ریاستی قرضہ – National Debt

دنیا بھر میں ریاستوں کو سودی معاشی نظام کے تحت قرضوں میں جکڑنے کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ جس میں بہت سے ترقی یافتہ ممالک بھی جکڑے ہوئے ہیں۔ یہ کوشش کوئی نئی نہیں بلکہ سودی قرض کی تاریخ بہت پرانی ہے اور تاریخ میں یہودی ہی سود کا کاروبار کرتے نظر آتے تھے۔ لیکن سود کے ذریعے فردا فردا مقروض کرتے تھے اور اپنی اجارہ داری قائم رکھتے تھے۔ جبکہ ریاستوں اور قوموں کو مقروض کرنے کا سلسلہ مغربی جمہوریت اور سرمایہ دارانہ نظام معیشت کی ابتداء کے ساتھ ہی شروع ہوتا ہے۔

قرض فرد واحد لیتا ہے۔ میں قرض لے سکتا ہوں۔ آپ قرض لے سکتے ہیں۔ فرم میں ایک سے زیادہ لوگ حصہ دار ہیں۔ کاروبار میں بڑھوتی دینے کیلئے یا پیداوار بڑھانے کیلئے، اگر پیسے کی ضرورت ہے، تو آپ سب مل کر تھوڑا تھوڑا سرمایہ ڈال لیں۔ یہ ممکن نہیں تو ایک اور شراکت دارشامل کرلیں۔  کبھی فرم/کمپنی/صوبہ/ریاست/ملک بھی قرض لیتے ہیں؟۔۔۔ تاریخ میں سود پہ قرضوں کی مثال صرف یہودیوں کی ہی ملتی ہیں۔ لیکن موجودہ معاشی نظام میں ایسا ہوتا ہے۔

تاریخ کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ ریاستیں قرض نہیں لیتیں۔ ریاست کو قرض کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ریاستیں قرض لے کر نہیں بنتیں۔ بلکہ "نظریہ، اتحاد اور نظم” سے بنتی ہیں۔تاریخ یہ بات واضح کرتی ہے کہ دنیا میں مغربی جمہوریت اور سرمایہ دارانہ نظام سے پہلے ریاستیں مقروض نہ ہوتی تھیں۔ یہ موجودہ نظام کی پالیسیوں کا تسلسل ہے کہ کمزور ریاستوں کو بڑی ریاستوں نے مقروض کرلیا ہے اور پھر قرض دیتے ہوئے شرائط عائد کرکےان کے امور ریاست میں مداخلت کرکے ان کی ریاستی آزادی کو بھی سلب کرلیا جاتی ہے۔ بالخصوص تقسیم ہند سے پہلے، ریاست ہند پہ ایک روپیہ بھی قرضہ نہ تھا۔ نہ کبھی یہ خطہ  مقروض رہا۔ بلکہ انگریزوں کےقابض ہونے سے قبل اس خطے کو سونے کی چڑیا کہا جاتا تھا۔ امور ریاست کیلئے  اسلامی ریاست کے معاشی نظام کی جگہ، انگریزوں نے زیادہ شرح کے ساتھ ٹیکس لگایا یا مالیہ / لگان لگایا۔ انگریزوں نے ٹیکسوں کی بھرمار کرکے ہند کی معیشت کا بیڑا غرق کردیا اور ہندوستان کا مال و دولت لوٹ لیا۔ عوام جو خوشحال تھے اور ایک بھی بھکاری نہ ملتا تھا وہاں لوگ فاقوں کے ہاتھوں لاکھوں کی تعداد میں مرے۔ کیونکہ آمدن کا بڑا حصہ ٹیکسوں کی صورت میں انگریز وصول کرلیتے تھے۔ انگریزوں نے انھی ٹیکسوں سے  ریلوے، سڑکیں، کالج وغیرہ بنائے۔ یہ سب انھوں نے برطانیہ سے دولت لا کر نہیں کیا۔ جو کہ ان کی اپنی سہولت کیلئے تھا۔ ریاستی اخراجات کے بعد پانچ کروڑ سالانہ منافع ٹیکسوں کی شکل میں حکومت برطانیہ ہند سے لے کر جاتی تھی۔ لیکن پھر بھی ہندوستان نہ دیوالیہ ہوا اور نہ ہی تقسیم ہند تک ہندوستان  پہ کوئی قرض تھا۔

آج کل بڑی عالمی طاقتیں جہاں عسکری جارحیت  کا استعمال کرتی ہیں وہاں معیشت اور معاشی نظام  کے ذریعے بھی قوموں کو محکوم بنایا جانے کا سلسلہ چل رہا ہے۔ترقی پزیر ممالک کو تو قرضوں میں جکڑا جاتا ہے لیکن ترقی یافتہ ممالک اس وقت سب سے زیادہ مقروض ہیں۔ جن میں پہلے دس ممالک بالترتیب امریکہ، چین، جاپان، جرمنی، فرانس، برطانیہ، اٹلی، برازیل، کینیڈا اور روس ہیں۔ ان کی ترقی کا راز بہت زیادہ ملکی آمدن ہونا نہیں بلکہ مقروض ہونے میں چھپا ہواہے، جبکہ ان ممالک کے پاس ابھی تک کوئی متعین اہداف نہیں کہ وہ ان قرضوں سے اپنے ممالک اور عوام کی جان چھڑوالیں گے۔ قرضوں کے اس بوجھ کی وجہ سے معاشی طور پہ یہ ممالک تباہی کے دہانے پہ پہنچ چکے ہیں۔

وفاقی حکومت سٹیٹ بینک، عالمی مالیاتی بینک، ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور معلوم نہیں کس کس بینک سے سود پہ قرض لیتی ہے اور ان ناقص اقدامات اور پالیسی کے نتیجے میں پوری قوم قرض کے بوجھ تلے دب جاتی ہے۔ یہ سلسلہ یہیں نہیں تھمتا بلکہ صوبائی حکومتیں بھی قرض لیتی ہیں۔ صوبائی بینک کم شرح سود پہ سٹیٹ بینک سے قرض لیتے ہیں اور پھر حکومت کو قرض دیتے ہیں زیادہ شرح سود پہ۔ صوبائی حکومت بین الاقوامی بینکوں سے بھی قرض لیتی ہیں، جو کہ وفاقی حکومت کی اجازت سے ممکن ہوتا ہے۔

ایک فقرہ ہر دفعہ ہر نئی حکومت کے  وزیر خزانہ سے سننے کو ملتا ہے۔ ملکی حالات کی سنگینی  کے پیش نظر مزید ٹیکس لگانا ضروری ہوگیا ہے یا قرض لینا ضروری تھا۔  کوئی حد ہوتی ہے ظلم کی۔ کبھی انجمن تاجران سے مذاکرات۔ کبھی صنعت کاروں سے مذاکرات۔ آپ ایسے کام کرتے ہی کیوں ہیں کہ مذاکرات کرنا پڑیں۔ یہ تو ایسے ہی ہوا کہ کہا جائے دس لاکھ دو اور بات چیت کرکے اسے پانچ لاکھ پہ راضی کرلیا جائے۔ اکثر حکومت ایک چیز مہنگی کرتی ہے۔ شور مچتا ہے اور آخر میں نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ تین روپے قیمت بڑھائی اور ایک روپیہ کم کردی۔ مذاکرات کامیاب ہوگئے۔ جبکہ اب تو عوام کی فریاد پہ حکومت ٹس سے مس نہیں ہوتی۔ یہ عوام کے ساتھ مذاکرات نہیں بلکہ "مذاق رات "ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!