جنرل پرویز مشرف کا دور

آئینی اور دستوری اصلاحات کا دوسرا موقع 1999ء میں آیا۔ جب اکتوبر 1999ء میں قائم ہونے والی فوجی حکومت نے 1973ء کے دستور کو منسوخ نہیں، معطل کیا۔ پھر سپریم کورٹ نے آئینی کیس میں سربراہِ حکومت کو 1973ء کے دستور میں اصلاح و ترمیم کا اختیار بھی دے دیا تھا۔ اس عدالتی فیصلے کی روشنی میں حکومت پربڑی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی تھی کہ وہ ملک کو مغربی جمہوریت کی تباہ کاریوں سے نجات دلائے۔جس کیلئے دو اقدامات ضروری تھے۔ اولاً یہ کہ انصاری کمیشن رپورٹ کی جو تجاویز 1985ء میں آئین کا حصہ بن چکی ہیں، ان (دفعات ۲؍الف، ۶۲،۶۳) کو سختی کے ساتھ نافذ کر دیا جاتا۔ دوسرے یہ کہ کمیشن کی باقی ماندہ سفارشات پر بھی عمل درآمد شروع کیا جاتا۔ لیکن ایسا کچھ بھی نہ ہوا۔

اکتوبر 2002ء کے انتخابات نئے اور اصلاحی اصولوں پر کرائے جانے کا دعویٰ کیا گیا، تاکہ پاکستانی سیاست  گندگی سے پاک ہوجائے۔ جس کیلئے تمام امیدواروں کی گریجویشن تک تعلیم لازمی ہونا  قرار پائی۔ لیکن یہ بھی ممکن نہ ہوسکا، یہاں تک بے اعتنائی برتی گئی۔ جس کی ایک مثال یہ ہے  کہ ایک فارن سے ڈانسنگ ڈپلومہ کوگریجویشن کے برابر درجہ دے کر امیدوار کو انتخابات میں دھاندلی کے ذریعے کامیاب کروایا گیا۔ کیونکہ اس نے حکومتی حمایت یافتہ جماعت کا ٹکٹ لیاتھا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ڈپلومہ کی ڈگری انٹرمیڈیٹ  کے برابر ہوتی ہے اور دوسرا ڈانسنگ کا ڈپلومہ کرنے کیلئے پڑھائی لکھائی ضروری تو نہیں ہے۔

جنرل پرویزمشرف کے ہی دور میں پاکستان میں تنظیم الاخوان پاکستان کی خیمہ بستی کے نتیجے میں مکمل اسلامی نظام حکومت کا حکومت نے وعدہ کیا اور معاشی نظام کو اسلامی کرنے سے ابتدا کی گئی۔ اسلامی نظام سیاست و معیشت کی جانب تو کوئی پیش رفت نہ ہوسکی لیکن پاکستان میں اسلامی قوانین کے مطابق بینکنگ کا آغاز ہوا جو کہ اسلامی بینکنگ پہ وسیع تحقیق  کا سبب بنا۔ لیکن صاحبان اقتدار و اختیاران کی بےاعتنائی کا نتیجہ ہے کہ اب تک  بدستور ایسے ہی متوازی طور پر دو بینکنگ نظام  چل رہے ہیں۔

اسی دور حکومت میں اسلامی اقدار اور اصولوں کو پس پشت ڈالا گیا اور معاملہ یہاں تک چلا گیا کہ لال مسجد کےباشندے، اسلامی نظام کے نفاذ کا مطالبہ کرتے کرتے شہید ہوگئے اور پرویز مشرف نے دہشتگردی کا پروپیگنڈہ کرتے ہوئے، مسجد و مدرسہ کو خون آلود کردیا۔ پرویز مشرف کے دور میں ہی محافل موسیقی اور مخلوط محافل اور سرگرمیوں میں اضافہ ہوا۔

برقی ذرائع ابلاغ کے آغاز کے بعد ذرائع ابلاغ نے پاکستانیوں کووطن عزیز کے معرض وجود میں آنے کا مقصد ہی بھولا دیا ہے۔ یہاں تک کہ پاکستان کی تمام جمہوری اور مذہبی سیاسی جماعتیں،  اس مقصد کو فراموش کرکے آزاد خیال اور مغربی طرز حکمرانی، جمہوریت کو مضبوط کرکے اقتدار میں آنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہیں۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!