حزب اختلاف

حزب اختلاف کے معنی ضد، الٹ، مخالفت اور دشمنی کے ہیں۔مغربی جمہوریت میں دھڑے بازی یا جماعت سازی یا گروہ بندی ہوتی ہے۔ پارلیمنٹ میں دو طبقے رکھے جاتے ہیں، ایک حزب اقتدار اور ایک حزب اختلاف۔ جو سیاسی جماعتیں حصول اقتدار میں کامیاب ہوجاتی ہیں، وہ حزب اقتدار کہلاتی ہیں اور جو حزب اقتدار میں نہیں جاتیں، وہ حزب اختلاف کہلاتی ہیں۔ جزب اختلاف  کا کام صرف مخالفت کرنا ہوتا ہے۔ حزب اختلاف اسمبلیوں اور ذرائع ابلاغ میں واویلا مچائے رکھتی ہے اور الزامات، بہتان تراشی کرتی رہتی ہے۔

ہم جن نمائندوں کو چن رہے ہوتے ہیں،  وہ ممبران اسمبلی بھی اپنی متعلقہ جماعت کے محتاج ہیں۔ یہ اسی جمہوریت کے ثمرات ہیں۔  اب حکومت کے پاس کرنے کے دو کام ہی ہوتے ہیں کہ ملک کی بہتری کی کوشش کرنا اور حزب اختلاف کے ہر اعتراض کا جواب موجود ہو اور حکومت کی واہ واہ ہو سکے۔ اب اگر حزب اختلاف زیادہ حاوی ہو تو حکومت کو کام بھی نہیں کرنے دیتی کیونکہ وہ کسی طرح سے حکومت کوختم کرنا چاہتی ہے۔ اس مقصد کیلئے حزب اقتدار یا حزب اختلاف کی جانب سے کوئی تعمیری یا مثبت کام نہیں ہورہا ہوتا بلکہ الزام تراشی، بہتان کا بازار گرم ہوا ہوتا ہے جس میں آج کل ذرائع ابلاغ بہت بڑھ چڑھ کر اپنا کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں اور خبر کے نام پہ عدم استحکام کو فروغ دیا جارہا ہے۔

حکومت تشکیل پانے کے بعد، حزب اختلاف کی سیاسی جماعتیں حکومت مخالف تحریکیں شروع کر دیتی ہیں۔ کہیں  آل پارٹیز کانفرنس ہورہی ہوتی ہیں، جن میں حکومت کی اصلاح مقصود نہیں ہوتی بلکہ حکومت کو ہٹانا مقصود ہوتا ہے۔ جس کا نتیجہ صرف انتشار کی صورت میں برپا ہوتا ہے۔   اس قسم کے احتجاج اور لانگ مارچ کی وجہ سے حکومت جو کچھ کرنا چاہتی ہے تو وہ بھی مکمل توجہ سے نہیں کر پاتی یا پھر ہر معاملے پہ اتنے اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں کہ وہ وضاحتیں ہی دیتے رہتے ہیں۔ حکومت کے عہدیدار اور وزراء  مخالف تحریکوں اور ذرائع ابلاغ پہ آنے والی بحث مباحثے کا جواب دینے میں لگے رہتے ہیں۔ جو کہ وقت کے ضیاع کا باعث بنتا ہے۔ مخالفین جن کے پاس کوئی عہدہ نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ اس شعبے کے ماہر ہوتے ہیں، صرف سیاست کے نام پہ اعتراضات کررہے ہوتے ہیں۔ صرف انتشار اور مخالفت برائے مخالفت کی جاتی ہے۔ پارلیمنٹ جو کہ پورے ملک کیلئے دستور سازی کامرکز ہے، اسے عضو معطل بنایا جاتا ہے۔ کیونکہ یہ ممبران اگر اتفاق رائے سے ملک و قوم کی فلاح کا سوچنے شروع ہوجائیں تو ملک ترقی کی راہ پہ گامزن ہوسکتا ہے۔ اس لئے حزب اختلاف کا ہونا جمہوریت میں ناگزیر ہے تاکہ انتشار اور فسادات ہوتے رہے ہیں۔

سیاسی مخالفت کے پیش نظر عدالت سے ترقیاتی منصوبوں پہ حکم امتناعی لے لیا جاتا ہے اور عدالتی نظام میں تاخیری طریقہ کار کی وجہ سے حالات میں مزید بے یقینی کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ ان منصوبوں کی لاگت میں اضافہ ہوجاتا ہے اور ان منصوبوں کیلئے مختص رقم بھی کسی مصرف میں نہیں آپاتی۔

قانون سازی پہ  سیاسی و مذہبی جماعتیں احتجاج بھی کرنا شروع کردیتی ہیں، جبکہ مجلس شوری  کو اختیار ہے کہ دستور سازی کرے اور  اس قانون کی تشریح کرے۔ موجودہ  منتخب شدہ عوامی اسمبلیاں، دستور سازی میں یہ تمیز نہیں رکھتی کہ کیا ضوابط قرآن و سنت کے مطابق ہی مرتب ہورہے ہیں۔ بلکہ اشرافیہ کی اپنی مرضی  کے مطابق قوانین مرتب کئے جارہے ہیں۔اسمبلیوں  میں موجود ممبران کو اپنے اقتدار کو طول دینے کے راستے چاہئیں  جو کہ دستور سے نکلتے ہیں اور دستور کو وہ جیسے چاہیں تشکیل دینے کا اختیار بھی رکھتے ہیں۔ کوئی ایسا ضابطہ نہیں ہے کہ یہ امر یقینی بنایا جاسکے کہ تمام ضوابط قرآن و سنت کے مطابق ہی مرتب ہورہے ہوں۔ علماء یا اسلامی نظریاتی کونسل کو قرآن و سنت سے ہٹ کر ترامیم کو روکنے کا کوئی اختیار نہیں دیا گیا۔ جس کا سیاستدان بھرپور فائدہ اٹھا لیتے ہیں۔ بالآخر عدالت عظمی میں مقدمے دائر ہوجاتے ہیں اور اس ترمیم کو منسوخ کردیتی ہے۔

اگر حزب اختلاف کا ہونا اتنا ضروری اور مفید ہے تو

 عدالت عالیہ اور عدالت عظمی یا سپریم جوڈیشل کونسل میں حزب اختلاف کیوں موجود نہیں ہوتی؟۔۔۔

فوج کے کورکمانڈرز میں کیوں حزب اختلاف موجود نہیں ہوتی؟۔۔۔

غیرسیاسی انتظامیہ یعنی بیوروکریسی میں کیوں حزب اختلاف موجود نہیں ہوتی؟۔۔۔

 یونیورسٹی یعنی جامعات، کالجز، سکولوں کے پروفیسرز و اساتذہ میں حزب اختلاف کیوں موجود نہیں ہوتی؟۔۔۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!