خلافت کی تاریخ

عہد رسالت مآب محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد خلافت کا عرصہ ایک ہزار تین سو اکیس 1321ہجری برس یعنی 11ھ سے 1332ھ تک  اور ایک ہزار دو سو اٹھاسی 1288عیسوی برس یعنی 632ء سے 1923ء تک رہا۔ "ایک سو-100” سے زیادہ خلفاء نے امور خلافت سرانجام دئیے۔

خلافت راشدہ کا عرصہ تیس 30برس ہے۔
۱۱ھ سے ۴۱ھ تک

خلافت بنو امیہ کا عرصہ اکانوے 91برس ہے۔
۴۱ھ سے ۱۳۲ھ تک

خلافت عباسیہ کا عرصہ پانچ سو بیس 520 برس ہے۔
۱۳۲ھ سے ۶۵۲ھ تک

تاتاریوں کے بغداد پر حملہ کی وجہ سے خلافت عباسیہ کے دور میں خلافت کا تسلسل چار سال کیلئے رک گیا۔ لیکن عباسی خاندان کے کچھ شہزادے بغداد کے قتل عام سے بچ کر نکلے اور660ھ میں "مصر” پہنچ گئے۔ وہاں ایوبی خاندان کی حکومت تھی اور ملک ظاہر ببرس حکمران تھے۔ ملک ظاہر ببرس کو  احمد بن ظاہر عباسی کا پتہ چلا تو منصب خلافت کا حقدار تسلیم کرتے ہوئے، ان کے ہاتھ پر بیعت کی۔ اعزاز و اکرام کرتے ہوئے سلطنت مصر کی امارت یعنی بادشاہت بھی پیش کی لیکن خلیفہ احمد بن ظاہر نے ملک ظاہر ببرس سے صرف فوج لینے پہ اکتفا کیا اور خلیفہ احمد بن ظاہر بغداد کو تاتاریوں کے تسلط سے نجات دلاتے ہوئے شہید ہوگئے۔ عباسی شہزادہ ابوالعباس احمد بن علی "حلب” میں موجود تھے۔ ان کے بارے میں جب ملک ظاہرببرس کو معلوم ہوا تو بڑے اعزاز و اکرام سے مصر لائے اور ان کے ہاتھ پر بیعت کرلی۔ حاکم باامر اللہ کے نام سے مشہور ہوئے۔

مصر کی عباسی خلافت کا عرصہ  دو سو تریسٹھ 263برس ہے۔
۶۶۰ھ سے ۹۲۳ھ تک

خلافت عثمانیہ کا عرصہ چار سو تیرہ 413برس ہے۔
۹۲۳ھ سے ۱۳۳۶ھ تک

خلافت خلفائے راشدین رضوان اللہ اجمعین کے بعد بنو امیہ اور بنو عباس سے ہوتی ہوئی ترکی کے عثمانی خاندان کو منتقل ہوئی۔

پہلی جنگ عظیم کے وقت اسلامی سلطنت کا مرکز ترکی تھا اور خلیفہ عبدالحمید تھے۔ اموی خلافت موجودہ 46 ممالک پر مشتمل تھی، عباسی خلافت موجودہ 37 ممالک پر مشتمل تھی، عثمانی خلافت موجودہ 41 ممالک پر مشتمل تھی اور بارہویں صدی کے اختتام تک یورپ والے سمجھتے تھے کہ یورپ کے علاوہ باقی ساری دنیا مسلمان حکمرانوں کے ہی زیر نگیں ہے۔

خلافت کی مرکزیت کے زیرنگیں، اسلامی سلطنت کی وسعت کا عالم یہ تھاکہ خلافت عثمانیہ 2 کروڑ 30 لاکھ مربع کلومیٹر پر محیط تھی۔ جس میں یورپ کا 35 لاکھ 43 ہزار662 مربع کلومیٹر علاقہ،ایشیاء کا 57 لاکھ 29 ہزار 285 مربع کلومیٹر علاقہ اور افریقہ کا 1 کروڑ 37 لاکھ 27 ہزار 464 مربع کلو میٹر علاقہ شامل تھا۔ مشرق میں انڈونیشیا ،مغرب میں مراکش،جنوب میں نائجیریا، چاڈ اور کینیا اور شمال میں یورپ کے اندر یونان، مقدونیہ ، البانیہ ، کوسوو، مونٹی نیگرو، سربیا، بوسینیا، ہرزیگوونیا، کروشیا، ہنگری ، رومانیہ، بلغاریہ، یوکرین اور ایشیاء میں عراق اور ارمینیا وسیع عثمانی خلافت کی سرحدیں تھی۔ ایران کی صفوی سلطنت، ہندوستان کی مغلیہ حکومت اور سمرقند و بخارا اور خوارزم کی ریاستوں سمیت پوری امت مسلمہ ایک خلیفہ کےایک پرچم کے تحت جمع تھی۔

بحیرہ روم بلاشرکت غیرے مسلمانوں کے قبضے میں تھا، جس کی وجہ سے عیسائی دنیا اور یورپ پہ مسلمانوں کی برتری تھی۔ عیسائی طاقتوں کی بحری نقل و حرکت صرف ساحلوں تک محدود تھی۔ مکمل تین صدیوں تک مغرب سمندری رابطوں سے محروم رہا۔   مؤرخین لکھتے ہیں کہ صلیبی عہد میں مصر اور شام پر عیسائی قبضہ اسی بحیرہ روم کے طفیل ہی ممکن ہوا تھا، جس سے خلافت عثمانیہ کے ہاتھوں انہیں محروم ہونا پڑا۔ بحیرہ روم کے ہاتھ سے نکل جانے کے بعد پوری دنیا سے یورپ کا رابطہ کٹ گیا تھا۔ ہنری لکھتا ہے کہ مغرب بنیادی طور پر ایک تجارتی معاشرہ تھا لیکن بحیرہ روم کے زوال نے اسے شدید نقصان پہنچا یا۔تجارت کے خاتمے کے باعث مغرب کیلئے سیاسی اداروں کے ساتھ ساتھ عدلیہ، فوج، تعمیرات کے محکمے قائم رکھنا ناممکن ہوگیا تھا۔

 خلافت کے عروج میں ایک طرف 15ویں صدی عیسوی میں عیسائیوں نے اگر سپین، اندلس  پر واپس قبضہ کیا تو دوسری طرف اس کی جگہ اس سے کہیں بڑا رقبہ مشرقی یورپ سے نکل کر عثمانیوں کے پا س آچکا تھا۔ اسی طرح تقریبا ایک ہزار سال تک مغربی معاشرہ مسلم دنیا سے محصور ہی رہا،جس میں مغرب شدید سیاسی ، معاشی ،معاشرتی اور مذہبی دباؤ کا شکار رہا۔ خلافت عثمانیہ کے قسطنطنیہ پر چار سو سال کی حکومت میں سنگسار کا صرف ایک واقعہ پیش آیا۔جبکہ  آج کے جمہوری اور لبرل کلچر میں چھوٹے بچے اور بچیاں تک محفوظ نہیں۔ ایک عیسائی مورخ کے مطابق "استنبول میں کوئی چور نہیں، چوری کے واقعات نایاب ہیں، میں چودہ سال وہاں رہا۔ ایک بار بھی کسی چور کو سزا دینے یا چوری کا کوئی واقعہ ہونے کے بارے میں نہیں سنا۔ واضح بات ہے کہ لوگ چوری یا جیب کاٹنے سے واقف ہی نہیں”۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!