خلیفہ کے نائبین کے اختیارات کی اقسام

علم سیاست اسلامی میں حاکموں کی بھی  دو اقسام واضح فرمائی ہیں۔ "امیر استکفاء” اور "امیر استیلاء”۔

امیر استکفاء سے مراد کسی صوبے یا علاقے کا وہ  امیر جسے خلیفہ یا سربراہ مملکت نے باقاعدہ اپنے اختیار سے مقرر کیا ہے۔ کسی ریاست کا امیر یا صوبے کا گورنر بنا کر اسے متعلقہ علاقے کی حد تک اختیارات سونپ دئیے ہوں۔ امور خارجہ اورعسکری قوت رکھنے کے اختیارات سونپ دئیے ہوں یا محدود اختیارات دے کر امیر مقرر کردیا ہو۔ دونوں صورتوں میں  وہ خلیفہ یا سربراہ مملکت کے حکم سے ہی امیر مقرر ہوا ہے۔

 امیر استیلاء سے مراد وہ امیر یا سربراہ مملکت ہے جسے خلیفہ نے امیر مقرر نہیں کیا لیکن وہ اس ملک یا علاقے کی شوری کے ذریعے شرعی طور پر برسر اقتدار آیا اور خلافت کی تائید و نصرت حاصل کی۔ ایسا امیر اپنے علاقے میں شرعی احکام اور خلافت کی ہدایات کے مطابق حکومت چلانے کا پابند ہوتا ہے اور احکامات اسلامیہ نافذ کرتا ہے اور خلیفہ کا اطاعت گزار ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں خلیفہ، امیر استیلاءکے نائب کے طور پر بھی کسی شخص کو مقرر کرسکتے ہیں۔ جو کہ اس ریاست کے امور پہ نظر رکھتا ہے اور خلافت کو باخبر رکھتا ہے۔

امور سلطنت چلانے کیلئے خلیفہ کو اپنے نائب امراء مختلف شعبوں اور مختلف علاقوں میں تعینات کرنا پڑتے ہیں۔ جو کہ امیر کی ذمہ داریوں کا بوجھ بانٹ سکیں۔ امیر کے نائبین کی مختلف اقسام ہیں۔

۱۔        وہ امراء جن کے ذمہ مختلف علاقوں، صوبوں، شہروں کا انتظام و انصرام ہوتاہے۔ جیسےصوبوں میں  گورنر اور شہروں میں  والی مقرر ہوتے ہیں۔

۲۔       وہ نائبین جن کے ذمہ مختلف شعبوں کے اختیارات ہوتے ہیں، ان کو وزراء کہا جاتا ہے۔

۳۔       وہ نائبین جنہیں خاص شعبوں میں کلی اختیارات حاصل ہوتے ہیں، جیسے قاضی القضاء، محافظ سرحد و فوج کا سالار اعظم، پولیس کا سربراہ وغیرہ۔

۴۔       فوج، عدلیہ، پولیس جیسے محکموں کے صوبوں، شہروں کے نائبین جیسے کسی شہر کی پولیس کا سربراہ، صوبے یا سرحدی علاقے کی فوج کا کمانڈر،شہر کے بیت المال کا سربراہ وغیرہ جن کے اختیارات خاص خاص حلقوں تک محدود ہوں۔

علم سیاست اسلامی کے ماہرین نے اختیارات کی  دو اقسام بیان فرمائی ہیں۔ یعنی خلیفہ دو طرح سے اپنے اختیارات منتقل کرتا ہے۔ "تفویض عام” اور "تفویض خاص”۔

تفویض خاص میں محدود اختیار دئیے جاتے ہیں۔ جیسے کسی "سلطنت کے امیر” یا "صوبے کے گورنر” کو فوج کے انتظام و انصرام کے اختیارات نہ دئیے جائیں۔ یا خارجہ امور کے معاملے میں اختیار نہ دئیے جائیں۔

تفویض عام میں وہ تمام اختیار جو کہ خلیفہ کے ہیں ایک مخصوص علاقے کی حد تک دے دئیے جاتے ہیں۔ جیسا کہ خلافت عباسیہ اور خلافت  عثمانیہ کے دوران ہند کی ریاست نہ صرف آزاد تھی بلکہ دفاعی، عسکری اور خارجہ امور میں بھی خود مختار تھی۔ بلکہ ہندوستان کے بادشاہ کا تقرر بھی ہندوستان والے خود ہی کرتے تھے۔ مگر ہند کے بادشاہ خلافت کے تائید و نصرت یافتہ ہوتے اور خلافت کے وفادار اور پابند ہوتے تھے۔ خلافت عثمانیہ کے دوران اس طرز کی ریاستیں بہت زیادہ ہوگئی تھیں۔ طاغوتی طاقتوں نے مسلم ریاستوں میں علاقائی قومیت کو اجاگر کیا اور عربی، ترکی، شامی، مصری قوم کے نام پہ نام نہاد آزادی کی فضا بنائی  اور مسلمانوں کو آپس میں تقسیم کرکے خلافت کے تسلسل کو سو سال کیلئے روکنے میں کامیاب ہوگئے۔ جبکہ اگر ہم اسلامی احکامات کی رو سےمسلمان قوم بن کر رہتے،ساری ریاستیں خلافت سے وفا کرتیں، اپنے اختلافات خلیفہ کے ساتھ دور کرتے اور معاملات طے کرلیتے اور خلافت کا تسلسل برقرار رہتا تو ایسا شاید نہ ہوتا اور بیت المقدس تک کسی غیر مسلم کی رسائی بھی ممکن نہ ہوسکتی۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ ہر حال میں خلافت کے وفادار رہتے۔ ذاتی مفاد کو خلافت کی عظیم مرکزیت پہ ترجیح نہ دیتے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!