تنخواہ مقرر کرنے کی شرعی حد

نبی کریمﷺ نے مکہ مکرمہ کے حاکم حضرت عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کی سالانہ تنخواہ چالیس اوقیہ چاندی مقرر فرمائی۔ چالیس اوقیہ کا مطلب سولہ سو درہم ہے۔ خلفاء راشدین نے بہت ہی کم تنخواہ بیت المال سے وصول فرمائی لیکن شرعی طور پہ تنخواہ کی کوئی حد مقرر نہیں۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جب خلیفہ بنے تو وظیفہ تین درہم یومیہ لیتے تھے  اور حکومت کے خزانے سے ایک غلام یعنی خادم، ایک اونٹنی اور قبا پانچ درہم کی لی۔ موت کا وقت قریب آیا تو یہ ساری چیزیں واپس کردیں۔ حضرت ابوبکر صدیق نے جب دنیا سے پردہ فرمایا تو ان کے پاس کوئی پیسہ نہیں تھا اور کل وصول شدہ تنخواہ آٹھ ہزار درہم بھی واپس بیت المال میں جمع کروانے کی وصیت فرما گئے۔

دنیا میں کسی دوسرے نظام میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز، عمرثانی کو بھی عید پہ بیت المال کے عامل کے اعتراض کردینے پہ قرض نہیں ملتا اور انھوں نے اپنی تنخواہ اتنی ہی مقرر کر رکھی ہے کہ وہ صرف اپنے گھر کے انتہائی ضروری اخراجات ہی پورے کر رہے ہیں۔

مجلس شوری کے پاس اختیار ہےکہ ہر فرد کی اس کے عہدے اور معیار زندگی کے لحاظ سے تنخواہ مقرر کرسکتی ہے۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ریاست کے خزانے میں اسراف ہوسکے۔

حضرت عمر فاروق نے اپنے چند ماتحت حکام کو معزول کیا اور ان کے نصف مال کو جو انہوں نے اپنے اقتدار حکومت میں کمایا تھا، ضبط کرکے بیت المال میں داخل کردیا۔ جس سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ کوئی سرکاری ملازم، دوران ملازمت کاروبار نہیں کرسکتا جبکہ ریاست اس کے حقوق کی ادائیگی کی ذمہ دار ہے تاکہ وہ کفالت اور اپنا گزارا کرسکے کیونکہ اس میں خدشہ ہے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی عہدے کا اثر و رسوخ استعمال ہوسکتا ہے۔ البتہ اگر صاحب اقتدار فرد تنخواہ نہیں لیتا اور وہ کوئی ایسا کاروبار کرتا ہے، جس سے وہ اپنے فرائض سے بھی غافل نہیں ہوتا اور کفالت کے فرائض بھی ادا ہوتے ہیں اور اس کے کاروبار میں اس کے عہدے کا اثر و رسوخ بھی استعمال میں نہیں آتا، تو وہ جائز ہے۔ جیسے اورنگزیب عالمگیر ٹوپیاں سی کر، راتوں میں چھپ کر مزدوری کرکے اور قرآن مجید کی کتابت  کرکے اپنی آمدنی کا بندوبست کرتے تھے۔ ایسی بہت سی مثالیں اسلامی تاریخ میں موجود ہیں۔

تمام سرکاری عہدوں کیلئے عمر کی زیادہ سے زیادہ حد کو ختم کیا جائے۔ جاپان میں ساٹھ سال سے زیادہ عمر کے لوگ نفسیاتی مریض بنتے جارہے ہیں۔ جس کی صرف ایک ہی وجہ  ریٹائرمنٹ ہے۔ جس شخص نے تمام عمر کام کیا ہو اسے آپ فارغ بٹھا دیں تو یک دم فراغت اسے ذہنی طور پہ متاثر کرسکتی ہے۔ جب اس شخص کے تجربے سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے تو اسے گھر بھیج دیا جاتا ہے۔ جو بھی شخص کسی بھی سطح پہ سرکاری کام کا نہیں ہو تو اسے گھر بھیج دیں۔ اسے سرکاری محکمے میں نہ لگائیں۔ لیکن حکومت مستعد اور قابل آدمیوں کو ہر سطح پہ تعینات کرے۔ حکومت ہر فارغ / بے روزگار کو الاؤنس دے یا ایسی پالیسیاں مرتب کی جائیں کہ تکنیکی لحاظ سے یا اپنے علم کے حوالے سے وہ کسی نہ کسی انداز میں اپنا روزگار چلا سکے۔ کسی بھی فرد کو عمر کی بناء پہ ریٹائرڈ نہ کیا جائے۔ بلکہ جسمانی یا دماغی صلاحیتوں کی بناء پہ فارغ کیا جائے۔ تاکہ عمر کے ساتھ ساتھ ہونے والے تجربے سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جاسکے۔ جب ایک فرد ریٹائرڈ ہوگیا ہے تو کسی بھی سرکاری عہدے پہ تعینات نہ ہو۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ کسی محکمے سے ریٹائرڈ ہوئے کہ یہ مزید ذمہ داریاں ادا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے لیکن کسی دوسرے محکمے میں وہ ذمہ داریاں ادا کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ اب جیسے فوج میں ایک بندہ جسمانی طور پہ ، بڑھاپے کی وجہ سے ایک جوان آدمی کے انداز میں حرکت نہیں کرسکتا لیکن جو عسکری تجربہ اس شخص کے پاس ہے، اس کا بھرپور فائدہ اٹھانے کا محکمے کو مکمل حق حاصل ہے۔ کیونکہ ریاست کے پیسوں سے ہی وہ یہاں تک پہنچا ہے۔ اب سول یا  آرمی کے ڈاکٹر ریٹائرمنٹ لے کر اپنا پرائیویٹ کلینک کر رہے ہوتے ہیں۔ پنشن بھی لے رہے ہوتے ہیں۔ اگر انھوں نے کاروبار ہی کرنا تھا تو وہ پنشن کے حق دار نہیں ہیں۔ فوجی ریٹائرمنٹ لیکر دوبارہ نوکریاں کررہے ہوتے ہیں اور پنشن بھی لے رہے ہوتے ہیں۔ اگر ایک شخص مزید ملازمت نہیں کرنا چاہتا، کاروبار کرنا چاہتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں، وہ ریٹائرمنٹ لے لیکن پنشن نہ لے۔ جب وہ کچھ نہ کرسکے اور آمدن بھی نہ ہو، فارغ رہنے کی صورت میں، ریٹائرمنٹ کے بعد مناسب پنشن دے کر ان کے عہدے کے مطابق ان کے وقار کو بحال رکھا جائے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!