حکمرانی اور مرکزی بینک

 دنیا بھر کی کانیں اور کارخانے اتنی دولت پیدا نہیں کرتے، جتنی چند مرکزی بینکار اپنے صوابدیدی اختیارات سے چھاپنے لگے تھے۔ ان نجی بینکاروں کو یہ اختیار جمہوری حکومتیں عطا کرتی ہیں۔ کوئی بھی بادشاہ دوسرے اختیارات کی طرح اپنے ملک اور اپنی کرنسی کا کنٹرول کھونا نہیں چاہتا۔ بادشاہ اپنے فیصلوں میں خودمختار ہوتا ہے اور اس کے حق حکمرانی میں کسی کو شراکت دار نہیں بناتا۔ اس وجہ سے بینکار ان کے دشمن ہوتے ہیں۔ بادشاہ مرکزی بینکوں کو پہ اپنی مرضی سے کاغذی کرنسی چھاپنے نہیں دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کا بینکاری نظام بادشاہت کا سخت دشمن ہوتا ہے۔ "طاغوتی طاقتوں سے آزاد” حکمران بادشاہ معزول کردیا جاتا ہے، قید کردیا جاتا ہے، مار دیا جاتا ہے، اس کے خلاف بغاوت کروا دی جاتی ہے۔ لیکن جمہوریت اور سرمایہ دارانہ نظام  کی آڑ میں چھپا کٹھ پتلی اور ڈکٹیٹر حکومت کرتا ہے کیونکہ اس کی حکومت غاصبانہ ہوتی ہے اور غاصب حکومت ختم ہونے کے ڈر سے کمزور ہوتی ہے۔ جمہوری حکمران کم مدتی ہوتے ہیں اور اپنے اقتدار کو طوالت دینے کیلئے اور دولت کے لالچ میں وہ طاغوتی طاقتوں کے زیر اثر آجاتے ہیں۔ اپنی کرنسی کا کنٹرول غیر ملکی عالمی بینکاروں کو بیچنے پر با آسانی تیار ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ طاغوتی طاقتوں کے ماتحت ذرائع ابلاغ، جمہوریت کے قصیدے گاتے ہیں اور آمروں کو بُرا کہتے ہیں۔ کیپیٹل ازم اور جمہوریت میں چولی دامن کا ساتھ ہے جبکہ بادشاہ اور کیمونسٹ حکومتیں پرائیوٹ مرکزی بینک کو کرنسی چھاپنے نہیں دیتے اور اپنی کرنسی خود چھاپتے ہیں۔ تاریخ سے ثابت ہوا ہے  کہ جمہوریت میں غربت بڑھی ہے اور امیر غریب کی خلیج اور وسیع تر ہو ئی ہے۔

مرکزی بینک، جمہوری حکومت کی مدد سے عوام کو لوٹتے ہیں۔ مرکزی بینک کے سواکوئی دوسراادارہ ایسا نہیں جو حکومت پہ اثر انداز ہوسکے۔ جمہوریت کا یہ سبق جھوٹ ہے کہ عدلیہ، انتظامیہ اور مقننہ حکومت کے تین اہم ستون ہوتے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے ساتھ ساتھ، حکومت کا ایک ستون جو ان سب کو کنٹرول کرتا ہے اور وہ ہے "مرکزی بینک” اور درحقیقت دنیا میں اس وقت مرکزی بینکوں کی حکومت ہے۔

"آج کے دور میں جس ملک کی حکومت اپنی کرنسی پہ کنٹرول کھو بیٹھتی ہے وہ اپنی حاکمیت کی آزادی بھی کھو دیتی ہے”

ترقی یافتہ ممالک میں بھی جمہوری حکومتیں عوام سے زیادہ مرکزی بینکوں کے مفادات کا خیال رکھتی ہیں۔ پہلی دنیا (کییٹلسٹ ممالک) میں کرنسی تخلیق کرنے کا اختیار نجی بینکوں کے ہاتھ میں ہوتاہے اور جمہوری حکومت پر قرضہ بڑھتا چلا جاتا ہے جس کا سود بلآخیر عوام کو بھرنا پڑتا ہے۔ دوسری دنیا (کیمونسٹ ممالک) میں کرنسی تخلیق کرنے کا اختیار براہ راست حکومت کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور حکومت نہ مقروض ہوتی جاتی ہے، نہ اس کے عوام کو سود ادا کرنا پڑتا ہے۔ تیسری دنیا میں وہ ممالک شامل ہیں جو کرنسی وار کے گیم سے پوری طرح واقف نہیں ہیں۔ یہ پہلی دونوں دنیا کے لیے شکار گاہیں ہیں۔  امریکی صدر تھامس جیفرسن نے کہا تھا کہ "میرے خیال میں بینکاری کے ادارے ہماری آزادی کیلئے زیادہ خطرناک ہیں بہ نسبت سر پہ کھڑی  دشمن کی  فوج کے”۔ بینک اپنا خزانہ بھرنے کیلئے  لوگوں کی دولت اپنے تسلط میں رکھنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں اور ان  کو لوٹنے کے مختلف بہانے تلاش کرتے رہتے ہیں۔ جبکہ حکومت کا مقصد محصولات کے ذریعے عوام کو ہر سطح پہ سہولیات کی فراہمی ممکن بنانا ہوتا ہے۔

برطانیہ پر دو سو سال سے بینک آف برطانیہ کا اثرورسوخ بڑھ گیا اور بادشاہ یا ملکہ بالک نمائشی ہیں۔ بینک آف برطانیہ کے مالک ناتھن روتھشیلڈ کا کہنا تھا کہ” مجھے کوئی پروا نہیں کہ انگلستان کے تخت پر کون سا پُتلا بیٹھا سلطنت چلا رہا ہے۔ جو برطانیہ کی کرنسی کو کنٹرول کرتا ہے، وہی برطانوی سلطنت کو کنٹرول کرتا ہے اور یہ کرنسی میں کنٹرول کرتا ہوں”۔ امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ ہنری کیسنگر کا کہنا تھا کہ "جو خوراک کو کنٹرول کرتا ہے وہ لوگوں کو کنٹرول کرتا ہے، جو توانائی کو کنٹرول کرتا ہے وہ سارے براعظموں کو کنٹرول کرتا ہے اور جو کرنسی کو کنٹرول کرتا ہے وہ پوری دنیا کو کنٹرول کرتا ہے”۔

"ٹیکس اصلاحات  کاغذی کرنسی کے الفاظ کے گورکھ دھندے کا تسلسل اور مرکزی بینکوں کے خزانے بھرنے کا ذریعہ ہوتی ہیں”

ملکوں کی"معاشی حیثیت” کو ماپنے کا امریکہ اور اتحادیوں کا اپنا ہی پیمانہ ہے اور وہ جس کرنسی کی قدر کو چاہیں گرا دیں۔ عالمی مالیاتی اداروں کا کسی ملک کی "معاشی حیثیت” ماپنے کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ وینزویلا میں 2015ء میں 159 فیصد افراط زر تھا۔  17 فروری 2016 کو وینیزویلا میں پٹرول کی قیمت میں 60 گنا اضافہ ہوا جبکہ وہاں پٹرول کی سابقہ قیمت پچھلے 20 سال سے برقرار تھی۔ وینیزویلا میں خوراک کیلئے بڑے پیمانے پر فسادات پھوٹ پڑے۔ اس سب کی وجہ وینیزویلا نے دس سال پہلے آئی ایم ایف سے روابط ختم کر دئیے تھے اور اپنا  365 ٹن سونا بھی مغربی ممالک کے بینکوں سے نکلوا کر اپنی سرزمین پر منتقل کر لیا تھا۔ نائیجیریا کے پاس تیل کے کثیر ذرائع ہیں، لیکن وہ غریب ملک ہے۔ کچھ ممالک میں سونے کی کانوں کی شکل میں  ذخائر ہیں لیکن ان ممالک پہ مختلف پابندیاں لگا کر ان کی ملکی معیشت کے پہیے کو چلنے ہی نہیں دیا جارہا۔ ان کی برآمدات پہ پابندی عائد کر دی جاتی ہیں۔  تیل یا سونا یا دوسری قیمتی معدنیات کے نکالنے پہ پابندیاں لگا دی جاتی ہیں۔ یا پھر ایسی کمپنیوں کو سونا نکالنے کی اجازت ہوتی ہے، جن کو فائدہ طاغوتی طاقتوں کے آلہ کار ممالک کو پہنچے۔

بینکار جس ملک کو نشا نہ بنا لیں اس ملک کی کر نسی کو اتنا گراتے چلے جاتے ہیں کہ اصل تو کیا صرف سود ادا کرنے کیلئے اس ملک کو مزید قر ضے لینے پڑتے ہیں۔ خود پا کستا ن کی مثال آپ کے سا منے ہے جو ما لیا تی بحران کے بو جھ تلے دب چکا ہے۔ عوام کا جینا دوبھر ہو گیا ہے۔ اس طریقہ واردات پر  جان پرکن  نے ا پنی کتاب Confession Of an Economic Hit Manمیں روشنی ڈالی ہے کہ "جیسے ہی کر نسی کی قیمت گرتی ہے زمین، جائیداد، لیبر اور دیگر ضروریا ت ان لٹیروں کیلئے سستی ہو جا تی ہیں۔ دنیا بھر کے غریب ممالک کے با شندوں کو سا ری زندگی جان جو کھوں میں ڈال کر محنت کرنی پڑتی ہے۔ تا کہ مغرب کے لٹیروں کو بہتر آسائشَیں میسر رہیں۔ اس کا دوسرا المناک پہلو یہ ہے کہ جب غربت آتی ہے تو رشوت کو فروغ ملتا ہے، دیگر بر ائیاں جنم لیتی ہیں۔ جب ضروریات زندگی جا ئز طریقے سے پوری نہ ہوں تو حرص و ہوس رکھنے والا یہ انسان ناجائز ذرائع اختیار کر لیتا ہے”۔

کاغذی کرنسی نے مرکزی بینکاروں کو دنیا کے امیر ترین افراد بنا دیا ہے۔ اب یہ دنیا کے پس پردہ حکمران ہیں اور وہی حکمران بناتے ہیں اور وہی حکومتوں کو چلاتے ہیں۔ جمہوریت کی آڑ میں ایک ڈکٹیٹر چھپا ہوا ہے۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک حکومتوں اور مرکزی بینکوں  کو مقروض کرتے ہیں اور مرکزی بینک، نجی بینکوں کے ساتھ مل کر ہر فرد کو مقروض کرتے ہیں۔ جمہوریت اور سرمایہ دارانہ نظام کا گٹھ جوڑ عوام کی حکمرانی یا فلاح انسانیت کیلئے نہیں بلکہ پوری دنیا کی دولت چند ہاتھوں میں مرکوز کرنے کیلئے قائم ہے۔ پوری دنیا کی معیشت و سیاست کیپٹلسٹوں کے ہاتھوں میں چل رہی ہے۔ آج بھی عام لوگوں کی 99فیصد سے زیادہ دولت بڑے خفیہ طریقے سے چوٹی کے بینکوں اور پھر مخصوص خاندانوں کو منتقل ہو رہی ہے۔بڑے بینک اور اُن کی بنائی ہوئی مالیاتی صنعت آج کے معاشرے میں ناانصافی کی بنیادی وجہ ہے۔ باصلاحیت اور مدبر لیکن غریب آدمی کبھی حکمرانی نہیں کر سکتا۔

بریٹن ووڈز کے معاہدے نے پوری دنیا کو امریکی بینکاروں کا معاشی غلام بنا دیا۔ بریٹن وڈز کانفرنس میں ایسے ادارتی انتظامات کئے کہ نئے ابھرنے والے ممالک پر بڑے مغربی ممالک کی حاکمیت قائم رہے اوران ممالک کا استحصال جاری رہے۔ تیسری دنیا کے ممالک نہ اُس مشاورت میں حصہ دار تھے، نہ ہی نتائج سے کوئی فائدہ حاصل کر سکے۔ آج بھی عالمی مالیاتی اداروں، آئی ایم ایف وغیرہ میں ان کے ووٹ کی طاقت وہی ہے جو 1940ء اور 1950ء کی دہائی میں تھی۔ جب بھی کوئی ملک اپنے قرضوں کا سود ادا کرنے کے قابل نہیں رہا تو اندازے لگا لیے گئے کہ اس کی کرنسی اب ڈوبنے والی ہے۔ ایسے موقع پر اس ملک کی حکومت کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ مشکلات سے بچنے یا ٹالنے کیلئے اور بھی زیادہ کرنسی چھاپی جائے۔ اس سے صورت حال مزید خراب ہو جاتی ہے۔قرض جتنا زیادہ ہوتا ہے اتنی ہی زیادہ کرنسی چھاپنی پڑتی ہے۔ جتنی زیادہ کرنسی چھپتی ہے افراط زر کا خطرہ اتنا ہی بڑھتا چلا جاتا ہے۔ کوئی بھی حکومت افراط زر سے نہیں نمٹ سکتی، ایک دفعہ یہ شروع ہو جائے تو تیزی سے بڑھتا ہے اور انجام ہمیشہ تباہی ہوتا ہے۔

ایسٹ انڈیاکمپنی کی تاریخ بتاتی ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنیاں صرف تجارت ہی نہیں بلکہ سیاسی طاقت بھی حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ 1600ء میں بننے والی اس تجارتی کمپنی نے آج کے دور کی ملٹی نیشنل کمپنیوں کی ڈیزائننگ میں بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔ مسالوں کی تجارت کیلئے بنی یہ کمپنی ہندوستان جیسے ملک کے اقتدار پہ قابض ہوگئی۔

2006ء میں چھپنی والی کتاب "کارپوریشن جس نے دنیا بدل دی” The Corporation that changed the world  میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی تاریخ اور اسکی سازشوں کا تجزیہ لکھا ہے۔ نک روبنس نے اسی کتاب میں قحط، جنگ، اسٹاک بازاروں کا ڈوبنا اور اعلیٰ افسران کی باہمی چپقلشوں کا بھی ذکر کیا ہے۔ مصنف کے خیال میں اس کمپنی کی تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ آج کی عالمی تجارت کا احتساب کتنا ضروری ہے۔ مصنف ایسٹ انڈیا کمپنی کو آج کے دور کی ملٹی نیشنل کمپنیوں جیسا کہ نیسلے کی ماں قرار دیتا ہے۔ ایک اور جگہ لکھتا ہےکہ "اس کمپنی نے معیشت کی تاریخ بالکل بدل دی۔ صدیوں سے دولت کا بہاؤ مغرب سے مشرق کی طرف تھا۔ روم کے عروج کے زمانے سے یورپ تجارت کیلئے ایشیا کا مرہون منت تھا اور مصالحہ، کپڑے اور نفیس اشیاء کے بدلے سونا اور چاندی ادا کرتا تھا۔ انگلینڈ کے پاس ایسا کچھ نہیں تھا جسے مشرق خریدنا پسند کرتا۔ جنگ پلاسی سے پہلے تجارتی توازن سارے ممالک کے خلاف اور بنگال کے حق میں تھا۔بنگال وہ جگہ تھی جہاں جا کر یورپ کا سونا چاندی گُم ہو جاتا تھا اور جہاں سے یورپ کا سونا چاندی واپس آنے کے امکانات صفر تھے۔ 1773ء تک سونے چاندی کے بہاؤ کا رخ پلٹا دیا۔ 1600ء میں ہندوستان اور چین کی معیشت یورپ کی معیشت سے دوگنی تھی۔ لیکن 1874ء میں یورپ کی معیشت ہندوستان اور چین کی معیشت سے دوگنا ہو چکی تھی۔ اس کمپنی نے دولت لوٹ کر ہندوستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔

امریکہ کو کاغذ چھاپ چھاپ کر ہوتی عیاشی دیکھ کر یورپ والوں کو بھی مزے لوٹنے کا خیال آیا۔ چونکہ یورپ کا کوئی ملک اتنا مضبوط نہیں تھا کہ اکیلا امریکی ڈالر کا مقابلہ کر سکے اس لیے انہوں نے مل کر "یورو کرنسی” جاری کی۔ جس کو اصل سہارا جرمنی کی  مضبوط کرنسی "مارک” نے دیا۔ جس کے بعد ڈالر کی اجارہ داری میں قدرے زوال آیا۔ یورپ کے صرف دو ممالک ناروے اور برطانیہ خاطر خواہ مقدار میں خام تیل کی پیداوار رکھتے ہیں لیکن ان دونوں ممالک نے یورو کرنسی نہیں اپنائی کیونکہ وہ یورپی یونین بنانے کے مقاصد کو بھانپ گئے تھے۔ اگر یونان بھی اس سے واقف ہوتا کہ یورپی یونین صرف "کرنسی یونین” ہے تو یورپی یونین کا حصہ بن کر عالمگیریت/گلوبلائزیشن کی اس مالیاتی جنگ کا حصہ نہ بنتا اور آج اس حالت میں نہ ہوتا۔

لا علمی ہمیشہ غلامی کی طرف لے جاتی ہے اور  موجودہ مالیاتی نظام کی حقیقت سے لاعلمی بہت سے ممالک کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کا غلام بنا کر تباہی کے دہانے پہ لاچکی ہے۔ اس مکار، چالاک، فریبی اور لوگوں کو دھوکہ دینے کے اصولوں پر مبنی بینکاری کے اس معاشی نظام پہ بیش بہا کتابیں لکھی گئیں۔ اس کے مستحکم اور غیر مستحکم ہونے کے اصول وضع کئے گئے۔ علم معاشیات یونیورسٹیوں میں پڑھایا جاتا ہے۔ پندرہ بیس سالوں کی تعلیمی محنت میں انہوں نے یہ سمجھنے کی مہارت حاصل کی ہوتی ہے کہ یہ کاغذی نوٹ کہا جاتا ہے؟۔۔۔ کیسے ناپا جائے کہ اس کاغذ کی قیمت اوپر ہو گئی ہے یا نیچے؟۔۔۔ افراط زر کا گراف کیا ہے؟۔۔۔ کرنسی کے نوٹ جو سٹیٹ بینک چھاپتا ہے ان سے دولت کیسے جنم لیتی ہے؟۔۔۔ بینک کیسے انھی نوٹوں کو اپنے کھاتوں میں دو گنا اور تین گنا کر لیتا ہے؟۔۔۔ بینک دیوالیہ ہو جائیں تو اس سودی نظام کو بچانے کیلئے کیسے حکومت عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ انہیں دیتی ہے؟۔۔۔ کس طرح بینکوں کو بچانے کیلئے انہیں انشورنس کمپنیوں کے ذریعے آکسیجن فراہم کی جاتی ہے؟۔۔۔ عام آدمی کے پیسے سے ایک پورا متبادل نظام وضع کیا جاتا ہے کہ بینکوں کا سارا خسارہ ان انشورنس پالیسیوں سے پورا کیا جائے جو بینکوں نے خریدی ہوتی ہیں۔ مالیات کی دنیا میں ہر ماہ چند نئی اصطلاحات کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ جن کا مطلب پوری طرح سمجھتے سمجھتے عالمی مالیاتی ادارے فراڈ کرچکے ہوتے ہیں۔ الفاظی اور تدریسی لبادے میں چھپا کر معیشت کے ماہرین اور استادوں کو بھی دھوکے میں مبتلا کر رکھا ہے۔

دنیا بھر میں دولت کی تقسیم بگڑتی جا رہی ہے۔ دنیا میں صرف آٹھ افراد ایسے بھی ہیں جن کی مجموعی دولت دنیا کی نصف آبادی کی دولت کے برابر ہے۔ دنیا کے امیر ترین اعشاریہ ایک فیصد افراد کی دولت دنیا کے 90 فیصد غریب لوگوں کی دولت کے برابر ہے۔ یہ سب کچھ اتفاقی طور پر نہیں ہوا۔ بلکہ سرمایہ دارانہ نظام نے  کاغذی کرنسی اور بینک کے ذریعے ایک ایسا گرداب بنایا گیا ہے کہ جس کے ذریعے تمام دولت  بالآخر بینکاروں کے پاس ہی چلی جاتی ہے۔ گھر ، کارخانے، اجناس سب کچھ بینکوں کے پاس رہن پڑا ہوتا ہے۔ دنیا کے بالغ افراد میں سے غریب ترین افراد 71% اور ان  کے پاس صرف 3% عالمی دولت کا ہے۔ جبکہ غریب افراد 21% ہیں اور ان کے پاس 12.5% عالمی دولت کا ہے۔ جبکہ امیر افراد 7.4% ہیں اور ان کے  پاس 39.4% عالمی دولت کا ہے۔ جبکہ امیر ترین افراد صرف 0.7% ہیں اور ان کے پاس کے 45.2% عالمی دولت کاہے۔

جب سے سونے کی بجائے اثاثوں کی بنیاد پہ کاغذی کرنسی چھاپنے کا قانون لایا گیا، اس وقت سے چیزوں کی قیمتیں اوپر چلی گئیں اور بالخصوص رہائشی جائیداد مہنگی ہوتی چلی گئیں اور عام آدمی کیلئے جائیداد خریدنا ناممکن ہوتا چلا گیا۔ دوسری طرف کرائے پہ رہائش رکھنا پڑتی ہے اور مہنگائی کی وجہ سے کرائے بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے عام آدمی کیلئے کرایہ ادا کرنا بھی بہت مشکل ہوتا ہے اور ایسی صورت میں گھر خریدنے کی استطاعت نہیں رہتی۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں بےگھر افراد اور خاندانوں کی تعداد میں ناقابل یقین حد تک اضافہ ہورہا ہے۔ ایک برطانوی رفاہی ادارے کے اشتہار کے مطابق برطانیہ میں ہر گھنٹے میں پانچ خاندان بےگھر ہوجاتے ہیں۔ یہ رفاہی تنظیم ان کی مدد کرنے کیلئے بنی ہے۔ ایک امریکی چینل کے مطابق صرف ٹیکساس میں ساٹھ ہزار لوگ سڑکوں پہ خیموں میں رہتے ہیں۔دنیا کے ترقی یافتہ اور زیادہ آمدنی والے ممالک میں یہ شرح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔

ماہر معاشیات جان مینارڈ کینز کا کہنا تھا کہ"حقیقیت یہی ہے کہ کاغذی کرنسی میں پوشیدہ عیاری اور مکاری کو دس لاکھ لوگوں میں ایک آدمی بھی سمجھ نہیں پاتا۔ موجودہ مالیاتی نظام عین اسی مقصد کو حاصل کرنے کیلئے بنایا گیا تھا”۔

بنجمن ڈی اسرائیلی نے کہا تھا کہ "یہ بڑی اچھی بات ہے کہ ملک کے عوام بینکاری اور مالیاتی نظام کے بارے میں کچھ نہیں جانتے کیونکہ اگر وہ یہ سب کچھ جانتے تو مجھے یقین ہے کہ کل صبح سے پہلے بغاوت ہو جاتی

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!