خلافت کا قیام

اسلام سے قبل قومیں علاقوں کی بنیاد پہ بنتی تھیں یا جغرافیائی طور پر یا نسلوں کی بنیاد پہ بنتی تھیں۔ لیکن اسلام نے مذہبی، جغرافیائی، لسانی، نسلی جیسی تفریق کو ختم کیا اور تمام انسانوں کے ایک جیسے حقوق کی بنیاد پہ ریاست کی بنیاد رکھی۔ اگر کوئی اسلام اور مسلمانوں سے تصادم کرے تو وہ ایک ریاست سے نہیں بلکہ اللہ کے حکم سے ٹکراتا ہے، جس کو روکنے کیلئے اسلام میں احکامات موجود ہیں۔

ماضی میں یورپین ممالک کے مابین جنگیں ہوتی رہیں لیکن خلافت/مسلمانوں کے خلاف یہ یکجا رہے۔ بعد ازاں اب اکیسویں صدی میں داخل ہوتے ہوئے یورپیوں نے اس حقیقت کا بھی ادراک کیا کہ سامان کی طرح انسانوں کی بھی آزادانہ نقل و حرکت معیشت کی بڑھوتی اور عالمی برتری کیلئے ضروری ہے۔ جس کےنتیجے میں یورپی یونین میں شامل ممالک کے شہری دوسرے ملکوں میں آزادانہ آ جا اور نوکری تک کر سکیں اور ایک مشترکہ کرنسی ہو۔ مشترکہ کرنسی "یورو” نے ڈالر کو بھی پریشان کیا۔ شنجن ممالک نے باہر سے آنے والوں کیلئے ایک ہی ویزا تمام ممالک کیلئے کافی ہونے پہ اتفاق کیا۔ لیکن مسلمان کو دوسرے مسلم ملک میں جانے کیلئے پاسپورٹ اور ویزا لینا پڑتا ہے۔ اسی طرح کونسل آف یورپ کا ذیلی ادارہ یورپئین کورٹ آف ہیومن رائٹس یورپی ممالک کی، بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی صورت میں، گوشمالی کرتا ہے اور بین الاقوامی عدالت ہونے کے باوجود، اس کے ۹۵فیصد فیصلوں پر عمل درآمد ہو جاتا ہے۔ یہ سارے تصورات بنیادی طور خلافت سے ملتے  ہیں۔

اسلامی ریاستیں پہلے ہی تنظیم تعاون اسلامی (او آئی سی) کے ذریعے اکٹھا ہوچکی ہیں اور اسلامی فوجی  اتحاد بھی تشکیل پا چکا ہے جو کہ بہت ہی خوش آئند ہے اور اسلامی فوجی اتحاد کی پہلی قیادت پاکستان کی فوج کے سابق سپہ سالار اعلی کا ہونا بھی پاکستان کیلئے اعزاز کی بات ہے۔ "خلافت” کے ذریعے اس اتحاد المسلمین کو مضبوط کیا جائے۔ تاکہ تمام اسلامی ممالک ایک دوسرے کے دست و بازو بنیں اور روئے زمین پہ ہر ایک کے حقوق کا تحفظ کیا جاسکے۔ خلافت کے سائے تلے مسلمان شہری آزادانہ نقل و حرکت کرسکیں اور کسی مسلمان کو "برادر اسلامی ملک” میں اجنبیت محسوس نہ ہو۔

  مسلم اکثریتی  ممالک میں اسلامی نظام حکومت و سیاست کو اسلامی کرکے ہم تمام شعبوں میں ترقی کے نئے باب رقم کرسکتے ہیں۔ مسلم اکثریتی ریاستوں میں ایک بین الاقوامی سروے کے مطابق افغانستان میں 99فیصد پاکستان میں 82 فیصد، مصر میں 60 فیصد آبادی قرآن و سنت کے مطابق نظام حکومت  کا نفاذ چاہتی ہے۔ اللہ کا احسان ہے کہ امت مسلمہ کسی طور اس بات پہ تیار نہیں کہ  زندگی کے کسی پہلو سے بھی اسلام کو الگ کردیا جائے۔  اللہ کا شکر ہے کہ مسلمانوں میں مدارس کی صورت میں درس و تدریس اور تبلیغ کا نظام ابھی موجود ہے۔ جہاد کیلئے مسلم ممالک کے پاس اسلامی فوجوں کی شکل میں عسکری قوت بھی موجود ہے۔ مساجد آباد ہیں اور مسلمان اسلام پہ عمل کرنے کی بھرپور کوشش بھی کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اب دین اسلام غیرمسلم ممالک میں تیزی سے مقبول ہونے والا دنیا کا واحد مذہب  ہے اور آنے والے تیس سالوں میں دنیا کا مقبول ترین مذہب اسلام ہوگا۔

مدارس میں بھی "علم سیاسیات اسلامی” کی تعلیم کا بالخصوص اہتمام دیکھنے سننے میں نہیں آیا۔ جس کی وجہ سے  مدارس سے فارغ التحصیل ہونے والے نئے علماء نظام جمہوریت کو ہی اسلام کے مطابق نظام حکومت تصور کئے بیٹھے ہیں۔ انھیں حکومت اسلامی کی تشکیل کے طریقہ کار کا  علم ہی نہیں ہے۔ جبکہ روئے زمین پہ  اسلامی ممالک میں مسلمان ہی برسر اقتدار ہیں۔ علماء اکرام ہی  تبلیغ و تعلیم میں بھی  مشغول  ہیں۔ اسلامی ممالک میں دفاع و عسکری جہاد کیلئے فوجیں موجود ہیں۔ مدارس میں دینی تعلیم بھی دی جارہی ہے۔ اخبارات اور ذرائع ابلاغ پہ بھی دین کا کام ہورہا ہے۔ آپ کو  شاید ہی مسلم ممالک  میں کوئی اخبار یا چینل ملے جہاں اسلامی تعلیمات کے پرچار نہ ہورہا ہو۔ میدان سیاست میں بھی اسلامی نظام حکومت کے نفاذ کی آواز اٹھانے والی مذہبی سیاسی جماعتیں موجود ہیں۔ لیکن ایک اسلامی ریاست روئے زمین پہ موجود نہیں، جہاں مکمل اسلامی نظام حکومت نافذ ہو۔

"اگر اس وقت اسلام کا کوئی پہلو عملی نفاذ سے محروم ہے تو وہ سیاست و حکومت ہے”

کیونکہ اہل مغرب کا سارا زور ہی اس بات پہ ہے کہ کسی اسلامی ملک میں مکمل اسلامی نظام حکومت نہ نافذ ہو پائے اور کسی طرح اسلامی ممالک کی مرکزیت "خلافت” نہ قائم ہوجائے۔

خلافت ایک نظام ہے، جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی جانب سے تمام دنیا کے مسلمانوں کے امور چلانے کیلئے فرض کیا گیا ہے۔ جب تک دنیا میں خلافت کا نظام قائم تھا، مجموعی طور پر دنیا نے غربت کا منہ تک نہیں دیکھا تھا۔ کسی عورت پر تیزاب نہیں پھینکا گیا، نہ کسی خاتون کی عزت زبردستی لوٹی گئی۔ نہ بےروزگاری تھی۔ نہ فحاشی و عریانی تھی۔ خلیفہ کا کام دنیا بھر میں توازن برقرار رکھنا ہے۔ جس طرح صحابہ اکرام کی طرح کا خشوع و خضوع ہماری نماز/روزہ میں نہیں ہوسکتا تو کیا ہم اب نماز نہ پڑھیں؟۔۔۔ اسی طرح اگر آج خلفاء راشدین کی طرح کا کوئی بھی "امیر” نہیں ہوسکتا مگر اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ خلافت قائم نہیں ہوسکتی۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا۔

"تم میں ایک بار پھر نبوی کے منہج پر خلافت قائم ہو گی” (مسند احمد)

تمام اسلامی ریاستوں میں نظام حکومت کو اسلامی کیا جائے۔ سربراہ مملکت، "بادشاہ  یا صدر یا سلطان یا امیر” کہلائے۔ لیکن امور ریاست و سیاست اسلام کی حدود و قیود میں ہی چلائے جانے کو یقینی بنایا جائے۔ ہر  کام کو کرنے کا ایک  ضابطہ یا قانون ہوتا ہے، اس لئے پہلے اپنےملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کی کوشش ضروری ہے۔

اللہ تعالی نے مسلم ممالک کو بہت نوازا ہے۔ دنیا کے جغرافیہ پہ غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ مراکش سے لے کر انڈونیشیا تک تمام عالم اسلام ایک زنجیر کی شکل میں موجود ہے۔ پوری دنیا کے بیچوں بیچ واقع ہیں۔ دنیا کی اہم ترین گزرگاہیں مثلا آبنائے باسفورس، نہر سویز، خلیج عدن، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سمندری اور خشکی کے راستے سب  اسلامی ریاستوں کے زیرتسلط ہی واقع ہیں۔ دنیا میں تیل کے ذخیرے اور بہت سی قیمتی معدنیات مسلم ممالک کے زیر تسلط ہیں اور  مسلمانوں کے پاس دولت کے انبار ہیں۔ لیکن اس دولت کا بڑا حصہ کھربوں ڈالر کی صورت میں مغربی ممالک کے بینکوں میں جمع ہے اور انھی ممالک کی معیشت میں گردش کررہا ہے اور وہ ممالک اس پیسے سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور مسلم ممالک اپنے اخراجات کیلئے انھی ممالک سے پیسہ لیتے ہیں۔ جبکہ اگر یہ پیسہ ان کے بینکوں سے نکال لیں تو مغربی ممالک کا بینکنگ نظام تباہ ہوجائے۔

تمام اسلامی ممالک ایک مشترکہ معاشی ادارہ تشکیل دیں۔ اگر کوئی مسلم ملک کوئی ایسا ترقیاتی پروگرام شروع کررہا ہے جس سے آمدن اور منافع بھی ہوگا تو وہ ادارہ اس منصوبے کے حصص کی خریداری کے ذریعے سرمایہ کاری کرے اور منافع بھی لے۔ اسلامی ممالک ایک دوسرے کی عوام کی مدد بھی کریں۔

روئے زمین پہ  خلافت کے قیام کی کوشش کرنا ہر مسلمان پہ واجب ہے۔ مسلمان ہونے کے ناطے تمام اسلامی ممالک کے ارباب اختیار و اقتدار پہ فرض ہے کہ خلافت کے قیام کی کوشش کی جائے اور دنیا پہ ہرمسلمان خلافت کی طاقت کا باعث بنےاور خلافت کی اطاعت کرے۔ خلیفہ تمام مسلمان سربراہان مملکت کو ساتھ لے کر چلیں تاکہ روئے زمین پہ کسی پہ بھی ظلم   نہ ہوسکے۔ اسلام کے احکامات کی روشنی میں حالات و واقعات کا تقاضا ہے کہ تمام اسلامی ممالک کو ایک خلافت کی مرکزیت میں پرو دیا جائے۔ تمام مسلم ممالک کو اپنی خارجہ پالیسی میں اتحاد عالم اسلامی / خلافت کو اولین اہمیت دینا چاہئے۔ تنظیم تعاون اسلامی (او آئی سی)  کے ستاون  ممالک رکن ہیں۔ اختلافات کو ترک کرکے اور قرآن و سنت کو مضبوطی سے تھام کراب ایک جماعت یعنی خلافت کے جھنڈے تلے  ایک جسد واحد کی طرح اکٹھے ہوں۔ پاکستان میں صرف پاکستانی نہیں بلکہ مسلم پاکستانی یعنی پہلے مسلمان اور پھر پاکستانی بن کر زندگی گزاریں۔ صرف عراقی نہیں بلکہ مسلم عراقی یعنی پہلے مسلمان اور پھر عراقی بن کر زندگی گزاریں۔

"نظام عالم کوتوازن سے چلانے کیلئے نظام خلافت کا قیام  
تمام اسلامی ممالک کے سربراہان پہ قرض ہے اور اس میں تاخیر جرم ہے”

ترکی نے مسلم ممالک بالخصوص پاکستان کے نام ایک پیغام میں کہا کہ

"ہم قطعاً اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی ملک اور اس کی ملت کی تذلیل نہیں کرنا چاہتے ہیں اور نہ اسلامی ممالک کے درمیان ایسا کوئی مقابلہ پیش کرنے کی جسارت کر سکتے ہیں- جس کے نتیجے میں اسلامی بھائیوں کے درمیان نفرتیں پیدا ہوں۔ ہماری تقسیم در تقسیم سے کیسے لیبیا سے شام اور عراق سے یمن تک کھنڈرات بنا دئیے گئے ہیں۔ ہم بخوبی واقف ہیں کہ کوئی ایک بھی اسلامی ملک تن تنہا یہ صلاحیت اور قوت نہیں رکھتا کہ آگے بڑھ کر اسرائیل کو سبق چکھا دے۔ کسی کی ایٹم طاقت ہے تو بے اثر، کسی کے پاس تیل کے کنویں ہیں تو بے سود اور کسی کے پاس بہترین جنگی سازو سامان ہے تو فیصلہ ساز بننے سے قاصر۔ ایسے میں کسی ملک کا اکیلے بد دماغ ایٹمی ملک اسرائیل کو لگام ڈالنے کی کوشش اسرائیل کے ظلم کا نشانہ بننے کی دعوت ہی کہلا سکتی ہے۔

ایسا نہیں کہ امت مسلمہ یتیم اور لا وارث ہو چکی ہے اور دنیا میں اپنے اوپر ہونے والے ظلم پر صرف چند لمحوں کی چیخ و پکار کر سکتی ہے- ہم اسرائیل کا سانس بند کر سکتے ہیں اگر تمام مسلمان ممالک باہم یکجان ہو کر طاقت اور قوت میں ڈھل جائیں- پھر اسرائیل ہی کیا امریکہ اور روس بھی اس قوت کا مقابلہ نہیں کر سکے گی۔

ہمیں یقین ہے کہ ایسا وقت بہت جلد آئے گا اور ہم اپنے اتحاد اور یکجہتی سے اپنی بھولی ہوئی ایمانی قوت حاصل کر لیں گے۔ تب تک ہمیں موجود اسباب و وسائل سے آگے بھی بڑھانا ہے اور ہمیں توڑنے تقسیم کرنے اور ہمارے درمیان نفرتیں پھیلانے والوں کو بھی مات دینا ہے”۔

عالم کفر کو بھی اندازہ ہے کہ مسلمان نظام خلافت کو نہیں بھولے اور نہ ہی وہ اس سے دستبردار ہورہے ہیں۔ 22اپریل 2006ء کو سابق امریکی وزیر دفاع نے ایک انٹرویو میں کہا کہ

"ان کے پاس خلافت قائم کرنے کا منصوبہ ہےجو سپین سے لیکر انڈونیشیا تک محیط ہوگی، تاکہ امریکیوں کو مشرق وسطی سے باہر پھینک دیں، اسرائیل کو نیست و نابود کردے اور اس خطے کی اکثر حکومتوں کا خاتمہ کردے”

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!