سیاحت میں گزر گئی  تھی۔ کئی زبانوں پہ عبور بھی حاصل تھا۔  پاکستان کا کوئی کونہ ایسا نہ تھا جو کہ انھوں نے نہ دیکھا ہو۔  صرف  پہلی گفتگو سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہ تھا  کہ سردار یعقوب  وزارت کے حقدار ہیں۔ ورنہ اسمبلی میں زیادہ بولیں گے اور مشکلات کا باعث بن سکتے ہیں۔  اس لئے ان کو ڈپٹی اسپیکر بنا دیا گیا۔  جب کہ سردار یعقوب صاحب کو ان کے علم و تجربے کے مطابق وزارت مواصلات کی ذمہ داری دی جانی چاہئے تھی۔ اب جو جماعت حکومت بنا رہی ہے ، یہ ان  کا کام ہے لیکن اس میں بھی جمہوری نظام ناکام ہی نظر آتا  ہے۔

ایک ادارہ مقننہ / پارلیمنٹ انھی سیاسی جماعتوں اور ان کے اراکین سے مل کر بنایا جاتا ہے، جسے سپریم کہا جاتا ہے۔ انتظامیہ، فوج، عدلیہ یہاں تک کہ سربراہ مملکت سے بھی سپریم کہا جاتا ہے۔ جبکہ ہر ادارے کا اپنا دائرہ کار ہے اور سپریم ادارہ خلیفہ کے بعد ریاست کے سربراہ کا ہوتا ہے۔ لیکن کیا عقل اس بات کو تسلیم کرے گی کہ انتظامیہ یعنی بیوروکریسی، فوج، عدلیہ جہاں اتنے پڑھے لکھےاور تجربہ کار لوگ موجود ہوں، ان سے ایک ایسا ادارہ سپریم بنا دیا جائے جو کہ انتہائی کم تجربہ کار، کم تعلیم یافتہ ہو؟۔۔۔ پھر انھی ناتجربہ کار، کم تعلیم یافتہ اراکین اسمبلی یا وزراء یا سیاسی جماعتوں کو پڑھے لکھے تجربہ کار، تعلیم یافتہ حکومتی عہدیدار بریفنگ دے کر قائل کریں؟۔۔ کیا عقل انسانی اس بات کو بھی تسلیم کرے گی کہ عدلیہ کے اعلی تعلیم یافتہ اور تجربہ کار قاضی حضرات سے یہ کم تعلیم یافتہ اور ناتجربہ کار افراد کا گروہ  سپریم ہے۔  ایسے ہی کیا فوج کے اعلی تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ فوجی افسران ان کم علم و ناتجربہ کار عوامی نمائندگان کو سیلوٹ کریں اور بریفنگ دیں کہ یہ اس ادارے کے ممبران ہیں جس میں قانون سازی ہوتی ہے۔ علامہ اقبال نے کیا خوب فرمایا ۔

الیکشن، ممبری ، کونسل ، صدارت بنائے خوب آزادی کےپھندے
اٹھاکرپھینک دو باہر گلی میں نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!