خلافت کے اثرات

خلافت کی وجہ سے دنیا بھر میں اسلام کا وقار اور دبدبہ قائم تھا۔ ملکہ الزبتھ عثمانی خلیفہ کو شکرئیے کے خطوط لکھا کرتی تھی۔ دنیا بھر کے حکمران اور بادشاہ عثمانی خلیفہ کا دم بھرتے تھے۔

خلافت کی وجہ سے اسلامی ثقافت یورپ میں فخر کی علامت سمجھی جاتی تھی، جیسے آج مغربی ثقافت کو اپناتے ہوئے مسلمان بھی ہچکچاتے نہیں۔ مغرب سے تاجر، سیاح اور علماء و طلباء ہسپانیہ اور سسلی کا رخ کرتےاور واپسی میں یہاں کی تہذیب و ثقافت اپنے ساتھ لے جاتے۔  آج بھی لاطینی اور دیگر یورپی زبانوں میں ہزاروں الفاظ عربی کے موجود ہیں۔ریاضی ،جیومیٹری سے لے کر میڈیکل وفارمیسی تک اور فن تعمیر و اسلحہ سازی سے لے کر سائنس تک اکثر علوم و فنون کے بنیادی اصطلاحات عربی زبان سے ماخوز ہیں،جو درحقیقت مسلمانوں ہی کے تخلیق کردہ تھے۔ یہ سب اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ علم و ادب کے میدانوں میں بھی مسلم ثقافت نے مغرب کو پوری طرح متاثر کیا تھا۔ ایک ہسپانوی مؤرخ کاسترو (Castro) نے لکھا ہے کہ عورت کے نقاب سے لے کر فرش و قالین پر نشت کے آداب تک،شہسواری کی شائستہ روایات سے لے کر مہمان نوازی اوراپنے گھر کو مہمان کے حوالے کر دینے تک،خود بھوکا رہ کر اوروں کو کھلانے ،دست بوسی کا انداز سوال، انکارکی صورت میں معذرت کے آداب ، یہاں تک کہ مسلم لباس خصوصاً زنانہ لباس سے شدید رغبت ، یہ سب وہ طورو طریقے ہیں جو بلا شک و شبہ اسلامی ثقافت سے اخذ کئے گئے تھےاور ہسپانوی عیسائیوں میں مسلمانوں کے بعد عرصے تک قائم رہے۔ خلافت کے دوران عیسائیت میں اسلام کے اثرات اس قدر پھیل چکے تھے کہ عام افراد سے لے کر پادریوں تک اسلامی فکر ،اسلامی عقائد ، اسلامی تہذیب اور اسلامی ثقافت سے مرعوب اور متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔  لوگ مسلمانوں کی چیزیں اور ان کا رہن سہن اپنانے میں فخر محسوس کرتے تھے۔

یورپ میں کلیسا کےخلاف بار ہا بے چینی پھیلی اور عوام کلیسا سے دور رہنے لگے۔ عیسائیوں کے بنیادی عقیدے تثلیث میں مسلمانوں کے توحیدی عقیدہ نے تزلزل برپا کئے رکھا۔ لاکھوں عیسائی عقیدہ تثلیث پر معترض بن کرسامنے آئے۔حتیٰ کہ تیروھویں صدی عیسوی میں عیسائیوں میں ایک ایسا فرقہ بھی وجود میں آگیا جو تثلیث کا بلکل منکر تھا۔ ایک اور فرقہ ارس (Arras) کے نزدیک صلیب انسانی ہاتھوں کی صنعت کے علاوہ کچھ نہیں۔ ان عقائد نے عیسائیت میں کھلبلی مچادی تھی۔ یہ خلافت کی اسلامی سلطنت کی علم و تحقیق کی آزادیوں کے اثرات ہی کا نتیجہ تھا کہ عیسائیوں میں کلیسا کے خلاف تحریکوں میں شدت پیدا ہوئی۔ مذہبی اصلاحات کے مطالبے ہونے لگے، کالون اور لوتھر نے سرے سے پوپ کو تسلیم کرنے سے ہی انکار کردیا۔ تحریک اصلاح میں اسلامی عقائد کی چھاپ پوری طرح واضح تھی۔ سسلی کے نارمن حکمران فریڈرک ثانی نے مسلم اثرات کے سبب ہمیشہ پوپ سے ٹکر لی۔فرانس کے ہنری نے پوپ کے خلاف کئی باراقدامات کئے۔ کلیسا کا خلافت کی وجہ سے اسلام سے تعصب کا یہ عالم تھا کہ خلافت عثمانیہ کے خلیفہ کے انتقال پر یورپ کے کلیساؤں کی  گھنٹی بجائے گئی اور عیسائی دنیا نے پوپ کی قیادت میں تین دن کا جشن  اور یوم تشکر منایا۔

خلافت کی مرکزیت نے عربی زبان کو بھی زندہ رکھا ہوا تھا۔مسلم فاتحین جہاں جہاں جاتے،عربی وہاں کی زبان بن جاتی۔مقامی زبانوں پر عربی کے اثرات کا مشاہدہ آج تک کیا جاسکتا ہے۔ سیریائی ،یونانی اور لاطینی زبانیں علمی اور مذہبی زبانیں تھی۔ جب تک یہ زبانیں رائج رہی وہاں کی ثقافت بھی عیسائیت کے رنگ میں رنگی رہی اورتمام علوم ان زبانوں میں ہونے کی وجہ سے عیسائیت کے اثرات سے ڈھکے ہوئے تھے۔ خلافت کے غلبے کے بعد عربی زبان نے ان زبانوں کی جگہ لی جس کی وجہ سے علم کے تمام شعبوں سے عیسائیت کی اجارہ داری ختم ہوئی۔ زبان کی تبدیلی نے وہاں کی ثقافت بدلی اور وہاں اسلامی اثرات غیر شعوری طور پر پھیلنے لگے۔

خلافت عثمانیہ نہ ہوتی تو شمالی افریقہ جیسے لیبیا اور تیونس  ہسپانیہ کا حصہ بن چکے ہوتے۔ خلافت عثمانیہ نے عالم اسلام پر 25 بڑے صلیبی حملوں کو پسپا کیا۔ خلافت عثمانیہ نے ہی اندلس کے سقوط کے بعد  گاجر مولی کی طرح کٹنے والے مسلمانوں کی مدد کی۔ خلافت عثمانیہ نے یوگوسلاویہ، ہنگری، پولینڈ، آدھے روس، بلغاریا، مقدونیہ، رومانیا، البانیہ، یونان کو فتح کرکے عالم اسلام میں شامل کیا، جس سے خلافت تین براعظموں میں پھیل گئی۔

خلافت کی وجہ سے اسلامی فوج کے دبدبے کا یہ عالم تھا کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی بحریہ سے عثمانی فوج جزیہ وصول کرتی تھی۔  کریمیا کے والی کے ہمراہ عثمانی فوج جب 1571ء کو روس پر حملہ آور ہوئی تو کم ہی عرصےمیں روسی فوجیوں کو ہتھیار ڈالنے پڑے۔  24 مئی 1571ء کو عثمانی فوجیں ماسکو میں داخل ہوئیں۔ اس لڑائی میں 8 ہزار روسی فوجی مارے گئے اور 15 ہزار قیدی بنا لئے گئے۔ 1572ء میں ہی روس پر دوسرا حملہ ہوا جس کے بعد روس نے سالانہ 60 ہزار طلائی لیرے خراج دینا قبول کیا۔

"خلافت کی مرکزیت کی وجہ سے مسلمان دنیا کے حاکم تھے اور باقی ساری دنیا محکوم”

خلافت کا تسلسل بحال ہوتا تو روس، امریکہ کی جرات نہ ہوتی کہ وہ باہمی جنگ کا ایندھن شام کے مسلمانوں کو بناتے۔ اسرائیل بھی وجود میں نہ آتا۔ سعودی عرب،قطر کو اپنی حفاظت کیلئے امریکی بحری بیڑے کا محتاج نہ ہونا پڑتا۔ نہ مسلمان غربت وافلاس کے ہاتھوں مر نہ رہے ہوتے۔ اور نہ ہی ان کے تیل پر یہودو نصاری عیاشیاں کر رہے ہوتے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!