زر کثیف

1923ء میں خلافت عثمانیہ کے سقوط کے بعد مغربی طاقتوں نے اسلامی نظام حکومت ہی نہیں بلکہ اسلامی اقتصادی نظام کا تسلسل توڑ دیا اور اس کی جگہ مغربی نظام جمہوریت اور سرمایہ دارانہ نظام اور سودی نظام معیشت کو غیرمسلم ممالک کی طرح بیشتر اسلامی ممالک میں نافذ کر دیا گیا۔1923ء میں سقوطِ خلافت کے ساتھ ہی اسلامی معاشی نظام کا تسلسل بھی ٹوٹ گیا  اور 1928ء میں دینار اور درہم کے اجرا کو ترک کر دیا گیا۔ اس نظام کو متروک ہوئے تقریبا ایک صدی گزر چکی ہیں۔ تا ہم دنیا کے کئی ممالک میں اس کا جزوی طور پر دوبارہ آغاز ہورہا ہے۔ اسلام کے تعلیم کردہ رہنما اصولوں کو مدنظر رکھ کر ہی ترتیب دیا گیا نظام، انفرادی معیشت سے لیکر ملکی اور عالمی معیشت کو بچا سکتا ہے اور دنیا میں  خوشحالی لا سکتاہے۔

اسلامی نظام حکومت میں مجلس شوری کی اجازت کے بغیر حکومت کیلئے قرض لینے کی اجازت نہیں جو بعد میں عوام کی مرضی کے خلاف ناجائز ٹیکسوں کی صورت میں ان سے لیا جاتا ہے۔اس طرح کے اقدامات کی اسلامی تعلیمات کی رو سے گنجائش نہیں ہے۔ سود پہ قرض لینے کی اجازت تو کسی صورت بھی اسلام نہیں دیتا اور نہ ہی مجلس شوری سود پہ قرض لینے کی اجازت دے سکتا ہے۔ جبکہ کسی بھی ملک کی معیشت کو چلانا اندرونی و بیرونی قرضوں کے بغیر ناممکن کر دیا گیا ہے اور اس طرح تمام ممالک کو قرضوں کے ایک گورکھ دھندے میں الجھا دیا گیا۔ یہ ہیں اقتصادی فتنے جو طاغوتی طاقتوں نے پوری دنیا کو دئیے۔

آج کل کے مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ "اسلام میں عالمی معاشی نظام یا ریاست چلانے کیلئے سیاست و معیشت کا نظام  موجود ہی نہیں ہے۔ عالمی اقتصادیات، مغربی نظامِ معیشت کے بغیر اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتی یا دوسرے لفظوں میں وہ نظام اس جدید دور میں چل نہیں سکتا”۔ اسلام عملی طور پر ہر نظام، ہر طریقہ بتاتا ہے۔ موجودہ  دور کی تمام اقتصادی کتابوں میں سرمایہ دارانہ نظام، کیپٹلزم، اشتراکیت وغیرہ کا  تذکرہ موجود ہے لیکن  جدید تحقیقی کتابوں میں اسلامی نظاموں کی تفصیلات  نہیں ہیں اور اسلام کو سرمایہ دارانہ نظام کے تابع بنانے کیلئے اور سرمایہ دارانہ نظام کی حفاظت کیلئے انہوں نے سرمایہ دارانہ نظام میں کچھ سرسری تبدیلیاں کرکے اُسے اسلامی معیشت  اور اسلامی اکاؤنٹنگ کا نام دیا ہوا ہے۔

اسلامی اقتصادی نظام سرمایہ داری نظام اور اشتراکیت وغیرہ سے یکسر مختلف ہے۔ اسلامی معاشی نظام کا "دِل” تجارت ہے۔ اسلامی اقتصادی نظام میں "زر” یعنی پیسہ حقیقی دولت پر مبنی جنس ہوتا ہے، جیسے طلائی دینار اورنقرئی درہم، گندم، چاول وغیرہ۔ یہ سود، قمار، غرر سے پاک ہوتیں ہیں۔ یہ آزاد بازاروں پر مبنی ہوتی ہے۔ جہاں پر ہر شخص اپنی تجارتی اشیاء کی فروخت کر سکتا ہے۔ جہاں تھوک فروشی تک ہر شخص کی یکساں رسائی ہوتی ہے۔ ہر چھوٹا کاریگر اور صنعت کار اپنا کارخانہ خود بنا سکے گا۔ ان اوقاف میں شرکت،مضاربت، مرابحہ وغیرہ کے طریقوں سے تجارت ہوتی ہے۔

1944ء کے بریٹن ووڈز معاہدے سے جنم لینے والے عالمی مالیاتی نظام/سرمایہ دارانہ نظام کاپون صدی پہ محیط دور اب تیزی سے زوال پزیر ہورہا ہے لیکن عالمی کرنسی کو ڈالر سے بدل کر کسی دوسری عالمی کرنسی کو اختیار کرنے کا مطلب ہے کہ کنویں سے مرا ہوا گدھا نہیں نکالا لیکن پانی نکالتے رہے۔  البتہ ڈالر کی مرکزی گرفت کو کمزور کرنے میں دیگر ممالک کے ساتھ مقامی کرنسی استعمال کرنے کی روس اور چین کی کوششیں ڈالر کے غلبہ کو توڑنے میں مؤثر ثابت ہوسکتی ہیں۔ اس شرط پر کہ ان  کوششوں میں مزید تیزی آئے اور وہ ڈھیلی نہ پڑیں۔ چین کے ہمراہ یورپی یونین کے اقدامات  مزید موثر ہوسکتے ہیں۔ لیکن یہ مسئلہ اس وقت تک حل نہیں ہوسکتا جب تک سونامرکزی بنکوں میں ذخیرہ رہے گا اور کسی کاغذی کرنسی کے بدلے فروخت کیا جائے گا۔ ہمیں کاغذی کرنسی نوٹوں کے مالیاتی نظام کو ترک کرنا پڑے گا۔ حضرت ابوبکر بن ابی مریم روایت کر تے ہیں کہ انہوں نے اللہ کے رسولﷺ کو کہتے سنا کہ

"عنقریب بنی نوع انسان پر وہ وقت آنے والا ہے جب دینار (سونے کا سکّہ) اور درہم (چاندی کا سکّہ) کے علاوہ
 کوئی ایسی چیز باقی نہیں رہے گی جو انسانیت کے کام (نفع) کی ہو گی”

حدیث مبارک اس بات کی طرف اشارہ کر تی ہے کہ موجودہ فریبی کاغذی مالیاتی نظام تباہ ہو جائے گا۔اسلام میں دینار اور درہم کے سکوں کے علاوہ "ناقص زر” یعنی فلوس کے معاملے میں بہت وسعت ہے۔ حضرت عمرفاروق نے اپنے دور میں اونٹوں کی کھال سے کرنسی بنانے کا ارادہ کیا تھا مگر اس خدشے سے ارادہ ترک کر دیا کہ اس طرح تو اونٹ ہی ختم ہوجائیں گے۔ امام مالک نے بھی چمڑے کے سکوں سے انکار نہیں کیا۔ لیکن اس سب میں کسی جنس کو "ناقص زر” کے طور پر مقرر کرنے کی بات ہورہی ہے ۔ "رسید یا کاغذ” کو کرنسی مقرر نہیں کیا جارہا۔ ابن مقریزی کی کویت کے فقہی انسائیکلوپیڈیا میں آج کے  مالیاتی بحران پہ رائے ہے کہ

"نرخوں میں افراتفری اور اس کے نتیجے میں ہونے والی مہنگائی کی موجود کا علاج صرف یہ ہے کہ
 سونے اور چاندی کے زر کے استعمال کی طرف لوٹا جائے اور
ملکی سطح پہ ایک دوسرے کی کاغذی کرنسی قبول کرنے کی بجائے یا
 تمام ممالک کسی نئی عالمی کرنسی کو مقررکرنے کی بجائے "سونے کے سکے” کو عالمی کرنسی مقرر کیا جائے اور
تبادلے کے نظام کے تحت تجارت کو فروغ دیا جائے یا سونے کے سکوں کے عوض تجارت کو فروغ دیا جائے
"

سونے کو عالمی کرنسی بنانے سے چیزوں کی قیمت کا معیار مقرر کرنے کا پیمانہ طے ہوسکے گا۔ کاغذی نوٹ میں سونے یا چاندی کی "تار/ورق” ڈال کر بھی اس کا آغاز کیا جاسکتا ہے۔ تاکہ کرنسی مستحکم ہوسکے اور کسی ملک کا استحصال نہ ہو۔ کسی بھی ملک کے معاشی استحصال کا مطلب اس ملک کے باشندوں کا استحصال ہے، جس سے ہزاروں نہیں لاکھوں لوگ متاثر ہوتے ہیں۔ اس سے کرنسی کی قدر گرنے کا اندیشہ ختم ہوجائے گا اور پھر کوئی بھی ملک کسی دوسرے ملک کی دولت کو برباد نہیں کرسکے گا۔امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے احیاء العلوم میں سونے چاندی کے سکوں کی اہمیت  یوں بیان کرتے ہیں۔

"اللہ تعالی کی نعمتوں میں سے ایک نعمت درہم و دینار کی تخلیق ہے اور ان دونوں ہی سے دنیا کا نظام قائم ہے اور  یہ دونوں محض پتھر ہیں۔جن سے براہ راست کوئی فائدہ حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن سب لوگ ان کے محتاج ہیں۔ وہ اس طرح کہ ہر شخص اپنی خوراک، لباس اور دیگر ضروریات کے سلسلے میں بہت سی چیزوں کا محتاج ہوتا ہے اور بسا اوقات اس کے پاس وہ چیز موجود نہیں ہوتی جس کی اسے ضرورت ہوتی ہے۔ البتہ وہ چیز ہوتی ہے جس کی اسے ضرورت نہیں ہوتی۔ مثلا ایک شخص کے پاس زعفران ہے اور وہ سواری کا محتاج ہےاور ایک دوسرے شخص کے پاس اونٹ ہے، جس کی اسے ضرورت نہیں البتہ زعفران کی ضرورت ہے۔ لہذا دونوں کے درمیان تبادلہ ضروری ہےاور )تبادلے کی صورت میں( معاوضہ بھی ناگزیر ہے اور اس معاوضے کی مقدار کا تعین بھی ضروری ہے کیونکہ بعض اوقات اونٹ کا مالک زعفران کی ساری مقدار کے عوض بھی اپنا اونٹ دینے کیلئے تیار نہیں ہوتا۔ زعفران اور اونٹ کے درمیان کوئی مناسبت بھی نہیں ہے، جس کی بنیاد پر یہ کہا جاسکے کہ اونٹ کے برابر زعفران لے کر اونٹ دے دیا جائے۔ یہی صورت اس شخص کو پیش آسکتی ہے جو کپڑوں کے بدلے گھر یا موزے کے بدلے غلام یا گدھے کے عوض آٹا خریدنا چاہے۔ کیونکہ ان اشیاء میں کوئی تناسب نہیں ہے یہ معلوم نہیں ہے کہ اونٹ زعفران کی کتنی مقدار کے مساوی ہے تو اس طرح باہی لین دین کے معاملات بہت زیادہ مشکل ہوجاتے۔ اس لئے یہ مختلف اشیاء اپنے درمیان کسی ایسے واسطہ کی محتاج ہیں جو ان کے مابین منصفانہ فیصلہ کرسکے اور اس کے ذریعے ہر ایک کی قدر معلوم کی جاسکے۔ لہذا اللہ تعالی نے تمام اموال کی قدر کی پیمائش کیلئے درہم و دینار کو حاکم اور درمیانی واسطہ کی حیثیت سے پیدا کیا ہے”

جرمنی میں جب 1933ء میں جرمنی کی معیشت بالکل تباہ و برباد ہو چکی تھی۔  60 لاکھ لوگ بے روزگار تھے اور پہلی جنگ عظیم میں شکست کے بعد جرمنی کو بھاری تاوان جنگ ادا کرنا پڑ رہا تھا۔ بیرونی سرمایہ کاری کے امکانات صفر تھے۔ تبادلے کے فطری نظام کی طاقت  اور حقیقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس دور میں عالمی بینکاروں کی طرف سے لگائی جانے والی معاشی پابندیوں اور بائیکاٹ کے باوجود جرمنی تبادلے کے نظام کی مدد سے دوسرے ممالک سے تجارت بحال کرنے میں کامیاب ہو چکا تھا اور تیزی سے ترقی کررہا تھا۔ اس وقت بھی امریکہ اور دوسرے یورپی ممالک میں لاکھوں لوگ بے روزگار تھے، جرمنی میں بے روزگاری ختم ہو چکی تھی۔ معیشت مضبوط ہو چکی تھی۔

امریکہ کی جانب سے مسلسل پابندیوں کا سامنا کرتے ہوئے دسمبر2019ء میں ایران نے چھ یورپی ممالک سے  تبادلے کے نظام کے تحت تیل کی فراہمی کا معاہدہ کیا ہے۔ "انسٹیکس INSTEX (INstrument in Support of Trade Exchange) کے بانی ممالک، ٹرائیکا فرانس، برطانیہ اور جرمنی نے جنوری2019ء میں "تبادلہ کے نظام” Barter تجارت پر مبنی ایک نظام شروع کیا ہے۔ جس کے تحت ایک چیز کی قیمت دوسری چیز ہوتی ہے، کاغذی کرنسی نہیں۔ بیلجیم، ڈنمارک، فن لینڈ، نیدرلینڈ، ناروے اور سویڈن نے بھی اس نظام میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ روس نے بھی ایران اور یورپ کے درمیان قائم ہونے والے خصوصی مالیاتی نظام انسٹیکس میں شامل ہونے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ انسٹیکس میں مختلف ممالک اور براعظموں کی تعداد جتنی زیادہ ہوتے جائے گی، اس نظام کی کارکردگی، اہمیت اور افادیت بھی اتنی زیادہ بڑھے گی۔ امریکن اقدامات اور ڈالر کی گراوٹ کی وجہ سے انسٹیکس کی مقبولیت میں بہت تیزی سے اضافہ ہورہاہے۔  لیکن تبادلے میں بنیادی کرنسی کسی جنس کو طے کرنا پڑے گا، جو بین الاقوامی سطح پہ سونا ہی ہوسکتا ہے۔

سودی نظام کے خلاف آوازیں عالمی سطح پہ بلند ہورہی ہیں۔ اسلامی ممالک میں تاخیر کے ذمہ دار صاحبان اختیار و اقتدار ہیں۔ اسلامی ممالک کو چاہئے کہ قرض اور سود سے من حیث الامت  توبہ کریں اور آئندہ ہر طرح کےملکی و بین الاقوامی قرض لینے پہ سخت پابندی لگائی جائے۔ مجبوری کی صورت میں اسی ملک کے باشندے حکومت  کا ساتھ دیں اور حکومتی ضرورتوں کو پورا کرنے میں صدقات یا فنڈ کے ذریعے حکومت کی مدد کریں ورنہ خلافت کے ذریعے دیگر اسلامی ممالک ایک دوسرے کا ساتھ دیں اور مشکل حالات کا مل کر مقابلہ کریں۔ تمام تر اسلامی ممالک سود کی ادائیگی کا انکار کر دیں۔ حساب لگایا جائے اور صرف اصل قرض کی رقم کی ادائیگی کی جائے یا ملک کو دیوالیہ قرار دے کر قرضوں سے جان چھڑوائی جائے۔ شرعی محاصل سے اسلامی حکومتیں اپنے اخراجات پورے کریں اور ون ٹیکس سسٹم کے ذریعے  بیرونی قرضوں سے ہمیشہ کیلئے جان چھڑوائی جائے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!