سودی قرض اور بینک

کاغذی کرنسی کے ذریعے سونا، چاندی ضبط کرنے کے بعد اب جائیدادیں، ملکی خودمختاری کو گروی رکھ کر کاغذی نوٹ سودی قرض پر دئیے جاتے ہیں۔ سرما یہ محفوظ کرنے،قرض دینے، جائیداد ضبط کرنے اور ضمانت حا صل کرنے کا یہ قدیم طریقہ آج کے جدید بنکاری نظام کی بنیاد بنا ہوا ہے۔ کاغذی کرنسی میں بینکاری نظام بچت کی حوصلہ شکنی کرتا ہے جبکہ  قرض اور قرض در قرض کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

 صرف امریکہ کے اندرونی اور بیرونی قرضے 60 ہزار ارب ڈالر سے زیادہ ہو چکے ہیں۔ اس وقت تمام ممالک کے اندرونی و بیرونی قرضوں کی کل مقدار 233 ہزار ارب ڈالر ہو چکی ہے۔ اگر اس رقم کو دنیا کی کل آبادی (سات ارب) سے تقسیم کیا جائے تو دنیا کے ہر جوان بچے بوڑھے پر 33،000 ڈالر کا قرضہ چڑھ چکا ہے جو اس کی اولادوں نے ادا کرنا ہے۔ یہ رقم پوری دنیا کی جی ڈی پی GDP کا لگ بھگ سوا تین گنا  یعنی325% ہے۔

اگر بیرونی قرضوں کی بات کی جائے تو اس وقت دنیا کے دو سو بیس ممالک میں سے دو سو تین ممالک 80 ارب ڈالر سے زیادہ کے بیرونی قرضوں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ جن میں 23000 ارب ڈالر سے زیادہ کا مقروض ملک امریکہ سرفہرست ہے، جس کے ذمہ دنیا کا چوتھائی حصے سے زیادہ کا قرض ہے۔ جبکہ برطانیہ دوسرے نمبر پہ مقروض ترین ملک ہے اور فرانس، جرمنی، نیدرلینڈ، لیگزمبرگ، جاپان، اٹلی، آئرلینڈ، سپین، کینیڈا، سوئٹزرلینڈ، چین، ہانگ کانگ، آسٹریلیا، سنگاپور، بیلجیم، سویڈن، آسٹریا، ناروے، برازیل، روس، ڈنمارک، فن لینڈ، بھارت، یونان، پرتگال، ترکی، میکسیکو، جنوبی کوریا، پولینڈ، انڈونیشیا، متحدہ عرب امارات، ملائشیا، سعودی عرب سمیت 35ممالک کے ذمہ کل قرض کی رقم  75 ہزار ارب ڈالر سے زیادہ بنتی ہے۔ باقی 167ممالک پانچ ہزار ارب ڈالر کے مقروض ہیں۔ سالانہ ریاستی آمدنی کے لحاظ سے دنیا کے تقریبا 50ممالک سو فیصد سے زیادہ مقروض ہیں، جن میں لیگزمبرگ اپنی آمدنی کا 67 گنا سے زیادہ مقروض ہونے کی وجہ سے سرفہرست ہے۔ دوسرے نمبر پہ پالو 62باسٹھ گنا سے زیادہ مقروض ملک ہے۔ ماریشس پندرہ گنا،مالٹا اور آئرلینڈ کم و بیش آٹھ گنا، یونان چھ گنا، نیدر لینڈ پانچ گنا، سنگا پور ساڑھے چار گنا، ہانگ کانگ چار گنا، برطانیہ تین گنا  بالترتیب مقروض ہیں۔ امریکہ خود اپنی سالانہ ریاستی آمدن کے تقریبا برابر مقروض ملک ہے۔پاکستان سالانہ ریاستی آمدنی کے لحاظ سے چھبیس فیصد مقروض ہے اوردنیا کا151 ایک سو اکاون واں مقروض ترین ملک ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ جب ہر ملک مقروض ہے تو حقیقی دولت کہاں ہے؟۔۔۔ کس طاقت کے سارے ممالک مقروض ہیں؟۔۔۔ یہ کیسا معاشی نظام ہے؟۔۔۔یہ کاغذی کرنسی کا کمال ہے کہ اتنا کچھ پوری دنیا میں نہیں جتنا دنیا مقروض ہوچکی ہے۔

"قرض "زر”کی شکل میں ہوتا ہے لیکن کاغذ "زر” نہیں ہوتا ۔
 قرض کبھی قرض خواہ کیلئے دولت نہیں ہوتا بلکہ دولت وہ ہے جو کمائی جاتی ہے”

آج کل مرکزی بینک کاغذی کرنسی چھاپتے ہیں اور حکومت کو قرض کے طور پہ کاغذی نوٹ لینا پڑتے ہیں اور اس قرض پہ سود ادا کرنا پڑتا ہے۔ کاغذ کے ٹکڑوں کو سونے کے بھاؤ بیچنے کے بے بنیاد کاروبار کے ذریعے پوری دنیاکی عوام کو بینکوں کے قرض کے جال کے ذریعے مقروض کرنے کا کارنامہ بھی اسی سرمایہ دارانہ نظام کا حصہ ہے۔ سود اور کاغذی کرنسی کا گڑھ"مرکزی بینک” ہے۔ دنیا بھر کے ممالک، صوبے، گھر، کاروبار، کارخانہ، پلاٹ، زرعی زمین، زیورات، گاڑی، کریڈٹ کارڈ ، ذاتی قرض کے ذریعے ہر سطح پہ انسانوں کو قرضوں میں جکڑ لیا گیا ہے۔ دنیا کے تمام ممالک اور انفرادی سطح پہ ہر انسان سودی لعنت کے اس جال میں پھنس چکا ہے۔لیکن اگر غور کریں تو کسی کو اس بات کا احساس ہی نہیں کہ صرف کریڈٹ کارڈ کے ذریعے ہر اس شخص کو مقروض کرلیا گیا ہے، جو ملازمت یا کاروبار کے ذریعے کم از کم ایک معقول ماہانہ آمدن کماتا ہے۔وہ کماتا بعد میں خرچ پہلے کرلیتا ہے۔ بینکوں کا مقصد،سرمایہ دارانہ سودی نظام کے ذریعے انفرادی سطح سے لے کر ملک کی سطح تک ہر ایک کو اپنا مقروض رکھا جائے۔

"جب کرنسی سونے چاندی کے سکوں پر مشتمل ہوتی ہے تو بینکوں کیلئے ناممکن ہو جاتا ہے کہ وہ حکومتوں اور عوام پر اتنا قرض چڑھا سکیں۔
 لیکن قابل تخلیق کرنسی نے دنیا کے تمام ممالک اور عوام دونوں کو مرکزی بینک کے مالکان کے ہاتھوں یرغمال بنا دیا ہے”

دیکھا جائے تو موجودہ بینکاری نظام میں کوئی ایسا طریقہ کار نہیں ہے کہ حقدار کو قرض مل سکے اور وہ کوئی کاروبار کرکے معاشرے میں مثبت کردار ادا کرسکے۔ نہ ہی باصلاحیت افراد اور ضرورت مندسے بینک شراکت داری کرتا ہے۔ موجودہ بینکاری نظام  کی کسی نے کیا خوب مثال دی کہ

"اگر آپ کے پاس اتنی جائیداد، کاروبار  اور بینک بیلنس ہے کہ آپ کو قرض لینے کی ضرورت نہیں ہے تو بینک آپ کو قرض دینے پہ راضی ہوجائے گا”

قرآن میں سود کیلئے ربوٰ کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کی لغوی معنی "زیادتی” کے ہے اور اصطلاح میں جب آپ کسی کو پیسے وغیرہ قرض دیتے ہیں اور واپسی پر اس سے زیادہ وصول کرتے ہیں تو اس کو "سود” کہا جاتا ہے۔ یعنی اگر آپ نے ایک شخص کو 100روپے قرض دئیے اور واپس 120روپے مانگے تو یہ اضافی 20روپے سود ہوا۔ اس کو ربوٰ النسیہ Interest کہا جاتا ہے۔ لیکن ربوٰ کی ایک اور قسم بھی ہے جسے ربوٰالفضل کہا جاتا ہے۔ ہر وہ چیز جو آلہ مبادلہ کے طور پر استعمال ہو یعنی جو پیسے کے طور پر استعمال ہو اُس میں بھی زیادتی سود میں داخل ہے۔ مثلاً رسولﷺ کے دَور میں مدینے کے بازار میں چھ چیزیں آلہ مبادلہ کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔ سونے اور چاندی کے سکے ّ، اس کے علاوہ گندم، جو، کھجور اور نمک بھی آلہ مبادلہ کے طور پر استعمال ہوتیں تھیں۔ اس لیے رسول ﷺ نے ان میں بھی زیادتی کو سود قرار دیا ۔  اسلام میں ربوٰ مکمل طور پر حرام ہے، چاہے وہ کسی بھی شکل میں ہو۔ نبی کریمﷺ نےسودی کاروبار سے انسانیت کو نجات دلائی۔ اسلام قرض لینے سے حتی الامکان بچنے کی تلقین کرتا ہے۔ سودی قرض حرام ہے اور اس کی کسی بھی جواز کے تحت اجازت نہیں۔ سود لینا، دینا کی سزا اللہ تعالی نے مقرر نہیں کی لیکن یہ اتنا بڑا جرم ہے کہ اللہ اور اللہ کے رسولﷺ سے اعلان جنگ قرار دیا گیا ہے۔  اسلامی اقتصادی نظام ہر طرح سے  سود سے پاک ہے بلکہ اس میں قمار بازی، سٹّے بازی، دغا بازی، اجارہ داری وغیرہ بھی منع ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق عیسائیت، یہودیت، ہندومت وغیرہ میں بھی سود منع  ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!