دارالافتاء، علماء کونسل اور مساجد

ضلعی سطح پہ مفتی صاحب کی سربراہی میں ایک ضلعی علماء کونسل ہو۔ ہر مقامی کونسل میں بھی علماء کونسل قائم کی جائے۔ جیسے کہ وکلاء کی مقامی بار ہوتی ہیں۔ علماء کونسل مفتی صاحب کو مشورے کے ذریعے مدد فراہم کرسکے۔ مقامی سطح پہ مساجد میں آئمہ و خطیب حضرات کی تعیناتی ضلعی علماء کونسل جو کہ دارالافتاء سے منسلک ہو مفتی صاحب کی توثیق سے کرے اور ان کی کارکردگی پہ بھی نظر رکھے۔ ان سب کی تنخواہیں حکومت ادا کرے۔ یہ علماء کونسل مساجد کی درجہ بندی کریں۔ ناظرہ و حفظ کے اوقات اور حاضری کا جائزہ لیں۔ مساجد میں امام اور خطیب حضرات کی سرگرمیوں پہ نظر رکھی جائے۔ جمعۃ المبارک کے خطبات کا موضوع دیا جاسکے، جن سے معاشرتی مسائل پہ قابو پایا جاسکے۔تبلیغ و ترغیب  کا انتظام کرنا بھی ضلعی علماء کونسل اور مقامی علماء کونسل کی ذمہ داری ہو۔ ضلعی علماء کونسل  انتہا پسندی یا بے راہ روی کی روک تھام کیلئے انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں  کے ذریعے اقدامات کروائیں۔ جعلی پیروں اور عاملوں کے خلاف کاروائی کروائیں۔ غیراسلامی رسومات کی بیخ کنی کریں۔ مذہبی اجتماعات کی اجازت مرحمت فرمائیں۔

مساجد اللہ کا گھر ہیں اور مساجد عبادت الہی کیلئے مخصوص ہوتی ہیں۔ اسلام میں مسجد کو بنیادی مرکزیت حاصل ہے۔ مدینہ منورہ میں مسجد کی تعمیر کے ساتھ ہی تعلیمی درس گاہ کی بنیاد رکھی گئی اور نبی کریم ﷺ اصحاب صفہ اور صحابہ اکرام کو تعلیم دیتے تھے۔ اس لئے جس مسجد کے ساتھ تعلیمی سرگرمیاں ہوتی ہوں، ان مساجد کوجامعہ مسجد کہا گیا۔ ان مساجد میں اصحاب صفہ کی طرح طالبعلم باقاعدہ تعلیم حاصل کرتے تھے۔ جبکہ آج تو ہر مسجد ہی جامعہ مسجد کہلاتی ہے۔ خواہ وہاں کوئی درس و تدریس کا فریضۃ سر انجام دیا جاتا ہو یا نہیں۔ جامعہ مسجد میں کسی انتہائی سینئر عالم /مفتی کو تعینات کیا جائے۔ تاکہ جمعۃ المبارک پہ تعلیم و تربیت  ہوسکے اور عوام عمومی طور پر بھی رہنمائی حاصل کرسکیں۔ پہلے مدارس، یونیورسٹی کی سطح کے ہوتے تھے۔ جس وجہ سے بھی مساجد کے ساتھ جامعہ لکھا جاتا تھا۔ ان مدارس کے نام پہ زرعی اراضی بھی مختص ہوتی تھی، تاکہ اپنے اخراجات کو پورا کرسکیں اور اس طرح ان جامعات کے طلباء کو زرعی مہارت بھی حاصل ہوجاتی تھی۔ اس طرح وہ معاشرے میں کارآمد شہری بنتے تھے۔ اس طرح  بلامعاوضہ وہ دین کی خدمت کرتے تھے اور کاشتکاری یا طب کے ذریعے ان کے روزگار کا بندوبست ہوجاتا تھا اور وہ کسی کے محتاج نہیں ہوتے۔ لیکن اب سوائے چند بڑے مدارس کے یا جہاں جمعہ ہوسکتا ہو، مساجد کو جامعہ قرار دینا غیرمناسب  ہوگا، یہ پہلو بھی غور طلب ہے اور علماء کو اس پہ غور کرنا چاہئے اور شرعی تقاضے پورے کرنے چاہیں۔  اس  کیلئے  مساجد کی درجہ بندیاں کی جائیں ۔ پہلے درجے میں وہ  مساجد جہاں نمازیوں کی گنجائش کے اعتبار سے صرف پنجگانہ نمازادا کی جاتی ہو، جمعہ کی نماز کی ادائیگی کیلئے زیادہ جگہ نہ ہو۔ دوسرے درجے میں وہ مساجد جہاں پنجگانہ نماز کے ساتھ جمعہ کی نماز ادا کرنے کی تمام شرعی شرائط پوری ہوتی ہوں، جامعہ مسجد قرار دی جائیں۔

نظام صلوۃ کو پورے ملک میں نافذ کیا جائے اور ضلع کے لحاظ سے نماز کے اوقات ایک ہی ہوں۔ نماز کے وقت تمام ملازمتی، کاروباری و دیگر سرگرمیاں روکنے کو یقینی بنایا جائے۔

ہر شہری کونسل میں کم از کم ایک مستند  عالم  کو تعینات کیا جائے اورضلع کی سطح پہ ایک مفتی صاحب کی سربراہی میں جید اور بزرگ علماء پہ  مشتمل علماء کونسل بنائی جائے۔ جو کہ تبلیغ دین کے علاوہ ،خطیب حضرات کے ذریعے عوام کی تربیت کا عمل ترتیب دیں۔ آئمہ مساجد اور خطیب حضرات کی تعلیمی قابلیت اور خدمت خلق کے جذبے کے تحت مساجد میں تعیناتی کی جائے۔ جیسے کسی بھی شخص کو ہسپتال کے نگران کی ذمہ داری نہیں دی جاسکتی۔ بلکہ انتظامی امور کو چلانے کا علم بھی چاہئے۔  ایسے ہی  آئمہ مساجد کو اور خطیب حضرات کو بھی مساجد میں ذمہ داری، باقاعدہ طور پر علماء کونسل میں جانچ پڑتال   کے بعد ہی دی جاسکے۔

 خطیب حضرات  اور  آئمہ حضرات کی اسناد اور تعلیمی قابلیت کو پرکھا بھی جائے۔ علماء کونسل کی اجازت کے بعد ہی کسی مسجد کی جگہ مختص کی جاسکے۔ تاکہ کسی بھی سطح پہ،  کسی بھی قسم کا انتشار / فساد کا خطرہ پیدا ہی نہ ہو۔ فرقہ واریت یا مذہبی فسادات کا ضلعی علماء کونسل پہلے ہی تدارک کرے، ضرورت پڑنے پہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مدد بھی لے سکیں۔ جبکہ عموما کسی سانحہ کے رونما ہونے کے بعد انتظامیہ حرکت میں آتی ہے۔ ایسے کسی انتشار کی صورت میں مجرموں کو سخت سزا دی جائے۔ کسی بھی امام مسجد یا خطیب کی تقرری یا  احتساب یا نا اہلی کا  اختیار علماء کونسل کے پاس ہو اور ضلعی علماء کونسل ذمہ دار ہو۔ ضلعی علماء کونسل کی نگرانی صوبائی علماء کونسل کرے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!