سربراہ مملکت کی مجلس خاص

مجلس شوری، وزیران و مشیران میں سے کچھ بہت زیادہ قابلیت و صلاحیت کے حامل ہوتے ہیں۔ جو کہ قابلیت، صلاحیت، صالحیت اور کارکردگی کی بنیاد پہ امور ریاست کو چلانے کی عمدہ اہلیت رکھتے ہیں۔ انھیں امیر مجلس خاص میں شامل کرسکتے ہیں۔ خلفاء راشدین کی سنت سے امیر کی مجلس خاص  ثابت ہے۔ ان افراد سے امیر فوری مشاورت کرسکے اور یہ امور ریاست و حکومت میں عمدہ ممد و معاون ہوں۔ یہ افراد جو کہ امیر مقرر ہونے کےبھی  اہل ہوں۔ حضرت ابوبکر صدیق کی مجلس خاص سات افراد پہ مشتمل تھی۔ حضرت عمر فاروق کی مجلس خاص بھی چھ سے سات  افراد پہ مشتمل تھی۔ یہ افراد کم از کم سطح پہ مجلس شوری کے رکن بننے کے اہل ہوں لیکن مجلس شوری اور مجلس تشریعی سے زیادہ  علم و تجربہ اور قابلیت و صالحیت کے حامل ہوں۔

امیر کی مدد اور انتظامی امور کی انجام دہی  کیلئے ایک مستقل ادارے کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ وہ ادارہ مجلس خاص  ہی ہوسکتا ہے۔ امور ریاست و حکومت میں مشاورت کیلئے، مجلس خاص کے اراکین سربراہ مملکت کے ممد و معاون ہوں گے۔ اہم امور میں ضرورت پڑنے پہ مجلس شوری کے اراکین سے بھی امیر مشاورت کر سکتا ہے ورنہ مجلس شوری کا کام امور ریاست میں مداخلت کرنا نہیں ہے بلکہ خیال رکھنا ہے کہ امور ریاست قرآن و سنت کے مطابق ہی سرانجام پا رہے ہیں اور ریاست اسلامیہ کو کسی قسم کا کوئی خطرہ تو لاحق نہیں۔ مجلس خاص میں ہی ہنگامی طور پر حکومت کو سنبھالنے کیلئے افراد موجود ہوں گے کیونکہ  وہ افراد حکومتی معاملات میں پہلے ہی کردار بھی ادا کررہے ہوں گے اور تجربہ کار بھی ہوں گے۔

اگر دیکھا جائے تو خلفاء راشدین کے دور میں مجلس خاص کے اراکین کی  تعداد اوسطا چھ یا سات ہی رہی ہے۔  خلفائے راشدین کی سنت کے مطابق، خلیفہ یا سربراہ مملکت،  مجلس تشریعی میں سے چھ یا سات  افراد مجلس خاص کیلئے نامزد کرسکے۔ مجلس خاص کے اراکین پہ مجلس شوری کی توثیق ضروری ہے کہ یہ افراد امیر کے خصوصی ممدو معاون بننے کے اہل ہیں  اور مستقبل میں امیر کے عہدے کے  انتخاب کی اہلیت و قابلیت پہ بھی پورا اترتے ہیں۔

مجلس خاص میں ایسے افراد ہوں جن کی تحقیق، مطالعہ، تجربہ، قابلیت، صالحیت مجلس شوری کے کسی بھی فرد سے زیادہ ہے۔ یہ چھ یا سات صاحبان مدبر، صاحب عدل جو کہ عدلیہ ، منتظم اعلی کی صلاحیت کے حامل، عسکری  اور جغرافیائی معلومات سے واقفیت ، خارجہ، سیاسیات و دیگر اعلی خصوصیات کے حامل اشخاص مجلس خاص کے رکن ہوں۔  مفتی اعظم بھی مجلس خاص کے رکن ہوں گے اور مجلس شوری کے صدر بھی ہوں گے۔ یہ ایک نشست مجلس شوری اور مجلس خاص میں مخصوص ہو۔

سربراہ مملکت کی  وفات یا علالت کی وجہ سےیا سربراہ مملکت کی عدم موجودگی کی صورت میں، قائم مقام  سربراہ مملکت یا ولی عہد کی ذمہ داریاں بھی مجلس خاص کا ہی کوئی فرد  ادا کرے گا، بلاتاخیر صالح اور موزوں ترین فرد کو حکومت سونپنا مفتی اعظم  کی ذمہ داری ہو۔ ولی عہد کی تعیناتی بھی مجلس خاص کے اتفاق اور مجلس شوری کے اعتماد کی صورت میں ہی ممکن ہو۔

وزیر خارجہ، وزیراعظم یعنی وزیر خاص جس کے ذمہ ایک سے زیادہ محکمے ہوں، وزیردفاع، وزیر داخلہ، وزیر قانون، وزیر خزانہ، وزیر تعلیم جیسے اہم وزراء مجلس خاص کے رکن بنیں گے۔ أمور خارجہ کی حساسیت اور وسعت  کے پیش نظر وزیر خارجہ کا عہدہ نائب صدر کے برابر ہوتا ہے، جو کہ بیرونی امور میں سربراہ مملکت کا نائب ہوتا ہے۔ ایسے ہی  اگر وزیراعظم مقرر کرنا ہو تو مجلس خاص میں سے ہی کسی وزیر کو وزیر اعظم تعینات کیا جائے گا۔ جس کے ذمہ اندرونی امور ریاست ہوں۔ ایک سے زیادہ وزیر خارجہ اور وزیراعظم تعینات کئے جاسکتے ہیں۔ قضا و دفاع کے امور کیلئے ممد و معاون وزیر مقرر کئے جاسکتے ہیں۔ مجلس خاص میں سے ہی ولی عہد مقرر کیا جائے گا۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!