دور جدید اور غیرمسلم حکمران

من حیث القوم، مسلمانوں کو دہشت گرد کہا جاتا ہے جبکہ دنیا کی تاریخ میں کس نے سب سے زیادہ قتل کئے ہیں ، یہ نہیں بتایا جاتا۔ ماضی قریب میں ظالمانہ طریقے سے انسانوں کو مارنے والا، ہٹلر عیسائی تھا ، لیکن میڈیا نے کبھی اس کو عیسائی دہشت گرد نہیں کہا۔  جوزف اسٹالن، اس نے دو کروڑ انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارا ، جس میں سے ساڑھے چودہ ملین بھوک سے مرے ۔ کیا وہ مسلمان تھا؟ ۔۔۔ ماوزے تنگ، اس نے دو کروڑ کے قریب انسانوں کو مارا ۔کیا وہ مسلمان تھا؟  ۔۔۔  مسولینی ، چار لاکھ انسانوں کا قاتل ہے، کیا وہ مسلمان تھا؟  ۔۔۔ جارج بش کی تجارتی پابندیوں کے نتیجے میں صرف عراق میں پانچ لاکھ بچے مرے۔افغانستان میں جنازوں، شادیوں تک پہ بمباری کی گئی۔ لیکن جارج بش کو میڈیا کبھی عیسائی دہشت گرد نہیں کہتا ۔

پہلی جنگ عظیم میں 17 ملین لوگ مرے اور جنگ کا سبب غیر مسلم تھے ۔ دوسری جنگ عظیم میں پانچ کروڑکے لگ بھگ لوگ مارے گئے اور اس کا سبب غیرمسلم تھے۔ امریکہ واحد ملک ہے جس نے جاپان  پر دو ایٹمی حملے کئے اور اس میں 2 لاکھ سے زیادہ لوگ مرے اور اسکا سبب غیر مسلم تھے۔  ویتنام کی جنگ میں پانچ لاکھ لوگوں کی  اموات کا سبب بھی غیر مسلم تھے ۔ بوسنیا کی جنگ میں بھی پانچ لاکھ موتیں ہوئیں، جن کا سبب بھی غیرمسلم تھے۔ عراقی جنگ میں اب تک ایک کروڑ بیس لاکھ اموات کا سبب نیٹوممالک بھی غیر مسلم ہیں۔ کمبوڈیا میں تقریبا تین لاکھ اموات کا سبب بھی غیر مسلم ہیں۔افغانستان، فلسطین، کشمیر اور برما میں مسلمانوں کے قتل عام کا سبب بھی غیرمسلم ہیں۔  بڑے پیمانے پہ تباہی پھیلانے والے تمام جدید ہتھیار کسی مسلمان سائنسدان کی ایجاد نہیں اور آج دہشت گردوں کے ہاتھوں میں جو ہتھیار ہیں وہ کسی "مسلم ممالک کے کارخانے ” میں تیار نہیں کئے گئے ۔ ان کی ترسیل کا کام بھی کسی مسلمان نے نہیں کیا اور نہ ہی ان کی قیمت کسی مسلمان نے ادا کی ہے۔

درحقیقت کوئی بھی دہشت گرد مسلمان نہیں اور کوئی مسلمان دہشت گرد نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ دین اسلام دہشت گردی،ظلم سے روکتا ہے۔

مغربی جمہوریت نے چند دہائیوں  میں دنیا کو تباہی کے دھانے پہ لا کھڑا کیا ہے۔ امریکی جمہوریت اور اقوام متحدہ، تیسری دنیا کے ممالک کو تجربہ گاہ بنا کر مختلف بیماریوں کو پھیلاتے ہیں اور پھر  ادویات کے ٹیسٹ کرتے ہیں۔ یہ ظلم نہیں تو اور کیا ہے؟۔۔۔ لیکن اقوام متحدہ اور جمہوری حکومتیں اس کے خلاف اقدامات کرنے کی بجائے،  اس پہ آواز بلند کرنے کی روادار تک نہیں ہیں۔  پر امن ممالک میں سیاستدانوں سے آزادی کا ڈھونگ رچوایا جاتا ہے اور اس کے برعکس کشمیر، فلسطین، برما کے صوبہ اراکان  کے مسلمانوں پہ ظلم کی داستان لکھنے والوں کے ہاتھ مغربی جمہوریت   اور اقوام متحدہ نہیں روکتی۔

کیا عراق،  افغانستان اور مصر کو طاغوتی طاقتوں نے اپنے من پسند حکمرانوں کے ذریعے غلامی میں نہیں دھکیلا ؟۔۔۔

کیا فلسطین میں یہودیوں اور طاغوتی طاقتوں کی وجہ سے ظلم نہیں ہورہا اور ایک آزاد ریاست کو محدود نہیں کیا ہوا؟۔۔۔

کیا کشمیر میں بھارت وعدوں کے باوجود کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے سے گریزاں نہیں؟۔۔۔

کیا بدھسٹ برما /روہنگیا کے صوبہ اراکان کے مسلمانوں سے ظلم روا نہیں رکھے ہوئے؟۔۔۔

غیر مسلم حکمرانوں سے ہمیشہ دنیا کے امن کو خطرہ لاحق رہا۔مغربی جمہوریت کی تاریخ  میں زیادہ دور نہ جائیں، مغربی جمہوریت کا بڑا علمبردار برطانیہ نے  غرناطہ میں تباہی مچائی اور پھر انھوں نے امریکہ کا رخ کیا اور امریکہ کے اصل باسی ریڈ انڈین کا قتل عام کیا اور ان کو غلام بنا لیا۔نہتے، جاپانیوں پہ ایٹم بم امریکہ نے گرایا۔ امریکہ  ایٹم بم کو جنگ میں استعمال کرنے والا پہلا اور واحد ملک ہے۔ افغانی سفیر کو پاکستان میں نہ صرف گرفتار کیا گیا بلکہ ذلیل و رسوا کیا گیا اور قیدوبند کی صعوبتیں سالوں انھیں برداشت کرنا پڑیں۔ جبکہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق، سفیر کو گرفتار نہیں کیا جاسکتا  اور یہی امریکہ انسانی حقوق کا علمبردار بناہوا ہے۔ کیا برطانیہ نے ہی کشمیر اور دیگر مسلم اکثریتی علاقوں کے معاملے میں بے ایمانی کرکے قتل عام کا بازار نہیں سجایا؟۔۔۔ جس کی وجہ سے لاکھوں مسلمان شہید ہوچکے ہیں۔ عراق، افغانستان  اور دیگر ممالک میں اپنے ساتھی ملکوں، نیٹو کے ساتھ مل کرکون سے  ظلم نہ کئے۔ افغانستان میں جنگی قیدیوں  کو کنٹینروں میں بند کرکے، بند کنٹینروں کو تپتی دھوپ میں رکھ دیا۔ مجاہدین دم گھٹنے سے شہید ہوگئے۔ اپنے فوجی پکڑے جائیں تو کہتے ہیں کہ جنیوا کنونشن کے تحت سلوک کیا جائے۔ لیکن دوسروں کے فوجیوں کے ساتھ وہ ظالمانہ سلوک کرتے ہیں کہ چنگیز خان / ہلاکو خان کی یاد تازہ ہوجائے۔کیا صدر صدام حسین کے ساتھ جنیوا کنونشن کے تحت سلوک کیا گیا؟۔۔۔ وہ پیشاب کرنے بھی اکیلا نہیں جاسکتا تھا، جبکہ وہ پہلے ہی قید میں تھے۔ جبکہ اسلامی مجاہدین نے آج بھی گرفتار ہونے والے غیرمسلم قیدیوں  پہ کوئی ظلم نہیں کیا کیونکہ اللہ کا حکم ہے۔ کیا عافیہ صدیقی کے ساتھ انسانیت سوز سلوک نہیں کیا گیا؟۔۔۔ وہ مجرم تھی یا نہیں؟۔۔۔ لیکن انسان ہے اور ایک عورت ہے۔ اگر اس پہ جرم ثابت ہوگیا تھا تو اسے  قید یا موت کی سزا دی جاسکتی تھی۔ انسانیت سوز ظلم کا شکار کرنے کا اختیار کونسا قانون دیتا ہے؟۔۔۔ پھانسی لگادو، سنگسار کردو، سرتن سے جدا کردو، لیکن جنسی تشدد کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی جو کہ خواتین پہ امریکہ اور اس کے حواریوں نے کیا۔ روح لرز جاتی ہے گوانتاناموبے کے قیدیوں کی داستانیں سن کراور مسلمانوں پہ بیتی ہے۔ کسی مسلمان ریاست میں ظلم کی ایک بھی ایسی داستان نہیں۔ لیکن کفارنے تاریخ کے صفحات پہ، مظلوموں کے خون سے تحریریں لکھی ہیں۔ کون سا ظلم امریکہ اور اس کے ساتھی، علمبرداران جمہوریت نے مخلوق خدا پہ نہیں کیا۔کونسا بین الاقوامی قانون نیٹو فورسز اور ان مغربی جمہوریت کے علمبرداروں نے نہیں توڑا۔  خواہ وہ مسلمان حکمران تھے یا غیر مسلم حکمران جس نے بھی اللہ کے دئیے ہوئے قانون سے منہ موڑ کر حکومت چلائی، ظلم ہی کیا۔

غیرمسلم اقوام کے نظریہ جمہوریت نے زندگی کے ہر شعبہ اور طبقہ کو غیرمتوازن کردیا ہے۔ جمہوریت نے دنیا کا امن تباہ و برباد کردیا ہے۔ مغربی جمہوریت نے دنیا کوتیسری عالمی جنگ کے دھانے پہ دھکیل دیا ہے۔ دنیا میں مغربی جمہوریت کے ذریعے امن کا اور برابری کا درس دیا جاتا ہے۔ مذہبی آزادی، لسانی آزادی، قومی آزادی کا پرچار کیا جاتا ہے۔ جبکہ یہ سب آزادیاں اسلام نے دیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ کسی عربی کو عجمی پہ فوقیت حاصل نہیں اور نہ ہی کسی گورے کو کالے پہ فوقیت حاصل ہے، سب انسان برابر ہیں۔ جمہوریت میں مذہبی آزادی کے نام پہ دوسرے مذاہب کو نہ صرف تکلیف پہنچائی جاتی ہے۔ بلکہ قتل عام کیا جاتا ہے۔ مغربی جمہوریت کے ذریعہ سے کوئی صاحب خرد آدمی برسر اقتدار نہیں آسکتا بلکہ اس کیلئے پیسہ، چال بازی اور مفادات کا ایک بڑا سمندر عبور کرنا لازمی ہے۔

کفارکا  امور ریاست پہ تسلط صرف مرضی ، من مانی کیلئے ہے۔ آج کے جمہوریت کے علمبردار، ریاستوں کے حکمرانوں کو اس بات کا علم ہے کہ اگر اسلام  کو فروغ ملا تو ہمارے بنائے ہوئے نظام زندہ نہ رہ سکیں گےاور دنیا بھر کے انسان، وہ کسی بھی ملک کا شہری ہو، انسانوں  کے بنائے ہوئے نظاموں سے بغاوت کردیں گے۔ زیادہ دور نہ جائیں، جو عراق، مصر، لیبیا اور افغانستان کے ساتھ کیا گیا ، کیا وہ ابھی ہم نے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا؟۔۔۔ مسلم خواتین کی مسلمان ممالک میں امریکن مرد فوجی تلاشی لیتے نظر آتے ہیں۔ عراق میں مساجد  اور چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کرتے نظر آتے ہیں۔ الغرض ایک ظلم کی لمبی داستان ہے جو کہ مغربی جمہوریت کے نام پہ لکھی گئی ہے اور پھر بھی کہا جاتا ہے کہ جمہوریت ہی انسانیت کی مسیحا ہے۔

 مغربی جمہوریت اپنی ابتداء سے لیکر انتہا تک ایک خوبصورت دلدل ہے، جس کی بالائی سطح پہ بہت ہی خوبصورت گھاس اگی ہوئی ہے،  جس  ملک نے بھی جمہوریت کو اپنایا وہ اس دلدل میں دھنستا ہی چلا گیا ہے۔

"کوئی ایک جمہوری حکمران بتا دیں جس نے عدل کیا ہو؟۔۔۔”
"مغربی جمہوریت کی ابتداء اور اخیر  انسانوں کو کبھی امن، خوشحالی اور انصاف نہیں ملا”
"انسانوں کے تخلیق کردہ  نظاموں نےدنیا کو تباہی کے دہانے پہ پہنچا دیا "

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!