دو قومی نظریہ

انگریزوں کے غاصبانہ قبضے کو روکنے کیلئے ہند کےمسلمانوں نے کوششیں کیں لیکن انگریز ہندوستان پہ قبضہ کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ انگریزوں کے قدم جس روز سے ہندوستان کی زمین پر پڑے ان کو اکھاڑنے کیلئے نواب حیدر علی، شیر میسور ٹیپو سلطان، نواب سراج الدولہ، حافظ رحمت خاں شہید کے علاوہ مسلمانوں کی ایک غیور جماعت ابتداء سے ہی سرگرم رہی۔ یہ وہ افراد تھے جو فرنگی چالوں اور ارادوں سے بخوبی واقف تھے۔اس سلسلے کے سرخیل امام الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (1762ء) تھے۔ شاہ صاحب کے بڑے بیٹے شاہ عبد العزیز نے والد کی وفات کے بعد ان کی کوششوں پر عمل کرتے ہوئے برطانوی سرکار کے خلاف قلمی جہاد جاری رکھتے ہوئے بذریعہ خطوط صوبائی ریاستوں کو آگاہ کرتے رہے۔ شاہ عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ نے ہندوستان کو دارالحرب قرار دیکر غیر ملکی اقتدار کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی۔ سید احمد شہیدؒ نے بھی صوبائی ریاستوں کو ایک مقصد کے تحت متحد کرنے کی جدوجہد کی۔

انگریزوں کے غاصبانہ قبضہ کے بعد بھی مسلمانوں نے مزاحمت جاری رکھی اور  روز بروز اس مزاحمت میں اضافہ بھی ہوتا گیا۔ جس کی وجہ سے مسلمان علماء اور دیگر مسلمانوں کو باغی قرار دے کر شہید کیا جاتا رہا۔ ایک ایک دن میں سینکڑوں علماء  اکرام اور مسلمان شہید کئے گئے۔

دارالعلوم دیوبند کے شکستہ ہجرے اور حضرت شیخ الہند کے گھر کے تہہ خانہ سے انگریزوں سے نجات حاصل کرنے کی منصوبہ بندی اور تحریک کا آغاز ہوا۔ ریشمی کپڑے کے ٹکڑوں پر مراسلت کی مناسبت سے اس کو ” ریشمی رومال تحریک” کا عنوان دیا گیا۔ یہ منصوبہ نہ صرف ہندوستان بلکہ انگریزوں کے مقبوضہ علاقوں کو ناجائز تسلط سے آزاد کرنے کیلئے تیارکیا گیا تھا۔ اس لئے اس تحریک کی تائید اور نشر واشاعت میں بعض غیر ملکی اہم شخصیات نے بھی حصہ لیا۔ برطانوی حکومت کے خفیہ ریکارڈ سے احمد کرستان (روس)،عبد العزیز (مصر)، انور پاشا (ترکی)،محمد جمال (شام)، محمد غالب( حجاز)، مصری پاشا (مدینہ منورہ)، حبیب اللہ( افغانستان)، شیخ رحیم( سندھ) ،محی الدین( کابل) وغیرہ کی شمولیت قابل ذکر ہیں۔

ہندوستان کی آزادی کیلئے دیوبند سے اٹھنے والی تحریک برسوں تک برطانوی خفیہ محکمہ کا معمہ بنی رہی۔اعلیٰ افسران حیران وپریشان تھے کہ عوامی سطح پر ہماری اس درجہ مخالفت کیوں ہو رہی ہے؟۔۔۔ 1907ء میں اس تحریک کی بھنک سی آئی ڈی کو ملی۔ جس پہ ملک گیر پیمانے پر اس کی تحقیق و تفتیش شروع کردی گئی۔ بالآخر اگست 1916ء میں تین خطوط پکڑے گئے، جو کابل سے حجاز ارسال کئے جارہے تھے۔ جب اس منصوبے کا راز کھلا تو معلوم ہوا کہ ہندوستان سمیت مختلف ممالک میں اس کے ڈھائی سو مراکز چل رہے ہیں۔ جن میں ’’یاغستان اور کابل کو مرکزی حیثیت حاصل تھی، جہاں حاجی ترنگ زئی انگریزوں کے خلاف کام کررہے تھے۔ "جنودِ ربانیہ” کے نام سے کارکنان کی شناخت ہوئی۔ اس جماعت کے کارندوں کی ایک فہرست برطانوی حکومت کی خفیہ ایجنسی نے تیار کی۔ اس فہرست میں مولانا ابو الکلام آزاد، مولانا محمد علی جوہر، حکیم اجمل خاں، نواب وقار الملک، مولانا وحید احمد، مولانا عزیر گل پیشاوری، حکیم نصرف حسین کوڑا جہاں آبادی، رضوان شاہ کابل، منیر ٹرکی، انور شاہ کشمیری دیوبند، شبیر احمد عثمانی دیوبند، مطلوب الرحمن عثمانی دیوبند، عزیز الرحمن عثمانی دیوبند، حبیب الرحمن عثمانی دیوبند، مولانا متین دیوبند، خلیل احمد انبھیٹوی، احمد علی لاہوری، ظفر علی خاں لاہور ، سیدہادی حسن مظفر نگر، سید سلیمان ندوی، محمد حسن حیدر آباد، سہول دربھنگہ، حسرت موہانی، برکت اللہ بھوپالی، راجہ مہیندر پرتاپ ، ہرنام سنگھ راولپنڈی، کالا سنگھ لدھیانہ، ڈاکٹر متھرا سنگھ چکوال، خدا بخش راجستھانی، شجاع اللہ شملہ، فضل ربی ہزارہ، عبد الرب لکھنؤ شامل تھے۔ انگریز دورحکومت میں بالآخر  دو قومی نظریہ کی بازگشت بھی سنائی دی۔ یہ بات انگریزوں کو بھی پسند تھی کہ اتنا بڑا ملک دو حصوں میں تقسیم ہوجائے ۔ ورنہ اتنی بڑی آبادی اور علاقہ، اتنی بڑی معیشت ہونا تھی اور آگے چل کر ایک بار پھر یہ خطہ بڑی عالمی طاقت بن سکتا ہے۔ ویسے بھی انگریز پہلے ہی ہندوستان کی دولت پہ ہاتھ صاف کرکے اپنے مقاصد حاصل کرچکے تھے۔

مسلمانوں کی مسلسل جدوجہد کی وجہ سے،  ہندو بھی انگریزوں کو ہندوستان سے بے دخل کرنے کیلئے میدان میں آئے۔ ہندوؤں کا مقصد انگریزوں کے اقتدار پہ غاصبانہ قبضے کو ختم کرنا نہیں بلکہ مسلمانوں کو اقتدار سے دور رکھنا اور انگریزوں کو بے دخل کرکے  اقتدار پہ قابض ہونا تھا ۔جبکہ مسلمان انگریزوں کو بے دخل کرکے دوبارہ اسلامی ریاست قائم کرنا چاہتے تھے۔  ہندوؤں کی اقتدار حاصل کرنے کی کوششیں اور انگریزوں  کے ساتھ تعاون کو دیکھتے ہوئے علامہ اقبال نے "دو قومی نظریہ” دیا اور خطے کو مسلم اکثریتی اور غیرمسلم اکثریتی علاقوں میں تقسیم کرنے کی تجویز دی۔ انہوں نے مسلم قوم کو صرف تصورِ پاکستان ہی نہیں دیا تھا بلکہ تعمیر پاکستان کا ایک واضح نقشہ اپنی تقاریر اور اشعار میں بھی فراہم کردیا تھا۔ پھر یہ کہ علامہ اقبال اور علماء و مشائخ نے بھی مغرب کے غیر اسلامی نظریات اور نظاموں سے ملت کو خبردار کیا۔ بے دین نظامِ سیاست ہو یا مغربی سرمایہ دارانہ جمہوریت اور لادینی طرزِ حکومت ہو یا مغربی طریق انتخابات، ان سب کا مکمل ابطال بروقت کردیا گیا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ  الگ مسلم اکثریتی ریاست پاکستان کا تصور پیش کرنے والے علامہ اقبال کے افکار میں پاکستان کیلئے مغربی سرمایہ دارانہ سیاست و  جمہوریت کی بالکل نفی اور  اللہ کے عطا کردہ نظام  کی تجویز تھی۔ یہ نظریہ بعد ازاں مسلم لیگ کے منشور کا حصہ بن گیا اور مسلمان ایک خطہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔

ہندوؤں اور انگریزوں کے گٹھ جوڑ کی وجہ سے مسلمان مجبور ہوگئے کہ مسلم اکثریتی علاقہ ہی مسلمانوں کو مل جائے تاکہ مسلمان آزاد فضا میں اسلام کے مطابق زندگی گزار سکیں۔  تقریبا ایک صدی کی طویل جدوجہد کے بعد بالآخر انگریزوں کو یہ خطہ دو قومی نظرئیے کی بنیاد پہ تقسیم کرنا پڑا اور روئے زمین پہ دو نئے ممالک پاکستان اور بھارت کے نام سے معرض وجود میں آئے۔ بلاشک و شبہ پاکستان کا معرض وجود میں آنے کا مقصد اللہ کی حاکمیت اعلی کو تسلیم کرنا، اللہ کی حاکمیت کو نافذ کرنا اور قرآن وسنت کے احکام اور  اصولوں کی پیروی کرتے ہوئے انسانیت کیلئے اور مسلمانوں کی رہنمائی کیلئے ایک قابل تقلید مثالی  اور اسلامی ریاست "مملکت اسلامیہ پاکستان” بنانا تھا۔

"مدینہ منورہ کی ریاست کے بعد ، پاکستان وہ واحد ریاست ہے ، جس کا قیام خالصتا اسلام کے نام پہ ہوا "
اور ایک ہی نعرہ تھا پاکستان کا مطلب کیا ۔۔۔
"لا الہ الا اللہ"

یہ نعرہ خود ہی  پاکستان کے قیام کا مقصد واضح کرتا ہےکہ  اس خطہ ءارض پہ کسی کی مرضی نہیں چلے گی  ،سوائے اللہ رب العزت کی مرضی کے۔ ایک ہی مقصد کی بازگشت سنائی دیتی تھی۔ پاکستان بننے کے بعد، جس مقصد کے تحت ایک الگ خطہ حاصل کیااس مقصد کو ہم فراموش کرگئے۔ مقصد تھا ایک ایسا خطہ جہاں اللہ کی حکمرانی قائم کرسکیں اور اللہ وحدہ لاشریک کے احکامات و قوانین کے مطابق زندگی گزار سکیں۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!