خلافت

آج سے چودہ سو سال پہلے عرب ایک پسماندہ علاقہ تھا۔ لیکن عرب اللہ کے آفاقی  نظام  کو اپنے اوپر نافذ کرنے کی وجہ سے پوری دنیا پہ حکمرانی کرنے لگے۔ جدید علوم سے نہ صرف خود آشنا ہوئے بلکہ پوری دنیا میں علم و تحقیق کا آغاز کیا اورپوری دنیا کو جدید علوم سے فائدہ دیا۔ اسلام نے پوری دنیا کو ترقی اور جدیدیت کی راہ پہ گامزن کیا اور دنیا میں رہنے کا ڈھنگ دیا۔

خلافت تمام اسلامی ممالک کی متفقہ قیادت کا بااختیار مرکزی ادارہ ہے۔ خلیفہ نظام عالم کو عدل و انصاف کے ساتھ چلانے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ پوری روئے زمین پہ قانون و انصاف کی حکمرانی اور حقوق العباد میں توازن قائم کرنا خلیفہ کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ روئے زمین میں فساد/ انتشار پیدا نہ ہواور نہ ہی کسی پر ظلم ہو۔ خلیفہ روئے زمین پہ سب سے  بااختیار عہدہ ہوتا ہے، جو کہ روئے زمین پہ اللہ کا نائب ہوتا ہے اور تعلیمات رسالت ﷺ کے مطابق مسلمانوں کی حفاظت اور دیگر أمورسیاست و حکومت کی نگہبانی کرتا ہے۔

"خلیفہ روئے زمین پہ اللہ اور رسول ﷺ کا نائب ہوتا ہے اورتمام اسلامی ریاستوں اور مسلمانوں کا حاکم ہوتا ہے”

 خلافت انسانیت کیلئے ایک حصار ہے۔ خلافت پوری دنیا کی فلاح کا باعث بننے والا نظام ہے۔امت مسلمہ کی یکجہتی کا نام "خلافت” ہے۔ روئے زمین پہ خلیفہ /امیرالمومنین/امیرالامراء  ایک ہی ہوتا ہے اور تمام اسلامی ممالک بشمول عامۃ المسلمین پر اس کی اطاعت لازم ہوتی ہے۔ یعنی دنیا میں تمام مسلمانوں کا ایک حاکم جو کہ اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کا نائب ہو۔ امت مسلمہ کی حفاظت اور حقوق کی پاسداری کویقینی بنانا ہی خلافت کی ذمہ داری ہے۔

” نظام عالم کو چلانے والی مسلمانوں کی مرکزی قیادت”
 “Central Command and Control System”

حضرت عمر فاروق نے اپنے آپ کو "امیرالمومنین” کہلوانا پسند فرمایا۔ خلیفہ کو "امیرالامراء” بھی کہہ سکتے ہیں کیونکہ وہ روئے زمین پہ تمام امیروں کا امیر ہوتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔

"خلافت ڈھا ل ہے۔ جس سے امت کی حفاظت ہوتی ہے”

مدرسین قرآن و سنت، فقہاء و مشائخ   ایک امارت، ایک خلافت، مسلم ا مت کی یکجہتی کے شرعی اشارے کسی نہ کسی انداز میں دیتے آئے ہیں۔ مسند احمد ودیگر کتب حدیث میں روایت ہے۔

"قال النبی ﷺ، اناامرکم بخمس اللہ امرنی بھن
 الجماعۃ و السمع و الطاعۃ و الھجرۃ و الجہاد فی سبیل اللہ
 فانہ من خرج من الجماعۃ قید شہر، فقد خلع ربقۃ الاسلام عنقہ
 الا ان یراجع، و من دعابد عوی جاھلیۃ فھو من حبثی جھنم
قالوا یا رسول اللہ ﷺ و ان صام و صلی؟
قال و ان صلی و صام و زعم انہ مسلم اخرجہ احمد و الحاکم من حدیث”

"نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ میں تم کو پانچ باتوں کا حکم دیتا ہوں۔ جن کا حکم اللہ نے دیا ہے۔
 جماعت، سمع، طاعت، ہجرت اور جہاد فی سبیل اللہ۔
 یقین کرو کہ جو مسلمان جماعت سے ایک بالشت بھر بھی باہر ہو تو اس نے
 اسلام کا حلقہ اپنی گردن سے نکا ل دیا اور اس نے اسلام کی جماعتی زندگی کی جگہ جاہلیت کی،
 بے قیدی کی طرف بلایا تو اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔
صحابہ نے عرض کی کیا ایسا شخص بھی جہنمی ہوگا، اگرچہ وہ روزہ رکھتا ہو اور نماز پڑھتا ہو؟
فرمایا ۔۔۔ہاں اگرچہ روزہ رکھتا ہو، نماز پڑھتا ہو اور اپنے زعم میں اپنے تئیں مسلمان سمجھتا ہو”

اس حدیث میں پانچ باتیں اللہ کے رسول ﷺ  نے سکھلائی ہیں۔

  • جماعت         یعنی تمام امت کا ایک جماعت کی صورت ایک خلیفہ کی اطاعت پر جمع ہو کر اپنے قومی مرکز سے جڑ کےجسد واحد کی طرح  رہنا۔ کثرت سے ایسی احادیث بھی ملتی ہیں جن میں مسلمانوں کا جماعت کی شکل میں نہ رہنے کو غیر اسلامی اور ابلیسی قرار دیا گیا ہے۔
  • سمع             یعنی خلیفہ و امیر جو احکام دے اس کو سننا۔
  • طاعت          یعنی خلیفہ و امیر کی اطاعت و فرمانبرداری کرنااور اپنی تمام عملی قوتوں کو اس کے سپرد کرنا۔ اطاعت  صرف معروف یعنی جو اسلام کے مطابق ہوں یا اسلام کی تعلیمات کے خلاف نہ ہوں۔
  • ہجرت           یعنی ترک کردینا، چھوڑ دینا۔ دولت، اولاد، آرام و راحت، عزیز و اقارب، مکان، وطن، جو بھی اللہ کے احکامات پہ عمل کرنے سے مانع ہو، اس کو ترک کردینا اور صرف اللہ کی طرف رجوع کرنا۔ برائی کو ترک کرکے اچھائی کو اپنانا خواہ اس کیلئے اولاد سے الگ ہونا پڑے یا آرام و راحت سے الگ ہونا پڑے۔ خواہ اسلام پہ عمل کرنے کیلئے غیراسلامی ریاست سے اسلامی ریاست کی جانب نقل مکانی کرنا پڑے۔
  • جہاد فی سبیل اللہ یعنی دشمن اور دشمن کی تمام قوتوں کو دور کرنے اور قائم و بقا کیلئے انتہا درجہ کی کوشش کرنا۔ برائی کے خلاف دل، زبان، مال،  ہاتھ سےکوشش کرنا بھی جہاد ہے۔ معاشرے میں رہ کر امر بالمعروف و نہی عن المنکر کیلئے کوشش کرنا بھی، جہاد ہے۔ مسلح یا عسکری جہاد کا اختیار صرف خلافت یا اسلامی ریاست کے پاس  ہوتا ہے۔ اسلامی ریاست کی فوج کو ضرورت پڑنے پہ عواام الناس کا ساتھ دینا فرض کفایہ ہے۔

ان پانچ باتوں کا بنیادی مرکز "جماعت” یعنی امت مسلمہ کا ایک مرکزیت کی صورت میں اجتماعی حیثیت میں روئے زمین پہ رہنا اور ایک قیادت یعنی امیر پہ متفق ہونے کو ہی قرار دیا گیا ہے۔ جو احکامات قرآن و سنت کے مطابق ہوں انھیں سننا اور اطاعت کرنا اور جو خلاف شریعت باتیں ہو انھیں ترک کرنا یعنی برائیوں سے رک جانا اور دوسروں کو برائیوں سے روکنا اور  نیکی کوپھیلانا۔ 

حدیث کے دوسرے حصے میں ہے کہ جو مسلمانوں کی جماعت سے ایک بالشت بھی باہر ہوا، اس نے اسلام کی غلامی کا طوق اپنی گردن سے نکالا اور اس نے اسلام کی اجتماعی زندگی کی جگہ جاہلیت کو اپنایا اور بے قیدی ہوگیا یعنی مادر پدر آزاد ہوگیا۔ نبی کریم ﷺ نے ایسے مسلمانوں کا ٹھکانہ جہنم قرار دیا۔ فیصلہ فرمادیا کہ اگر وہ نماز، روزہ کی پابندی بھی کررہا ہے لیکن وہ خلافت و اجتماعیت کے خلاف ہے یا اس کی اطاعت نہیں کرتا یعنی جماعت کے خلاف بھی نہیں جاتا لیکن اس کو تسلیم نہیں کرتا اور اس کے استحکام کیلئے کوشش نہیں کرتا یا تقویت کا باعث نہیں ، سمع و   اطاعت نہیں کرتا اور برائی سے اچھائی کی جانب ہجرت نہیں کرتا اور وہ  جہاد نہیں کرتا تو وہ بھی جہنمی ہے۔ غور کیا جائے تو مسلمانوں کی کامیابی انھی پانچ احکامات کے ثمرات و نتائج ہیں۔

"خلفیہ مسلمانوں کا وہ رئیس عام ہے جو خلیفہ رسول ہونے کی حیثیت سے اسلامی ذرائع سے اسلامی نظام حیات کو رائج کرے۔ اسلامی قوانین کا نفاذ کرے اور امامت دین اور نفاذ قوانین اسلامیہ کے راستہ میں جو موانع در پیش ہوں، ان کو دورکرے اور ان سب امور کی انجام دہی میں وہ طاقت و قوت سے بھی کام لے سکتاہے”
 
اسلام کا سیاسی نظام صفحہ ۹۶

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!