بین الاقوامی کرنسی کی تبدیلی کی کوششیں

دنیا کے 146 مرکزی بنکوں کے ذخیرہ کردہ سرمایہ  کی مجموعی ریزرو  کرنسی کا 64 فیصد حصہ ڈالر کی شکل میں ہے اور اگلا بڑا حصہ یورو کی شکل میں 20 فیصد سے 23 فیصد تک جبکہ جاپانی ین اور اسٹرلنگ پاؤنڈ کا 5 فیصد اور چین کے یوآن کا دوسرے ممالک کے ریزرو میں ۱یک فیصد سے کم حصہ ہے۔ 40 فیصد عالمی قرضہ بھی ڈالر کی شکل میں ہے۔

دنیا  میں اثر ورسوخ  رکھنے والےممالک کے ڈالر کے اثر  کو کم کرنے کی خاطر دو صورتوں میں اقدامات سامنے آرہے ہیں۔ ایک 1999ء کا یورپی موقف تھا جس کے تحت 2002ء میں امریکی ڈالر کے بالمقابل سرکاری طور پر یورو میں یورپی یونین کی شکل میں کئی ممالک نے آزادانہ تجارت اور ایک کرنسی کو فروغ دیا۔ دوسرا راستہ روس اور چین جیسے ممالک کے ذریعہ ہے، جو اس کام میں تاخیر سے شامل ہوئے۔

1999ء میں یورو کرنسی کا اجرا ہوا۔ اس کا استعمال بنکوں میں شروع ہوا اور 2002ء کے بعد سے یورو چند ممالک کی متبادل مقامی کرنسی   کے طور پر استعمال ہوا اور اس نے ڈالر کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی۔ چونکہ اس کے پشت پر جرمنی اور فرانس جیسے عالمی طور پر مضبوط معیشتی ممالک تھے۔ جس میں دیگر صنعتی اور دولتمند ممالک شامل ہوگئے اس طرح عالمی طور پر یورو مضبوط کرنسی کی شکل میں سامنے آیا۔ یورو کی پشت پر عالمی سیاسی قوتیں  ہیں۔ جو عالمی سیاسی سطح پر متاثر کن ہیں اور اپنی آزادانہ طاقتور فوج قائم کرنے کی طاقت بھی موجود ہے۔ مگر امریکہ کا سامنا کرنے میں یورپی یونین کی سیاسی، عسکری و معاشی کمزوری  ہے۔ یورپین ممالک کے عوام میں یورپی یونین سے علیحدگی پسندگی کی لسانی و  نسلی تحریکات کو عروج حاصل ہونے کی وجہ سے یورپی یونین اپنے وجود کے دفاع میں  لگی ہوئی ہے۔ جس میں برطانیہ کا یورپی یونین سے باہر جانا، سیاسی فیصلوں میں نااتفاقیاں وہ عوامل ہیں جو یورو کرنسی اور اس کے متعلق کم اعتمادی میں جھلکتے ہیں ۔

انسٹیکس “INstrument in Support of Trade Exchange” کے بانی، یورپی ٹرائیکا فرانس، برطانیہ اور جرمنی نے جنوری2019ء میں "تبادلہ کے نظام” Barter تجارت پر مبنی ایک نظام شروع کیا ہے۔ جس کے تحت ایک چیز کی قیمت دوسری چیز ہوتی ہے، کاغذی کرنسی نہیں۔ انسٹیکس کے تحت امریکی پابندیوں کے باوجود ایران کے ساتھ یورپ کے مالی لین دین کو آسان بناکر تجارت کی جاسکے گی۔ انسٹیکس ایران کو اجازت دیتا ہے کہ وہ تیل کے بدلے دوسری اشیاء اور خدمات حاصل کرے۔ بیلجیم، ڈنمارک، فن لینڈ، نیدرلینڈ، ناروے اور سویڈن نے بھی اس نظام میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ روس نے بھی ایران اور یورپ کے درمیان قائم ہونے والے خصوصی مالیاتی نظام انسٹیکس میں شامل ہوکر قریبی تعاون کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ انسٹیکس میں مختلف ممالک اور براعظموں کی تعداد جتنی زیادہ ہوگی اس مالیاتی نظام کی کارکردگی، اہمیت اور افادیت بھی اتنی زیادہ بڑھے گی۔ امریکن اقدامات اور ڈالر کی گراوٹ کی وجہ سے انسٹیکس صرف یورپی یونین تک محدود نہیں رہے گا۔ انسٹیکس کو ان پروجیکٹوں کو آگے بڑھانے کے لئے ایک بہترین ذریعہ قراردیا جارہا ہے،  جنھیں امریکا نے بری طرح خراب کردیا ہے۔ تاہم اتنا عرصہ گذر جانے کے بعد ابھی تک یہ نظام آپریشنل نہیں ہوسکا۔

چین کی  عالمی سیاسی  دسترس کمزورہے جوامریکہ سے اس کی تجارتی  کشمکش و تنازعہ کے باعث اس کے معاشی میدان کومتاثر کرتی ہے۔ چنانچہ وہ  بڑی معیشت ہونے کے باوجود اپنی کرنسی کو عالمی طور پر تجارت و مالیاتی مارکیٹ میں نافذ نہیں کرسکا ہے۔ اس نے ڈالر کو اختیار کرکے حالیہ چند سالوں میں4 ٹریلین ڈالر تک جمع کیا۔ ڈالر کو  ہٹانے کی چین کی اس محنت میں رکاوٹ چین کا امریکی معیشت اور امریکی ڈالر پر انحصار ہےاور چین وامریکی تجارت کا حجم بڑا ہے جو 500بلین ڈالر سالانہ ہوتی ہے۔ چین ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے مطابق امریکہ کےبعد دنیا کی بڑی کمرشل ہئیت رکھتا ہے۔ اس طرح امریکہ کے ساتھ چین کی تجارت کی تیزی اور چین کے پاس ٹریزری بانڈز کی موجودگی اور مرکزی بنک کے ریزرو ڈالر کی وجہ سے ڈالر پر انحصار ہٹانے کی خاطر چین کسی بھی سنجیدہ اقدام کرنے کیلئے ایک قدم آگے اور ایک قدم پیچھے چلتا ہے کیونکہ چین جانتا ہے کہ امریکی ڈالر میں بین الاقوامی تجارت کو ہٹانے پر سب سے زیادہ وہی متاثر ہوگا اور یہ بات اس کو اپنے کردار کو محتاط و  آہستہ کرنے کی طرف بڑھاتی ہے۔ چین ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے تجارتی جنگ چھیڑنے کے باعث امریکی ڈالر و بانڈز کے سٹاک کی فروخت کی سمت چل پڑا ہے اور اس  نے ان بانڈز کے سٹاک کو کسی تصادم کے بغیر  کم کرنا شروع کیا ہے۔ اپنی تجارت میں بھی ڈالر کا استعمال کم کرنے کی کوششیں کی ہیں۔

2017ء میں چین اور روس نے طے کیا کہ ہم ایک دوسرے کی کرنسیوں میں تجارت کریں گے اور تیل صرف امریکی ڈالروں میں نہیں خریدا جا سکتا ۔جو کہ یقینا ڈالر کی موت ہے اور امریکہ کی خارجہ امور پہ کمزور ہوتی گرفت کو ثابت کرتا ہے۔ چین دنیا کا سب سے زیادہ تیل خریدنے والا ملک بن چکا ہے، جبکہ روس دنیا کا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے۔ چین  نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ ایران سےخریدےجانے والے تیل کی قیمت یوآن  میں ادا کرے گا۔ چین نے تیل کی تجارت کیلئے شنگھائی سٹاک ایکسچینج  کا قیام کیا  تاکہ سونے کی بنیاد پر یوآن میں تیل کی تجارت ہوسکے جس نےاپنے قیام کے پہلے چھ مہینوں میں دنیا میں تیل کی مجموعی تجارت کا 10 فیصد اپنے گرفت میں کرلیا ہےاور اب ڈالر، یورو، جاپان کے ین، برطانوی پاؤنڈکے ساتھ اسپیشل  ڈرائنگ رائٹس SDR  رکھنے والی کرنسیوں کے گروہ میں شامل ہوگیا ہے۔ چین نے امریکی مالیاتی اداروں سے دور جانے کی کوشش میں ایک معاشی گروپ BRICS قائم کیا ہے. جس میں برازیل، روس، بھارت، چین اور ساؤتھ افریقہ شامل ہیں اور اس گروپ کی مجموعی معیشت 15 ٹریلین ڈالر ہے جو 74ٹریلین ڈالر کی عالمی معیشت کا 20فیصد ہے۔ چین نے شنگھائی میں جولائی 2015 میں ابتدائی طور پر 50بلین ڈالر سرمایہ کے ساتھ ایک ڈویلپمنٹ بنک بھی قائم کیا ہے تاکہ BRICS گروپ کیلئے سرمایہ کاری اور قرض مہیا کرسکے۔ جو آگے چل کر 100 بلین ڈالر تک پہنچ کر ورلڈ بنک کا متبادل بن سکے۔ مارچ 2018ء میں شنگھائی فیوچرز ایکسچینج  نے بیرونی سرمایہ کاروں کیلئے پہلے کھلے فیوچرز کنٹریکٹ  کا آغاز کیا ۔ یہ فیوچرز کنٹریکٹ ڈالر پر مبنی برینٹ اور WTI    کنٹریکٹ کے مقابلہ میں  یوآن کرنسی میں طے کئے گئے اور یہ تمام اقدامات اہم ہیں اور ڈالر کی اجارہ داری ختم کرسکتے ہیں۔

یوآن میں بین الاقوامی ادائیگی کاحصہ 1.7 فیصد سے زیادہ نہیں ہے، اس کے مقابلہ میں ڈالر  کے پاس بین الاقوامی ادائیگی 40 فیصد تک ہے۔ ڈالر کے غلبہ کو کم کرنے کی خاطر چین محتاط قدم رکھ رہا ہے۔ چین نے ڈالر سے ہونے والے نقصان کو پہچان لیا ہے، اس لئے وہ سب سے زیادہ سونے کا خریدار بن چکا ہے اور اس کے سونے کا ذخیرہ  2008ء میں 600 ٹن سے بڑھ کر 2018 تک 1842ٹن ہوچکا ہے۔ چین نے 2015ء میں ہی 700 ٹن سے زیادہ سونا خرید لیا تھا۔ چین اب دنیا میں سب سے زیادہ سونا کانوں سے نکالتا ہے. مگر ایک کلوگرام بھی بیچنے کو تیار نہیں۔ روس، بھارت، ترکی، میکسیکو اور چین بھی کئی سالوں سے سونا جمع کر رہے ہیں۔

2009ء میں روسی صدر میڈویڈیف نے G8 ممالک کی لندن میٹنگ میں ڈالر کو بدلنے کیلئے متبادل   عالمی کرنسی کی رائے پیش کی۔ روس نے بارہا  امریکی ڈالر کو دیگر مقامی کرنسی سے بدلنے کے متعلق بیان دیا ہے۔پیوٹن نے ریاست کے ڈوما میں دی گئی تقریر میں کہا کہ "ہمیں اپنی معاشی خومختاری کو مستحکم کرنا ہوگا۔ ہم پچھلی صدی میں ایسی امید کرنے والےبیوقوف تھے کہ بین الاقوامی تجارت اور عالمی معیشت میں بیان کردہ اصولوں کی پاسداری رکھی جائے گی اور ہم اب دیکھتے ہیں کہ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے قوانین کی خلاف ورزی کی جارہی ہےاور سیاسی بنیادوں پر پابندیاں عائد کی جارہی ہیں جس کو وہ Sanctions کہتے ہیں”۔ روسی صدر پیوٹن کے ترجمان ڈمیتری پیسکوف  نے انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ”بیشتر ممالک نہ صرف مشرقی ممالک بلکہ یورپ میں بھی راستے تلاش کررہیں تاکہ امریکی ڈالر پر انحصار ختم کیا جاسکے اور اچانک انہیں معلوم ہوا ہے کہ ایک تو یہ ممکن ہے۔ دوسرا ایسا کرنا چاہئے۔ تیسرا خودکو جتنا جلدی ہوسکے بچالو اور جلد ایسا کرلو۔ ڈالر کو کچھ حد تک منسوخ کرنا  توممکن ہے۔ البتہ مسئلہ یہ نہیں کہ آپ ڈالر کے چنگل سے باہر نکلنا چاہتے ہو بلکہ مسئلہ تو یہ ہے کہ ڈالر نہیں تو پھر اس کا  متبادل کیا ہے؟۔۔۔یورو؟۔۔۔  یوآن؟۔۔۔  یا پھر بٹ کوائن ؟۔۔۔  اور ان میں سے ہر ایک فیصلہ کی اپنی قیمت چکانی ہوگی اور ہمیں ڈالر کے ساتھ رہنے اور اس کا متبادل تلاش کرنے کی قیمت کے درمیان توازن حاصل کرنا ہوگا”۔

2015ء کے بعد سے امریکہ مسلسل روس پر اپنی پابندیاں بڑھاتا رہا ہے۔ کانگریس "پابندیوں کے ذریعہ امریکی دشمنوں کے مقابلہ کے قانون” کے تحت رفتہ رفتہ ان پابندیوں کا دائرہ بڑھا رہی ہے۔ جس کے تحت اگست 2017ء میں روس کے خلاف مزید سخت پابندیاں عائد کی گئیں اور یہ پابندیاں روس کیلئے کڑی تھیں جس نے روس کے بڑے بنکوں کا تعلق ڈالر سے ختم کردیا۔ جس کی وجہ سے روسی روبل کی قیمت ڈالر کے مقابلے18 فیصد گِر گئی۔ جبکہ روس اپنے 58 فیصد قرض میں ڈالر کا استعمال کرتا ہے. یعنی روس تقریباً آدھا قرض ڈالر میں حاصل کرتا ہے۔چنانچہ روس مشکل میں گھر گیا۔ یہ صورت حال مالیاتی، معاشی اور مادی طور پر ڈالر سے آزادی کیلئے روس پر ڈالر کے استعمال کو کم کرنے کیلئے دباؤ بنارہی ہے۔ روس نےرفتہ رفتہ اپنے پاس سے امریکی ٹریزری بانڈز کی تعداد کو کم کرنا شروع کیا. جو کہ 2008ء میں 223بلین ڈالرتک پہنچے تھے۔ امریکی پابندیوں  کے نتیجہ میں روس مئی 2018 میں اس اقدام سے بھی دستبردار ہوگیا تھا لیکن ابھی بھی اس کے پاس امریکی ٹریزری کے 14.5 بلین ڈالر مالیت کے بانڈز موجود ہیں۔

  چین اور روس نے چونکہ اپنی کرنسیوں کو آئی ایم ایف کا پابند نہیں کیا اور آزاد رکھا ہوا ہے اور دونوں ہی آبادی، رقبے، پیداوار، فوجی قوت کے لحاظ سے بڑے، نمایاں اور ایٹمی طاقت کے حامل ممالک ہیں۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ عالمی تجارت میں وہ بھی ڈالر کے ساتھ اپنی کرنسیوں کو تبادلے پہ رکھنے پہ مجبور ہیں۔ اس مالیاتی برتری کا خمیازہ ان کی عوام کو غربت و افلاس کے ہاتھوں بھگتنا پڑرہا ہے۔ اگر پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش وغیرہ کی کرنسی بھی آزاد ہوتی اور مغلیہ دور کی طرح اپنی پیداواری صلاحیتوں کی وجہ سے آج ان کے عوام غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزارنے پہ مجبور نہ ہوتے۔

ترکی کے اسٹیل پر پابندیاں عائد کرکے امریکہ نے ترکی کی کرنسی کو نشانہ بنایا تو اردوگان نے کرغیزستان میں ترکی کونسل کی کانفرنس میں  بیان دیا کہ "ہم تجارت کی خاطر ڈالر کی بجائے اپنی مقامی کرنسی میں لین دین کی رائے پیش کرتے ہیں”۔ ترکی کی تجارت یورپی یونین کے ساتھ ہے لیکن تجارت ڈالر میں کرتا ہے اور ڈالر میں ہی قرض لیتا ہےاور اس کی کرنسی کے ریزرو کا بڑا حصہ بھی ڈالر کی شکل  میں ہے ۔ درآمد شدہ تیل ، قدرتی گیس اور درآمد شدہ خام مال سب ڈالر میں خریدتا ہے۔ جہاں تک  وسط ایشیائی ترکی بولنے والے ممالک کی بات  ہے تو وہ روسی پالیسی پر عمل کرتے ہیں اور ترکی کی تجارت ان ملکوں کے ساتھ عالمی پیمانے پر کسی اہم مقدار میں نہیں ہے کیونکہ ان ممالک کی معیشت  چھوٹی ہے۔

ایران پر امریکہ نے کئی سال سے سخت مالیاتی   پابندیاں عائدہ کیں ہیں اور وہ ڈالر میں لین دین  نہیں کرسکتا ہے۔ لیکن 2015ء میں پابندیوں کے ہٹائے جانے کے فوراً بعد سے وہ اپنا تیل ڈالر میں فروخت کرنے لگا اور ڈالر میں ہی کئی بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ اس نے بڑے معاہدوں پر دستخط کئے تھے۔ جن میں یورپی کمپنیاں جیسے ائیربس اور ٹوٹل، فرانسیسی کمپنی بھی شامل ہیں۔ ایران کا ردعمل ایسا رہا ہے گویا کچھ اہم نہیں ہوا۔ جبکہ پابندیاں لگانا اور اٹھانا ایران کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ اگر امریکہ ایران مخالف بیانات میں اضافہ کرتا ہے اور اس پر معاشی پابندیاں لگاتا ہے تو ایران کی جانب سے ردعمل محض بیانات ہوتے ہیں کہ وہ ڈالر میں تجارت نہیں کرے گا۔ جبکہ ترکی، روس اور ایران ایک دوسرے کے ساتھ ڈالر کی بجائے مقامی کرنسی میں تجارت کرنے میں تیار ہیں۔ لیکن ایران کے اقدامات سنجیدہ نہیں ہیں۔

اکتوبر 2018ء میں چین اور جاپان نے 30بلین ڈالر کی کرنسی کے تبادلہ کا معاہدہ کیا۔ چین کے مرکزی بینک نے جاپان کے مرکزی بنک کے ساتھ باہمی طور پر مقامی کرنسی  کے تبادلہ کے دوطرفہ معاہدہ  کے تحت 200 بلین یوآن جس کی مالیت انتیس ارب ڈالر ہے، کا 3.4 ٹریلین ین کے ساتھ تبادلہ کیا جائے گا۔ یہ جاپان کا اب تک کا سب سے بڑا معاہدہ ہے۔ جاپان جو امریکہ سے جڑا ہوا ہے، اس کے چین اور روس کے ساتھ لین دین کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جاپان ڈالر کے متبادل کے طور پر دوسری کرنسی فوری طور پہ قبول کرسکتا ہے۔ لیکن حالات کو دیکھتے ہوئے یہ خارج از امکان بھی نہیں۔

روس کا بھارت کے ساتھ2018ء میںS-400 میزائل کی خریداری کا معاہدہ  روسی کرنسی میں طے پایا اور ایک مہینہ قبل اسی قسم کی میزائل خریداری کا معاہدہ اس نے  ترکی کے ساتھ ان دونوں ممالک کی آپسی کرنسی میں طے کیا ہے۔ بھارت لمبے عرصہ سے روس سے ہتھیار درآمد کرتا آیا ہے اور امریکہ کو اس بات کی پرواہ نہیں۔ البتہ بھارت، امریکہ، اسرائیل بالخصوص طاغوتی طاقتوں کیلئے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ کیونکہ بھارت اہم قوت بن کر ابھرے گا، تو ایشیاء میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو کم کرسکےگا۔ بھارت بھی یہ بات جانتا ہے۔ بھارت بھی عالمی کرنسی کی جنگ میں حصہ دار بننے کی بجائے سونا اکٹھا کرکے اپنی معاشی طاقت کو مضبوط کرنے میں لگا ہوا ہے اور روس، چین، امریکہ جیسی سب بڑی طاقتوں سے اپنے مفادات پورے کرنے میں لگا ہے۔

نومبر 2016ء میں پاکستان، متحدہ عرب امارات، قطر اور ہانگ کانگ سمیت کئی ممالک اور چین کے مابین کرنسی سویپ معاہدہ ہوا ہے۔ جس کے تحت تاجروں کو ان ممالک کے مابین ہونے والی تجارت کا لین دین مقامی کرنسی میں ان ممالک میں قائم شدہ شاخوں کے ذریعے کیا جائے گا۔ چین، روس، بھارت، ترکی اور تیل کی پیداوار کرنے والے دیگر ممالک نے اب اپنے سارے تجارتی اور سرمایہ کاری کے لین دین کو اپنی مقامی کرنسی میں کرنے کا معاہدہ کیا۔ البتہ ان سب کے باوجود خام مال اور سونے کی قیمتیں ڈالر پر ہی قائم رہیں گی۔ چین ایسے روڈ شوز منعقد کروا رہا ہے، جبکہ مقامی کرنسی میں تجارت کے نتیجے میں ڈالر کی اجارہ داری خطے سے ختم ہو جائے گی۔ جبکہ مقامی کرنسیوں کو استحکام حاصل ہو گا۔

ایشیاء میں کرنسی کیلئے ہونے والے اقدامات میں پاکستان بہت اہمیت کا مرکز ہے۔ پاکستان چونکہ جغرافیائی طور پہ ایک اہم گزرگاہ کی حیثیت رکھتا ہے، اسی لئے پاکستان کو امریکن بلاک سے نکل کر ان اقدامات کا حصہ بننے سے روکنے کیلئے، پاکستان کو سیاسی طور پہ غیرمستحکم کیا گیا۔ سیاسی افراتفری پھیلانے کیلئے احتجاجوں، بین الاقوامی ڈرامے وغیرہ رچائے گئے رچائے گئے۔ ایک طویل میڈیا وار لڑی گئی۔ بالآخر طاغوتی طاقتیں ملک میں سیاسی معاشی تسلسل توڑنے میں کامیاب ہوگئیں۔ پاکستان کے پاس لگ بھگ 65 ٹن سونا ہے اور پاکستان پر آئی-ایم-ایف کا شدید دباؤ ہے کہ یہ سونا بیچ کر کاغذی فورین ریزرو میں اضافہ کیا جائے۔ جبکہ اس وقت زیادہ تر ممالک اپنے سونے کے ذخیرے میں اضافہ کرنے میں مصروف ہیں۔  4 دسمبر 2019ء کو امریکن جریدے، نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ورلڈ بینک کے مصالحتی نظام سے غریب ممالک کی قیمت پر امیر ممالک کو فائدہ پہنچایا جاتا ہے۔ایک ایسے مقدمے میں پاکستان پر 5 ارب 90 کروڑ ڈالر کا جرمانہ کیا گیا جو نہ منظور ہوا، نہ ہی اس پر عمل درآمد ہوا۔ ریکوڈک کے حوالے سے مصالحت کاروں کے فیصلے کو کان کنی کے اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا ہے کہ عالمی بینک کے مصالحتی پینل میں اس شعبے کا ماہر کوئی نہیں تھا۔ مصالحتی پینل کی جانب سے آسٹریلین کمپنی کو 15سال تک ٹیکس ہالی ڈے دینے کا فیصلہ بغیر شواہد کے دیا گیا۔ مصالحتی پینل نے خود ہی فیصلہ کرلیا کہ آسٹریلین کمپنی کتنا منافع کما سکتی تھی۔ فیصلہ کالعدم قرار دینے کے لیے پاکستان کی درخواست عالمی بینک کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔

2008ء کا مالیاتی بحران پہلے ہی دنیا کے ممالک کیلئے ایک الارم بن آیا تھا کہ وہ اپنے پاس موجود ڈالر کے متعلق سوچیں اور ٹرمپ   کی اشتعال انگیزی اور پابندیوں نے اس رحجان کو تقویت دی او ر تیز کردیا ہے۔ 2008ء کا معاشی بحران سے ہی روس اور چین کو ڈالر کی قیمت کے گھٹ جانے کاخوف لاحق ہوا تو وہ یورپ کے پرانے ممالک کے ساتھ شامل ہوئے۔ اب جبکہ چین ایک عالمی معیار کی معیشت بن چکا ہے تو اس کی بین الاقوامی  کوششیں ڈالر کی اہمیت کو گھٹانے میں اثر پیدا کرنے لگی ہیں۔ روس، چین اور یورپی یونین ایسے ہیں جن کے متعلق کہا جاسکتا ہے کہ وہ ڈالر کو اس کے مقام سے گرانے کی موثر طاقت رکھتے ہیں۔ البتہ ان میں سے ہر ایک ریاست کے پاس ایسے عوامل موجود ہیں جو  ان کی حرکت کو روک دیتے ہیں۔ اگر یہ ان عوامل  سے چھٹکارا پا جائیں تو وہ ڈالر کو اس کے مقام سے ہٹا سکتے ہیں اور اگر وہ اس معاملہ میں مضبوط قدم نہ بڑھائیں تو انہیں ” کمزور ڈالر” کا جھٹکا جھیلنا پڑسکتا ہے اور ڈالر کے ذخیرہ کی ان کی دولت ردی کے کاغذوں میں بدل جائے گی۔ روسی حکومت کے بیانات، کوششیں اور چین کے اقدامات ڈالر کی عالمی گرفت کو کمزور کرنے میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ اگر چین اور روس  کی ساری آپسی تجارت مقامی کرنسیوں میں ہو جائے تو بھی یہ مسئلہ کا حل نہیں کیونکہ دونوں طرف کی باہمی تجارت  120بلین ڈالر کی ہے۔ جو 20ٹریلین ڈالر کی عالمی تجارت کے مقابلہ میں بہت محدود ہے۔ البتہ اگر چین، روس اور یورپی یونین کے مرکزی بینک ڈالر کو قبول کرنے سے انکار کردیں تو ان ممالک کی کرنسیوں کی بجائے ڈالر ردی ہوجائے گا۔ جس کے امکانات کا اظہار آئرش معیشت دانوں نے کورونا وائرس کے پھیلنے کے بعد اپنی ایک رپورٹ میں کردیا ہے۔ تفصیل کیلئے کلک کریں۔

 ٹرمپ انتظامیہ کی نئی پالیسیوں بالخصوص "پہلے امریکہ” نے دیگر طاقتور ممالک کے ذریعہ  ڈالر کے عالمی غلبہ کو کم کرنے کے رجحان و منصوبہ میں تیزی لائی۔ ان کاروائیوں نے ایسے  ممالک کو اشتعال دلایا جو خودمختار اور طاقتور بھی ہیں۔ جس سے موثر تحریک چین، روس اور یورپی یونین جیسی خودمختار ریاستوں نے شروع کی۔ ان ممالک کے اقدامات سے ان ممالک کو بھی تشویش لاحق ہوئی جو طاقتور ممالک کے گرد گھومتے ہیں۔ یہ تمام ممالک جن کو روس اور چین مقامی کرنسی کے مطابق لین دین کرنے کی پالیسی پر لانے کی کوشش کررہے ہیں، ابھی تک امریکہ کے مدار میں ہی گھومتے ہیں اور ڈالر میں لین دین مسترد کرنے کا فیصلہ خود نہیں لیتے اور نہ ہی ڈالر کو اپنے ذخائر سے نکال پا رہے ہیں۔ اگر یہ ممالک سیاسی خود مختاری حاصل کربھی لیں تو بھی بین الاقوامی سطح پہ معاشی خودمختاری حاصل کرنا کسی بھی ملک کیلئے بہت مشکل مرحلہ ہے۔ اگر ان ممالک نے روس اور چین کے ساتھ مقامی کرنسی میں لین دین پر کام شروع کرتے ہیں تو امریکہ کے دباؤ کے نتیجے میں واپس  پچھلی حالت پر لوٹ جاتے ہیں لیکن دیوار پہ ضربیں لگنے سے دیوار کمزور ہوتی جاتی ہے۔

سابق امریکی قیادتیں امریکی مفاد کےحق میں کام کرتی تھیں لیکن دیگر ممالک کے مفادات کا بھی احترام کیا جاتا تھا۔ ٹرمپ نے پچھلے تمام سالوں میں امریکی فوج کے ذریعہ یورپ کی حفاظت کرنےکا یورپ سے معاوضہ طلب کیا۔ جاپان، کوریا سے شمالی کوریا کے میزائلوں سے تحفظ کا معاوضہ طلب کیا۔ ٹرمپ نے جب ایران پر پابندیاں عائد کرنا شروع کیں تو ان ممالک کو بھی اس پابندی میں شامل کرنے کی کوشش کی جو ڈالر کے عوض ایران سے تیل خریدنا چاہتے تھے۔ ٹرمپ نے چین کے ساتھ تجارتی جنگ کو بھڑکانے کی خاطر خطرہ کی چنگاری لگائی۔

کئی دہائیوں سے قرضہ بڑھنے سے امریکہ کی  مالی حالت خراب ہے اور 2008ء کے بعد سے اس میں زبردست اضافہ ہوا ہے اور امریکہ کا بیرونی قرض 8ٹریلین ڈالر سے بڑھ کر اب 23 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے بلکہ اندرونی اور بیرونی قرض 63ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ امریکی مالی حالت نازک صورت میں ہے جس کو عالمی مالیاتی نظام کیلئے شدید خطرہ قرار دیا جارہا  ہے۔ کرونا وائرس کے پھیلنے سے پہلے، ایس صورتحال میں امریکہ کیلئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ مزید نقدی لائی جائے یعنی  ڈالر چھاپا جائے۔ جو اتنی مقدار میں ہو کہ حکومت کے اخراجات کو پورا کرسکے نہ کہ قرض کی ادائیگی  کر سکے۔ ورنہ اس کی کرنسی ڈالر تباہ ہوجائے گی۔ لیکن کورونا وائرس کے بعد ڈالر سے طاقتور ممالک کی بغاوت میں شدت نے اب یہ بھی ممکن نہیں رہنے دیا۔

عالمی سطح پہ آزادانہ معاشی اور تجارتی پالیسیوں کی وجہ سے ڈالر کی گرفت مزید کمزور ہوتی چلی جارہی ہے۔ امریکی ڈالر کا راج اب تیزی سے نیچے گر رہا ہے کیونکہ  امریکہ کی کمزور ہوتی خارجہ امور پہ گرفت اور عراق، افغانستان وغیرہ میں پے در پے فوجی شکستوں سے بھی ڈالر کی مرکزیت ختم ہونے کے قریب ہے۔ پوری دنیا میں اس وقت شدید خوف طاری ہے کہیں ڈالر ایک دم بیٹھ ہی نہ جائے۔ اسی لئے وہ سوچنے پہ مجبور ہیں کہ کسی صورت اپنی ملکی معیشت کو محفوظ کریں یا کمزور امریکی ڈالر پہ بھروسہ کریں؟۔۔۔

"موجودہ  مالیاتی نظام کے وارث وقتی طور پہ خوش ہوتے ہیں کہ اس بوسیدہ عمارت کو بچا لیا، لیکن اب عمارت میں زلزلہ برداشت کرنے کی صلاحیت باقی نہ رہی ہے”

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!