سربراہ مملکت کے فرائض منصبی

ریاست کے امور چلانے والے ہر شخص پہ  اللہ تعالی نے قرآن مجیدمیں چار بنیادی ذمہ داریاں لگائی ہیں۔

اقامت صلوۃ       نماز حقوق اللہ میں سے ہے اور بدنی عبادت ہے۔ ہر ایک چاہتا ہے کہ بادشاہ تک اسے رسائی ہو۔ یہ ایسی عبادت ہے کہ اللہ کریم نے ہمیں اپنی ملاقات کا شرف عطا کیا ہوا ہے۔ اب ہم ہی کفران نعمت کریں اور نہ جائیں، تو اللہ کریم نے قران مجید میں اپنے خلیفہ کو حکم دیا ہے کہ ان کو میرے حضور پیش کرنے کا اہتمام اپنی ریاست میں کرو۔

حدیث مبارک ہے کہ "اگر کسی چڑیا کے بچے گیدڑ کھا جائے تو یہ کسی بے نمازی کی نحوست ہوگی اور قیامت کے دن وہ چڑیا بارگاہ الہی میں اس بے نمازی کے خلاف دعوی کرے گی”۔

اقامت صلوۃ سے یہ بھی مراد ہے کہ "سربراہ مملکت” حقوق اللہ کی ادائیگی میں عوام کو باقاعدہ راغب کرنے کے اقدامات کرے۔ جیسے روزہ، حج بھی حقوق اللہ ہیں۔ امیر اپنی ریاست میں ایسے حالات پیدا کرے کہ اللہ کی عبادت اور اس کے احکام کی تعمیل کاکام آسان ہو اور اس کی ترغیب اور پابندی بھی ہواور اس کی نگرانی بھی ہو تاکہ کوئی مسلمان اللہ کی اطاعت سے جی چرانے والا نہ مل سکے۔

ایتائے زکوۃ       معاشی طور پربھائی چارے کی فضا پیدا کی جائے، جو کہ معیشت کی مضبوطی سے ہی ممکن ہے۔ شرعی محصولات کو اکٹھا کرکے ایک دوسرے کی مدد کا جذبہ اجاگر کیا جائے۔ اسلامی حکومت میں مالیاتی نظام، ایثار اور جذنے کی بنیاد پر قائم کیا جائے۔ معیشت کو اسلامی طرز پہ مرتب کیا جائے اور مضبوط کیا جائے۔ معاشی طور پرعوام کے معیار زندگی کو بلند کرنے کیلئے سربراہ مملکت قرآن وسنت کی روشنی میں عملی اقدامات کریں۔

امر بالمعروف      زندگی کے ہر شعبے میں اور فرد سے لے کر معاشرے کے ہر طبقے میں صرف ان کاموں کے کرنے کے پرچار کا اہتمام کیا جائے جو اللہ کو پسند ہیں۔کیونکہ معاشرے کی فلاح کا دارومدار انھی کاموں پر ہے۔اس کیلئے شعبہ اطلاعات کو موثر بنایا جائے ۔ اسلام ، نظریہ پاکستان کو مدنظر رکھ کر پالیسی مرتب کی جائے ۔

نہی عن المنکر      ایسے کاموں کو روکنے کا اہتمام کیا جائے جو اللہ کو پسند نہیں۔ روکنے کا کام ترغیب سے ہو ،انصاف سے ہواور جبر سےبھی ہو،عدلو انصاف کو یقینی بنا کر بھی ہو ۔

حدیث مبارک میں ہے کہ

"اللہ تعالی کے ملک میں، اللہ تعالی کی حدود میں سے ایک حد کا قائم کرنا، بہتر ہے چالیس دن کی بارش سے”

عادل حکمران کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا ۔

"سات آدمی جن کو اللہ تعالی قیامت کے دن عرش کا سایہ عطا فرمائیں گے۔ان میں سے ایک عادل حکمران ہے”

اللہ تعالی نے کیا کیا انعامات رکھے ہیں۔پہلے خطبے میں حضرت ابوبکر صدیق  کی دو باتیں خلافت کے رہنما اصول ہیں۔

” اللہ کا خوف ا ور اللہ کے بندوں کی خیرخواہی”

اپنی تنخواہ کے بارے میں خلیفۃ الرسول حضرت ابوبکر صدیق نے فرمایا۔

"مجھ کو تمہارے مال میں اسی طرح کا حق ہے، جس طرح یتیم کے مال میں اس کے مربی کا ہوتا ہے۔
 اگر میں دولت مند ہوں تو کچھ نہ لوں گا۔ اگر صاحب حاجت ہوں گا تو اندازے سے کھانے کیلئے لوں گا”

اپنی ذمہ داریوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا۔

"میرے اوپر تمہارے متعدد حقوق ہیں، جن کا تم کو مجھ سے مواخذہ کرنا چاہئے۔
ایک یہ کہ ملک کا خراج اور مال غنیمت بے جا طریقے سے نہ جمع کیا جائے اور یہ کہ میرے ہاتھ سے بیجا طور پر صرف نہ ہو 
اور یہ کہ تمہارے روزینے بڑھاؤں اور یہ کہ تمہاری سرحدوں کی حفاظت کروں اور یہ کہ تمہیں خطروں میں نہ ڈالوں”

حضرت عثمان غنی نے بیعت خلافت کے بعد جو خطبہ ارشاد فرمایا، اس میں خلافت کی ذمہ داریوں کی تشریح بیان فرما دیں۔

"میرے اوپر کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کی پابندی کے بعد تین ذمہ داریاں ہیں۔
 ایک یہ کہ میں اپنے پیش رو خلفاء کی پیروی کروں گا۔
 ان کے زمانے میں تمہارے اجماع اور اتفاق سے جو فیصلے ہوئے ہیں، ان کا پابند رہوں گا اور
 دوسرے یہ کہ جو امور اب اہل ورائیت/اہل خیر کے اجماع سے طے ہوں گے، ان کی پیروی کروں گا۔
تیسرے یہ کہ تمہارے اوپر دست درازی نہ کروں گا”

سبحان اللہ۔ حضرت عثمان غنی نے قرآن و سنت کے بعد خلیفہ کی ذمہ داریوں کو بھی واضح فرما دیا۔ فقہاء اکرام نے قاعدہ بنایا ہے۔

"جو شخص خلافت یا اس سے کم درجہ کے منصب پر فائز ہو اس کیلئے جائز نہیں کہ وہ کوئی ایسا کام کرے جس میں عوام کی بھلائی نہ ہو یا ان کی خرابیوں کو دور نہ کیا گیا ہو”

امیر کا اصل فرض  اقامت دین اور نفاذ شریعت ہے اورعوام کے حقوق کا تحفظ کرنا اور ان کی بہبود کی تدابیر کرنا بھی اس کی ذمہ داری ہے۔

"امیر پہ واجب ہے کہ قرآن و سنت کے مطابق حکومت چلائے اور صاحب الرائے کے مشورے سے امور ریاست چلائے "

 ان فرائض کا بہترین خلاصہ درج ذیل ہے۔

  1. حفاظت دین ،دفاع دین اور تعلیم دین۔ دین کی حفاظت اس کے اصول مستقرہ اور سلف کے اجماع کے مطابق کرنا۔ فرائض و منہیات پر امت محمدیہ کو کاربند کرے تاکہ دین میں کوئی خلل واقع نہ ہو اور امت لغزشوں سے محفوظ رہے۔
  2. شرعی قوانین کا نفاذ اور عدل وانصاف کا قیام۔ تاکہ کوئی طاقتور دست دراز نہ کر پائےاور کوئی کمزور مظلوم نہ بن سکے۔
  3. مال ،جان ،اور آبرو کی حفاظت اور امن وامان کا قیام۔ اندرونی خطرات سے ملک کی حفاظت کرنا اور دشمن سے بچانا تاکہ تمام لوگ اطمینان سے اپنی زندگی کے کاروبار میں مصروف ہوں اور بغیر جان و مال کے خطرے کے اطمینان سے سفر کریں۔
  4. شرعی سزاؤں کا نفاذ اور مجرموں کی سرکوبی۔ تاکہ جن باتوں کو اللہ نے محارم قرار دیا ہے، ان کا کوئی شخص ارتکاب نہ کرے نیز اس کے بندوں کے حقوق تلف و برباد نہ ہونے پائیں۔
  5. فوج اور اسلحہ کاانتظام کرنا اور دارالاسلام کادفاع کرنا۔سرحدوں کی پوری طرح حفاظت کرے کہ دشمن کو اس میں اچانک در اندازی کا موقع نہ رہے تاکہ مسلمانوں اور ذمیوں کی جانیں محفوظ رہیں۔
  6. کفار محاربین کے خلاف قتال وجہاد کا انتظام۔ پہلے اسلام کی دعوت دے، نہ ماننے پر مخالفین اسلام سے جہاد کرے تاکہ وہ مخالف یا تو اسلام قبول کریں یا ذمی بن جائیں کیونکہ خدا کی جانب سے خلیفہ پر ذمہ داری ہے کہ وہ اسلام کیلئے تمام دوسرے ادیان پر غلبہ و تفوق حاصل کرے۔  یعنی خلافت کے زیرنگیں تمام تر ریاستیں ہوں اور وہی ریاستی نظام جس میں معیشت و عدل خلافت کے زیرنگیں قائم ہو جس میں کسی کے ساتھ ظلم و زیادتی نہ ہوسکے اور سب کو زندگی گزارنے کے یکساں مواقع میسر ہوں۔ رب کی دھرتی پہ رب کا نظام یعنی روئے زمین پہ ہر علاقے کو اللہ کے نظام کے تابع کرنا خلافت کی ذمہ داری ہے۔
  7. مالیاتی نظام کا قیام، سرکاری خزانے کی حفاظت۔ احکام شرعیہ اور اجتہاد فقہی کے مطابق خراج و صدقات وصول کرے۔
  8. تنخواہوں کا منصفانہ نظام قائم کرنا اور بروقت ادائیگی کرنا۔  بیت المال سے مستحقین کیلئے وظیفے اور تنخواہیں مقرر کرے۔ نہ اس میں اسراف ہو، نہ امساک۔
  9. دیانتداروں کو اپنا قائم مقام اور قابل اعتماد لوگوں کو حاکم و عامل مقرر کرےا ور قومی خزانے پر امانت دار ما ہرین کا تقرر کرے ۔
  10. عوام کی حالت سے براہ راست با خبر رہنا۔ خود تمام امور سلطنت کی نگرانی کرتا رہے اور تمام واقعات سے باخبر رہے تاکہ امت کی پاسبانی اور ملت کی حفاظت وہ خود کرسکے اور عیش و عشرت یا عباسدت میں مشغول ہو کر اپنے فرائض دوسروں کے حوالے نہ کردے۔ کیونکہ ایسی صورت میں دیانتدار بھی خیانت کرنے لگتا ہے اور وفادار، بہی خواہ کی نیت میں بھی فرق پڑجاتا ہے۔

"حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو وفات سے دو برس بعد  خواب میں دیکھا کہ
 پیشانی کا پسینہ صاف کررہے ہیں۔ پوچھا  آپ کے ساتھ کیا معاملہ ہوا؟۔۔۔ فرمایا کہ اللہ تعالی نے مغفرت کی، ابھی حساب سے فارغ ہوا ہوں۔
 قریب تھا کہ عمر کا تخت لوٹ جائے مگر میں نے اللہ کو بڑا رحیم و کریم پایا۔”

اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سربراہ مملکت ہونا کتنی بڑی ذمہ داری ہے اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عدل کی وجہ سے عدل  فاروقی مشہور ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!