خطہء ہند میں اسلامی حکومت کی ابتداء

خلافت بنو امیہ کے دور میں ہند کے ساتھ سرحدوں پہ حالات کشیدہ ہونے شروع ہوگئے تھے۔ سندھ میں راجہ داہر کی حکومت تھی اور راجہ داہر کا برہمنی تعصب  بدھ آبادی کیلئے انتہائی درجے کے مظالم کاباعث بن جاتا ہے اور سندھ حکومت اموی باغیوں کو پناہ دیتی ہے۔ سندھ حکومت کے معاندانہ روئیے کی وجہ سے مکران اور بلوچستان کی سرحدپر سندھ کے سپاہیوں کی مسلمانوں سے جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔  اور رہی سہی کسر اس وقت نکلی ہے جب سندھ کی بحریہ نے سراندیپ سے عرب جانے والے جہازوں کو لوٹااور مسلمانوں کو غلام بنا لیا۔ جب راجہ داہر نے سلطنت اسلامیہ کے احتجاج کی کوئی پرواہ نہ کی تو حجاج بن یوسف نے یکے بعد دیگرے دو فوجی مہمات روانہ کیں۔ پہلی دو کوششیں ناکام ہوئیں۔ پھر محمد بن قاسم کو سپہ سالار مقرر کرکے لشکر بھیجا گیا۔ جب کہ محمد بن قاسم نے سندھ کا بحری مستقر دیبل فتح کرلیا۔ محمد بن قاسم کی فتوحات ہند میں درج  ذیل تبدیلیاں لائیں۔

  • سندھ کی تسخیر سے اسلام کی فتح کا دروازہ کھل گیا اور جنوبی ایشیا یعنی خطہ ہند اسلام سے روشناس ہوا۔
  • مسلمانوں کے حسن سلوک کی بدولت مقامی آبادی نے اسلام قبول کرنا شروع کیا اور لاتعداد مبلغین اسلام نے سندھ اور سندھ سے آگے بڑھ کر ہند میں اسلام کی تبلیغ شروع کردی۔ جن میں تاجروں، علماء و مشائخ نے اہم کردار ادا کیا۔
  • عرب مسلمانوں نے سنسکرت زبان سیکھ کر ہندوؤں کے علوم میں تحقیق کرکے عربی میں کتابیں تحریر کیں۔
  • مسلمانوں نے مطلق العنان حکومت تو قائم نہ کی لیکن ہندوؤں کو ممتاز عہدوں پر فائز کردیا۔
  • مسلمانوں کی فتح سے سندھ اور عرب میں زمینی آمدورفت کا آغاز ہوا۔ تجارت اور علوم و فنون کے تبادلے میں فروغ ہوا۔

محمد بن قاسم کےسندھ پہ حملہ آور ہونے کے ساتھ ہی ہند میں اسلام کی روشنی داخل ہوگئی۔ لیکن اسلامی ریاست کا قیام عمل میں نہ آسکا۔ باقاعدہ اسلامی حکومت  قائم نہ کی جاسکی۔

محمود غزنوی وہ حکمران تھے جنہوں نے ہند پہ متعدد حملے کئےاورہر حملے میں فتح حاصل کی۔ محمود غزنوی خراج وصول کرتے اور واپس چلے جاتے تھے۔ محمود غزنوی نے صوبہ پنجاب کو اسلامی سلطنت غزنہ میں شامل کیا۔

محمد غوری نے شمالی ہند میں اسلامی حکومت کی بنیاد ڈالی۔  شہاب الدین محمد غوری کو ہند میں "اسلامی سلطنت کا بانی” بھی کہا جاتا ہے۔وہ تمام عمر راجپوتوں اور ان کے راجاؤں کے خلاف لڑتا رہا۔ سلطان محمد غوری نے رواداری کا عظیم مظاہرہ کیا ۔ پرتھوی راج چوہان جو کہ سلطان محمد غوری کا جانی دشمن تھا، کی شکست کے بعد اجمیر کی حکومت اس کے بیٹے کو دی۔ سلطان محمد غوری نے جو سلوک غلاموں کے ساتھ کیا، اس کی مثال سوائے اسلامی تاریخ کے کہیں نہیں ملتی۔ بیٹوں کی طرح ان کو پالااور ان کی تعلیم و تربیت کی۔ ان پر اعتماد کیا۔ انہیں اعلی منصب عطا کئے۔ اہم ذمہ داریاں دیں۔ اپنا نائب بنایا۔ یہاں تک کہ ہند کی اسلامی سلطنت کی توسیع و تعمیر کاکام ان کے سپرد کیا۔ ان میں قطب الدین ایبک، شمس الدین التمش، محمد بن بختیار خلجی، ناصر الدین قباچہ اور تاج الدین یلدوز قابل ذکر ہیں۔ یہ اسلامی سلطنت روز بروز وسیع ہوتی گئی۔قطب الدین ایبک بھی  ہند میں  ایک فیاض بادشاہ گزرا ہے۔

شمس الدین التمش، نے نہ صرف باقاعدہ ہند میں رہ کر حکومت کی بلکہ  اس نے باہر کی دنیا سے بھی سفارتی تعلقات قائم کئے۔ شمس الدین التمش ہند کے پہلے سربراہ مملکت ہیں جنہوں  نے خلیفہ سے "سند حکومت” کی درخواست کی۔ خلیفہ بغداد نے سند حکومت اور خلعت فاخرہ عطاکی۔ اور "ناصر امیر المومنین” کا خطاب عطا کیا۔اس سند کی وجہ سے شمس الدین التمش،امت مسلمہ بالخصوص مسلمانان ہند میں بے حد ہر دلعزیز تھا۔ یہ ہند کی پہلی اسلامی حکومت تھی جو خلیفہ کی سند یافتہ تھی ۔اس لئے ہند میں شمس الدین التمش کو "خلافت کے زیرنگیں پہلی اسلامی سلطنت کا بانی” بھی کہا جاتا ہے۔

 ہندوؤں کی بغاوت اور سازشوں کی وجہ سے ہندوستان کی مملکت اسلامیہ کمزوری کا شکار رہی۔ رضیہ سلطانہ اپنے باپ کے ساتھ مل کر امور سلطنت چلاتی تھی۔ امور ریاست شمس الدین التمش کے انتقال کے بعد بھی رضیہ سلطانہ کے ہاتھ میں ہی تھے۔ تین سال کے بعد سلطانہ رضیہ  کو ہندو باغیوں نے قتل کردیا لیکن ہندو اقتدار نہ سنبھال سکے۔

غیاث الدین بلبن کو امرائے سلطنت نے بادشاہ منتخب کیا۔ اس نے بغاوتوں کو کچلا۔ ہندوؤں، راجپوتوں، کھوکھروں کو سخت سزائیں دیں۔ مضبوط قلعے تعمیر کیے۔ بیشمار تھانے قائم کرکے باغی علاقوں میں امن و امان قائم کیا۔غیاث الدین بلبن نے سابقہ سیاسی حالات کا جائزہ لیا۔ وہ  اس نتیجہ پہ پہنچا کہ بادشاہی کی شان و شوکت اور عزت و حرمت قائم کی جائے۔جس سے عوام کے دلوں میں احترام اور خوف کا ملا جلا جذبہ پیدا ہو۔ تاکہ وہ بغاوت اور لڑائی کی جرات نہ کرسکیں۔ غیاث الدین بلبن بھی تمام مسلم بادشاہوں کی طرح انصاف پسند تھا۔ بلبن نے ایک دفعہ اپنے انتہائی بااثر گورنر کوایک جرم کی پاداش میں اتنی سخت سزا دی کہ وہ گوشہ نشین ہوگیا ۔ایک ملک نے جب اپنے نوکر کو اتنا پیٹا کہ وہ فوت ہوگیا تو بلبن نے بھی اپنی موجودگی میں  ملک کو اتنے کوڑے لگوائے کہ وہ مرگیا۔ انصاف کی فراہمی کو اس قدر یقینی بنایا گیا کہ جس جاسوس نے ملک کی حرکت کی اطلاع نہ دی تھی اسے بھی پھانسی لگوادیا۔ غیاث الدین بلبن جاسوسی کے نظام میں بھی غفلت برداشت نہیں کرتا تھا۔

” غیاث الدین بلبن کے نزدیک  بادشاہت کی تین شرائط ہیں۔

۱۔  منظم فوج،               ۲۔ بھرا ہواخزانہ،            ۳۔ وفادار اور مستعد امراء”

غیاث الدین بلبن کا مقولہ تھا۔

"بادشاہت اللہ تعالی کی تخلیق ہےاورصرف وہی عطا کرتا ہے اور بادشاہ زمین پر اللہ کا نائب ہے۔
بادشاہ کا دل اللہ کی عظمت و بزرگی کا مظہر ہے۔ خالق نے مخلوق کیلئے بادشاہ کے احکام کی پابندی لازمی
 قرار دی ہے۔ رسالت کے بعد بادشاہت لوگوں کی خدمت کرنے کا بہترین ذریعہ ہے”

منگولوں نے جب پہلا حملہ دہلی، سلطنت ہندوستان پہ کیا تو عوام نے منگولوں کے قتل عام سے بچنے کیلئے دہلی کا رخ کیا۔ جس کی وجہ سے دہلی میں تل دھرنے کی جگہ نہ رہی۔ منگولوں نے شہر کا محاصرہ کرلیا۔ علاؤالدین خلجی نے  فوج کے ساتھ شہر سے باہر نکل کر جنگ لڑی اور منگولوں کو میدان میں شکست دی۔ منگولوں نے کل چھ حملے سلطنت دہلی پہ کئے اور ہر دفعہ بہت بری  شکست کھائی۔پانچویں حملے میں تو آٹھ ہزار منگولوں کے سر ایک مینار کی تعمیر میں استعمال کئے گئے۔ خلجی کے تابڑ توڑ حملوں نے منگولوں کی کمر توڑ دی اور انہوں نے ہند کی بجائے اپنا رخ دوسری جانب موڑ لیا۔ منگولوں نے دنیا کی تمام حکومتوں کو شکست دی لیکن مسلم حکمرانان ہند نے منگولوں کو چھ دفعہ شکست دی۔

علاؤ الدین خلجی کے دور میں اسلامی تمدن کا پودا ایسا پروان چڑھا کہ اس کے دور کو اسلامی سلطنت کا  عہد شباب قرار دیا جاتا ہے۔ یہاں کے علماء غزالی اور رازی کے ہم پایہ اور یہاں کے مشائخ شبلی کی نظیر، یہاں کا دارالسلطنت قرطبہ و بغداد کا ہمسر نظر آتا ہے۔ جس کا تسلسل ہمیں بعد کی حکومتوں میں بھی نظر آتا ہے۔

ہندوؤں کی سازشوں کے نتیجے میں چار سو سال کے بعد، ہندو قوم   ایک ہندو غلام”خسروخان” کے ذریعے اقتدار دہلی پہ قابض ہو گئے۔ اس  بغاوت کو غیاث الدین تغلق نے کچلا اور بادشاہت سنبھالی۔ غیاث الدین تغلق کے انتقال کے بعد اس کے بیٹے سلطان محمد تغلق نے اقتدار کو سنبھالا۔ سلطان محمد تغلق کے انتقال کے بعد اس کے چھوٹے بھائی فیروز شاہ تغلق کو امراء سلطنت کے اسرار پر اقتدار سنبھالنا پڑا۔ فیروز شاہ تغلق نے بھی عدل و انصاف قائم کیا ۔  لیکن جاگیرداری نظام کو بحال کرنے کی غلطی کرگیا۔

فاتح دنیااور مغلوں کے جد امجد، امیر تیمور نے فیروز شاہ تغلق کے بعد سلطنت دہلی کو اپنی حکومت میں شامل کرلیا۔

امیر تیمور کے بعد سید خضر خان کے ذریعے سید خاندان نے حکومت سنبھالی۔ سید خضر خان کے بعد سید مبارک شاہ، سید محمد شاہ، سید علاؤ الدین عالم شاہ ہندکی اسلامی سلطنت کے بادشاہ بنے۔ پھر سلطان بہلول لودھی نے اقتدار سنبھالا اور پھر اس کے بیٹے سکندر لودھی نے اقتدار سنبھالا۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!