جمہوری سیاسی جماعتیں

موجودہ دور میں دنیا بھر میں سیاسی جماعتیں، حکومتوں پہ اثر انداز ہوتی ہیں۔ یہ  جماعتیں بھی مغربی جمہوریت کا ہی عطیہ ہیں۔ سیاسی جماعتیں عوام میں ایک اثر و رسوخ بنا لیتی ہیں۔ جس کے ذریعے احتجاج، لانگ مارچ، دھرنا اور ذرائع ابلاغ اور ووٹ ان کا سب سے بڑا آلہ کار ہوتے ہیں۔ ان  آلہ کار کے ذریعے یہ اپنے مطالبات منواتے ہیں۔

جمہوری سیاسی جماعتیں خالصتا مغربانہ نظریہ جمہوریت  کی پیداوار ہیں۔ جمہوری سیاسی جماعتوں کو عوامی نمائندگی کا نام دیا جاتا ہےجو کہ ایک سراب ہے۔ مختلف تجزئیے اور سروے اور اعداد و شمار یہ بتاتے ہیں کہ زیادہ تر لوگ اپنا حق رائے دہی استعمال ہی نہیں کرتے تو یہ جماعتیں اور سیاستدان کیسے عوامی نمائندہ ہوگئے۔ حقیقت یہی ہے کہ مغربی جمہوریت کے نظریات کو اب  تشہیر اور پروپیگنڈہ کے ذریعے زندہ رکھا گیا ہے۔ عملی طور پہ مغربی جمہوریت کا عوامی نمائندگان کے ذریعے عوام کی حکومت کا نظریہ بری طرح ناکام ہوچکا ہے۔

اگر کوئی سیاسی جماعت  کسی ایک صوبے میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوجائے جو وفاق کی برسراقتدار جماعت کی مخالف ہو تو بجائے وفاق اور دیگر صوبوں کے ساتھ ہم آہنگ یا مل کر چلنے کے وہ حکومت مخالف اقدامات کرنا شروع کردیتی ہے۔ جو کہ نہ صرف فساد و انتشار کا باعث بنتا ہے بلکہ ریاست کا نقصان بھی ہوتاہے۔  پاکستان میں ہی ایک صوبے سے نکلنے والے لانگ مارچ کے دوران صوبائی تعصب کو ہوا دینے کی کوشش کی گئی۔ پاکستان میں ہی دو مرتبہ دھرنوں کے دوران باقاعدہ ایک صوبے کا وزیراعلی قافلے کے ساتھ وفاقی حکومت کے خلاف احتجاج میں شریک ہوا۔ پھر ا سی وزیر اعلی نے دوسرے دھرنے میں پورا قافلہ لے کر اسلام آباد کی طرف مارچ کیا اور دوسرے صوبےنے احتجاج کو روکنے کیلئے طاقت کا استعمال کیا۔ جس سے دونوں صوبوں کی پولیس کے درمیان تصادم بھی ہوا۔ یہاں وفاق، اکائی کی علامت کے طور پر نظر ہی نہیں  آیا اور یہ سب کچھ صرف موجودہ جمہوری سیاسی جماعتوں کی وجہ سے ہی ہوا۔

سیاسی جماعتوں کے سربراہان، عہدیداران  اور ممبران سٹیج اور ذرائع ابلاغ پہ آ کر دعوے کرتے ہیں ، الزام لگاتے ہیں اور بہتان لگاتے ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں۔ جبکہ بہتان بہت بڑا گناہ  ہے اور اسلامی قوانین کے تحت قابل تعزیر جرم ہے۔  جو کہ آج کی سیاست میں عام ہے۔  جب کہیں مواخذہ ہوگیا تو کہہ دیا کہ یہ سیاسی بیان تھا۔ گویا عوام کو دھوکہ دینا، جھوٹ بولنا، الزام لگانا، بہتان تراشی کرنا، دوسروں کو بدنام کرنا آج کل سیاست ہے۔ "یوٹرن "، "چور” جیسے خطابات بھی مشہور ہوئے اور  "Go ABC Go” جیسے نعرے  عوام میں مقبول کئے گئے۔ بد اخلاقی کرنا بھی مغربی جمہوریت ہے۔

جمہوری سیاسی جماعتیں اپنے کارکنان سے مالی معاونت تو لیتی ہیں مگر کچھ سیاسی جماعتیں سرمایہ کاروں کو ملوث کرتی ہیں اور حکومت میں آنے کے بعد ان کو نوازتی ہیں۔ کارکنان سے لئے گئے فنڈز کو بے دریغ سیاسی جماعت کے سربراہان  کو استعمال کرنے کا حق دیا جاتا ہے۔ فنڈز میں بے قاعدگیاں ایک الگ مسئلہ ہے۔ سیاسی جماعتیں غیرملکیوں سے فنڈز لینے میں بھی ملوث ہوتی ہیں۔  وہ فنڈز  کسی فرد یا کسی نیٹ ورک کے ذریعے سیاسی جماعتوں کو دئیے جاتے ہیں اور پھر ان ایجنسیوں، افراد کے مقاصد پورے کئے جاتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں  کے انتخابات کے دوران رشوت ستانی اور جعلی ووٹ ڈالنے، بے ضابطگیاں، یہ سب کچھ مغربی جمہوریت کی مہربانیاں ہیں۔

جو مسلمان اسلامی ریاست کی حفاظت کرتے ہوئے یا دشمن سے لڑتے ہوئے قتل ہوجائے، اسے اسلام میں شہید کہا گیا ہے۔ احادیث مبارکہ میں یہاں تک ہے کہ جو بندہ اللہ کےدین پہ عمل کرتا ہوا، حادثاتی موت فوت ہوجائے، وہ بھی شہید ہے۔ کیونکہ معاشرے میں رہ کر دین پہ عمل کرنا بھی جہادہےاور میدان جنگ میں دشمن کے خلاف برسرپیکار ہونا بھی جہاد ہے۔ایک مسلمان نماز، روزہ، زکوۃ، اخلاقیات، معاملات میں دین کے مطابق زندگی گزار رہاہے ۔ اب وہ کسی حادثہ یا اپنے عزت، جان، مال کی حفاظت کرنےکے دوران موت کے منہ میں چلا جاتا ہے تو وہ شہید  ہے۔ دونوں کا الگ الگ درجہ ہے اور احادیث میں ان کی فضیلت بھی بیان کی گئی ہے۔  لیکن ہم ظلمت کی اتھاہ گہرائیوں میں اتنا گرتے جارہے ہیں کہ ہم نے شرعی اصطلاحات کو بھی اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنا شروع کردیا اور "شہیدجمہوریت” کے خطابات سے نوازا  جاتا ہے۔ یعنی مغربی جمہوریت عقائد کو بگاڑنے کا کام بھی کررہی ہے۔

"سب چاہتے ہیں کہ مرنے کے بعد ہم جنت میں مزے کریں، لیکن اسلام پہ عمل نہیں کرتے”

اب تک کے جمہوری سیاسی جماعتوں اور ان  کے عہدیداران کے کرداروں پہ غور کرنے سے اور تجربات سے یہی نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ سیاسی جماعتیں نہیں ہونی چاہئے۔ ان کے کردار سے قومی اوربین الاقوامی سطح پہ مثبت نتائج نہیں نکلے۔ جماعتی سیاست نہ ہو تو لوگ خالصتاً صلاحیت اور دیانت کو دیکھ کر رائے دیں۔ بلکہ مصر کی جماعت "الاخوان المسلمین” کے رہنما تو اس حد تک کہہ گئے کہ جمہوریت اور جمہوری سیاسی جماعتیں، ملک کیلئے زہر قاتل ہیں۔ امت مسلمہ کو ایک ایک قوم، ایک جسم کی مانند رہنا چاہئے اور اسلامی ریاست کا وفادار ہونا چاہئے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!