جمہوریت میں تصور کثرت رائے

پاکستان کی کل آبادی بیس کروڑ کے لگ بھگ ہے اور 2013ء کےحق رائے دہی کیلئے اہل افراد کی تعداد تقریبا ساڑھےسات کروڑ تھی۔ جن میں سے تقریبا ساڑھے چار کروڑ افراد نے رائے زنی کی۔  یعنی اعدادو شمار کے مطابق ساٹھ فیصد لوگوں نے  ووٹ کے ذریعے انتخابات میں اپنا کردار ادا کیا، جبکہ نو گھنٹے کے دورانیے  میں ساٹھ فیصد لوگوں کا رائے زنی کرنا ممکن نہیں لگتا۔ ان میں سے برسر اقتدار آنے والی جماعت ڈیڑھ کروڑ ووٹ لینے میں کامیاب ہوئی۔ یعنی سو افراد میں سے ساٹھ افراد نے ووٹ ڈالے اور ان ساٹھ میں سے صرف بیس افراد کی حمایت یافتہ جماعت کو حکومت سونپ دی گئی۔ جو کہ تمام ووٹرز کا صرف بیس فیصد یا پانچواں حصہ بنتا ہے۔ اب تین کروڑ افراد جنہوں نے اس نظام انتخاب پہ عدم اعتماد کیا اور تین کروڑ وہ افراد جنہوں نے برسر اقتدار آنے والی جماعت پہ عدم اعتماد کا اظہار کیا۔ چھ کروڑ افراد میں ووٹ نہ دینے والے اور دوسری جماعتوں کو ووٹ دینے والے افراد بھی شامل ہیں، وہ اکثریت ہیں یا کہ ڈیڑھ کروڑ افراد اکثریت ہیں؟۔۔۔

ایک کتاب “Introduction to Political Science”  کے مطابق صدارتی انتخابات میں 72فیصد لوگوں نے رائے زنی کی اورمقامی ڈھانچے کے انتخابات میں 47 فیصد لوگوں نے رائے زنی کی۔ جبکہ سیاسی تنظیموں سے وابستہ کل لوگوں کی تعداد صرف آٹھ فیصد ہے۔ یعنی  مغربی جمہوریت کا  طریقہ انتخاب لوگوں کو عوامی حکومت کی تشکیل  کے نظریہ میں ملوث کرنے میں بری طرح ناکام ہے۔ مغربی جمہوریت  کا عطا کردہ نظام انتخاب ایک بے بنیاد اور بے ربط نظام انتخاب ہے۔

ہمارے موجودہ آئین کے مطابق ہم نے نیک، سچے اور ایماندار آدمی کو منتخب کرنا ہے کہ جس شخص کو ہم ووٹ دے رہے ہیں، وہ سب سے نیک بھی ہے، سچا بھی ہے اور ایماندار بھی ہے۔ اب ایک گانے والا بھی انتخابات میں حصہ لے رہا ہے اور ہمارا نظام حکومت اس کو انتخابات میں حصہ لینے سے نہیں روکتا۔ اب اس کے پرستار اور چاہنے والوں میں سے چھ سو بندے یہ رائے دے دیتے ہیں کہ یہ اصل میں بہت نیک ہے اور پرہیزگار ہے۔ لیکن آٹھ سو بندے  ایک نیک  اور پڑھے لکھے فرد کے بارے میں رائے دیتے ہیں کہ یہ بہت نیک ہیں، ایماندار اور سچے بھی ہیں۔ لیکن ایک کاروباری شخصیت انتخابات میں حصہ لے رہی ہے، اور اس کی آن بان  سے مرعوب ہوکر اور ذرائع ابلاغ، اشتہارات کی وجہ  سے ایک ہزار بندے اس کے حق میں گواہی دے دیتے ہیں کہ نہیں اصل میں تو ایماندار، نیک اور سچا آدمی تو یہ ہے۔اب گلوکار اور نیک آدمی کے ووٹ ملا کے چودہ سو ووٹ کاروباری شخصیت کونیک نہیں کہہ رہے ہیں لیکن ایک ہزار لوگوں نے ایک پرہیزگار آدمی کو نیک، سچا اور ایماندار نہیں کہا تو ہم مغربی جمہوریت کو کیسے ٹھیک کہیں گے؟۔۔۔ ہم سب جانتے ہیں کہ موجودہ مغربی جمہوریت میں ہر جگہ اور ہر موقع پہ ایسے ہی ہوتا ہے۔ ہم غلط بندے کا ہی انتخاب کرتے ہیں اور اکثریت بھی اس کے حق میں نہیں ہوتی۔  چلیں اب ہم سمجھ لیتے ہیں کہ عوام بہت سیانی ہے اور پڑھی لکھی ہے۔ اب ایک ہزار لوگوں نے رائے دی کہ ایک نیک اور پرہیز گار آدمی ہی اصل میں نیک، ایماندار اور سچا  آدمی ہے۔ لیکن مقابلہ میں اسی علاقے کا ایک کاروباری آدمی انتخابات لڑ رہا ہے، اس کے بارے میں آٹھ سو آدمیوں نے رائے دی کہ یہ اصل میں  نیک بھی ہے اور سچا بھی ہے اور ایماندار بھی ہے۔ لیکن ایک جاگیردار بھی انتخابات پہ کھڑا ہے، اس کے بارے میں چھ سو بندوں نے یہ رائے دی کہ یہ نیک، سچا اور ایماندارآدمی ہے۔ اب بہت اچھی مغربی جمہوریت ہو تو شاید ایسا نتیجہ نکل آئے۔ لیکن پھر بھی کیا چودہ سو بندے اکثریت ہیں یا ایک ہزار بندے اکثریت ہیں۔ چودہ سولوگ تو یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ نیک پرہیز گار اور خوف خدا رکھنے والے  صاحب باقی دو کی نسبت نیک نہیں ہیں اور نہ ہی سچے ہیں اور نہ ہی ایماندارہیں۔

انتخابات میں جیتنے کیلئے  پروپیگنڈہ کے ذریعے الزام تراشی یا بہتان تراشی کرکے اپنے مدمقابل کی کردار کشی کی جانا بھی جمہوریت کا حصہ ہے۔ یہاں بھی جمہوری نظام معیار پہ پورا نہیں اترا۔ حقیقت یہ ہے کہ مغربی جمہوریت کا یہ طریقہ انتخاب ہر لحاظ سے ناکام ہے۔

"مغربی جمہوریت کا مطلب ہے کہ حکومت عوام سے ،حکومت  عوام کیلئے ، حکومت عوام کی”

مغربی نظریہ  جمہوریت کے تصور حاکمیت میں واضح تضاد نظر آتا ہے۔ حکومت عوام کی، جس کو عوام نے حاکم منتخب کیا، اسی کے عوام محکوم ہوگئے۔ یعنی عوام یہ فیصلہ کرے کہ ہمیں کس کا محکوم ہوکر رہنا ہے۔ درحقیقتت مغربی جمہوریت ہو یا آمریت دونوں کا ایک ہی مقصد ہے کہ قانون سازی / دستور سازی انسانوں کے ہاتھ میں رہے اور وہ اپنی من مانی کرسکیں۔ اشرافیہ میں سے چند ایک کے پاس حکومت و اختیار آ جائے تاکہ من پسند فیصلے کئے جاسکیں۔ علامہ اقبال نے اس کی تشریح یو ں کی۔

جفائیں بھی ہیں، فریب بھی ہیں، نمود بھی ہے، سنگھار بھی ہے
اور اس پہ دعوائے حق پرستی ، اور اس پہ یاں اعتبار بھی ہے

جب کسی شخص سے کوئی گناہ کا کام چھوڑنے کا کہا جائے تو وہ کہتا ہے کہ یہ کام تو اکثر لوگ کرتے ہیں۔ میں کوئی اکیلا تو نہیں۔ جبکہ قرآن مجید، فرقان حمید میں "اکثر ” کے بارے میں اللہ تعالی فرمارہے ہیں۔

"اكثر لوگ نہیں جانتے”۔ (7:187)

"اكثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے”۔ (2:243)

"اكثر لوگ ایمان نہیں لائے”۔ (11:17)

قرآن مجید میں اکثر،کثیر،  کثیرا، کے الفاظ 63 مرتبہ سے زیادہ  انسانوں اور مختلف اقوام عالم کے بارے میں  آئے ہیں۔ قرآن مجید یہ واضح بتا رہاہے کہ اکثریت ، فاسقوں کی ہے، اکثریت نہ جاننے والوں کی ہے، اکثریت عقل نہ رکھنے والوں کی ہے، اکثریت جاہلوں کی ہے۔ اب قرآن مجید کے فیصلے کے بعد ہم کیسے اس مغربی جمہوریت کے فلسفہ کثرت عوامی رائے کو ہی قبول کر لیں؟۔۔۔ ۔

"زیادہ تر شدید نافرمان ہیں”۔ (5:59)

"زیادہ ترجاہل ہیں”۔ (6:111)

"زیادہ تر راہ راست سے ہٹ جانے والے ہیں”۔ (21:24)

"زیادہ ترسوچتے نہیں”۔ (29:23)

"زیادہ تر سنتے نہیں”۔ (8:23)

جو لوگ اللہ کو پسند ہیں، ان کے بارے میں اللہ تعالی فرماتے ہیں۔

"میرے تھوڑے ہی بندے شکر گزار ہیں”۔ (34:13)

"اور سوائے چند افراد کے کوئی ایمان نہیں لایا”۔ (11:40)

مزید قرآن مجید سے رہنمائی لیتے ہیں۔

۱۔        حضرت نوح علیہ السلام کو آدم ثانی کہتے ہیں۔انہوں نے اپنے دور میں انسانوں کو آگاہ کیا کہ شیطان اولاد آدم کو گمراہ کرکے چھوڑے گا۔اس لئے میں تمہیں اللہ کا بندہ بننے کی دعوت دیتاہوں۔یہ دعوت وہ ساڑھے نو سو سال دیتے رہے۔ لیکن اکثریت نے ان کی نہ سنی۔اور اتنے طویل عرصے میں گنتی کے افراد جو ایک کشتی میں سوار ہوسکے ، اللہ کے بندے بنے۔

۲۔       حضرت ہود علیہ السلام نے بھی یہی دعوت دی۔ اکثریت نے حق کو تسلیم نہ کیا۔

۳۔       حضرت صالح علیہ السلام نے بھی قوم ثمود کو دعوت دی ۔ اکثریت نے حق کو تسلیم نہ کیا۔

۴۔       حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعوت سن کر ان کی قوم ایسی سیخ پا ہوئی کہ ان کو آگ میں جھونکا اور پھر بھی اکثریت نے بات نہ مانی۔ اللہ تعالی کے حکم سے آپ آگ میں بھی محفوظ رہے، لیکن پھر بھی عوام نے آپ کو اللہ کا رسول نہ مانا۔

۵۔       حضرت لوط علیہ السلام کی قوم نے تو اجتماعی طور پر آپ کے گھر کا گھیراؤ کرلیااور ظلم کی انتہا کو پہنچ گئے۔ اس قوم میں بھی بات نہ ماننے والوں کی اکثریت تھی۔

۶۔       حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کی اکثریت نے باطل کا ساتھ دیا۔

۷۔       اسلام کے مکی دور میں کافروں کی اکثریت تھی اورکافروں کے مظالم مسلمانوں کوتیرہ سال تک برداشت کرنا  پڑے۔

۸۔       مدینہ منورہ میں بھی یہود کی  اکثریت تھی۔ جمہوری طرز سے مدینہ منورہ میں بھی اسلامی ریاست تشکیل نہیں پا سکتی تھی۔

الغرض اکثر انبیاء اکرام کو ایسے ہی حالات سے واسطہ پڑا۔ جب انبیاء اکرام علیہم السلام کی بات عوام کی اکثر یت نے نہ سنی،سمجھی توکسی اور کے سمجھائے کب سمجھیں گے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ  حکمرانوں کو منتخب کرنے کاموجودہ طریقہ غیر فطری ہے۔

مغربی جمہوریت کے نظرئیے کے مطابق، انبیاء اکرام کے خلاف اکثریت حق پہ تھی ،
لیکن خالق کائنات، اللہ تعالی قرآن مجید میں   واضح فرمارہے ہیں کہ  
"اکثریت جاہلوں، فاسقوں کی ہوتی ہے "

حقیقت وہی ہے جو رب کائنات نے فرمایا ۔قرآن مجید میں قانون مقرر کردیا گیا کہ اکثریت میں فیصلہ سازی کی قوت نہیں ہے۔ کسی بھی معاشرے میں کچھ لوگ ہی صاحب دانش ہوتے ہیں اور فیصلہ سازی  کا کام کرتے ہیں۔

حضرت سلیمان علیہ السلام کو اللہ کریم نے حکومت عطاکی۔ انسان تو انسان،  جنات تک مطیع  رہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کو اللہ نے حکومت عطا کی تو نہ صرف لوگ اللہ کی ذات سے آشنا ہوئے بلکہ مخلوق خدا قحط سالی سے بھی محفوظ ہوگئی۔ اللہ کے آخری نبی حضرت محمدﷺ نے ہجرت فرمائی اور ریاست مدینہ کی بنیاد رکھی ۔ سرکش قبائل بھی نبی کریم ﷺ کے زیر اطاعت آگئے اور ہرطرف عدل و انصاف قائم ہوگیا۔  جبکہ تیرہ سالہ مکی دور کے دوران اکثریت نے سرکشی کی۔ لیکن ریاست مدینہ کی تشکیل کے ساتھ خطہ عرب کی اکثریت مسلمان ہوگئی اور اللہ کی مطیع ہو گئی۔ اس سے ثابت ہوا کہ اللہ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق حکومت قائم کرنے سے فلاح انسانیت اور معاشرے  میں توازن پیدا کیا جاسکتا ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!