زکوۃ، فطرانہ، فدیہ اور صدقات

زکوۃ فرض ہے۔ قرآن مجید میں نماز کے بعد سب سے زیادہ زکوۃ کا ہی حکم آیا ہے یعنی اللہ تعالی نے بدنی عبادت کے بعد مالی عبادت کا حکم سب سے زیادہ کیا گیا ہے۔

زکوۃ اس رقم پہ چالیسواں حصہ یا 2.5% ہے جو رقم آپ کے پاس ایک سال میں اکٹھا ہوئی۔ خواہ وہ کاروبار میں ہے یا سونا، چاندی، نقدی، مال تجارت وغیرہ کی شکل میں ہے۔ مویشیوں پہ بھی زکوۃ ہے۔ ذاتی مکان، سواری کے علاوہ، کاروباری مقصد کیلئے جائیداد یا عمارت یا سواری، کاروباری یا تجارتی سامان پر بھی زکوۃ ہے۔ ستر گنا یعنی بہت زیادہ اجر کیلئے عموما مسلمان رمضان المبارک میں ہی زکوۃ  ادا کرنے کا اہتمام کرتے ہیں۔

فطرانہ اور فدیہ، رمضان المبارک میں ادا کیا جاتا ہے۔  فطرانہ ہر صاحب استطاعت پہ واجب ہے تاکہ عید کی خوشیوں میں غریب مسلمان بھی شریک ہوسکیں۔ جبکہ رمضان المبارک میں فدیہ وہ مسلمان ادا کریں گے، جو جسمانی عوارض کی وجہ سے  روزے نہ رکھ سکے ہوں۔

زکوۃ کے علاوہ صدقات بھی دئیے جاسکتے ہیں۔ صدقہ نفلی عبادت ہے۔ صدقات کے معاملے میں  اختیار ہے کہ وہ بیت المال میں جمع کروا سکتے ہیں اور مستحق کو خود بھی دے سکتے ہیں۔ اس کے خرچ کی شرط بھی عائد کرسکتے ہیں کہ یہ فلاں مصرف میں لگایا جائے۔

صدقہ نفلی عبادت ہے۔ اسلا م میں سب سے پہلے وہ حکم پورا کیا جائے گا ،جو ہم پہ فرض ہے۔ ہم صدقہ کرکے خوش ہوتے ہیں جبکہ صدقہ نفلی عبادت ہے۔ یہ ایسا ہی ہے کہ وضو کرکے نماز ظہر  کے فرض ادا نہ کریں لیکن نوافل ادا کرکے خوش ہوجائیں۔ شرعی اصول ہے کہ

"تکمیل فرض کیلئے، ترک سنت جائز ہے”

یعنی جس کو نبی کریمﷺ نے فرض قرار دیا ہے، اس کی ادائیگی کیلئے سنت کو ترک کرنا جائز ہے۔ایسے ہی فرض یا سنت کی ادائیگی کیلئے نفلی عبادت کو ترک کیا جاسکتا ہے۔ اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے ، ہم ظہر کی نماز کی ادائیگی کیلئے مسجد میں داخل ہوتے ہیں تو جماعت ہورہی ہے لیکن ابھی ہم نے سنت موکدہ ادا کرنے ہیں۔ پہلے جماعت میں شامل ہوں گے اور بعد میں سنن و نوافل ادا کریں گے۔ فرض کی ادائیگی پہلے ہوگی۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!