جدید دور اور عام بینک

جیسے خلافت کی جگہ اقوام متحدہ نے لے لی، اسلامی ریاستوں کی جگہ جمہوری ریاستوں نے لے لی۔ سونے اور چاندی کے سکوں کی جگہ کاغذی ٹکڑوں نے لے لی۔ بیت المال کی جگہ مرکزی بینکوں نے لے لی۔ ایسے ہی وادیعہ اور مصرفیہ کی جگہ عام بینکوں نے لے لی۔

امانتیں محفوظ رکھنے کے مرکز کو "وادیعہ” کہا جاتا ہے۔ یعنی آپ اپنی دولت امانت کے طور پر وادیعہ میں جمع کر سکتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر اس کو واپس نکال سکتے ہیں۔ وادیعہ میں رقم کسی کاروبار میں استعمال کر نے کیلئے بھی جمع کرا سکتے ہیں۔ وادیعہ میں آپ شرعی زرجمع کر سکتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر آپ اس کو نکال سکتے ہیں۔ موجودہ دَور کی اصطلاح میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ آپ وادیعہ میں اپنا حساب کھلوا سکتے ہیں اور آپ بغیر کسی خطرے کے اپنے حساب سے کسی دوسرے کے حساب میں رقم طلائی دینار اور نقرئی درہم کی شکل میں  منتقل کر سکتے ہیں۔ پہلے وادیعہ کا قیام اپریل 2013ء میں ملائیشیاء میں لایا گیا۔ جب "وادیعہ نوسونتارہ "کی بنیاد رکھی گئی۔

اسلامی اصولوں کے مطابق بینکنگ نظام کیلئے اہل فن نے "مصرفيہ” کی اصطلاح متعارف کروائی ہے۔ ایسا بنکاری نظام جس میں تمام امور شریعت اسلامی کے مطابق انجام پزیر ہوں اور اسلامی معیشت کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے قائم کیا گیا ہو۔

اسلامی بنکاری نظام میں بنک میں امانت رکھنے یا قرض لینے کی صورت میں جو منافع کا لین دین ہوتا ہے اس معاشی سرگرمی کا اکثر حصہ مشارکت اور مضاربت کے اصول کے تحت انجام پاتا ہے اور مرابحہ کو بدرجۂ مجبوری اختیار کیا گیا ہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ موجودہ دور کے اکثر اسلامی بنکوں میں مرابحہ کا نظام زیادہ رائج ہوا ہے۔

بینک کو شراکت دار ہو کر پیسہ آپ کے کاروبار میں لگانا چاہئے۔ آج کل اسلامی بینک اسی طرز پہ قرض دے رہے ہیں۔ اگر آپ کوئی صنعت لگانا چاہتے ہیں تو آپ کو مشینری خرید کر دی جاتی ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!