جنرل ضیاء الحق کا دور

1979ء میں صدر جنرل ضیا ء الحق نے اسلامی نظریاتی کونسل سے کہا کہ وہ عصر حاضر کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اسلامی نظام سیاست کا خاکہ بنا کر پیش کرے۔ کونسل نے اپنی دو رپورٹیں حکومت کو پیش کیں۔ حکومت نے کونسل کی سفارشات کی آخری رپورٹ ملتے ہی اسے جون 1983ء میں شائع کردیا۔ جس میں مغربی جمہوریت کے سیاسی جماعتی نظام اور جماعتی انتخابات کو ناجائز قرار دیا گیا اور اسلام کا شورائی نظام اور شرائط ِاہلیت و تقویٰ کے ساتھ انتخابات تجویز کئے گئے۔ 1983ء میں اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارش کہ مروّجہ جماعتی انتخابات کے بجائے معیارِ کردار کی بنیاد پر غیرجماعتی انتخابات کا اہتمام کیا جائے، کے بعد صدر جنرل محمد ضیاء الحق نے10جولائی1983ء بمطابق ۲۸رمضان المبارک۱۴۰۳ھ کو ایک کمیشن کی تشکیل کا اعلان کیا۔ اس کمیشن کو یہ کام سپرد کیا گیا کہ وہ نظامِ حکومت کے متعلق کمیٹیوں اور اداروں کی طرف سے موصول ہونے والی تجاویز کا بغور جائزہ لے اور ملکی حالات اور  مفادات کو ملحوظ رکھتے ہوئے، قابلِ عمل تجاویز مرتب کرے او اپنی سفارشات میں نظم مملکت کا ایک اسلامی دستوری ماڈل صدر پاکستان کو 31جولائی 1983ء تک پیش کردے تاکہ وہ حسبِ وعدہ 14اگست 1983ء تک قوم کے سامنے ملک کے آئندہ سیاسی نظام کا خاکہ پیش کرسکیں۔ اس دستوری کمیشن میں مولانا ظفراحمد انصاری جیسے کہنہ مشق ماہر دستوریات کی سربراہی میں بیس رکنی دستوری کمیشن میں اعلیٰ عدالتوں کے جج صاحبان، قانون دان حضرات اور عہد ِجدید کے جید علما شامل کئے گئے۔یہ اہم کام کمیشن نے 18 روز کی قلیل مدت میں انجام  دیا کیونکہ اس پہ بہت سا کام پہلے ہوچکا تھا اور صدرِ مملکت کو اپنی رپورٹ پیش کردی۔ جو حکومت نے اگست 1983ء میں شائع بھی کردی۔

انصاری کمیشن رپورٹ میں نہ صرف یہ کہ قراردادِ مقاصد 1949ء اور معروف علماء کے 22 نکات 1951ء شامل ہیں۔ بلکہ ان ہی تاریخی دستاویزات کی بنیاد پر اسلامی نظم مملکت کا آئینی و عملی ماڈل پیش کیا گیا ہے۔ انصاری کمیشن نے مغرب کے تینوں قسم کے سیاسی نظام یعنی پارلیمانی، صدارتی اور پارلیمانی صدارتی ملے جلے نظام میں سے ہر ایک کو ٹھوس حقائق و دلائل کے ساتھ ناقابل قبول اور ناقابل تقلید قرار دیا اور پاکستان کیلئے "شورائی امارت” کا اسلامی نظام تجویز کیا۔ 1985ء میں صدر محمد ضیاء الحق نے انصاری کمیشن کی دو اہم ترین سفارشات کو آئین پاکستان 1973ء میں شامل کردیا۔ اولاً یہ کہ قرار دادِ مقاصد کو آئین کے دیباچے کے ساتھ آئین کے متن میں درج کردیا۔ اور دوسرا  یہ کہ عوام کے منتخب نمائندوں کیلئے اسلامی معیار صلاحیت وصالحیت یعنی دفعات 62 اور 63 مقرر کردیا گیا۔

1983ء کے اواخر میں عالم اسلام کی عالمگیر تنظیم رابطہ عالم اسلامی کے سربراہ استاذ عبداللہ عمر النصیف پاکستان کے دورے پر آئے تو ورلڈ اسلامک ٹائمز اسلام آباد نے ان سے ایک انٹرویو لیا۔ اپنے انٹرویو میں مفصل و مدلل طور سے بتایا کہ ازروئے قرآن وسنت کسی اسلامی ریاست میں مغرب کی سیاسی پارٹی بندی اور جنگ ِاقتدار کیلئے لام بندی انتہائی مہلک ہے۔

جنرل ضیاء الحق کے دور اقتدار میں بلاشبہ بہت سے ریاستی امور کو اسلامی کیا گیا۔ ملک میں شرعی قوانین کے نفاذ اور ان پر عملدرآمد کیلئے جنرل ضیاء الحق نے 2 دسمبر1978ءکو ایک فرمان جاری کیا جس کی رو سے ملک کی اعلیٰ عدالتوں میں شریعت بنچ قائم کئے گئے اور سپریم کورٹ میں ایک شریعت اپیل بنچ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ بعدازاں27مئی 1980ءکو صوبائی سطح پر شریعت بنچوں کی بجائے ملک میں ایک مکمل وفاقی شرعی عدالت قائم کی گئی جس میں عدلیہ کے معزز ارکان کے علاوہ ایسےممتاز علمائے دین کا تقرر بھی کیا گیا جو اسلامی قوانین میں اعلیٰ مہارت رکھتے تھے۔ وفاقی شرعی عدالت کے روبرو کوئی بھی شخص اسلامی قوانین کے تحت انصاف حاصل کرنے کیلئے بغیر کسی عدالتی خرچ کے پیش ہو سکتا۔ حدود آرڈیننس کے تحت نچلی عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف صرف عدالت عظمی کے شریعت بنچ میں اپیل دائر کی جا سکتی ہے۔ عدالت عظمی کے اس بنچ میں بھی ملک کے دو ممتاز علماءبطور جج شامل ہو تے ہیں۔جنرل ضیاء الحق کے دور میں کئے گئے اسلامی نظام کے نفاذ کے  کام کی مختصر تفصیل پیش خدمت ہے۔

  • حد قذف کے قانون کا نفاذ۔
  • حد زنا کے قانون کا نفاذ۔
  • حرابہ ( حد ڈاکہ ) کے قانون کا نفاذ۔
  • حد سرقہ کے قانون کا نفاذ۔
  • اسلامی قانون شریعت کا نفاذ۔
  • نظام صلوۃ کی ترویج اور دفاتر میں اسکے قیام کی کوشش۔ جس کی وجہ سے سرکاری دفاتر ، ایوان صدر اور مسلح افواج کے میس کہلانے والے اداروں میں باقاعدہ نماز باجماعت ادا کی جانے لگی۔
  • زکوۃ کی تقسیم کے نظام کا قیام یعنی محکمہ بیت المال۔
  • شریعت کورٹ کا قیام۔
  • اسلام آباد میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کا قیام۔
  • سرکاری رہائش گاہوں اور سرکاری تقاریب اور میسوں کو شراب نوشی اور فواحش سے پاک کرنا۔
  • دینی مدارس کی سندات کو ملک کی عام یونیورسٹی، کالجوں کی سندات کے ہم پلہ قرار دینا اور ان کیلئے سرکاری ملازمت کے دروازے کھولنا۔
  • ہوائی جہازوں کو اپنی پروازیں مسنونہ دعا سے شروع کرنے کا پابند بنانا اور پی آئی اے کی غیر ملکی پروازوں میں بھی شراب نوشی سے مہمان نوازی بند کرنا۔
  • سرکاری سطح پر سیرت کمیٹیوں کا قیام اور انکے تحت بین الاقوامی سطح پر سیرت کانفرنسوں کا انعقاد۔
  • سیرت نبوی ﷺ پر ملک کی مختلف زبانوں میں لکھی جانے والی بہترین کتب پر صدارتی ایوارڈ دینا۔
  • قومی زبان اور لباس کو اندرون اور بیرون ملک میں اس کا اصل مقام دینا جب بڑھتے ہوئے پینٹ شرٹ کی جگہ سرکاری دفاتر اور تقاریب میں قومی لباس اور زبان کو دوبارہ عام کیا گیا یہاں تک کہ غیر ملکی مہمانوں کے اعزاز میں دئیے گئے عشائیوں وغیرہ میں بھی صدر مملکت کی تقاریر قومی زبان اردو میں کی جانے لگیں جیسا کہ ہر غیرت مند قوم کا طریقہ ہے۔
  • سرکاری ذرائع ابلاغ ( ٹی وی، ریڈیو اور پریس ٹرسٹ ) کو صریحاً لاقانونیت اور خلاف اسلام باتوں سے روک کر اسلامی اور پاکستانی نظریاتی حدود کا پابند بنانے کی کوشش کرنا۔
  • سود کے خاتمے کی پہلی عملی کوشش اور پاکستانی بینکوں میں بلاسود کھاتوں کا آغاز ۔ اس سلسلے میں سکالرز اور دانشوروں کو دعوت دی گئی کہ ایک متبادل اسلامی معاشی نظام کا خاکہ تیار کریں جس پر اس وقت لکھے گئے تحقیقی مقالوں کو دنیا بھر میں شہرت ملی۔
  • جہاد اور فلسفہ جہاد کو دوبارہ زندہ کرتے ہوئے دنیا کی ایک بڑی حملہ آور قوت "روس” کو شکست دی۔ بعض سکالرز کے نزدیک یہ عالم اسلام کی قریباً 800 سال بعد بہت ہی بڑی فتح تھی۔ جس میں کم از کم نصف درجن سے زائد اسلامی ممالک کو آزادی ملی۔
  • بتدریج بڑھتی ہوئی فحاشی و عریانی کو روکا  ہی نہیں بلکہ اس میں بتدریج کمی لائی گئی۔ جس پہ  دانشوروں نے تبصرہ کیا کہ ” ضیاء نے پائل کی جھنکار کا گلہ گھونٹ دیا ضیاء ظالم اور سفا ک ہے”۔
  • سرکاری تقاریب کا آغاز تلاوت کلام پاک اور نعت سے حتی کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی جنرل ضیاء نے اپنی تقریر کا آغاز تلاوت قرآن سے کیا جسکی آواز پوری دنیا میں گونج اٹھی۔
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد

پاکستان میں اسلامی اقدار اور قوانین کے فروغ کی عملی کوششیں جنرل ضیاءالحق کے دور میں کی گئیں۔ لیکن مکمل اسلامی نظام حکومت کے نفاذ کے مرحلے تک نہ پہنچ سکیں۔ حکومت میں باصلاحیت اور اسلام سے بہرور افرادی قوت  کےلئے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کاقیام بھی بہت بڑا اقدام تھا۔ جس میں داخل ہونے والے ہر طالبعلم کوعربی زبان پہ  عبور حاصل کرنا ضروری تھا اور ہر طالبعلم کیلئے سورۃ البقرہ حفظ کرنا ، لازمی قرار دیا گیا۔ سورۃ البقرہ میں ہی اکثریتی مسائل اور ان کے متعلق احکامات موجودہیں۔  اس ادارے سے فارغ التحصیل قابل لوگوں کو باقاعدہ مختلف محکموں میں بھرتی کرکے ان سے حکومتی نظام کو چلانے کا فیصلہ قابل ستائش تھا۔ اسلامی یونیورسٹی کے فارغ التحصیل، عام طرز تعلیم کے حامل لوگوں کے ساتھ مل کرحکومتی نظام کو چلانے کےاہل بھی تھے اور تبدیلی لانے کی اہلیت بھی رکھتے تھے۔ اس یونیورسٹی میں داخل ہونے والے طالبعلم بلاشبہ ، ذہین ترین طلباء میں شمار ہوتے تھے۔ باقی تمام شعبوں میں بھی اسلامی تعلیمات میں تحقیق کیلئے ان طلباء کو پوری دنیا سے بہترین اساتذہ کی سرپرستی حاصل رہی۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی ایک عظیم  اسلامی نظریاتی درسگاہ کے طور پہ بنیاد رکھی گئی تھی۔

جنرل ضیاء الحق شہید نے فوج کو جذبہ جہاد اجاگر کرنے کے علاوہ، اسلام کے ساتھ تعلق جوڑنے کیلئے درج ذیل اقدامات کئے گئے۔

  • پاک فوج کا نعرہ ایمان ، تقوی اور جہاد فی سبیل اللہ  بھی اسی دور میں دیا گیا۔
  • ہر فوجی چھاؤ نی میں مساجد تیار کروائیں اور فوج کے خطیبوں کے انتخاب میں اچھے تعلیمی اداروں کے فارغ التحصیل علماءکو ترجیح دینا نیز مذہبی اساتذہ کو فوج میں باعزت مقام دیا۔
  • مسلح افواج کے دفاتر میں باقاعدہ نماز باجماعت کا اہتمام کرنا۔
  • فوجی میسوں کو شراب نوشی اور فواحش سے پاک کیا۔
  • پاک فوج کا نعرہ ایمان ، تقوی اور جہاد فی سبیل اللہ اسی دور میں دیا گیا۔
  • پاکستان کی مسلح افوج میں داڑھی رکھنے پر لگی رکاوٹوں اور پابندیوں کو ختم کر دیا گیا۔
  • فوجی یونٹوں میں لگائے جانے والے تمام مختلف نعرے ختم کراکے صرف اور صرف نعرہ تکبیر لگانے کا حکم دیا اور ہر تقریب کے آخر میں تین مرتبہ اللہ اکبر اور ایک مرتبہ پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگوایا۔ جو آج تک قائم ہے اور پاکستان آرمی کے احکامات میں موجود ہیں۔

 ایک دفعہ جنرل ضیاء الحق نے کہا۔

"میں نے نظام اسلام نافذ کرنے کا وعدہ کیا اور بار بار کیا اور اس کیلئے اپنی سی کوششیں بھی کیں اور میں اسکا اعتراف کرتا ہوں کہ میں اس میں ناکام رہا "

جنرل ضیاءالحق کا یہ اعتراف میاں محمد طفیل نے ہفت روزہ ” سیاسی لوگ "میں شائع کیا گیا۔ اس کے باوجود میاں محمد طفیل اعتراف کرتے ہیں کہ جنرل ضیاء الحق نے اکیلے اپنے دور میں باوجود تمام تر مشکلات اور اختلافات کے نفاذ اسلام کیلئے جتنا کام کیا اسکا دسواں حصہ بھی اس سے پہلے اور بعد کی آنی والی تمام سیاسی و غیر سیاسی حکومتیں اور تمام مذہبی جماعتیں بھی ملکر نہ کر سکیں۔  جنرل ضیاء الحق وطن عزیز  پہ  اسلامی نظام حکومت نافذ نہ کر سکے لیکن جنرل ضیاء الحق نے  کہا تھا کہ

"میں اگر اسلامی نظام نافذ نہ بھی کر سکا تب بھی اتنا ضرور کر جاؤں گا کہ اسکے بعد کسی کیلئے وہاں سے واپسی ممکن نہ ہوگی”

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!