خلافت کا تسلسل روکنے کی آخری سازش

خلافت کے خلاف سازشوں کا آغاز توریاست مدینہ کے قیام سے ہی شروع ہوچکا تھا لیکن خلافت روئے زمین پہ اپنی عملداری میں اضافہ کرتی رہی اور خلافت کی حدود اور عملداری دن بدن وسیع ہوتی رہیں۔ خلافت عثمانیہ پہ برطانیہ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، فرانس اور کینیڈا کی افواج  نے اپنی پوری قوت کے ساتھ، درہ دانیال سے گزر کر عثمانی دارالخلافہ قسطنطنیہ پر قبضہ کرنے کیلئے حملہ کیا۔  گیلی پول کے محاذ پہ ایک لاکھ بہتر ہزار اتحادی فوجی مارے گئے۔ خلافت عثمانیہ نے تن تنہا طاغوت کی اتحادی افواج کوذلت آمیز شکست سے دوچار کیا۔ اس سے عالم کفر کو اندازہ ہوچکا تھا کہ خلافت کی مرکزیت اور یکجہتی کے قائم رہنے سے ہم کبھی مسلمانوں پہ غلبہ نہیں پا سکتے اور خلافت عثمانیہ کی اتنی مخدوش حالت کے باوجود اگر شکست نہیں دی جاسکی تو کبھی بھی خلافت کی یکجہتی کے ہوتے ہوئے مسلمانوں کو میدان جنگ میں شکست نہیں دی جاسکتی۔ سی ایف گبن لکھتا ہے کہ جنگ طورس میں اگر مسلمان جیت جاتے تو شاید آکسفورڈ کی درسگاہوں میں قرآن و حدیث کا درس جاری ہوتا۔

 پہلی جنگ عظیم میں ترکی نے برطانیہ کے خلاف جرمنی کا ساتھ دیا۔ پہلی جنگ عظیم میں جرمنی کو شکست اور برطانیہ کو فتح ہوئی۔ جنگ کے آغاز میں برطانوی حکومت نے ہندوستانی اور دیگر مسلم اکثریتی آبادی کے ممالک سے وعدہ کیا تھا کہ یہ جنگ خلافت کے خلاف نہیں۔ لیکن کافروں کے روایات کے مطابق برطانیہ نے فتح حاصل کرنے کے بعد وعدہ خلافی کی اور اپنی فوجیں بصرہ اور جدہ میں داخل کردیں۔ دراصل  1916ء میں برطانیہ اور فرانس کے درمیان سکائیس پیکوٹ معاہدے کے تحت پہلی جنگ عظیم کے خاتمے سے پہلے ہی سلطنت عثمانیہ کے حصے بخروں پر اتفاق ہوچکا تھا۔ بالآخر 3 مارچ 1923ء کو مسلمانوں کا عظیم الشان خلافت کا تسلسل رو ک دیا گیا اور سلطنت عثمانیہ کی کوکھ سےچھوٹے چھوٹے کمزور ممالک کا قیام عمل میں لایا گیا۔

"خلافتِ عثمانیہ کی سلطنت کو  14 کمزور ملکوں میں تقسیم کردیا گیا”

خلافت عثمانیہ تین براعظموں، جنوب مشرقی یورپ، مشرق وسطیٰ شمالی افریقہ کے بیشر علاقہ پر مشتمل تھی۔ موجودہ شام ،مصر، لبنان، عراق، لیبیا، سعودی عرب، قطر اورمتحدہ عرب امارات وغیرہ اس ایک خلافت کے جھنڈے کے نیچے متحد تھے۔ کوئی ان کے خلاف میلی آنکھ اٹھا کر دیکھنے سے پہلے بھی ہزار بار سوچتا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ خلافت عثمانیہ اپنی تمام تر کمزوریوں کے باوجود مسلمانوں کیلئے وحدت اور مرکزیت کی علامت تھی۔ خلافت کی آخری  چار صدیوں میں خلافت عثمانیہ کی عالم کفر کے خلاف مدافعت نے عالم کفر کی سازشوں کے آگے بند باندھے رکھے اور مشرقی یورپ سمیت تین براعظموں پر خلافت کا جھنڈا لہراتا رہا۔ ورنہ معلوم نہیں کہ آج دنیا کی جغرافیہ پہ مسلم ممالک کا کیا حال ہوتا۔

خلافت عثمانیہ کے زیر نگین بعض علاقوں کی تہہ میں موجود "سیال سونے یعنی تیل” کی بھنک ٹھگوں کو پڑ چکی تھی۔ برطانيہ نے سلطان عبدالحمید سے حجاز، عراق اور شام میں آثار قدیمہ کی کھدائی کی اجازت مانگی جو بعض مصالح کی بنا پر دے دی گئی۔ لیکن جلد ہی خلیفہ پر آشکارا ہوا کہ یہ آثار قدیمہ نہیں بلکہ تیل کے کنوؤں کی کھدائی ہورہی ہے۔ خلیفہ نے کھدائی بند کروا کہ ان کو واپس بھیج دیا۔ ان کی واپسی کے کچھ دن بعدہی نام نہاد "ترقی پسند” اور "علاقائی قومیت” کی تحریکیں کھڑی کی گئی جس نے خلافت کو دن بدن کمزور اور انتشار کا شکار کرنا شروع کر دیا۔

طاغوتی طاقتوں نے "جذبہ علاقائی قومیت” کی آبیاری کی۔ جذبہ قومیت کی ابتداء برطانوی حساس ادارے نے ایک منصوبے کے تحت کی۔ لیفٹیننٹ کرنل تھامس ایڈورڈ لارنس جو کہ "لارنس آف عریبیا” کے نام سے مشہور ہے، نے کامیاب کیا۔ علاقائی قومیت کا جذبہ ابھارنے کی ابتدائی سازش عربوں میں ترکیوں کے خلاف شروع کی گئی جو کہ بہت کامیاب رہی۔ عربوں کو یہ کہا گیا کہ ہم تمہیں ترکی کی غلامی سے نجات دلانا چاہتے ہیں۔ ترکیوں کی عملداری اپنے وطن سے ختم کرواور اپنی آزاد حکومتیں قائم کرو۔ انگریزوں اور اتحادیوں نے عربوں کی مدد کی۔ جس پہ عربوں نے بظاہر ترکی سے جبکہ درحقیقت خلافت سے بغاوت کرکے عرب لیگ قائم کرلی۔ یہ خلافت کی مرکزیت اور یکجہتی کو ختم کرنے کی برطانوی سازش تھی، جس کے پیچھے صیہونی طاقتیں بھی ان کے ساتھ تھیں۔

مکہ مکرمہ کے گورنر حسین شریف، اردن کے حکمران شاہ عبد اللہ کے پردادا تھے، خلافت عثمانیہ کے خلاف مسلح بغاوت کر کے عرب خطہ کی آزادی کا اعلان کر دیا۔ انہیں یہ چکمہ دیا گیا تھا کہ خلافت عثمانیہ کے خاتمہ کے بعد ان کی خلافت عالم اسلام میں قائم ہو جائے گی۔ مگر جب خلافت عثمانیہ کے خاتمے میں بنیادی کردار ادا کرنے والے شریف مکہ حسین بن علی نے اپنے لئے خلیفہ کا لقب استعمال کرنے کی کوشش کی تو برطانیہ نے انتباہ کرتے ہوئے کہا کہ خلیفہ نہیں، تم صرف بادشاہ ہو۔ حسین بن علی المعروف حسین شریف کے ایک بیٹے کو عراق اور دوسرے بیٹے کو اردن کا بادشاہ بنا کر ان کی عرب خلافت کا خواب سبو تاژ کر دیا گیا اور حسب روایت اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے،  حجاز مقدس پر آل سعود کے قبضہ کی راہ ہموار کر کے حسین شریف کو تادم مرگ نظر بند کر دیا گیا۔ شاہ عبدالعزیز نے بھی برطانوی سامراج کی ناراضگی سے بچنے کیلئے خلافت کے بجائے بادشاہت  اور مملکت پر اکتفا کیا۔ خلافت عثمانیہ کے سقوط کے بعد جامعہ ازہر میں خلافت کانفرنس بلائی گئی۔ جسے انگریزوں نے سبوتاژ کردیا۔  طاغوتی طاقتوں کی ان اقدامات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ "خلافت” عالم کفر پر کیوں کوہ گراں بن کر گرتی ہے اور مغرب دشمنی، بغض اور نفرت پر آمادہ کیوں ہے؟۔۔۔

جب بغاوت کرکے یہ ریاستیں خلافت عثمانیہ سے الگ ہوکر آزاد ریاستیں بن کر ملکوں میں بٹ گئیں تو بغداد میں برطانیہ اور فرانس کی فوجیں داخل ہوئیں۔ پھر عربوں نے جنگ کی اور ان کو بے دخل کیا۔ لیکن فلسطین پر انگریزوں کا قبضہ ہوگیااور برطانیہ نے اپنا گورنر بٹھا دیا۔ جس نے یہودیوں کو اجازت دے دی کہ وہ فلسطین میں آکر جگہ خرید سکتے ہیں اور آباد ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ دنیا کے مختلف ممالک سے منظم پروگرام کے تحت یہودیوں نے فلسطین میں آکر آباد ہونا شروع کیا۔ وہ فلسطین میں جگہ خریدتے تھے اور اس کی دوگنی چوگنی قیمت ادا کرتے تھے۔ فلسطینی عوام نے پیسوں کے لالچ میں جگہیں فروخت کیں اور علماء کرام کے منع کرنے کے با وجود پیسوں کے لالچ میں یہودیوں کو فلسطین میں آباد ہونے کا موقع فراہم کیا۔  اس وقت عالم اسلام کے سرکردہ علماء کرام نےفتویٰ صادر کئے اور مسلم رہنماؤں نے فلسطین جا کر سمجھانے کی بھی کوشش کی کہ چونکہ یہودی فلسطین میں آباد ہو کر اسرائیلی ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں اور بیت المقدس پر قبضہ ان کا اصل پروگرام ہے اس لیے یہودیوں کو فلسطین کی زمین فروخت کرنا درست نہیں۔ مگر فلسطینیوں نے کوئی پروا نہ کی اور دنیا کے مختلف اطراف سے آنے والے یہودی فلسطین میں بہت سی زمینیں خرید کر اپنی بستیاں بناکر آباد ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ 1945ء میں اقوام متحدہ نے آزادی کے نام پہ یہودیوں کو فلسطین کے ایک چھوٹے سے حصے کا حقدار تسلیم کر کے ان کی ناجائز ریاست  کو قائم کرنے کا اعلان کردیا۔ جس کے بعد برطانوی گورنر نے اقتدار یہودیوں کے حوالہ کر دیا۔

اتحادیوں کے حساس اداروں نے عرب قومیت کے مقابلے میں مصطفے کمال پاشا اور اس کے حامیوں کو ترک قومیت پہ اکسایا اور اسی کے ذریعے خلافت کے تسلسل کو روکنے میں کامیاب ہوئے اور آج تمام مسلمان ملکوں کی سرحدیں کسی کافر نے کاغذ کے نقشے پر تخلیق کی ہیں، جنھیں ہم آسمانی صحیفے سے بھی زیادہ مقدس مانتے ہیں اور انھی سرحدوں کی حفاظت کیلئے اپنے ہی مسلم بھائیوں سے لڑنے مرنے پہ تلے ہوتے ہیں۔  اب لسانی بنیادوں پہ مزید تقسیم کی مذموم سازشیں عروج پر ہیں۔ ترکوں نے عرب دنیا سے لاتعلقی اختیار کر کے ترک قومیت کی بنیاد پر آزاد حکومت قائم کرلی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 2008ء میں اسرائیلی حکومت نے جدید ترکی کے بانی مصطفیٰ کمال پاشا کا مجسمہ موجودہ اسرائیل کے "بیئر شیبہ” نامی شہر میں پہلی جنگ عظیم میں اتحادی افواج کی یادگار کے ساتھ ایستادہ کرنے کا اعلان کیا۔ جبکہ مصطفیٰ کمال اور اتحادی افواج جنگ عظیم میں بظاہر ایک دوسرے کے خلاف لڑ ے تھے۔

اس سب کے نتیجے میں کفار، مسلمانوں کی وحدت اور مرکزیت یعنی خلافت کا تسلسل ایک معاہدے کے تحت سو سال کیلئے روکنے میں کامیاب ہوگئے۔ جبکہ ترکی بھی مسلمان  اور عرب بھی مسلمان  تھے۔ لیکن جب ہم قرآن مجید میں اللہ کا دیا ہوا قومیت کا قانون بھول گئےیعنی ترکی میں رہنے والے ترک قوم بن گئے اور عرب میں رہنے والے عرب قوم بن گئے۔ وہ مسلمان تو رہے لیکن مسلمان قوم نہ رہے۔ خلافت کے زیر نگیں علاقےقومی ریاستوں کی شکل میں آزادہوگئے۔ آج بھی آثار نبویہ جن میں نبی کریمﷺ کی تلوار، جھنڈا مبارک ، ایک چادر مبارک، یہ آثار بطور سند خلافت کے استنبول میں  موجود ہیں۔ حج کی امارت خلافت کے اہم ترین فرائض میں سے ہے، خادم الحرمین الشریفین کا اعزاز بھی  خلافت عثمانیہ کے پاس ہی تھا۔ لیکن تاریخ اسلامی میں پہلی دفعہ خلیفہ کا "خادم الحرمین الشریفین” کا  اعزاز، سعودی عرب کے پاس ہے۔

خلافت عثمانیہ کو 1850ء تک قرضہ لینے کیلئے بیرونی دنیا سے رابطہ کرنے کی ضرورت نہیں پڑی تھی۔ جبکہ یورپ کی تمام نو آبادیاتی طاقتیں پندرھویں اور سولہویں صدی ہی سے یہودی بینکاروں کی قرض خواہ تھیں لیکن کریمیا کی جنگ اور بعد کی دوسری مہمات کے دوران انیسویں صدی کے آخر میں عثمانوی سلطنت مقروض ہو گئی اور یوں طاغوتی طاقتوں کو مداخلت کا موقع مل گیا۔ یہی وجہ ہے کہ بیسویں صدی کے ابتدائی سالوں میں یہودی بڑی تعداد میں محل اور حکومت میں بڑے بڑے عہدوں پر کام کر رہے تھے۔ ایک مغربی مصنف کے بقول "یروشلم یہودیوں کے حوالے کرنے سے انکار کی قیمت سلطان کو اپنی پوری سلطنت دے کر ادا کرنا پڑی”۔ جو کہ دراصل خلافت کے تسلسل کے سوسال تک رک جانے کی بہت بڑی قربانی تھی۔

مولانا محمود الحسن اور دوسرے علمائے دیوبند  کے ساتھ تحریک آزادی کے سلسلہ میں مالٹا جزیرے میں نظر بند تھے۔وہاں ایک انگریز افسر تھا۔ جس کا کسی جرم میں کورٹ مارشل ہوا تھا اور وہ بھی وہاں سزا کاٹ رہا تھا۔  حضرت مولانا حسین احمد مدنی نے اس سے پوچھا کہ خلافت عثمانیہ مسلمانوں کی ایک کمزور سی خلافت ہے۔ کیا وجہ ہے کہ برطانیہ، فرانس اور اٹلی اس کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ مسلمان خلافت سے عقیدت رکھتے ہیں۔ لیکن سارا یورپ اس کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے تمہیں خلافت سے خطرہ کیا ہے؟۔۔۔ ‏اس نے کہا مولانا آپ کا سوال اس قدر سادہ نہیں جس سادگی سے آپ پوچھ رہے ہیں۔ یاد رکھیئے! خلافت عثمانیہ ایک کمزور سی خلافت ہے مگر قسطنطنیہ میں بیٹھا ہوا "خلیفہ” آج بھی کسی غیر مسلم ملک کے خلاف اعلان جنگ کر دے تو مراکش سے لیکر انڈونیشیا تک مسلمان نوجوانوں کی بھرتی شروع ہو جائے گی۔ ‏سارا یورپ ان دو لفظوں "خلافت اور جہاد” سے کانپتا ہے۔ یورپ کے تمام ممالک متحد ہو کر ان دولفظوں کی قوت کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور انہوں نے یہ کر دکھایا۔

آج امت مسلمہ کو مزید کمزور کرنے کیلئے آپس میں لڑا یا جارہا ہے۔ نفرت کی اتنی دیواریں کھڑی کی جارہی ہیں کہ مبادا کہیں یہ متحد نہ ہوجائیں۔ طاغوتی طاقتیں علاقائی قومیت کی سازش اب بھی دنیا میں تحریکوں کو کچلنے کیلئے استعمال کرتی نظر آتی ہیں۔ اب علاقائی قومیت کے بعد "لسانی قومیت” کو بھی اجاگر کیا گیا۔ علاقائی تعصب سے زیادہ لسانی تعصب زہر قاتل بنتا جارہا ہے۔ پاکستان میں بھی پنجابی، سندھی، بلوچی، پختون اور افغانستان میں پختون یا پشتون، تاجک، ازبک جیسی لسانی، تہذیبی، ثقافتی، نسلی اور علاقائی قومیں بن گئی ہیں۔ جبکہ اللہ تعالی نے علاقائی، لسانی، نسلی قبائل یا ذاتیں صرف پہچان کیلئے بنائی تھیں۔ حجۃ الوداع کے موقع پہ نبی آخر الزماںﷺ نے فرما دیا تھا کہ کسی عربی کو عجمی پہ یعنی اہل عرب کو غیر عرب پہ اور کسی غیر عرب کو اہل عرب پہ فوقیت حاصل نہیں اور مسلمان ایک قوم ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے ایک قوم بنا کر امت مسلمہ کو ایک اتحاد میں پرو کر حقوق و فرائض کی تفریق ختم کی۔

” طاغوتی طاقتیں روئے زمین کے انسانوں کو لسانی، تہذیبی، ثقافتی، نسلی اور علاقائی طور پہ  گروہوں میں تقسیم در تقسیم کرکے اپنا تسلط برقرار رکھنا چاہتی ہیں”

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!