سربراہ مملکت، امیر کی صفات

سربراہ مملکت، امیر کو درج ذیل صفات کا حامل ہونا مشروط ہے۔

  1. وہ مسلمان اور آزاد ہو۔
  2. عاقل، بالغ اور مرد ہو۔
  3. امیر کوئی ایسا جسمانی نقص نہ رکھتا ہو۔ جس کی وجہ سے وہ فرائض کو اچھی طرح انجام نہ دے۔ مثلا اندھا، گونگا نہ ہو۔
  4. خلیفہ یعنی تمام امت مسلمہ کا امیر، خاندان قریش میں سے ہو۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ غیر قریشی خلیفہ منتخب نہیں ہوسکتا یا جائز نہیں ہے۔ البتہ اگر دو ایک جیسی اہلیت و قابلیت کے حامل مسلمان، قریشی اور غیر قریشی، دونوں عہدے کیلئے اہل ہوں تو قریشی کو اہمیت دی جائے گی۔کیونکہ احادیث میں خلافت کیلئے خاندان قریش سے ہونے کی فضیلت بیان ہے۔
  5. صاحب فراست، مدبر، صاحب الرائے، تجربہ کار اور اپنے فرائض کی ادائیگی میں چست و چالاک ہو اور موجود الوقت سیاست کا ماہر، اس کو سمجھنے اور اس پر رائے قائم کرنے پر قادر ہو۔
  6. و ہ متقی اور دین دار ہو اور شریعت کا محافظ ہو اور احکام جاری کرنے اور نافذ کرنے کی صلاحیت رکھتاہو۔ مبتدع اور فاسق و فاجر نہ ہو۔ جس کا مرتبہ یہ ہے کہ کبائر سے بالکل محترز ہو اور ضعائر پر اصرار نہ کرتا ہو۔
  7.  علوم کا ماہر ہو اور لاعلمی کی وجہ سے حدود و شرع سے تجاوز نہ کرے۔
  8. امیر ریاست کے انتظام کی اعلی قابلیت رکھتا ہو۔
  9. اسلامی اخلاق رکھنے کے علاوہ ان اعلی اخلاق کا حامل بھی ہو جو صرف طبعی طور پر پائے جاسکتے ہیں مثلا شجاعت و تدبر وغیرہ۔
  10. مسلمانوں کی حفاظت اور دشمنوں کی روک تھام کیلئے جس قدر علمی و عملی قوتوں کی ضرورت ہے وہ سب اس میں موجود ہوں۔ اتباع عدل و انصاف، شجاعت و ہمت، شوکت و صولت ساری صفتیں موجود ہونی چاہئیں۔

ان سب شرائط کا ہونا اتنا ضروری ہے کہ ان میں سے کسی ایک کے فقدان کی صورت میں بھی فرائض کا صحیح طور پر انجام دینا ممکن نہیں رہتا ہے۔ سربراہ مملکت نے ہی تمام ریاستی اداروں میں توازن رکھنا ہوتا ہے۔ ملکی نظم و نسق کا  علم سربراہ مملکت کو ہونا چاہئے اور اتنی صلاحیت ہونی چاہئے کہ تمام امور ریاست کی بخوبی دیکھ بھال کرسکے۔ قائدانہ اور انتظامی صلاحیتوں کا حامل ہو تاکہ انتظامی امور میں وقت کے ضیاع کے بغیر ہی کام سرانجام دے سکے اور قائدانہ صلاحیت ایسی ہوں کہ سب کو مساوی طورپر ساتھ لے کر چل سکے۔

حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ ایک دن میں نے حضرت عمر فاروق کو بہت بے چین پایا اور وہ فرمانے لگے کہ کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ میں خلافت کے بارے میں کیا کروں۔ میں نے کہا آپ علی کو کر دیجئے۔ فرمایا بیشک وہ اس کے اہل ہیں مگر ان میں ظرافت ہے۔ علاوہ بریں میرا خیال ہے اگر وہ تمہارے خلیفہ ہوگئے تو وہ تمہیں بالکل ظاہری شریعت پر چلائیں گے جیسے تم جانتے ہو۔ میں نے کہا پھر آپ عثمان کو کر دیجئے۔ فرمایا اگر میں ایسا کروں تو ابی محیط کا بیٹا )مروان( لوگوں کی گردنوں پر سوار ہو جائے گا۔ تمام عرب عثمان سے ناراض ہو جائیں گے بلکہ ان کو قتل کر دیں گے۔ بخدا اگر میں عثمان کو خلیفہ مقرر کردوں تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ مروان کی حکومت ہو جائے گی  اور اس صورت میں ضرور عربوں میں ایسی زبردست شورش ہوجائے گی کہ وہ عثمان کو قتل کر دیں گے۔ پھر میں نے کہا طلحہ کو کر دیجئے۔ فرمایا وہ مغرور ہیں۔ اللہ باوجود جاننے کے کبھی انھیں امت محمدیہ کا حکمران نہیں بنائے گا۔ میں نے کہا زبیر۔ فرمایا بیشک وہ بہادر ہیں مگر بازار میں نرخ اشیاء دریافت کرتے پھرتے ہیں، کیا ایسا شخص مسلمانوں کا حکمران بن سکتا ہے۔ پھر میں نے سعد بن ابی وقاص کا نام لیا۔ فرمایا وہ اس کے اہل نہیں وہ ایک سپاہی ہیں، سیاست میں دخل نہیں۔ پھر میں نے حضرت عبدالرحمن بن عوف کا نام لیا۔ فرمایا بیشک تم نے اچھے آدمی کا ذکر کیا۔ مگر وہ بہت سن رسیدہ ہوگئے ہیں۔ پھر

"حضرت عمرفاروق نے فرمایا،  اے ابن عباس خلافت کا وہ شخص اہل ہےجو
 قوی ہو مگر سخت نہ ہو۔
 مسکین مزاج ہو مگر کمزور نہ ہو۔
 خرچ کرنے میں محتاط ہو مگر بخیل نہ ہو۔
 سخی ہو مگر مسرف نہ ہو”
  احکام السلطانیہ ، صفحہ ۱۸

سربراہ مملکت کوئی بھی ہوسکتا ہے، وہ فوج کا جنرل  بھی ہوسکتا ہے، وہ حکومتی ملازم بھی ہوسکتا ہے، وہ قاضی بھی ہوسکتا ہے، وہ عالم بھی ہوسکتا ہے۔ شرعی طور پر اس میں کوئی ممانعت نہیں۔  لیکن شرط صرف یہ ہے کہ اس میں درج بالا خوبیاں ہونی چاہئیں اور امور کو سرانجام دینے کی صلاحیت ہونی چاہئے۔ سربراہ مملکت، "امیر یا بادشاہ  یا صدر یا سلطان یا امام” کہلائے۔ لیکن امور ریاست و سیاست اسلام کی حدود و قیود میں ہی چلائے جانے کو یقینی بنایا جائے۔ جیسے قاضی کو "جج” یا "جسٹس” کہنے سے فرق نہیں پڑتا بلکہ وہ قرآن و سنت کے مطابق امور قضا چلانے کا حامل عہدیدار ہوتا ہے۔ ایسے ہی سپہ سالار اعلی کو "امیر لشکر” یا "جوائنٹ چیف آف سٹاف” کہا جائے، اس سے فرق نہیں پڑتا بلکہ عسکری قوت کے حامل افراد کے ادارے کے سربراہ کو کہا جائے گا، جو قرآن و سنت کے احکامات کے مطابق اپنے عسکری فرائض سرانجام دیں۔ واضح رہے کہ اسلام نے تمام شعبوں کیلئے قوانین عطا کئے ہیں، جن کے ذریعے ہم ایک واضح اور صحیح راستہ اختیار کرنے میں بااختیار ہیں۔

خلافت یا اسلامی ریاست میں امیر کو  عدلیہ کے معاملات کی سمجھ بوجھ ہونا بھی ضروری ہے۔ کیونکہ قاضی القضاء کے بعد اپیلیں امیر کے پاس آتی ہیں اور اس پہ فیصلہ سازی ،تجربہ و علم و فراست کا متقاضی ہے۔ امیر کو سپہ سالار اعلی کے ساتھ دفاعی اور عسکری معاملات پہ اپنا فیصلہ دینے کی صلاحیت بھی ہونی چاہئے۔ ظاہر ہے اس کیلئے عسکری علوم سے واقفیت، خارجہ امور سے واقفیت، جغرافیہ کےخاطر خواہ علوم پہ دسترس بھی ضروری ہے۔

خلافت عثمانیہ میں خلفاء کی چار خصوصیات کا تذکرہ ملتا ہے۔ "حکمت، عفت، عدالت، جرات”

محمد بن یزداد  جو مامون کا وزیر تھا۔ یہ شعر کہے تھے۔

من کان حارس دنیا انہ فمن                        ان لا ینام و کل الناس نوام
و کیف تر قد عینا من تضیفہ                      ہمان من امرہ حل و ابرام

ترجمہ :          جو دنیا کا نگہبان ہو اسے سزاوار ہے کہ خود نہ سوئے، چاہے تمام عالم سوتا ہو اور بھلا ایسے شخص کو کیونکر نیند آسکتی ہے جس کا دماغ ہر وقت انتظام سلطنت کی ادھیڑ میں لگا رہتا ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!