جدید دور اور بیت المال

جیسے خلافت کی جگہ اقوام متحدہ نے لے لی، اسلامی ریاستوں کی جگہ جمہوری ریاستوں نے لے لی۔ سونے اور چاندی کے سکوں کی جگہ کاغذی ٹکڑوں نے لے لی۔ بیت المال کی جگہ مرکزی بینکوں نے لے لی۔ وادیعہ اور مصرفیہ کی جگہ عام بینکوں نے لے لی۔

جیسے خلافت کی جگہ اقوام متحدہ نے لے لی، اسلامی ریاستوں کی جگہ جمہوری ریاستوں نے لے لی۔ سونے اور چاندی کے سکوں کی جگہ کاغذی ٹکڑوں نے لے لی۔ بیت المال کی جگہ مرکزی بینکوں نے لے لی اور بیت المال کو صرف زکوۃ اکٹھا کرکے غریبوں کو پہنچانے یا ہسپتالوں سے علاج معالجے کیلئے مخصوص کردیا گیا اور ایک ریاست کے معاشی امور سے لاتعلق کردیا گیا۔

اسلامی ریاستوں کے بیت المال میں امیر پیسہ دیتے تھے اور غریب لیتے تھے۔ بیت المال کو اسلامی اقتصادی نظام میں "حکومتی خزانہ” سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس میں حکومت کا سارا خزانہ حقیقی دولت کی شکل میں محفوظ ہوتا ہے۔ مثلاً سونے کے دینار، چاندی کے درہم، گندم، چاول، تیل وغیرہ۔ حکومت کی ساری محصولی اور غیر محصولی آمدنی "بیت المال” میں آتی ہے اور یہاں سے ہی سرکاری ملازمین کو تنخواہیں دی جاتی ہیں۔ یہاں سے حکومت ملکی نظام کو چلانے کیلئے مال استعمال کرتی ہے، جس پہ کسی قسم کا کوئی منافع یا سود حکومت کو ادا نہیں کرنا پڑتا۔ بیت المال سے مرکزی بینک کی ضرورت نہیں رہتی یا کہا جاسکتا ہے کہ بیت المال ہی اسلامی حکومت کا مرکزی بینک ہے۔

پاکستانی مرکزی بینک اور  ایف بی آرکو بیت المال میں ضم کر دیا جائے اور  حسب ضرورت ایک یا ایک سے زیادہ اہلکار ہرمقامی  کونسل میں تعینات کئے جائیں۔ جو کہ زکوۃ، عشر، جذیہ ،فطرانہ، فدیہ  کو اکٹھا کریں اور کمپیوٹرائزڈرسید جاری کرسکیں تاکہ کسی قسم کی بدعنوانی نہ ہوسکے۔   کاروبار سے منسلک  یا ملازمت سے منسلک یا کھیتی باڑی کے پیشہ سے منسلک  یا بے روزگار، ہر ایک کے پیشے کا ریکارڈ بھی بیت المال کے  اہلکار کے ذریعے آن لائن کروایا جائے۔  کاروبار میں تبدیلی کی صورت میں بیت المال کو اطلاع ہی  لازمی نہ ہو بلکہ اندراج کرواکے اس کے اندراج کا تاجازت نامہ بھی جاری کیا  جائے۔ بیت المال میں محصولات کو وصول کرنے، غریبوں کی امداد، کاروبار کی رجسٹریشن اور تبدیلی اور تنخواہوں کی ادائیگی کی طرز کے مختلف ذیلی شعبے بنائے جائیں۔

جیسے خلافت کی جگہ اقوام متحدہ نے لے لی، اسلامی ریاستوں کی جگہ جمہوری ریاستوں نے لے لی۔ سونے اور چاندی کے سکوں کی جگہ کاغذی ٹکڑوں نے لے لی۔ بیت المال کی جگہ مرکزی بینکوں نے لے لی۔ وادیعہ اور مصرفیہ کی جگہ عام بینکوں نے لے لی۔

اسلامی ریاستوں کے بیت المال میں امیر پیسہ دیتے تھے اور غریب لیتے تھے۔ بیت المال کو اسلامی اقتصادی نظام میں "حکومتی خزانہ” سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس میں حکومت کا سارا خزانہ حقیقی دولت کی شکل میں محفوظ ہوتا ہے۔ مثلاً سونے کے دینار، چاندی کے درہم، گندم، چاول، تیل وغیرہ۔ حکومت کی ساری محصولی اور غیر محصولی آمدنی "بیت المال” میں آتی ہے اور یہاں سے ہی سرکاری ملازمین کو تنخواہیں دی جاتی ہیں۔ یہاں سے حکومت ملکی نظام کو چلانے کیلئے مال استعمال کرتی ہے، جس پہ کسی قسم کا کوئی منافع یا سود حکومت کو ادا نہیں کرنا پڑتا۔ بیت المال سے مرکزی بینک کی ضرورت نہیں رہتی یا کہا جاسکتا ہے کہ بیت المال ہی اسلامی حکومت کا مرکزی بینک ہے۔

پاکستانی مرکزی بینک اور  ایف بی آرکو بیت المال میں ضم کر دیا جائے اور  حسب ضرورت ایک یا ایک سے زیادہ اہلکار ہرمقامی  کونسل میں تعینات کئے جائیں۔ جو کہ زکوۃ، عشر، جذیہ ،فطرانہ، فدیہ  کو اکٹھا کریں اور کمپیوٹرائزڈرسید جاری کرسکیں تاکہ کسی قسم کی بدعنوانی نہ ہوسکے۔   کاروبار سے منسلک  یا ملازمت سے منسلک یا کھیتی باڑی کے پیشہ سے منسلک  یا بے روزگار، ہر ایک کے پیشے کا ریکارڈ بھی بیت المال کے  اہلکار کے ذریعے آن لائن کروایا جائے۔  کاروبار میں تبدیلی کی صورت میں بیت المال کو اطلاع ہی  لازمی نہ ہو بلکہ اندراج کرواکے اس کے اندراج کا تاجازت نامہ بھی جاری کیا  جائے۔ بیت المال میں محصولات کو وصول کرنے، غریبوں کی امداد، کاروبار کی رجسٹریشن اور تبدیلی اور تنخواہوں کی ادائیگی کی طرز کے مختلف ذیلی شعبے بنائے جائیں۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!