سونا چاندی کے سکے

دنیا میں "چیز کے بدلے چیز/ تبادلے کا نظام” یعنی “Barter system” سے لین دین  ہوتا تھا۔ تین ہزار قبل مسیح چاندی کے خام ڈلے بطور "زر” کے استعمال ہونے کے ثبوت ملتے ہیں۔ جنہوں نے بعد ازاں سکوں کی شکل اختیار کرلی۔ شہری اور علاقائی ریاستوں میں سونے اور چاندی کے سکےبطور "زر” استعمال ہوتے رہے لیکن چیز کے بدلے چیز کا نظام بھی چلتا رہا۔ دیکھا جائے تو سونے، چاندی یا دھاتی سکے بھی ایک "چیز کے بدلے چیز/ تبادلے کا نظام” Barter System ہی ہے۔ جس میں ایک دھات یا جنس کو” تبادلے” کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ چاندی، سونے کے ایک ٹکڑے کے دس ٹکڑے مل کر بھی لگ بھگ اسی قیمت کے ہوں گے جبکہ ہیرا یا قالین یا ایسی چیزیں ٹوٹنے سے اپنی قدر کھو دیتے ہیں۔ چونکہ سونا، چاندی کے سکے کی مالیت میں کمی نہیں ہوتی   اس لئے اس کا استعمال صدیوں سے زر کے طور پہ ہورہا ہے۔ سونے چاندی یا کسی بھی دھات  کی اپنی قیمت ہوتی ہے اور ایسے سکے کو پگھلا کر دھات دوبارہ حاصل کی جا سکتی ہے۔

سونے چاندی کے علاوہ تانبے، لوہے وغیرہ کے سکے بھی استعمال ہوتے رہے، جنھیں "فلوس” کہا جاتا تھا۔ لیکن وہ سونے چاندی کے سکوں کی جگہ لینے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور نہ ہی تاریخ میں کبھی وہ سونے چاندی کے سکوں کی جگہ لے سکے۔

سونے چاندی کے سکوں کے تحت اجنبیوں میں بھی لین دین ہو سکتا ہے۔ جو ممالک ایک دوسرے کو تسلیم نہیں کرتے ان کے درمیان بھی لین دین ہوسکتا ہے۔ کیونکہ سونا یا چاندی کے سکے وجود رکھتے ہیں اور پگھلا کر کسی بھی ملک کی کرنسی بنائی جاسکتی ہے۔ کرنسی بننے کیلئے ایسی چیز موزوں ہوتی ہے جو پائیدار ہو، کمیاب ہو ، کھرے کھوٹے کی شناخت آسان ہو، قابل تقسیم ہو اور ضخیم نہ ہو، تاکہ با آسانی منتقل کی جا سکے۔ سکے کسی حکومتی یا ادارتی سرپرستی کے محتاج نہیں ہوتے، نہ کسی سرحد کے پابند ہوتے ہیں۔ یہ "زرِ کثیف/Hard Currency” کہلاتے ہیں۔

  • چھے سو سال قبل مسیح، سب سے پہلے ترکی کے صوبے مانیسہ کے ایک علاقے لیڈیا میں سونے اور چاندی پر مہر لگا کر سکے بنانے کا کام شروع کیا گیا تھا۔ سکے بنانے سے تولنے کی ضرورت ختم ہو گئی اور محض گن کر کام چلایا جانے لگا۔
  • قدیم چین کے سکے گول ہوتے تھے جن میں چوکور سراخ ہوتا تھا جس کی مدد سے یہ ڈوری یا تار میں پروئے جا سکتے تھے۔
  • ہندوستان کا ایک تولہ چاندی پہ مشتمل چاندی کا سکہ آج 2018ءمیں بھی موجودہ سات سو پاکستانی روپے کا ہے۔
  • 1959ء تک دبئی اور قطر کی سرکاری کرنسی، ہندوستانی روپیہ تھی، جو چاندی کا بنا ہوا ہوتا تھا۔
  • اٹھارویں صدی میں ہسپانوی ڈالر یورپ، امریکہ اور مشرق بعید میں تجارت کیلئے بہت استعمال ہوتا تھا۔ یہ چاندی کا سکّہ تھا جس میں 25.56 گرام خالص چاندی ہوتی تھی۔
  • 1791ء سے 1857ء تک ہسپانیہ کا سکّہ متحدہ امریکہ میں قانونی سکے کے طور پر چلتا تھا۔ ہسپانیہ کی طرز پر بعد میں امریکی ڈالر بنایا گیا تھا۔ ایک امریکی ڈالر کے سکے میں 24.1 گرام خالص چاندی ہوتی تھی۔ پہلا امریکی ڈالر 1794ء میں بنایا گیا، جس میں 89.25% چاندی (21.42 قیراط) اور 10.75% تانبہ ہوتا تھا۔
  • 1841ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی کا جاری کردہ گولڈ مہر پر فارسی میں ایک اشرفی لکھا ہے۔ پہلا سونے کا مہر سکہ شیر شاہ سوری نے جاری کیا تھا۔ جس کا وزن 10.95 گرام تھا اور یہ چاندی کے 15 روپے کے برابر تھا۔
  • 1862ء میں ملکہ کی تصویر والا برطانوی عہد کا ہندوستانی چاندی کا روپیہ بھی ہوتا تھا۔1915 ہاف سوورین آدھے پاونڈ یعنی 10 شلنگ کا برطانیہ کا سکّہ جس میں 3.6575 گرام خالص سونا ہوتا تھا۔ یہ 1817ء سے 1937ء تک کئی ملکوں میں استعمال ہوتا رہا۔
  • ریاست بہاولپور جو کہ اب پاکستان کا حصہ ہے، میں سونے سے بنا ایک روپیہ جس پر صادق محمد خان کا نام لکھا ہوتا تھا اور چاندی کا روپیہ بھی ہوتا تھا، چلتا تھا۔

سکوں پر موجود مہر اس کے وزن اور خالصیت کی ضمانت ہوتی تھی۔ سکے اپنی اصل مالیت کے ہوا کرتے تھے یعنی ان میں جتنے کی دھات ہوتی تھی، اتنی ہی قدر ان پر لکھی ہوتی تھی۔ لیکن رفتہ رفتہ سکے جاری کرنے والی حکومتیں کم قیمت کی دھات پر زیادہ قدر لکھنے لگیں، اس بدعنوانی کی ابتداء امریکہ نے کی۔ آج کل سکوں پر لکھی ہوئی قدر ان کی اصل قیمت زیادہ ہی ہوتی ہے۔ اس لئے ان  سکوں کو "نمائندہ سکے/Token Money” کہتے ہیں۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!