حکومت کی آمدن کی تقسیم

حکومت کی آمدن جو کہ بیت المال میں اکٹھی ہوتی ہے، کےمصارف کی حدود اللہ تعالی نے مقرر فرما دی ہیں۔ زکوٰۃ، عشر اور صدقات سے آنے والی آمدنی صرف غرباء اور محتاجوں ميں تقسيم ہوگی اور ان کی تفصيل قرآن و سنت ميں موجود ہے۔ سب سے پہلے فلاح و بہبود مقصود ہے جس میں غرباء، مساکین، یتیم، بیوہ، معذور، اللہ کی راہ میں نکلنے والوں اور مسافروں کا حصہ مختص ہے۔ تاکہ ریاست اسلامی میں ہر کسی کی بنیادی ضرورتیں برابری کی سطح پہ پوری ہوں اور وہ اسلام و ریاست کا وفادار اور مفید فرد ثابت ہو۔  آگے چل کر اپنے پاؤں پہ کھڑا ہوسکے۔ دنیا کا ہر نظام جنہیں اپنے سے دور رکھتا ہے اور اگر کچھ دیتا ہے تو احسان جتلا جتلا کردیتا ہے، انہیں اسلام اپنے خزانہ/بیت المال کا سب سے پہلا اور بڑا حق دار سمجھتا ہے اور ان کا خیال رکھتا ہے۔

حکومتی آمدن  کو خرچ کرنے کے تین طریقے ہو سکتے ہیں۔

  1. تمام رقم وفاقی حکومت کے پاس ہی جائے۔عہد رسالت مآبﷺمیں ریاست مدینہ کی اکثر آمدن مدینہ منورہ میں ہی جمع ہوتی تھی۔لیکن یہ مثال نسبتا چھوٹی وفاق کی حامل ریاستوں کیلئے ہے کیونکہ اس طریقے سے بہت سے علاقے جہاں سے وسائل حکومت کو مل رہے ہوتے ہیں، بعض اوقات محروم بھی رہ جاتے ہیں اور عہد رسالت مآب جیسا توازن اورانصاف  اب مرکز / وفاق سے برقرار رکھنا مشکل ہے۔ آج کل بھی یہی  ہوتا ہےکہ ٹیکسز وفاق کے پاس اکٹھےکئے جاتے ہیں اور پھر وفاق اورصوبوں میں تقسیم ہوتے ہیں۔
  2. دوسرا طریقہ یہ ہے کہ جو ضلعی یا صوبائی بیت المال میں محاصل اکٹھے ہوں، وہ پہلے اس علاقے کے لوگوں کی فلاح پہ خرچ کیا جائے۔ جہاں سے حکومت کو آمدن ہو رہی ہے، وہاں پہ زکوۃ لینے والا /کوئی بیوہ/کوئی یتیم، کوئی حقدار رہ تو نہیں گیا۔ کسی مستحق غریب کو کاروبار بنا دینا یا کسی غریب بچے/بچی  کی شادی یاراستوں کی مرمت/ قبرستانوں کی مرمت ، ترقیاتی کام ، ہسپتال، تعلیمی ادارے وغیرہ ، اگر علاقے میں ایسا کوئی معاملہ نہیں رہ گیا تو باقی آمدن وفاق/ مرکز کوجمع کروادی  جائے۔  عہد خلافت راشدہ میں یہی طریقہ کار رائج رہا۔ جس کی وجہ یہ بھی تھی کہ اتنی وسیع سلطنت کےدور دراز علاقوں سے وفاق میں تمام آمدن اکٹھا کرنا ممکن نہ رہا تھا اور پھر دوبارہ تقسیم کرنے پہ بھی خرچ آتا اور وقت بھی لگتا۔
  3. ایسی کوئی مثال،  مطالعے کے دوران نظر سے نہیں گزری۔ لیکن ایک طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ ایک ضلع سے اکٹھا ہونے والی تمام آمدن کا ایک حصہ مقامی سطح پہ ہی خرچ کرنے کیلئے مقررہو اور دوسرا حصہ صوبے کو اور تیسرا حصہ وفاق کوچلا جائے۔ اس طرح کی آمدنی کی شرح بھی بنائی جاسکتی ہے۔ اس میں کسی ضلع یا صوبے کا کوئی اعتراض بھی نہ ہوگا کہ مجھے آمدن کی نسبت کم حصہ ملتا ہے۔

نظام خلافت یعنی تمام اسلامی حکومتوں کی مرکزی قیادت اور اسلامی حکومتوں کا یہ حسن ہے کہ امت مسلمہ جسد واحد کی طرح ہوجاتی ہے۔ متحدہ عرب امارات یا سعودی عرب جیسے ممالک ، جہاں دوسرے اسلامی ممالک کی نسبت خوشحالی ہے،اور غریب طبقہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہ اسلامی ممالک اپنی آمدن میں سے اخراجات کے بعد بچ جانی والی زائد آمدن، دوسرے اسلامی  ممالک کے مسلمانوں کی مدد کیلئے خلافت یعنی دنیا پوری کی مرکزی اسلامی حکومت  کو دیں، تاکہ دوسرے اسلامی ممالک میں موجود مسلمان غرباء کی مدد کی جاسکے۔ لیکن یہ اسلامی ممالک  بھی پہلے  اپنی عوام کے مسائل کو ترجیح دیں۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب خلافت  کا قیام ہو اور تمام اسلامی ممالک معاشی طور پر کمزور اسلامی ممالک کی مدد کریں۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!