جمہوری سیاستدانوں کا کردار

جمہوری سیاسی جماعتوں اور ان کے رہنماؤں کا دم خم کارکنان و ممبران سے ہوتا ہے۔ یہ جمہوری سیاستدان کبھی کسی جمہوری جماعت میں ہوتے ہیں اور کبھی کسی جمہوری جماعت میں چلے جاتے ہیں۔ یہ سب  صرف ذاتی مقاصد کیلئے ہوتا ہے۔ سیاستدانوں کا معیار ان کا علاقے میں اثر و رسوخ، بدمعاشی، بیوروکریسی، فوج یا عدلیہ میں رشتہ داریاں یا تعلقات ہی ہوتا ہے۔ ان سیاستدانوں  میں سے اکثریت کی تعلیم اور تجربہ بہت کم ہوتا ہے۔ پاکستان میں ان سیاسی جماعتوں کے سربراہان تک کو بین الاقوامی سیاست، بین الاقوامی جغرافیہ یا قومی جغرافیہ، آئین، محکمانہ قواعد و ضوابط، خارجہ امور، دفاعی، عسکری، داخلہ کے امور، اقتصادیات، تعلیم، صحت وغیرہ کا علم نہیں ہوتا۔ لیکن ان  کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ یہ جمہوری سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں اور عوامی نمائندہ ہیں۔

ویسے بھی اب زیادہ تر جمہوری سیاسی جماعتوں کے ممبران و کارکنان انتشار اور بدنظمی اور بدامنی پھیلانے کیلئے استعمال ہوتے ہیں۔ حکومتی اکھاڑ بچھاڑ میں ان سیاستدانوں کا کردار ہوتا ہے۔ اب اس کیلئے ملک مخالف اور حکومتی ایجنسیاں سرگرم ہوتی ہیں۔ اعلی  عہدوں کے افراد ان ایجنسیوں سے تنخواہیں اور مراعات لیتے ہیں اور ملکی و غیرملکی ایجنسیاں انھی سیاسی افراد کے ذریعے اپنے مفادات حاصل کرتی ہیں۔ اب تو حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ اکثر جماعتوں کے سربراہان ہی ایجنسیوں کے دام میں آچکے ہیں۔ ان کے ذریعے، ریاستی معاملات کو چلایا جاتا ہے یا عدم استحکام کی صورتحال پیدا کی جاتی ہے۔ ایسی ہی کچھ جمہوری جماعتیں علیحدگی پسند تحریکوں کو جنم دینے کا باعث بنتی ہیں۔ جس کا نتیجہ کسی ریاست یا عوام کی فلاح کے حق میں نہیں آتا۔

اراکین اسمبلی، اپنی اپنی سیاسی جماعتوں کے مرہون منت ہوتے ہیں۔ جو اراکین اسمبلی تعلیم یافتہ، سیانے اور تجربہ کار ہوتے ہیں، ان کی تعداد انتہائی کم ہوتی ہے۔ ایسے افراد کی سیاسی جماعتوں کو بھی ضرورت ہوتی ہے لیکن اراکین کی اکثریت سیاسی جماعت کی جانب سے "ہاں اور نہیں” کے اشارے کی منتظر ہی رہتی ہے۔ان کی وفاداریاں بدلنے میں بیرونی اور اندرونی خفیہ طاقتیں بھی کردار ادا کرتی ہیں۔یہ وفاداریاں، وطن عزیز کے مفاد یا نظریات کے تحت نہیں ہوتیں۔ جمہوریت میں ان کے سب اغراض  اپنے مفادات کی حد تک ہوتی ہیں۔ اپنا اثر و رسوخ کو استعمال کرکے اپنے کاروبار کو وسعت دینا، ترقیاتی کاموں کیلئےرقوم  کا اجراء یا اپنے علاقے کے  لوگوں کو ملازمتیں دلوانا، ترقیاتی کاموں کی رقوم سے  کمیشن لینا۔ حکومت کی آمدن کا پیسہ قوم کے خون پسینے کی کمائی سے حاصل کیا جاتا ہے لیکن برسر اقتدار  سیاسی جماعتیں انھیں اپنے اغراض و مقاصد کو پوراکرنے اور تشہیر کیلئے استعمال کرتی ہیں۔

سیاسی جماعتوں کے حامی اپنے رہنماؤں کی بات کرتے ہیں اور ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں، خواہ وہ ملک توڑنے کی بات ہی کریں۔ خواہ انتشار یا فساد کی بات کریں۔ ان کارکنان نے اپنے رہنماؤں کا ہی دفاع کرنا ہوتا ہے۔ جمہوریت کا مطلب ہے دوسری جماعت کی "مخالفت”۔  دوسرے کے خلاف کوئی جواز ہو یا نہ ہو لیکن مخالفت اور نفی ہی کرنی ہے۔ اگر غور کریں تو سیاسی نظام میں آئے ہوئے  لوگ فرعون یا کم ازکم درجے میں آمر بنے بیٹھے ہیں۔ جبکہ ان کے پیروکار بھی انھی کی اندھی تقلید کرتے ہیں۔ سب خود پسندی اور ذاتی مفادات کا شکارہیں۔ جس کی وجہ سے بھی انتشار کی منفی سیاست ہوتی رہتی ہے۔

سیاستدان یا سیاسی رہنما یا صاحب اختیار/بیوروکریٹ یا فوجی افسر یا جج یا کوئی  متاثر کن شخصیت بیرون ملک  خفیہ اداروں کو مدد پہنچا رہی  ہو پھر بھی حکومت ان لوگوں کو گرفت میں نہیں لا پاتی ہے۔ اس کی وجہ بھی یہی جماعتیں ہیں۔ کیونکہ قانون کے ذریعے  ایسا کوئی قانون یا نظام ہی نہیں ہے کہ ریاست دشمن  عناصر کو پکڑا جاسکے  اور انصاف کے کٹہرے میں لایا جاسکے۔ اگر ایسا کچھ ہو جائے تو چونکہ یہ لوگ انھی سیاسی جماعتوں کے اچھے عہدوں پہ ہوتے ہیں اور سیاسی جماعتیں احتجاج کا رستہ اختیار کرلیتی ہیں اور  احتجاج کے ذریعے ریاست کو ضرور نقصان پہنچانا ان کا جمہوری حق ہے۔

پاکستان میں موجودہ نظام کے ذریعے اقتدار میں آنے کے خواہاں بہت سے لوگ ہیں اور سب کچھ نیا کرنے کا عزم لئے ہوئے، سیاسی جوڑ توڑ میں مصروف ہیں۔ یہاں تک کہ غیرمسلم اورملک دشمن گروہوں سے حمایت تک مانگی جاتی ہے اور یقین دلایا جاتا ہے کہ آپ کے حقوق کا خیال کریں گے۔ عوام کی اکثریت پھر بھی یہ سمجھ نہیں پاتی کہ کونسا لیڈر ہمیں کہاں لے کر جارہا ہے؟۔۔۔ سیاستدانوں پہ زنا کاری کا جرم ثابت ہوچکا ہے۔ لیکن قانون  موجود ہونے کے باوجود انتخابات میں حصہ لینے سے نہیں روکا جاتا اور اس کو ذاتی فعل قرار دیا جاتا ہے۔ پاکستان میں کچھ سیاستدان  ایسے بھی ہیں جو کہ بیرون ممالک کی شہریت بھی رکھتے ہیں اور یہاں سیاسی جماعت  چلاتے ہیں۔ امور ریاست میں مداخلت کا باعث بنتے ہیں۔ غیرمسلم ملک کے قوانین کی پاسداری کا حلف اٹھا رکھا ہے، جو کہ میں ذاتی حیثیت میں کسی طور جائز نہیں سمجھتا۔ ٹھیک ہے کہ وہ انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے، کیونکہ دستور کے مطابق دہری شہریت کا حامل فرد،  انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتا۔ لیکن ان کو سیاست اور امور ریاست میں مداخلت سے روکنے کیلئے کوئی قانون نہیں ہے۔

مغربی جمہوریت میں سربراہان مملکت اپنے  اور اپنے ساتھی کیلئےجو ہوسکے وہ کر گزرتے ہیں۔ سیاستدان اکثر جھوٹ بولتے ہیں،گالیاں دیتےہیں۔ جلسوں میں ناچ گانا ہوتا ہے۔اور تو اور کچھ جماعتیں اپنے کارکنان کی ایسی تربیت کرتی ہیں کہ اگر سچ بات ان کے رہنما کے خلاف ہو تو گالیا ں نکالتے ہیں۔ سماجی ذرائع ابلاغ گالیوں سے بھرا ہوا ہے، پھر جھوٹ اور غیر مصدقہ خبروں  اور بہتان کو عام کرنے کا رواج بھی آج کل کے سماجی اور برقی ذرائع ابلاغ پہ عام ہے، جس کیلئے ہر ایک سیاسی جماعت کے سماجی ذرائع ابلاغ گروپ کام کررہے ہیں۔ جس کا مقصد بد اعتمادی کی فضا کو بڑھانا ہے اور ملک کو عدم استحکام کی طرف لے جانا ہے۔

یونس الگوہرجو کہ بھارت میں جا کر پنڈتوں کے روپ میں اپنی پوجا کرواتا ہے۔ پاکستان میں اس پہ  مقدمات قائم ہیں۔ اس کے ویڈیو بیانات توہین آمیز اور مغلظات سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ ان سب  افراد کی جماعتیں پاکستان میں کام کررہی ہیں، کوئی روکنے والا نظام یا قانون نہیں ہے۔ پاکستان کی ہی جمہوری سیاسی جماعت کے سربراہ کے ساتھ مل کر برطانیہ میں ہونے والے انتخابات میں مسلمان امیدوار کے خلاف ایک یہودی کیلئے ووٹ مانگتے رہے لیکن اس کے باوجود مغربی جمہوریت میں ایسی تمام متنازعہ شخصیات کو کسی قانون کے تحت گرفت میں نہیں لایا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ اور بہت سے واقعات اور حقائق پہ مشتمل مختلف کتابیں دستیاب ہیں۔ جو کہ سیاستدانوں کے کردار اور شخصیت کی تصویر کشی کرتی ہیں، تاریخ بیان کرتی ہیں۔

ایک دفعہ بلدیاتی انتخابات کے دوران، پاکستان کے شہر پھالیہ، میں  امیدواران سے کلمہ طیبہ اور نماز کے متعلق پوچھا گیا تو ان کو پہلا کلمہ تک نہ آیااور ایک بزرگ سیاستدان، سابق وزیر قانون پنجاب، حاجی امان اللہ لک مرحوم کو ذمہ داری دی گئی کہ انھیں کلمہ  یاد کروائیں، تاکہ ان کے کاغذات نامزدگی منظور کئے جائیں۔ جبکہ ان کو انتخابات کیلئے نااہل قرار دے دینا چاہئے تھا۔ نماز پنجگانہ تو درکنار ، جمعہ پڑھنے نہیں جاتے ۔ قومی اور صوبائی  اسمبلیان کے اکثر امیدواران کی حالت بھی اس سے مختلف نہیں ہوتی۔

تجربات اور نتائج سے  ثابت ہوتا ہے کہ  آمر بادشاہ اور آج کل کے جمہوری سیاستدانوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ جب بھی ان کی حکومت کو خطرہ ہوتا ہے تو کہہ دیں گے پاکستان خطرے میں ہے۔  جب ان سیاسی جماعتوں کے متعلقہ تخریب کار، دہشت گرد یا عسکری گروہ کے لوگ پکڑے جائیں اور امن و امان کے حالات بہتر ہورہے ہوں  تو کہہ رہے ہوتے ہیں، جمہوریت کو خطرہ ہے۔ ملک کو خطرہ ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور عسکری ادارے  اپنی حدود میں رہیں۔ کیا آپ نے قانون کی حکمرانی کی فکر کی؟۔۔۔ کیا آپ کے پاس اقتدار تھا تو آپ اپنی حدود میں رہے؟۔۔۔ سیاستدان کیا رشوت لیتے ہوئے اپنی حدود میں رہے؟ ۔۔۔ سیاستدان کیا اپنے دوستوں اور عزیز و اقارب کو نوازتے ہوئے اپنی مرضی نہیں کررہے تھے؟۔۔۔  کیا سیاستدان بدعنوان، رشوت خور اور گناہ گاروں کو بچاتے ہوئے آپ اپنی حدود میں رہے؟۔۔۔

جب آپ لوگوں نے اپنے آپ کو خود خطرے میں ڈالا ہے تووطن عزیز آپ سے نہیں بلکہ آپ اس وطن عزیز میں  سے ہیں اور خطرہ سیاستدانوں کو ہے، وطن عزیز پاکستان کو نہیں۔حضرت ابوذر غفاری نے فرمایا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جارہا تھا کہ آپ ﷺ نے فرمایا  کہ ’’اپنی امت کے اوپر دجال کے علاوہ ایک اور چیز سے ڈرتا ہوں” ۔ آپ نے یہ بات تین دفعہ دہرائی۔میں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! دجال کے علاوہ وہ کون سی چیز ہے جس کے تعلق سے اپنی امت کے بارے میں آپ ڈرتے ہیں ۔۔۔؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’آئمۃ المضلّین‘‘گمراہ کرنے والے قائدین۔‘‘
 (رواہ ابو ذر غفاری ؓ،مسند احمد جلد:۵،صفحہ ۱۴۴)

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!