بجٹ، ریاستی میزانیہ پہ تجاویز

آج کل کے بجٹ ميں آمدنی کم اور خرچے زيادہ ہوتے ہيں جس کا خسارہ عوام پر زيادہ ٹيکس اور اندرونی بيرونی قرضوں کی صورت ميں پورا کيا جاتا ہے۔ جبکہ اسلامی نظام حکومت ميں بجٹ سازی وصول شدہ آمدنی کو اس کے مختلف مصارف ميں عادلانہ طور پر خرچ کرنے کو کہتے ہيں۔ بجٹ کی بنياد خزانے میں موجود آمدن پہ ہے، جس سے مصارف کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ اسلامی نظام حکومت میں بجٹ بنانا آسان اور سادہ ہوتا ہے اور  "جتنی آمدن، اتنا خرچ” کے اصول کے تحت بنایا جاتا ہے۔

اسلامی نظام ميں ميزانيہ یعنی بجٹ ہميشہ متوازن یا پھر فاضل یعنی بجٹ سرپلس ہوتا ہے۔ لہٰذا کسی قرضے يا نئے محصول يا خساراتی تمويل کی ضرورت نہيں ہوتی۔ اسلامی ریاست کا بجٹ، موجودہ معاشی نظام کے بھاری قرضوں، افراط زر، گردشی منديوں Cyclic Depression اور کسادباری Recession  کے خلاف ايک محافظ کا کام کرے گا۔

ریاستی میزانیہ کی تقسیم بنيادی طور پر دو طرح کی ہوگی۔ ايک فلاحی بجٹ اور دوسرا عمومی بجٹ۔ زکوٰۃ، عشر اور صدقات سے آنے والی آمدنی صرف غرباء اور محتاجوں ميں تقسيم ہوگی اور ان کی تفصيل قرآن و سنت ميں موجود ہے جبکہ دوسرے محصولی اور غير محصولی آمدنی دوسرے کاموں کيلئے خرچ کی جائے گی جو عمومی بجٹ کا حصّہ ہو گی۔ اگر فلاحی بجٹ ميں کمی ہو گی تو اس کا ازالہ عمومی بجٹ سے پورا کيا جاسکے گا۔ جبکہ اگر عمومی بجٹ میں کمی ہو جائے تو فلاحی بجٹ سے اس صورت میں اجازت ہے کہ فلاحی بجٹ فاضل یعنی سرپلس ہو ورنہ اس کی اجازت نہيں۔

ماہ رمضان میں اسلامی حکومت کو زکوۃ کی مد میں ایک خطیر رقم وصول ہوسکتی ہے کیونکہ رمضان میں احکامات کی ادائیگی پہ ستر گنا زیادہ اجر ملتا ہے۔ اس لئے بجائے عیسوی سال کے ماہ جون کے، اسلامی سال کے ماہ رمضان المبارک میں فلاحی اخراجات کرکے اور تنخواہوں کیلئے رقم مختص کرکے عمومی بجٹ سازی کا آغاز کیا جائے اور نئے اسلامی سال کے آغاز میں سالانہ بجٹ سنا دیا جائے۔ پاکستان بھی چونکہ ۲۷ رمضان المبارک کو معرض وجود میں آیا، اس لئے  بھی ماہ رمضان المبارک سے بجٹ سازی کی مماثلت بنتی ہے۔

پاکستان دنیا کاچھٹا بڑا ملک ہےلیکن دنیا کے 200 سے زائد ممالک میں 136واں امیر ترین ملک ہے۔ پاکستان دنیا کا چھپن واں مقروض ترین ملک ہے۔ جبکہ پاکستان سالانہ ملکی پیداوار GDP کے لحاظ سے  بیالیسواں مقروض ترین ملک ہے۔ میرے خیال میں رقبے کے لحاظ سے چھتیسواں بڑا ملک  اور آبادی کے لحاظ سے چھٹے بڑے ملک پاکستان کو سالانہ ملکی پیداوار میں پہلے دس ممالک میں نہیں تو اوسطا بیسویں یا اکیسویں نمبر کا ملک ہونا چاہئے۔  پاکستان صنعتی پیداوار اور صنعتوں کے لحاظ سے  چھیاسٹھ واں بڑا ملک ہے۔

 سالانہ ملکی پیداوار میں صرف دس فیصد حصہ صنعتی میدان کا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ صنعتی علاقوں میں بہترین ذرائع آمدورفت کو یقینی بنانا چاہئے۔ صنعتی علاقوں کے مسائل پہ خصوصی توجہ دے اور اس میں ضلعی کونسل کو ترجیحی بنیادوں پہ ایوان صنعت و حرفت کے ذمہ داران کے ساتھ مل کر ایسے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پہ حل کرنا چاہئے۔ صنعتی اداروں اور بڑی کمپنیوں کی آمدن و اخراجات کا تنقیدی محاسبہ بھی رکھا جائے اور ان سے زکوۃ بھی اکٹھی کی جائے۔

بجٹ کی تیاری میں معاشیات اور تجارت کے شعبوں کے ماہرین اور سکالرز کو شامل کیاجائے۔ اسلامی ممالک ماہ محرم یا شوال میں اپنا بجٹ بنائیں۔ اسلامی حکومت اپنے پاس موجود آمدن بجٹ بناسکتی ہے۔

قومی معیشت کی بہتری کیلئے اشیائے صرف کی درآمد کو کم از کم سطح پر لانے، غیرترقیاتی اخراجات کو محدود کرنے، اوپر سے نیچے تک ہر سطح پہ سادگی کو رواج دینے، حکومتی آمدنی میں چوری کو روکنے اور اس کا سراغ لگانے، پبلک سیکٹر میں بھاری انتظامی مصارف و تشہیر پر پابندی لگائی جائے۔

صرف سیاسی و غیر سیاسی انتظامیہ کا مخلوط نظام ختم کرکے حکومتی اخراجات کا بوجھ کم کیا جاسکتا ہے۔ آبادی کے تناسب سے پہلے اخراجات زیادہ ہوتے تھے۔ اب اخراجات کم ہوگئے ہیں۔ عوام میں روابط کو ہی لے لیں، موبائل ٹیکنالوجی سے آپ کہیں جانے سے پہلے یہ یقین کرلیتے ہیں کہ جس سے ملنا ہے وہ موجود ہے یا نہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ جانے کی ضرورت ہی نہ پڑے موبائل پہ ہی بات کرنے سے کام ہوجائے۔ پہلے کسی کا پتہ کرنے اس کے گھر یا دفتر یا دکان پہ جاتے تھے۔ پتہ چلا وہ گھر پہ نہیں بلکہ فلاں جگہ گیا ہے۔ وہاں گئے پھر پتلا چلتا ہے کہ وہ آگے کہیں چلا گی سے ڈھونڈنا پڑتا تھا۔ لیکن اب آپ ایک موبائل کال کرکے رابطہ کرلیتے ہیں اور سب معاملات طے پا جاتے ہیں۔ جس سے آپ کا وقت اور پیسہ دونوں بچتے ہیں۔  ایسے ہی سامان کی ترسیل میں پہلے دنوں لگتے تھے اور اخراجات بھی زیادہ آتے تھے ۔ لیکن اب وقت بھی کم لگتا ہے اور اخراجات بھی کم آتے ہیں۔ ایسے ہی پہلے خطوط کی ترسیل میں بہت سی افرادی قوت ملوث تھی۔ لیکن اب انٹرنیٹ کے ذریعےڈاک کا نظام بھی  زیادہ موثر اور تیز رفتار ہوگیا۔ پہلے تحقیقات کیلئے بہت سی کتابیں خریدنی پڑتی تھیں اب انٹرنیٹ سے کتابیں مفت بھی کمپیوٹر میں لائی جاسکتی ہیں اور بجائے کاغذوں پہ تحریر کرنے کے آپ پہلے ہی اس کی کانٹ چھانٹ، اصلاح کرسکتے ہیں۔ پہلے گھوڑوں، اونٹ اور بحری جہازوں کے ذریعے سفر ہوتا تھا۔ اب گاڑی، بس، ہوائی جہاز، ریلوے کے ذریعے سفر ہوتا ہے۔ جس سے اخراجات بھی کم ہوگئے اور وقت کی بچت بھی ہورہی ہے۔ ٹیکنالوجی نے جہاں سہولتیں دی ہیں، وہاں  فی کس کے حساب سے ہمیں بچت بھی ہورہی ہے۔ اب پہلی اسلامی حکومتیں اگر اسلامی معاشی نظام کی وجہ سے  خوشحالی تھی تو اب کیوں خوشحالی نہیں ہوسکتیں؟۔۔۔

پاکستان میں ایسے افراد یا ادارے پہلے سے ہی موجود ہیں جو ماشاء اللہ  اتنے صدقات دیتے ہیں کہ گاڑیاں بھر کر صدقات کے پیسے لیکر آتے ہیں اور حق داروں میں بانٹ دیتے ہیں۔ لیکن ایسی انفرادی کوششیں بے ثمر رہتی ہیں۔ کسی ملک میں ایسے اقدامات سے غربت میں کمی نہیں آسکتی۔ اس لئے جب تک حکومت باقاعدہ تمام شرعی محاصل کو اکٹھا کرکے ملک کا بجٹ نہ بنائے، جس میں ترجیحات قرآن و سنت کی روشنی میں طے کی جائیں، ہم فلاحی ریاست نہیں بن سکیں گے۔

2005ء کے بجٹ کی تجاویز کے سلسلہ میں ،بانی تنظیم الاخوان پاکستان "حضرت مولانا امیر محمد اکرم اعوان  رحمۃ اللہ علیہ"کی تحقیق  سےاستفادہ کرتے ہیں۔وہ فرماتے ہیں۔

"بجٹ پہ کسی بھی ملک کے آنے والے حالات کا بہت دارومدار ہوتا ہے۔ بجٹ ہی واضح کرتا ہے کہ ملک کے معاشی حالات کا لوگوں پہ کیا اثر ہوگا۔ دنیا میں جو دہشت گردی کی لہر آئی ہے اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ لوگوں کی آمدن محدود ہے ، فاقوں اور افلاس سے تنگ آکربھی، لوگ دہشت گردی اور دیگر جرائم کی طرف راغب ہوجاتے ہیں۔ ان سب چیزوں کا سد باب بھی بجٹ کے ذریعے ہی کیا جاسکتاہے۔ ہم نے 2000-2001 کے بجٹ کیلئے تجاویز دیں تھیں کہ حکومت کی آمدن کہاں سے آئے گی اور اخراجات کہاں سے پورے ہوں  گے۔ملک میں رہنے والے ہی ٹیکس دیتے ہیں اور اسی سے بجٹ پورا ہوتاہے۔ لیکن اسے بہت ہی بہتر صورت میں تبدیل کیا جاسکتاہے۔ ہمارے ہاں جو ٹیکس کا نظام ہے، اس میں بڑی ایک عجیب بات یہ ہے کہ ایک چیز پر کئی بار ٹیکس دینا پڑتا ہے۔ جو بالکل نا مناسب ہے۔ ٹیکس کی مقدار مناسب رکھی جائے اور ٹیکسز کی تعداد نہیں بڑھنی چاہئے۔ ایک چیز پہ ایک ہی ٹیکس حکومت کو وصول کرنا چاہئے۔ جیسے ہمارے ہاں تیل پہ ٹیکسز ہیں، ٹریکٹر پہ ٹیکسز ہیں،، بیج پہ ٹیکسز ہیں،،کھاد پہ ٹیکسز ہیں،، پھوٹی پہ ٹیکسز ہیں،، دھاگہ پہ ٹیکسز ہیں،، کپڑے پہ ٹیکسز ہیں،، کپڑا مارکیٹ میں جاتا  ہے تو پھر ٹیکسز ہیں۔ ایک ہی چیز کپڑا ہے اور کتنے ہی قسم کے اور کتنی مرتبہ ٹیکسز وصول کئے جارہے ہیں۔ ان سب کا بوجھ صارف پہ ہی آتا ہے۔  ایک چیز پہ ایک دفعہ ہی اور ایک ہی  ٹیکس ہونا چاہئے۔یہ بھی بہت زیادہ مہنگائی کا سبب بنتا ہے۔ آپ یہ کھانے پینے کی چیزوں کو دیکھ لیں۔ گندم، چاول، اور دیگر اجناس کے معاملے میں بھی حکومت کھاد، بیج ، بجلی کے بلوں وغیرہ کی صورت میں ٹیکسز وصول کرتی ہے۔ہونا یہ چاہئے کہ ایک دفعہ اگر کسی چیز پہ ایک ٹیکس دے دیا گیا ہے تو اس چیز پہ دوبارہ ٹیکس نہ لیا جائے۔ اس کی پہلی رسید ہی کافی ہوکہ اس پہ ٹیکس دے دیا گیا ہے۔لیکن اس سے حکومت کی آمدن پہ بہت فرق پڑتا ہے۔ اور ایک بڑا شارٹ فال آتاہے۔ حکومت کی آمدن محصولات کی ہوتی ہے، سرچارج ہوتے ہیں،آمدن کا بڑا حصہ توٹیکسز ہی  ہوتے ہیں، بیرونی امداد جو کہ قرض کی صورت میں ہوتی ہے، ترقیاتی کاموں کیلئے بھی بیرونی امداد ہوتی ہے۔ یہ سب حکومت کی آمدن کا حصہ ہوتے ہیں۔ ہم نے یہ تجویز دی تھی کہ اسلام نے جو ٹیکس دئیے ہیں  اگر ان میں باقاعدگی لائی جائے تو  بہت سا حصہ حکومت کی آمدنی کایہاں  سے ہی پورا ہوجاتا ہے۔ 2000ء کے بجٹ کیلئے ہم نے جو تخمینہ لگایا تھا۔ زکوۃ و عشر و دیگر ذرائع  آمدن کو اگر مرکزیت دی جائے توجیسے نبی کریمﷺکے زمانہ پاک میں تھی کہ ساری زکوۃ مرکز میں جمع ہوتی تھی اور حضور ﷺاس آمدن کو مختلف امور پہ لگاتے تھے، جن میں ملکی امور ، دفاع بھی شامل ہے۔ غریبوں پہ بھی خرچ ہوتی تھی، نئے مسلمان ہونے والوں کوسہولت دینے کیلئے بھی خرچ ہوتی تھی۔عشر ۱۰ فیصد اور ۲۰ فیصد ہوتا ہے۔ جہاں کاشتکار پانی لگاتا ہے وہاں بیسواں حصہ اور جہاں پانی قدرت کی طرف سے ہے وہ دسواں حصہ دیتا ہے۔ ۲۰۰۰ میں فصلوں کا عشر کا اندازہ لگایا تھا۔جو کہ اکتیس ارب تہتر کروڑ  سے زائد بنا تھا۔ ہم نے تمام صوبوں کا سروے کرکے، یہ تخمینہ لگایاتھا۔ زمین میں سے جو معدنیات نکلتی ہیں، جن میں کوئلہ ، نمک، قیمتی پتھر ہیں، ان کا تخمینہ 20فیصد کے حساب سے 31ارب 42کروڑ سے زائد رقم بنی تھی۔ اسی طرح ٹرانسپورٹ کا اندازہ لگایا تھا۔ جو کہ ٹرانسپورٹ بہت بڑھ گئی ہے۔ اس وقت، اس پہ زکوۃ 8 ارب 9 کروڑ سے زائد بناتھا۔ سونا جو لوگوں کے پاس ہے ، گھروں میں اور دکانوں میں، اس پہ زکوۃا71ارب 49کروڑ سے زائد زکوۃ بنتی ہے۔قومی بچت کی سکیمیں۔ ان پہ زکوۃ 16ارب 88کروڑسے زائد بنتی ہے۔ پروویڈنٹ فنڈ محکموں میں جمع ہوتے ہیں، جن پہ بھی زکوۃ بنتی ہے۔ جو کہ 41کروڑ سے زائد بنتی ہے۔ عید الفطر پہ جو زکوۃ الفطر یا فطرانہ اداکرتے ہیں۔ جو کہ 3ارب 16کروڑ روپے سے زائد بنتی ہے۔ تجارتی، مالیاتی اور صنعتی اداروں کا اندازہ ایک کھرب 86ارب 13کروڑ سے زائد رقم بنتی ہے۔ قربانی کی کھالوں  سے 3 ارب 90کروڑ روپے کی آمدن بنتی ہے۔یہ کل آمدن 3کھرب 61ارب سے زائد بن جاتی تھی۔ یہ 2000ء کے تخمینے کی بات ہے۔ اس میں بہت سے ذرائع کا ہم اندازہ نہیں لگاسکے۔ جس میں لوگوں کے پاس کتنی رقم نقد کی صورت میں ہے۔ ہوٹلوں کی آمدنی، تنخواہ داروں کی آمدنی، چھوٹے کارخانے اور دکانداروں کی آمدنی، دکانوں اور گھروں کے کرائے کی آمدنی ، پیشہ ور افراد ڈاکٹرز، وکلاء وغیرہ  کی آمدنی ، جائیداد کی خرید و فروخت کے اداروں کی آمدنی، وقف املاک کی آمدنی، درآمدات یا برآمدات پہ کسٹم ، اقلیتوں / غیر مسلموں پہ جذیہ ، یہ سب زکوۃ یا عشر کا تخمینہ ابھی شامل نہیں ہے۔ حکومت کے پاس ذرائع ہیں وہ ان سب کی آمدنی کا تخمینہ بھی لگا سکتی ہے اور اکٹھابھی کرسکتی ہے۔ اگر یہ تخمینہ لگایا جائے تو یہ رقم 8کھرب سےبھی زائد تک چلی جاتی ہے اور حکومت کا بجٹ بھی 8کھرب روپے تک کا ہوتاہے۔ حکومت نہ تو ٹھیک طرح سے زکوۃ اکٹھا کرپاتی ہے اور نہ ہی وہ غریبوں تک پہنچ پاتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ  زکوۃ اور عشر باقاعدہ لیا جائے۔ اب اس میں ایک سوال یہ اٹھتا ہے کہ دینی مدارس کی آمدنی کا دارومدار بھی زکوۃ اور عشر پہ ہے۔اگر حکومت  ان کواولیت دے اور دینی بھی چاہئے۔ان مدارس کو سسٹم میں لایا جائے۔ ان کے طلباء اور اساتذہ کا ریکارڈ بنایا جائے۔اساتذہ کو ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن ملے۔ ان کو رجسٹرڈ کیا جائے اور ان کے اخراجات، اساتذہ کی تنخواہیں، عمارت کی مرمت، بجلی کے بل، بچوں کی رہائش، بچوں کی کتابیں وغیرہ کو حکومت پورا کرے۔ان کو اپ گریڈ کرے۔ ان کو ہر طرح کی جدید سہولتیں دے۔ زیادہ سے زیادہ ایک کھرب روپے اس مد میں چلے جائیں گے۔ لیکن ان مدارس کا حساب کتاب رکھا جائے۔ باقی آمدن جو زکوۃ و عشر اور دیگر ذرائع سے ہورہی ہے، اس کو ملک کی تمام ضروریات پہ خرچ کیا جاسکتاہے۔ اس میں شریعت کورٹ میں بھی اس مسئلے پہ بحث ہوئی تھی۔ جس بحث میں ہم شامل ہوئے تھے۔ اس میں جو فیصلہ دیا گیا وہ یہ تھا کہ جو ہم غیرملکی سود ادا کرتے ہیں وہ زکوۃ یا عشریا شرعی ذرائع آمدن سے ادا کرنا جائز نہیں ہے۔ ملک کے تمام ادارے، ہسپتال، دفاع اور غریبوں کی امداد پہ خرچ کرسکتے ہیں۔ اگر ہم بجٹ کی آمدن کا حصہ زکوۃ، عشر اور دیگر شرعی ذرائع سے حاصل کر لیتے ہیں توعوام کو بہت ریلیف دیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ جو ٹیکس لگے ہوئے ہیں، ان میں بالواسطہ اور بلاواسطہ ٹیکس شامل ہیں۔بہت سے ایسے ٹیکس ہیں جن کی سمجھ نہیں آتی۔لیکن آخر میں جو چیز مارکیٹ میں آتی ہے ، اس میں وہ سب ٹیکس  اکٹھے ہوچکے ہوتے ہیں۔اب  ان کا بوجھ آخری صارف پہ ہی پڑتا ہے۔ اگر ان ٹیکسز کی شرح کو دو تہائی کم کردیا جائے یا تمام ٹیکسز ختم کرکے ون ٹیکس لگا دیا جائے۔تو ملک میں جو روٹی دو روپے کی ملتی ہے وہ ایک روپے کی دو روٹیاں ملیں گی۔ عام آدمی کو اتنی زیادہ سہولت ملے گی۔ جتنی سہولت عام آدمی کو ملے گی ، وہ اتنی محنت زیادہ کرے گا اور جتنی زیادہ محنت ہوگی اتنی پروڈکشن زیادہ ہوگی اور پروڈکشن زیادہ ہوگی تو آمدن زیادہ ہوگی اور آمدن زیادہ ہوگی تو حکومت کو زکوۃ ،عشر اور دیگر ذرائع سے آمدن بھی زیادہ ہوگی۔ تو جو ٹیکسوں سے آمدن ہو، اس کو بیرونی قرضوں اور سود کو اتارنے کیلئے لگایا جائے۔ حکومت کے پاس عوام کوبجٹ میں  آسانی دینے کا میری نظر میں کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ حکومت کے اخراجات بڑھ رہے ہیں اور مسائل بھی بڑھ رہے ہیں۔اخراجات بڑھنے سے ہر چیز مہنگی ہورہی ہے۔  دہشت گردی کا بھوت ایک ایسا بھوت ہے، جس کی وجہ سے ایک انجانا خرچ /بوجھ حکومت کو برداشت کرنا پڑرہا ہے۔ان  اخراجات کا حساب بجٹ میں نہیں ہوتا۔ کس کو پتہ ہے،  ان اخراجات کا؟۔۔۔تو اگر نظام زکوۃ و عشر نافذ کردیا جائے اور عام آدمی کو ریلیف دیا جائے۔ جیسے جیسے زکوۃ و عشر سے حکومت کو آمدن ہو، ٹیکسوں کی شرح کم کی جائے اور بالآخر ون ٹیکس سسٹم متعارف کروادیا جائے۔ لیکن زکوۃ و عشر کو باقاعدہ اکٹھا کیا جائے”۔

اللہ کے نظام کی برکات کی وسعت کا اندازہ ہم نہیں لگا سکتے۔ اگر آج کل حکومتی  بجٹ کا حجم  اگر بڑھ گیا ہے تو ظاہری سی بات ہے۔ پاکستان کی آبادی اور ہر شہری کی آمدن  میں بھی اضافہ ہوا ہے جو کہ حکومتی آمدن میں بھی اضافے کا باعث بنے گا۔ مزید ایک موقع پہ "حضرت مولانا امیر محمداکرم اعوان رحمۃ اللہ علیہ" فرماتے ہیں۔

"اگر پاکستان میں دیانتداری سے جتنی جس کے ذمہ زکوۃ ہے، اگر دی جائے اور لوگ دیتے ہیں اور اس کو باقاعدہ اور منظم طریقے سے 2.5فیصد کے حساب سے اکٹھا کیا جائے۔ عہد نبویﷺمیں حکومت زکوۃ و عشر پہ ہی چلتی رہی ہے۔ خلفاء راشدین کے ہاں بھی کوئی نیا ٹیکس نہیں ملتا۔ ہاں قاعدے ضابطے ہیں کہ کوئی چیز امپورٹ ہوتی ہے تو آپ ایک ٹیکس بارڈر پہ لے لیں، اس کے بعد وہ ٹیکس فری ہے۔ اگر کوئی حادثہ بنتا ہے، جنگ ہوتی ہے، حکومت کوئی ٹیکس لگاتی ہے تو جب وہ ختم ہوجائے تو وہ ٹیکس معاف ہو  جاتا ہے، ختم ہو جاتا ہے۔ زکوۃ جو ہے، اس آمدن سےحکومت رفاہی کام بھی کرسکتی ہے ، فوج بھی پال سکتی ہے، دفاع، عدلیہ پہ بھی خرچ کرسکتے ہیں، سارے کام اس سے کرسکتے ہیں۔ آپ قرضہ بھی ملک کا زکوۃ سے اتار سکتے ہیں، سوائے سود کے۔ سود کی ادائیگی میں زکوۃ کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ وہ نظام ہے جس میں مالداروں سے پیسہ لے کر غریبوں کی طرف جاتا ہے۔ اب جو آپ کا ٹیکس کا نظام ہے وہ غریبوں پہ زیادہ ٹیکس ہے، امیروں پہ ٹیکس کم ہے۔کیونکہ جو ٹیکس نظر نہیں آتے، بلاواسطہ ہیں، وہ زیادہ ہیں۔  زمین پہ ٹیکس ہے، کھادپہ ٹیکس ہے، بیج پہ ٹیکس ہے۔روئی پہ ٹیکس ہے، سوت بنتا ہے اس پہ ٹیکس ہے، دھاگہ بنتا ہے اس پہ ٹیکس ہے، کپڑا بنتا ہے، اس پہ ٹیکس ہے۔ کپڑا کارخانے سے مارکیٹ جاتا ہے، اس پہ ٹیکس ہے۔ لانے لیجانے کے دوران حکومت جگہ جگہ ٹیکس لیتی ہے۔مال بردار ٹرانسپورٹ پہ ٹیکس ہے، ڈیزل/ پٹرول پہ ٹیکس ہے۔ یہ کیا تماشہ ہے۔ بات تو صرف کپاس کی ہے۔ ایک ہی چیز پہ بار بار ٹیکس۔ یہ شرعا حرام ہے”

ایک موقع پہ” حضرت مولانا امیر محمد اکرم اعوان  رحمۃ اللہ علیہ” نے فرمایا کہ

” پاکستان کو اللہ کریم نے اتنی معدنیات  اور موسموں سے نوازا ہے کہ اگر پاکستان کے گرد دیوار بھی بنا دی جائے تو پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو اپنی ضرورتیں اپنے ملک میں سے ہی پوری کرسکتا ہے”

ڈاکٹرز،انجینئرز، صحافی، دکاندار، صنعتکار، تاجر، کاشتکار، زمیندار،قانون دان، اساتذہ ، مرد و خواتین میں سے جو بھی صاحب نصاب ہو گا، جب ان سے شرعی محاصل اکٹھے کئے جائیں گے تو یہ ہمارے تمام ریاستی اخراجات کو پورا کرنے کیلئے کافی ہوں گے اور کسی پر روزمرہ ٹیکسز کی صورت میں بوجھ بھی نہیں پڑے گا۔ ایسے ہی پاکستان سے باہر جو افراد ہیں، وہ جب اپنی بچت میں سے زکوۃ پاکستان کو بھیجیں گے، جو کہ ایک بڑی آمدن کا ذریعہ بنے گا۔ اس سے آپ کے پاس بیرون ملک پاکستانیوں کا ریکارڈ بھی مرتب ہوجائے گا کہ وہ کس کاروبار سےمنسلک ہیں، ان کے ذرائع آمدن کیا ہیں اور ان کی سالانہ بچت کیا ہے۔ اگر ان کے شعبہ میں، ان سے مدد لینے کی ضرورت پڑے تو حکومت ان کو بہتر سہولیات اور ان کی خدمات کے عوض معاوضہ دے کر ان کی خدمات ملک کیلئے لے سکتی ہے۔ جبکہ ہمارےپاس زیادہ تر بیرون ملک پاکستانیوں کا ریکارڈ ہی موجود نہیں کہ وہ کہاں اور کس حال میں ہیں، کجا یہ کہ حکومت کو یہ پتہ ہوکہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ اس طرح حکومت بیرون ملک پاکستانیوں کی ملک سے وابستگی کے حقوق ادا کرنے کی بھی پابند ہو گی۔

پاکستان کے چند افراد  امیر ترین لوگوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے بیرون ممالک میں بھی کاروبار ہیں اور وہاں زکوۃ کوحکومتی سطح پہ ادا کرنے کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔ اگر وہ احباب پاکستان کی ریاست کو زکوۃ ادا کرتے ہیں تو ملک میں کتنی خوشحالی آسکتی ہے۔

جس خطہ میں ہم رہ رہے ہیں۔ یہی ہند "سونے کی چڑیا” کہلاتا تھا۔ حکومتوں کے اخراجات آج کی نسبت زیادہ تھے۔ عدلیہ ، قلعہ جات، محلات ، فوج، دیوان، غرض تمام اداروں کا خرچ حکومتیں برداشت کر رہی ہوتی تھیں لیکن  اب فی کس اخراجات کم ہوگئے ہیں جبکہ فی کس آمدنی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ پہلے کی نسبت ہر فرد زیادہ کام کرسکتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ زکوۃ بھی زیادہ اکٹھا ہوگی۔ جبکہ ٹیکسز کا ایسا گورکھ دھندہ ہے کہ جو سمجھ سے بالاتر ہے۔ پھر بھی حکومتی  اخراجات پورے نہیں ہوتے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!