جزیہ و خراج

اسلامی ریاست کی حدود میں رہنے والے غیر مسلموں سےان کے حقوق کی حفاظت کےلیے جزیہ وصول کیا جاتا ہے۔ اسلام نے حکومت کو جزیہ کی مقدار کو طے کرنے کا اختیار دیا ہے۔ اس کی شرح زکوۃ کی شرح سے زیادہ ہوتی ہے اور مخیر غیر مسلموں سے شرح مزید بڑھائی بھی جاسکتی ہے۔ مغلیہ دور حکومت میں زیادہ آمدنی والے غیرمسلموں پہ جزیہ 3.5فیصد تھا۔ نبی کریمﷺ کے زمانے میں یہ ایک دینار یا بارہ 12 درہم سالانہ تھا۔ جبکہ حضرت عمر کے دور میں ملکی ضروریات اور محصول کی آمدنی میں بڑھوتری کے پیش نظر مالدار طبقے سے چار دینار، متوسط طبقے پر دو دینار اور نچھلے طبقے سے ایک دینار جزیہ وصول کیا جاتا تھا۔ جزیہ سے نابالغ بچّے، بوڑھے، بیمار، اندھے یا لنگڑے، غلام، مسکین اور دیوانے یا وہ غیر مسلم جنھوں نے اسلامی فوج میں شمولیت اختیار کی ہو، کو استثناء حاصل ہوتا تھا۔

غیرمسلموں سے جزیہ لینے میں بھی حکمتیں ہیں تاکہ وہ مسلمان ہو جائیں۔ ورنہ ان کی حفاظت جو کہ اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے، کے عوض جزیہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق کا گزر ایک بوڑھے یہودی کے پاس سے ہوا جو بھیک مانگ رہا تھا تو آپ اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے اور اسے اپنے گھر سے کچھ دیا اور پھر بیت المال کے نگران سے کہا کہ اس شخص جیسے لوگوں کودیکھو۔ اللہ کی قسم اگر ہم اس کی جوانی کو کھا جائیں اور بڑھاپے میں اسے بے یار و مددگار چھوڑ دیں تو یہ ہمارا نصاف نہیں ہے۔ چنانچہ آپ نے اس جیسے بوڑھوں سے جزیہ لینا بند کروادیا اور بیت المال سے ان کا وظیفہ مقرر کردیا۔ فاتح مصر حضرت عمرو بن العاصؓ کو ایک مرحلہ پر مصر میں اپنے مقبوضہ علاقے خالی کرنے کی صورت پیش آئی تو یہ سوال سامنے آگیا کہ اس علاقہ کے غیر مسلم عوام سے جزیہ ان کی جان و مال کے تحفظ کے عوض ہے جس کی ذمہ داری ہم یہاں سے چلے جانے کی صورت میں پوری نہیں کر سکیں گے، اس لیے جزیہ ہمارے لیے جائز نہیں ہے۔ چنانچہ انہوں نے علاقہ چھوڑنے سے پہلے تمام غیر مسلموں کو جمع کیا اور جزیہ کی رقم انہیں واپس کر دی۔

خراج اور خراجی زمین

ایسے ہی کوئی غیرمسلم اکثریتی علاقہ مسلمانوں کی ریاست میں شامل نہیں ہوتا مگر ان کی حفاظت کی ذمہ داری اسلامی ریاست نے لے لی ہے  تو ان سے خراج لیا جائے گا۔ اگر اسلامی ریاست کے قریب کسی غیرمسلم ریاست سے غیرمسلموں کو خطرہ لاحق ہو، جیسے بحری قذاق، تجارتی جہازوں کو اغوا کرلیتے ہیں اور لوٹ مار کرتے ہیں۔ تو اسلامی فوج امن و تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے سمندر میں گشت کرتی ہے اور ان بحری قذاقوں کے خلاف کاروائی کرتی ہے تو اسلامی ریاست  اس کے بدلے ان سے خراج وصول کرسکتی ہے۔ جس کا مقصد ان عناصر کی معاشی طاقت کو ختم کرنا اوران کو ایسی کاروائیوں سے روکنا اور امن و امان کو یقینی بنانا ہے اور مزید یہ کہ گشت، کاروائی کے دوران ہونے والے اخراجات کی وصولی ہے۔

جو زمین غیر مسلم کاشت کررہے ہوں، وہ خراجی زمین کہلاتی ہے اور خراجی زمین سے خراج وصول کیا جائے گا۔ زکوۃ، عشر، رکازکو امیر،  خلیفہ بھی معاف نہیں کرسکتا۔ لیکن خراج یا جزیہ کو معاف کرنے کا اختیارامیر کو اسلام نے دیا ہے، جس کی صرف ایک ہی وجہ ہوسکتی ہے کہ غیر مسلم حسن سلوک سے مسلمان ہوجائیں۔ لیکن مسلمان ہونے کے بعد عشر ادا کرنا ہوگا۔ جزیہ یا خراج ہمیشہ کیلئے معاف کرنے کا اختیار کسی کو نہیں۔ خراج کی مقدار بھی جزیہ کی طرح ریاست کے اختیار میں ہے کہ وہ کتنا وصول کرتی ہے، جزیہ کی طرح خراج بھی اتنا وصول کیا جانا چاہئےکہ مسلمانوں میں بےچینی یا بد اعتمادی نہ بنے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!