دولت اور جنگیں

جرمنی میں جب 1933ء میں نازی پارٹی الیکشن جیت کر برسراقتدار آئی تو جرمنی کی معیشت بالکل تباہ و برباد ہو چکی تھی۔ 60 لاکھ لوگ بے روزگار تھے۔ پہلی جنگ عظیم میں شکست کے بعد جرمنی کو بھاری تاوان جنگ ادا کرنا پڑ رہا تھا۔ بیرونی سرمایہ کاری کے امکانات صفر تھے۔ 1935ء سے ہٹلر نے نجی بینکوں سے قرض لینے کی بجائے حکومت کی جانب سے خود کرنسی چھاپنی شروع کر دی۔ ہٹلر کی یہ کرنسی "میفوبل”  MEFO Bill کہلاتی تھی۔ 1945ء تک جرمنی یہ کرنسی چھاپتا رہا۔ جس کی پشت پر نہ کوئی سونا تھا نہ کوئی قرض۔ اس وقت بھی امریکہ اور دوسرے یورپی ممالک میں لاکھوں لوگ بے روزگار تھے، جرمنی میں بے روزگاری ختم ہو چکی تھی۔ معیشت مضبوط ہو چکی تھی۔ ایک طرف جرمنی میں کرنسی چھاپنے کا اختیار حکومت نے نجی بینکوں سے چھین لیا تھا اور دوسری طرف جاپان میں بھی کرنسی حکومت چھاپ رہی تھی۔ اور ان دونوں ممالک میں ترقی کی رفتار نہایت تیز تھی۔ یہ صورت حال مرکزی بینکاروں کی برداشت سے باہر تھی۔ اگر دوسرے ممالک بھی حکومتی کرنسی چھاپنے لگتے تو بینکاروں کا صدیوں پرانا کھیل ہمیشہ کیلئے ختم ہو جاتا۔ اس لیے جرمنی اور جاپان کے خلاف دوسری جنگ عظیم شروع کی گئی۔

1945ء میں جنگ عظیم دوم میں جاپان کو ایٹمی ہتھیاروں سے شکست دینے کے بعد وہاں سب سے پہلا کام کاغذی کرنسی کی تخلیق کے "بلاسودی بینکاری نظام” کو ختم کیا گیا اور امریکہ برطانیہ، اٹلی اور فرانس کی طرح نجی مرکزی بینک قائم کیا گیا۔ اس جنگ سے پہلے جاپان کا مرکزی بینک حکومتی ملکیت میں تھا اور نوٹ چھاپنے پر حکومت کو نہ قرض لینا پڑتا تھا، نہ سود دینا پڑتا تھا۔1940ء میں ایک ڈالر 4.27 جاپانی ین کے برابر تھا۔ 1950ء میں ایک ڈالر 361.1 ین کے برابر ہو چکا تھا۔ آج جاپان پر اندرونی و بیروونی قرضے 23000 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں جو جی ڈی پی کا 245 فیصد ہیں۔دوسری جنگ عظیم میں جرمنی کو شکست دینے کے بعد امریکہ ، برطانیہ اور فرانس کے زیر کنٹرول جرمن علاقوں میں فیڈرل ریزرو بینک کی طرز پر ایک نیا مرکزی بینک بنایا گیا اور نئی کرنسی ڈوئچے مارک نافذ کی گئی تھی۔

"اس سے واضح ہوتا ہے کہ جدید دور کی جنگیں، بینکروں کی جنگیں ہوتی ہیں اور جب بھی جنگ ہوتی ہے تو قرضوں کی طلب میں ہزاروں گنا اضافہ ہو جاتا ہے”

دوسری جنگ عظیم کے دوران میں سوئیزرلینڈ کے ایک طرف جرمنی اور اس کے حامی تھے اور دوسری جانب اتحادی افواج۔ اس لحاظ سے سوئیزرلینڈ کو تو محاذ جنگ ہونا چاہیے تھا۔ مگر جب سارا یورپ جنگ کی آگ میں جل رہا تھا اس وقت سوئیزرلینڈ میں نہ صرف کوئی جنگ نہ ہوئی بلکہ وہ دونوں متحارب فوجوں کو سامان جنگ بھی فروخت کرتا رہا۔ جنگ کے دوران میں امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، جرمنی، اٹلی اور فرانس نے سوئس نیشنل بینک کو 3.8 ارب سوئیس فرانک کا سونا بیچا یعنی لگ بھگ 784.4 ٹن۔ کیونکہ بیسل، سوئیزرلینڈ میں بینک فار انٹرنیشنل سیٹلمنٹ کا مرکزی دفتر تھا، جو سارے بڑے مرکزی بینکوں کا محور تھا اور یہ بینک ہی دونوں طرف کی فوجوں کو سامان جنگ کی خریداری کیلئے کاغذی سرمایہ سود پر فراہم کر رہے تھے۔ 1940ء سے 1950ء کے دوران میں امریکہ اور فرانس پر قرضے 600 گنا بڑھے جبکہ جاپان پر 1348 گنا بڑھے۔ اس سے مرکزی بینکوں کا منافع بھی خوب بڑھا۔ ایسے کالے قوانین برطانیہ، فرانس اور اٹلی میں بھی پہلے ہی سے موجود ہیں جو صرف نجی بینکوں کو نوٹ چھاپنے کا حق دیتے ہیں۔

آج کل دنیا پہ حکمرانی کیلئے صرف فوج کی ہی ضرورت نہیں بلکہ قرض دینے کی صلاحیت کی بھی ضرورت ہے۔ کیونکہ جو پوری دنیا کو قرضے دے سکتا ہے، وہ پوری دنیا پر حکمرانی کر سکتا ہے۔ اپنی ملکیت میں موجود اثاثوں سے زیادہ قرض دینے کی صلاحیت درحقیقت دولت تخلیق کرنے کی صلاحیت ہے۔ خواہ یہ قرضے بغیر سود کے ہی کیوں نہ ہوں۔ یہی چیز فریکشنل ریزرو بینکنگ ہے۔ اگر کرنسی”زرکثیف” ہو تو بھی بینک فریکشنل ریزرو بینکنگ کے ذریعے قرض دے کر اپنے کھاتوں میں حقیقی اثاثوں سے زیادہ مالیت کے اثاثے دکھا سکتے ہیں۔ اگر فریکشنل ریزرو کی حد 20 فیصد ہو تو جمع شدہ اثاثے پانچ گنا زیادہ تک ظاہر کیے جا سکتے ہیں۔ اس طرح فرضی دولت پر بھی حقیقی منافع کمایا جا سکتا ہے۔ فریکشنل ریزرو کو Money multiplier  بھی کہتے ہیں۔

7 اکتوبر 2001ء میں افغانستان میں جنگ شروع ہوئی۔ جنگ جب عروج پر تھی اس وقت جرمنی میں مغربی مرکزی بینکوں کے ایک اجلاس میں افغانستان کیلئے ایک نئی کاغذی کرنسی تجویز کی گئی اور صرف تین مہینوں کے اندر افغانستان میں ایک نیا مرکزی بینک بنا کر 2 جنوری 2002ء تک اس نئی کرنسی کو پوری طرح نافذ کر دیا گیا۔اسی طرح 20 مارچ 2003ء کو عراق کی جنگ شروع ہوئی اور ایک سال کے اندر اندر عراق میں نیا مرکزی بینک بنا دیا گیا اور نئی کاغذی کرنسی نافذ کر دی گئی۔ یہی سب کچھ لیبیا میں بھی ہوا۔ لیبیا میں 1956ء سے مرکزی بینک حکومت کی ملکیت میں تھا۔ جاہل "انقلابیوں” نے محض چند ہفتوں میں نیا مرکزی بینک بنا دیا جو نجی تھا اور امریکی فیڈرل ریزرو بینک کے مالکان کی ملکیت میں تھا۔ لیبیا کے پاس 150 ٹن سونا تھا جو جنگ کے بعد غائب ہے۔ جنگ اور کاغذی کرنسی کا یہ رشتہ بہت پرانا ہے۔

چین کا مرکزی بینک (پیپلز بینک آف چائنا) نجی نہیں بلکہ حکومتی ملکیت میں ہے اور چین کو کرنسی چھاپنے پہ قرض لینا اور سود دینا نہیں پڑتا۔ چین اپنی کرنسی کی ڈالر سے نسبت کو بدلتے رہنے کا بھی مخالف ہے کیونکہ بہت سے ممالک یہ غلطی کر کے کنگال ہو چکے ہیں۔ اگر چین اور روس کے پاس جوہری ہتھیار اور  میزائل ٹیکنالوجی نہ ہوتی تو عالمی بینکار چین کو بھی تیسری عالمی جنگ برپا کر کے اسی طرح تہس نہس کر دیتے جس طرح کرنسی چھاپنے کے جرم میں دوسری جنگ عظیم میں جرمنی اور جاپان کو کیا گیا تھا۔

کارپوریٹ، نوآبادیاتی ازم کی نئی شکل ہے جس میں کرنسی کو دنیا کو کنٹرول کرنے کیلئے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ کاغذی کرنسی / فی ایٹ نظام طاقت کو ان لوگوں کے ہاتھوں میں دیتا ہے، جو نئے پیسے کی تخلیق پر قابو پاتے ہیں اور جو لوگ اس کی گردش میں ابتدائی رقم یا قرض کا استعمال کرتے ہیں۔جنگ کیلئے سب سے اہم ایندھن پیسہ ہے اور جنگجو قرض حاصل کرنے کے بڑے ذرائع میں سے ایک ہیں۔

امریکی بحریہ کے اعلیٰ ترین میجر جنرل اسمیڈلے بٹلر کو بحریہ کی تاریخ میں سب سے زیادہ اعزازات ملے۔ اس نے 1935ء میں ایک کتاب لکھی War Is a Racketمیں لکھتا ہے ۔

"جنگ صرف ایک ریکٹ ہوتی ہے۔ ریکٹ سے مراد ایسی چیز ہوتی ہے جو ویسا نہیں ہوتی جیسا کہ اکثریت سمجھ رہی ہوتی ہے۔ صرف اندر کے چند لوگوں کو ہی پتہ ہوتا ہے کہ دراصل کیا ہو رہا ہے۔۔۔
 جنگ صرف اس لیے کی جاتی ہے تاکہ اُن چند لوگوں کو فائدہ پہنچے۔ اگرچہ کہ اس میں لاکھوں لوگوں کا نقصان ہوتا ہے۔ پہلی جنگ عظیم سے ان چند لوگوں کو 16,000 ارب ڈالر کا منافع ہوا۔ جبکہ جنگ، قحط، بیماری اور سردی کی وجہ سے 20 کروڑ افراد ہلاک ہوئے۔ 
1919ء کے معاہدہ ورسائے سے ثابت ہوتا ہے کہ پہلی جنگ عظیم قومیت کی خاطر نہیں تھی بلکہ سلطنت اور حاکمیت کی خاطر تھی۔ جنگ کاروبار کیلئے بڑی اچھی چیز ہے اور عالمی جنگ تو اور بھی بہتر ہوتی ہے”

جنگ پلاسی میں فتح حاصل ہونے سے ایسٹ انڈیا کمپنی کو 25 لاکھ پاونڈ کا مال ہاتھ لگا جبکہ لارڈ کلائیو کو دو لاکھ چونتیس ہزار پاونڈ ذاتی منافع ہوا۔ ایسے ہی دوسری جنگ عظیم کے دوران بینکاروں اور امریکی کارپوریشنوں کے مالکان نے یہ سبق سیکھا کہ کاغذی کرنسی کے دور میں جتنا پیسہ جنگ سے بن سکتا ہے، اتنا امن سے نہیں بن سکتا۔ صرف حکومت پہ گرفت مضبوط ہونا چاہئے۔  قابل تخلیق کرنسی صرف استحصال کا بہترین اوزار ہی نہیں بلکہ ایک مہلک ہتھیار بھی ثابت ہو سکتی ہے۔

کرنسی توپ یا بم کی طرح نہیں ہوتی مگر یہ انتہائی کارآمد اور موثر ہتھیار ہوتی ہے اور یہ دشمن کو اس حد تک اندر سے کمزور یا معذور کر دیتی ہے کہ اپنی حفاظت کرنا تو درکنار، وہ اپنے معمول کے کام بھی انجام نہیں دے سکتا۔ عین صحیح وقت پر کرنسی کا حملہ کسی ملک کو تباہی کی طرف دھکیل سکتا ہے یا پہلے سے نرغے میں آئے دشمن کو مزید کمزور کر سکتا ہے۔ کرنسی کا حملہ  کسی ملک میں بھی انتشار پیدا کر سکتا ہے اور اس کی یکجہتی کو پارہ پارہ کرسکتا ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!