جنرل ضیاء الحق کے بعد جمہوری ادوار

نظام حکومت کو اسلامی طرز پہ کرنے کا معاملہ، جنرل ضیاء الحق کی شہادت کے بعد کھٹائی میں ڈال دیا گیا۔ جنرل ضیاء الحق کی شہادت کی سازش کی وجہ انصاری کمیشن رپورٹ کے نفاذ کا اعلان بھی قرار دیا جاتا ہے۔  1988ء سے 1999ء تک چار مرتبہ انتخابات ہوئے اور چار حکومتیں قائم ہوئیں مگر 1985ء کی آئینی ترمیماتِ اسلامی پر عمل نہیں کیا گیا۔ ہر جمہوری دور میں مختلف مذہبی حلقے اسلامی نظام حکومت کے نفاذ کا مطالبہ کرتے رہے۔  ہر دور کے انتخابات کے دوران خلافت راشدہ کے نظام کے نفاذ کا وعدہ مسلم لیگ نے کیا اور قانون سازی کے ذریعے کوششیں بھی کی گئیں ۔لیکن وہ کوششیں متنازعہ ہی رہیں۔ یہاں تک کہ وفاقی شرعی عدالت سے سود کو ختم کرنے کا حکم آیا تو سپریم کورٹ میں سود پہ حکم امتناعی لینے میں یا سود کے خاتمے کیلئے مہلت لینے میں جمہوری حکومتیں پیچھے نہ رہیں اور مقدمے کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے عدالت عظمی سےملتوی بھی ہوتی رہیں۔ مسلم لیگ کے دور میں ہی شریعت بل کے نام پہ جو قانون پاس کیا جا رہا تھا ، وہ بھی متنازعہ تھاکہ ملک کا اعلی قانون قرآن و سنت ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کسی دوسرے قانون کو بھی مان رہے ہیں، خواہ ادنی حیثیت میں ہی تسلیم کیاجارہا ہے۔ یعنی ملک میں دو قانون ہوں گے۔ جو کہ اسلام کے تعلیم کردہ اصولوں کے خلاف ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ اسلامی نظام حکومت کی کوششیں ارباب اختیار و ارباب اقتدار نے کامیاب نہ ہونے دیں۔ لہٰذا ان حکومتوں کا نتیجہ بھی ماضی کی طرح نکلا اور مضبوط دستور نہ ہونے کی وجہ سے ملک میں سیاسی افراتفری ہی مچی رہی۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!