سربراہ مملکت کے اختیارات اور مجلس شوری

اگر سربراہ مملکت کا کوئی فیصلہ مجلس شوری یا مجلس خاص کو نا پسند ہو، لیکن فیصلہ قرآن و سنت سے متصادم نہیں ہے تو سربراہ مملکت اپنے فیصلے میں خود مختار ہے اور سب پہ اس کی اطاعت واجب ہے۔ جیسے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے منکرین زکوۃ کے خلاف جہاد کا فیصلہ کیا لیکن اہل شوری اس حق میں نہ تھے۔ لیکن کسی نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے حکم کو تسلیم کرنے سے انکار نہیں کیا کیونکہ وہ فیصلہ قرآن و سنت کے مطابق تھا اور تمام صحابہ نے اطاعت کی۔ جبکہ اس میں جانیں بھی قربان ہوئیں۔

حضرت خالد بن ولید سے دوران جنگ انجانے میں کچھ مسلمان شہید ہوگئے۔ حضرت عمر فاروق نے قصاص کی رائے دی۔ جبکہ حضرت ابوبکر صدیق نے فرمایا کہ میں اللہ کی تلوار کو نہیں توڑ سکتا اور خون بہا تجویز کیا۔ اس میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ حضرت خالد بن ولید کو نبی کریمﷺ نے سیف اللہ کا لقب عطا کیا تھا اور حضرت خالد بن ولید سے لاعلمی میں وہ مسلمان قتل ہوگئے تھے۔ جس کی وجہ سے حضرت ابوبکر صدیق نےخون بہا کی تجویز دی۔ یہ رہنمائی بھی ملتی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق نے مشاورت فرمائی اور مشورہ کرنے کے بعد ہی فیصلہ لیا۔

جبکہ حضرت عمرفاروق کے کئی فیصلے منسوخ بھی ہوئے۔ بلکہ آپ نے ایک موقع پہ فرمایا کہ "اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوگیا ہوتا”۔ یعنی مجلس شوری کا ہر فرد آپ کو مشورہ دیتا تھا اور حضرت عمر مشاورت سے امور ریاست چلاتے۔

البتہ کوئی حکم ایسا جو کہ قرآن و سنت سے متصادم ہو اسے قبول نہیں کیا جاسکتا اور مجلس شوری اس حکم کو منسوخ کرسکتی ہے۔ منسوخی کی صورت میں مجلس شوری کا فیصلہ حتمی تصور ہوگا۔ اصل اس سب کی یہ ہے کہ مجلس شوری، مجلس خاص، سربراہ مملکت کی معروف، نیکی میں مددگار ہے اور ناجائز،نقصان والے کاموں میں روک کر مددگار ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!