سونا چاندی کے اثرات اور کاغذی کرنسی

افراط زر نہ ہونے کی وجہ سے اشیاء کی قیمتوں میں بھی استحکام تھا اور سالوں یا دہائیوں میں مہنگائی کا بہت کم امکان ہوتا تھا۔ برطانیہ میں عام استعمال کی اشیاء کی قیمت سترھویں صدی سے 1914ء تک مستحکم تھی۔ 1717ء سے 1945ء تک یعنی سوا دو سو سال تک برطانیہ میں سونے کی سرکاری قیمت 4.25 پاونڈ فی اونس تھی۔ بریٹن ووڈ کے معاہدے کے بعد برطانیہ میں سونے کی سرکاری قیمت ختم کر دی گئی یعنی جتنی مرضی کرنسی چھاپی جائے۔ جس کے بعد پوری دنیا میں مہنگائی بڑھتی گئی۔

سونے اور چاندی کے تبادلے کا تناسب طلب و رسد کے حساب سے آزاد منڈیوں میں طے ہوتا آیا تھا۔ جبکہ دنیا کو معاشی غلام بنانے والے سونے اور چاندی کی قیمت کو کنٹرول کرنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سونے اور چاندی کے سکوں کو قانون کے ذریعے حکومتی سرپرستی میں لانے کی کوشش نے مالیاتی مسائل پیدا کر دئیے ہیں۔ لیکن بجائے واپس سونے اور چاندی کے سکوں پہ آزاد تجارت کو فروغ دینے  کے، پوری دنیا کو غیرحقیقی نظام کے مطابق چلانے کی کوششیں کی جارہی ہیں ۔ جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ خاندان کاغذی کرنسی چھاپ چھاپ کر سونا اکٹھا کرکے امیر ہوتے چلےجارہے ہیں اور دنیا بھر کے عام انسان غیر حقیقی زر کے ظلم کا شکار ہوتے چلے جارہے ہیں۔

کئی مرکزی بینک اس بات کا اقرار کر چکے ہیں کہ سونے کی قیمت بڑھنے سے کاغذی کرنسی بالخصوص ڈالر پہ بداعتمادی کا اثر پڑتا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ دھوکا بازی پر مبنی کاغذی کرنسی کے نظام کو سلامت رکھنے کیلئے سونے کی قیمت گرانا انتہائی ضروری ہے۔ جس کیلئے1997ء میں سوئیزرلینڈ نے اپنے 2600 ٹن سونے میں سے 1400 ٹن سونا بیچنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ اس سے سونے کی قیمت گر کر 309 ڈالر فی اونس رہ گئی۔ اسی دوران میں برطانیہ نے اعلان کیا کہ وہ 415 ٹن سونا 1999ء–2000ء کے دوران میں بیچے گا۔ اسی عرصے میں آئی ایم ایف نے بھی 435 ٹن سونا بیچا۔ اس طرح سونے کی قیمت مزید  گر کر 258 ڈالر تک آ گئی جو پچھلے 22 سالوں کی کم ترین قیمت تھی۔ اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بینکاروں نے افریقہ میں سونے کی کانیں کوڑیوں کے داموں خرید لیں۔ شبہ کیا جاتا ہے کہ مرکزی بینکوں کی طرف سے بیچا جانے والا بیشتر سونا مرکزی بینک کے ہی مالکان نجی حیثیت سے خرید لیتے ہیں۔ یہ مارکیٹیں کچھ اس طرح کام کرتی ہے کہ عام طور پر خریدار کی شناخت ممکن نہیں ہوتی۔ مغرب کے بڑے بینک جب بھی سونا خریدتے ہیں تو نہایت خاموشی سے خریدتے ہیں لیکن جب سونا بیچتے ہیں تو سال پہلے سے زور و شور سے اس کا چرچا شروع کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے اصل فروخت سے پہلے ہی سونے کی قیمت گر جاتی ہے۔ دراصل بینکوں کا سونا بیچنے کا ہدف بھی یہی ہوتا ہے کہ قیمت گرکر انھی بینکوں کے مالکان کو سونا کم قیمت پہ دستیاب کیا جاسکے۔

2012ء تک پچھلے پونے تین سالوں میں مرکزی بینکوں نے 1100 ٹن سونا خریدا جبکہ اس سے پہلے کے تین سالوں میں انہوں نے 1143 ٹن سونا بیچا تھا۔  2012 تک چین کے عوام نے پچھلے پانچ سالوں میں 4800 ٹن سونا سکوں اور بسکٹ  کی شکل میں خریدا اور صرف 2013ء میں چین نے 2200 ٹن سونا خریدا۔ سونے کی اس طرح خریداری مغربی ممالک کیلئے ایک بڑا درد سر بن چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے کاروباری بھی اب کاغذی کرنسی نوٹوں کی بجائے سونے کی شکل میں اپنی بچت محفوظ کرنے لگے ہیں۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!