سربراہ مملکت، امیر کی مدت کا تعین اور معزولی

امیر کی مدت سربراہی کا تعین کرنے کا کوئی شرعی جواز موجود نہیں۔ البتہ امیر کو خلاف قانون اقدامات پہ معزول کیا جاسکتا ہے۔ اس کا تذکرہ "امیر کی معزولی” میں آئے گا۔ لیکن امیر کے مقرر ہونے کے بعد اگر اس کی سربراہی کی مدت کے تعین کا جواز ہمیں تاریخ اسلام سے کہیں بھی نہیں ملتا۔ اس سے بھی خفیہ طاقتیں سرگرم ہونے کا خطرہ ہے کہ وہ اپنے کسی بندے کو برسر اقتدار لانے کیلئے کوئی گروہ بندی نہ کررہی ہوں اور انتشار پھیلایا جاسکتاہے، جس سے ریاست کمزور پڑ سکتی ہے۔ حصول اقتدار کے لالچیوں سے ریاست کو بچانا بھی ضروری ہے۔ مدت کے تعین کا کوئی جواز تاریخی اسلامی میں نہیں ملتا بلکہ اگر سربراہ مملکت کا کوئی اقدام خلاف شریعت نہ ہو تو اس کے خلاف جانا خلاف شرع ہے۔

سربراہ مملکت کی ملک میں عدم موجودگی یا طبیعت ناسازی یا چھٹی پہ جانے کی صورت میں،اگر سربراہ مملکت نے نائب یعنی ولی عہد مقرر کردیا ہو تو وہ معاملات چلائے یا مجلس خاص میں سے جس کو چاہے ذمہ داری سونپ دے۔ ورنہ امیر کی اچانک شدید بیمار ہونے پہ مفتی اعظم، مجلس خاص میں سے کسی کو قائم مقام سربراہ مملکت تعینات کردیں۔ تاوقتیکہ امیر صحت یاب ہوکر دوبارہ اپنی ذمہ داریاں سنبھال لے۔

صوبائی گورنرز کی تقرری کا اختیارسربراہ مملکت کا ہے۔ کیونکہ امور ریاست چلانے کیلئے گورنرز اور وزراء سربراہ مملکت کی مرضی کے ہی ہوتے ہیں، جن کی تقرری کے وقت ان کی اہلیت و قابلیت کو مدنظر رکھنے کا معیار اسلام نے عطا کیا ہے۔ جس طرح سربراہ مملکت کی مدت ملازمت کو مخصوص نہیں کیا جاسکتا، ایسے ہی مجلس شوری، صوبائی مجلس منتظمہ، گورنرز، وزراء وغیرہ کی تعیناتی کی مدت کو محدود نہیں کیا جاسکتا۔

سربراہ مملکت کی معزولی کی صورتیں درج ذیل ہیں۔

1.             خود استعفی دے کر، اپنے آپ کو معزول کردے۔ پرامن معزولی

2.             ایسی بیماری یا حالت طاری ہو جائے کہ امیر اپنی ذمہ داری ادا نہ کرسکے، معزول ہوجائے یا امرائے سلطنت معزول کردیں۔

3.             کفر کا ارتکاب کرے یا فاسق ہوجائے یا خلاف شرع اقدامات کرنے لگے اور تنبیہہ پہ بھی باز نہ آئے، ظلم کرنے لگے، شراب، زنا، حرام کاری یا رشوت ستانی یا ناجائز طریقے سے پیسے وصول کرے، ٹیکس لگائے یا جائیدادیں ضبط کرےیا مسلمانوں کا ایمان خراب کررہا ہو۔ امرائے سلطنت/مجلس شوری معزول کردیں۔ ان صورتوں میں امرائے سلطنت طاقت سے بھی معزول کر سکتے ہیں۔ لیکن اس صورت میں غالب یقین ہو کہ طاقت سے اس کو معزول کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے اور ان کا متفقہ فیصلہ امیر تسلیم کرلے گا۔ ورنہ عسکری اداروں سے مدد بھی لی جاسکتی ہے۔ خانہ جنگی کی صورت نہ بن پائے۔ اس کی شرائط بہت کڑی ہیں کیونکہ اسلام خانہ جنگی یا کسی قسم کے فساد کی اجازت نہیں دیتا ہے۔شورائی معزولی

4.             امیر کی پالیسیاں، ریاست کے خلاف ہوں، دشمنوں کو مدد پہنچا رہاہو۔ ایسی صورت میں ریاست کی بقاء اور دشمن سے بچنے کیلئے مجلس شوری /امرائے سلطنت معزول کردیں۔ شورائی معزولی

5.             فقہاء اکرام نے فرمایا ہے کہ اگر امیر حکومتی امور میں مشورہ کرنا ترک کردے تو وہ اس وجہ سے بھی معزولی کا مستحق ہے۔ قرآن مجید کی رو سے مشورہ کرنا فرض ہے۔ شورائی معزولی

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!